ترے جانے سے بھی دل میں کوئی طوفان رہتا ہے
مرے اندر ترا اک بے سبب امکان رہتا ہے
میں اپنے آپ سے اکثر چھپاتی ہوں حقیقت کو
مگر آنکھوں میں اک چہرہ عیاں ہر آن رہتا ہے
یہ کیسا شہر ہے جس میں سبھی چہرے شناسا ہیں
مگر ہر شخص اپنے آپ میں حیران رہتا ہے
کبھی خاموشیوں سے گفتگو کرنے کی عادت تھی
اب اس عادت میں بھی اک شورِ بے عنوان رہتا ہے
میں اپنے زخم لفظوں میں چھپا دوں تو کبھی شاید
مرے اشعار میں پھر بھی کوئی ارمان رہتا ہے
نہ منزل کی طلب مجھ کو، نہ رستوں سے کوئی شکوہ
مگر پاؤں میں جانے کیوں سفر سامان رہتا ہے