1. ہوم
  2. کالمز
  3. سعدیہ بشیر
  4. ریلیٹو گریڈنگ، تعلیمی نظام سے معاشی اور انسانی استحصال تک

ریلیٹو گریڈنگ، تعلیمی نظام سے معاشی اور انسانی استحصال تک

تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن جب تعلیمی نظام انصاف کے بجائے مصنوعی توازن قائم کرنے لگے تو اس کے اثرات صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتے۔ بلکہ پورے معاشرے، معیشت اور انسانی زندگیوں تک پھیل جاتے ہیں۔ جدید یونیورسٹیوں میں رائج "ریلیٹو گریڈنگ" یا نسبتی درجہ بندی کا نظام اسی تضاد کی ایک واضح مثال ہے۔ بظاہر یہ نظام معیار برقرار رکھنے کے لیے بنایا گیا ہے، مگر حقیقت میں اس نے محنت، قابلیت اور انفرادی جدوجہد کی اہمیت کو کمزور کر دیا ہے۔ یہی سوچ بعد میں معاشی اور سماجی ڈھانچوں میں بھی نظر آتی ہے۔ جہاں انصاف کا پیمانہ ہر طبقے کے لیے ایک جیسا نہیں رہتا۔

ریلیٹو گریڈنگ کا بنیادی اصول یہ ہے کہ طلبہ کو ان کی اپنی کارکردگی کے مطابق نہیں بلکہ ایک دوسرے کے مقابلے میں نمبر دیے جائیں اگر پوری کلاس بہترین کارکردگی دکھائے، تب بھی سب کو اعلیٰ گریڈ نہیں دیے جاتے، کیونکہ ایک "اوسط" برقرار رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کئی محنتی طلبہ اپنی اصل صلاحیت کے باوجود کم گریڈ حاصل کرتے ہیں۔ یوں ان کی محنت کو اس لیے محدود کر دیا جاتا ہے۔ تاکہ نظام کا بنایا ہوا توازن برقرار رہے۔ گویا مسئلہ کمزور کارکردگی نہیں۔ بلکہ کسی کا حد سے زیادہ قابل ہو جانا ہے۔

اس نظام کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ یہ طلبہ کے درمیان صحت مند مقابلے کے بجائے حسد، ذہنی دباؤ اور خوف کو جنم دیتا ہے۔ طلبہ ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو اپنا حریف سمجھنے لگتے ہیں۔ علم حاصل کرنے کا مقصد سیکھنا نہیں بلکہ دوسروں سے آگے نکلنا بن جاتا ہے۔ اس وجہ سے تعلیمی ماحول تعاون کے بجائے نفسیاتی دباؤ اور غیر ضروری مقابلے کا شکار ہو جاتا ہے۔ کئی ذہین طلبہ صرف اس وجہ سے مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان کی محنت کے باوجود انہیں وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہوتے ہیں۔ اگر اسی اصول کو معاشی زندگی میں لاگو کیا جائے تو پھر انصاف کا تقاضا یہ ہونا چاہیے کہ جب ایک طبقے کی آمدنی میں اضافہ ہو تو دوسرے طبقات کی آمدنی بھی اسی تناسب سے بڑھے اگر مہنگائی بڑھتی ہے، معیشت پھیلتی ہے۔ یا ملک کی مجموعی دولت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا فائدہ صرف اشرافیہ تک محدود نہ رہے بلکہ عام ملازمین، مزدوروں اور سرکاری کارکنوں تک بھی پہنچے۔ لیکن حیرت یہ ہے کہ جو اصول یونیورسٹی میں انصاف کہلاتا ہے۔ وہی اصول معیشت میں آتے ہی غائب ہو جاتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جب تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ ہوتا ہے تو سب سے پہلے مخصوص طاقتور طبقے کی آمدنیاں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ بڑے عہدوں پر بیٹھے افراد، سرمایہ دار اور بااثر لوگ مسلسل ترقی کرتے جاتے ہیں۔ جبکہ سرکاری ملازمین، مزدور اور نچلے طبقے کے کارکن اپنی جگہ پر رکے رہتے ہیں۔ گویا ان کی قسمت ایک سکے کے اچھال پر چھوڑ دی جاتی ہے کہ شاید اس بار"چاند" ان کے حصے میں آ جائے، لیکن افسوس کہ اکثر سرکاری ملازمین اور عام کارکنوں کے نصیب میں ہمیشہ "پٹ" ہی آتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریلیٹو گریڈنگ کا تصور ایک وسیع تر استحصالی نظام سے جڑ جاتا ہے۔ طاقتور معاشی اور سیاسی طبقات نہیں چاہتے کہ وسائل اور مواقع کی منصفانہ تقسیم کا کوئی ایسا نظام وجود میں آئے۔ جس سے سب کو برابر فائدہ پہنچے۔ اگر ایسا ہو جائے تو ان کی برتری، طاقت اور اجارہ داری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسی لیے سرمایہ دارانہ اور استحصالی نظام ہمیشہ ایسا ڈھانچہ قائم رکھتے ہیں، جہاں ترقی کا فائدہ چند ہاتھوں میں مرتکز رہے، جبکہ اکثریت صرف بقا کی جنگ لڑتی رہے۔

یہی اصول انسانی رشتوں اور محبت پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص کا خلوص، وفاداری اور محبت بڑھتی رہتی ہے تو ضروری نہیں کہ دوسرے شخص کا لالچ، خود غرضی یا بے حسی کم ہو جائے۔ اکثر تعلقات میں ایک فرد مسلسل قربانیاں دیتا رہتا ہے جبکہ دوسرا صرف فائدہ حاصل کرتا رہتا ہے۔ یوں محبت بھی ایک غیر متوازن نظام کا شکار ہو جاتی ہے، جہاں جذبات کی قدر برابر نہیں رہتی۔ جیسے معاشی نظام میں طاقتور طبقہ زیادہ وسائل سمیٹ لیتا ہے۔ ویسے ہی بعض رشتوں میں ایک انسان کا خلوص دوسرے کے مفاد کے نیچے دب جاتا ہے۔ نتیجتاً محبت سکون کے بجائے احساسِ محرومی، تھکن اور اندرونی شکست میں بدلنے لگتی ہے۔

نتیجتاً ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ جہاں محنت کا صلہ برابر نہیں ملتا۔ قابلیت کا اعتراف محدود ہو جاتا ہے اور انصاف صرف طاقتور طبقے کی ضرورت بن کر رہ جاتا ہے۔ شاید یہی اس نظام کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ اس نے انسان کو یہ یقین دلا دیا ہے کہ ناانصافی ہی انصاف ہے۔ یونیورسٹی میں طالب علم کو سمجھایا جاتا ہے کہ سب کو محنت کا صلہ نہیں دیا جا سکتا۔ دفتر میں ملازم کو بتایا جاتا ہے کہ خزانہ خالی ہے اور محبت میں مخلص انسان کو نصیحت دی جاتی ہے کہ زیادہ توقعات رکھنا کمزوری ہوتی ہے۔ عجیب تماشا ہے کہ قربانی ہمیشہ کمزور سے مانگی جاتی ہے اور فائدہ ہمیشہ طاقتور کے حصے میں آتا ہے۔ محنت کرنے والا اپنی قابلیت ثابت کرتا رہتا ہے۔ وفادار انسان اپنا خلوص اور عام آدمی اپنی وفاداری، مگر انعام ہر بار کسی اور کی جیب میں جا گرتا ہے۔ اس معاشرے میں قابلیت سے زیادہ ضروری صرف یہ ہے کہ آپ کس صف میں کھڑے ہیں۔

ریلیٹو گریڈنگ صرف امتحانات کا طریقہ نہیں، یہ ایک ذہنیت ہے۔ ایک ایسا خاموش اصول جس کے تحت کچھ لوگوں کو ہمیشہ آگے رہنا ہے اور کچھ لوگوں کو ہمیشہ یہ تسلی دی جانی ہے کہ "اگلی بار شاید تمہاری باری آ جائے"۔ مگر وہ اگلی بار کبھی نہیں آتی۔ نہ طالب علم کے نصیب میں۔ نہ سرکاری ملازم کے نہ اس شخص کے جو سچے دل سے محبت کرتا ہے۔ اس پورے نظام میں سب سے سستا عنصر انسان کا خلوص ہے اور سب سے مہنگی چیز طاقت۔ باقی سب صرف اعداد و شمار ہیں اوسطیں ہیں اور وہ لوگ ہیں جنہیں ہر دور میں خاموش رہنے کی تربیت دی جاتی رہی ہے اور شاید اسی لیے اس دور میں سب سے زیادہ تھکا ہوا انسان وہ ہے جو اب بھی انصاف پر یقین رکھتا ہے۔