"امی۔۔ امی جان کہاں ہیں آپ؟"
علی آواز دیتا ہوا کچن میں آگیا جہاں امی جان پسینے میں شرابور، آستینوں کو اوپر چڑھائے ہانڈی پکا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ سنک میں رکھے برتنوں کو دھو رہی تھیں۔
"کیا بات ہے علی؟" امی نے پوچھا۔
"مجھے ہوم ورک میں آپ کی مدد چاہئیے، ایک مضمون لکھنا ہے" علی نے کہا۔
"بیٹا، میں ابھی مصروف ہوں، آپ بابا سے پوچھ لیں" امی جان ہانڈی میں کفگیر چلاتے ہوئے بولیں۔
"بابا جان بھی فارغ نہیں ہیں، بارش آنے والی ہے، وہ گھر کی دہلیز کے ساتھ باہر اینٹیں رکھ رہے ہیں تاکہ گلی میں جمع ہونے والا پانی دہلیز پار نہ کرسکے" علی نے وضاحت دی۔
اتنے میں موبائل سکرین جلنے بجھنے لگی۔ بڑی بیٹی کی کال تھی۔ امی نے فون اٹھایا۔
"امی، مجھے پتہ ہے کہ اس وقت آپ بزی ہوں گی لیکن میں کیا کروں، آئے دن مہمان آجاتے ہیں اور میری ساس انھیں میرے ہی بیڈروم میں بٹھاتی ہیں۔ مجھے اپنے کسی بچے کو سلانا ہوتا ہے اور کسی کو پڑھانا ہوتا ہے، میری کوئی پرائیویسی نہیں رہ گئی" بیٹی روہانسی آواز میں اپنا دکھ سنا رہی تھی۔
"اچھا، پریشان مت ہو، اپنے شوہر سے بات کرو اور باؤنڈریز بناؤ۔ مہمانوں کو ڈرائنگ روم میں بٹھانے کی بات کرو، اوکے اللہ حافظ" امی نے موبائل رکھا اور کھانا میز پر لگانے لگیں۔ اتنے میں آمنہ بھی اسکول سے آگئی اور سب اہل خانہ میز کے گرد کرسیوں پر بیٹھ گئے۔
"بابا، ہمارے اسکول میں جشنِ آزادی کی تقریب کی تیاری ہورہی ہے، مجھے ٹیچر نے تقریر کرنے کو کہا ہے" آمنہ کھانا کھاتے ہوئے جوش سے بتا رہی تھی۔
"اور میں اتنا بڑا پرچم لے کر آؤں گا چھت پر لگانے کے لئے کہ کسی نے ایسا نہیں لگایا ہوگا" علی نے بھی عزم کا اظہار کیا۔
"بچو، آپ کے لئے ایک اچھی خبر یہ ہے کہ رات کو گاؤں سے آپ کے دادا جان آرہے ہیں۔ آپ ان سے قیام پاکستان کی داستان ضرور سنئیے گا! بابا جان نے کہا تو بچوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے۔
رات گہری ہوچکی تھی، صحن میں چارپائیاں بچھ چکی تھیں، فرش دھو کر پیڈسٹل فین بھی آن کردیا گیا تھا۔ دادا جان ایک چارپائی پر چت لیٹنے آسمان کو دیکھ رہے تھے۔ ساتھ والی چارپائی پر محمد علی لیتا ہوا تھا۔
اس کے ہاتھ میں سبز ہلالی پرچم تھا۔
وہ خوش تھا۔
دادا جان اس کی طرف مڑے اور مخاطب ہوئے۔
"آپ آزادی کی حفاظت کیسے کرو گے بیٹا؟"
محمد علی کے چہرے کی مسکراہٹ کچھ لمحوں کے لیے ٹھہر گئی۔
وہ سمجھ گیا کہ دادا کا سوال صرف اس سے نہیں تھا۔
یہ سوال پوری نسل سے تھا۔
وہ ان لوگوں سے تھا جو ہر سال آزادی مناتے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ آزادی ان سے کیا مانگتی ہے۔
محمد علی نے آہستہ سے پرچم کو اپنے سینے سے لگا لیا۔
"دادا، میں کوشش کروں گا"۔
دادا جان کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔
"بس یہی آزادی کا اصل جشن ہے"۔
اگلی صبح محمد علی اسکول جانے کے لیے تیار ہوا۔ آمنہ بھی آگئی
دروازے پر پہنچ کر وہ رک گئی
"دادا!"
"ہاں؟"
"میں آج تقریر کروں گی"۔
"کس موضوع پر؟" محمد علی نے پرچم کی طرف دیکھا۔
"آزادی کے جشن پر نہیں، آزادی کی حفاظت پر"۔
دادا جان کی آنکھوں میں نمی آگئی۔
آمنہ نے کہا:
"میں سب کو بتاؤں گی کہ چودہ اگست صرف ایک دن نہیں۔ یہ پورے سال کی ذمہ داری ہے۔ ہم ایک دن پرچم لہرا کر آزادی کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ ہمیں ہر دن اپنے کردار، اپنی دیانت، اپنی محنت اور اپنے اتحاد سے اس آزادی کو مضبوط کرنا ہوگا"۔
دادا جان نے اسے سینے سے لگایا، ان کے ہونٹوں پر ایک لرزتی ہوئی مسکراہٹ آئی۔
انھیں یوں محسوس ہوا جیسے برسوں پہلے بچھڑ جانے والی اس کی ماں کہیں دور کھڑی مسکرا رہی ہو۔
انھوں نے آسمان کی طرف دیکھا اور بولے:
"اماں!"
ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔
"ہم نے آپ کے حصے کی آزادی بھی جیتی ہے اور اب اسے محفوظ رکھنے کی باری ہماری ہے"۔
ہوا چلی۔
پرچم لہرا اٹھا۔
محمد علی نے دادا کا ہاتھ تھام لیا۔
دونوں خاموشی سے اسے دیکھتے رہے۔
دور کہیں اذان کی آواز بلند ہوئی۔
دادا جان نے آہستہ سے کہا:
"سرحدیں صرف نقشوں پر نہیں ہوتیں، بیٹا۔ کچھ سرحدیں دلوں میں ہوتی ہیں، کچھ کردار میں، کچھ ایمان میں اور کچھ وطن کی محبت میں۔
زمین کی سرحد پر دشمن کو روکنے کے لیے سپاہی چاہیے۔
مگر قوم کی اندرونی سرحدوں کی حفاظت کے لیے پوری قوم چاہیے"۔
محمد علی نے پرچم کو دیکھا۔
اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اس سبز و سفید کپڑے میں صرف رنگ نہیں تھے۔
اس میں ہجرت کے قدموں کی گرد تھی۔
ماؤں کے آنسو تھے۔ خواب تھے۔
شہیدوں کا لہو تھا۔
اور ایک پوری نسل کی وہ خواہش تھی جس کا نام تھا:
آزادی۔
اور آزادی، صرف منانے کی چیز نہیں۔
آزادی، سنبھالنے کی امانت تھی۔
پرچم ہوا میں لہراتا رہاگویا قیام پاکستان کی تاریخ سنا رہا ہو۔ دادا جان کہنے لگے۔
"آج کی نسل چودہ اگست کو گھروں پر جھنڈے لگاتی ہے، گاڑیوں پر پرچم لہراتی ہے، سبز و سفید لباس پہنتی ہے، گلیاں سجاتی ہے، نعرے لگاتی ہے، ملی نغمے سنتی ہے اور آتش بازی کرتی ہے۔ یہ سب اپنی جگہ خوبصورت ہے۔ مگر بیٹا"، وہ رک گیا۔
"مگر اگر جشن کے اگلے دن ہم اپنے فرائض بھول جائیں تو یہ جشن ادھورا رہ جاتا ہے"۔
"فرائض؟"
"ہاں۔ آزادی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ہم آزاد ملک میں پیدا ہوئے۔ آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہم اپنے ملک کو مضبوط بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں"۔
دادا جان کی آواز میں اب ایک عجیب سی قوت تھی۔
"جو طالب علم دل لگا کر پڑھتا ہے، وہ آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔
جو استاد دیانت داری سے علم دیتا ہے، وہ آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔
جو ڈاکٹر اپنے مریض کو انسان سمجھ کر علاج کرتا ہے، وہ آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔
جو مزدور ایمانداری سے محنت کرتا ہے، وہ آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔
جو سرکاری ملازم رشوت سے انکار کرتا ہے، وہ آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔
جو صحافی سچ لکھتا ہے، وہ آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔
جو شہری جھوٹی خبر، نفرت اور دشمن کے پروپیگنڈے کو بغیر تحقیق آگے نہیں بڑھاتا، وہ آزادی کی حفاظت کرتا ہے۔
اور جو پاکستانی اپنے اختلافات کے باوجود اپنے وطن کے امن، اتحاد اور سلامتی کو مقدم رکھتا ہے، وہ بھی سرحد کا محافظ ہے"۔ محمد علی خاموش ہوگیا۔
دادا جان نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
"یاد رکھو، بیٹا! سرحد پر کھڑا سپاہی صرف بندوق سے ملک کی حفاظت کرتا ہے۔ قوم کے باقی لوگ اپنے کردار سے ملک کی حفاظت کرتے ہیں!"