1. ہوم
  2. غزل
  3. کرن ہاشمی
  4. مانگ لائی تھی خدا سے میں ادھارے سپنے
Kiran Hashmi

مانگ لائی تھی خدا سے میں ادھارے سپنے

مانگ لائی تھی خدا سے میں ادھارے سپنے
ٹوٹتے دیکھ لئے آنکھ کے تارے سپنے

قید آنکھوں میں جو پلکوں کی سلاخوں میں ہیں
دیکھ کر تجھ کو رہا کر دوں گی سارے سپنے

اپنی تعبیر کو سینے پہ سجانے کے لئے
جیت کی آس پہ لڑتے رہے ہارے سپنے

کرچیاں بن کے جو گرتے تھے مری آنکھوں سے
خاک میں خاک جو ہوتے ہیں بچارے سپنے

ان کو ہجرت کا سلیقہ بھی کہاں آتا ہے
ہر جگہ خاک میں ملتے ہیں ہمارے سپنے

اب کہاں نیند میں خوشیوں کو تلاشے گی تو
ہیں کرن ساتھ ترے درد کے مارے سپنے