1. ہوم
  2. غزل
  3. کرن ہاشمی
  4. ترے جانے سے بھی دل میں کوئی طوفان رہتا ہے
Kiran Hashmi

ترے جانے سے بھی دل میں کوئی طوفان رہتا ہے

ترے جانے سے بھی دل میں کوئی طوفان رہتا ہے
مرے اندر ترا اک بے سبب امکان رہتا ہے

میں اپنے آپ سے اکثر چھپاتی ہوں حقیقت کو
مگر آنکھوں میں اک چہرہ عیاں ہر آن رہتا ہے

یہ کیسا شہر ہے جس میں سبھی چہرے شناسا ہیں
مگر ہر شخص اپنے آپ میں حیران رہتا ہے

کبھی خاموشیوں سے گفتگو کرنے کی عادت تھی
اب اس عادت میں بھی اک شورِ بے عنوان رہتا ہے

میں اپنے زخم لفظوں میں چھپا دوں تو کبھی شاید
مرے اشعار میں پھر بھی کوئی ارمان رہتا ہے

نہ منزل کی طلب مجھ کو، نہ رستوں سے کوئی شکوہ
مگر پاؤں میں جانے کیوں سفر سامان رہتا ہے