تری چاہت مرے دل کے لیے اک ذات رہتی ہےکرن ہاشمی02 اکتوبر 2026غزل0143تری چاہت مرے دل کے لیے اک ذات رہتی ہے فراقِ ہجر میں بھی اب طلب دن رات رہتی ہے کبھی آنکھوں میں ٹھہری ہے نمی بن کر تری صورت کبھی دل میں تری آواز کی برسات رہتی ہےمزید »
ترے جانے سے بھی دل میں کوئی طوفان رہتا ہےکرن ہاشمی30 ستمبر 2026غزل0147ترے جانے سے بھی دل میں کوئی طوفان رہتا ہے مرے اندر ترا اک بے سبب امکان رہتا ہے میں اپنے آپ سے اکثر چھپاتی ہوں حقیقت کو مگر آنکھوں میں اک چہرہ عیاں ہر آن رہتا ہمزید »
شرر نگاہیں، سفر دعائیں، گداز جذبے، طلسمِ ہستیکرن ہاشمی28 ستمبر 2026غزل0116شرر نگاہیں، سفر دعائیں، گداز جذبے، طلسمِ ہستی حجاب چہرہ، کتابِ ماضی، نیاز دوری، طلب کی پستی سکوتِ لمحہ، درودِ تنہا، مآلِ دنیا، سوالِ گریہ جمالِ فطرت، وصالِ ممزید »
کبھی حسنِ تخیل سے نیا آغاز دیتی ہےکرن ہاشمی25 ستمبر 2026غزل0203کبھی حسنِ تخیل سے نیا آغاز دیتی ہے کبھی یہ زندگی خود کو نئی پرواز دیتی ہے خدا جانے یہ کیسی جو خلش ہے میرے سینے میں کبھی خاموش رہتی ہے، کبھی آواز دیتی ہے جو میمزید »
عجیب شخص تھا، خود سے مکر گیا ہے وہکرن ہاشمی21 ستمبر 2026غزل0125عجیب شخص تھا، خود سے مکر گیا ہے وہ مری حیات میں کچھ یوں اتر گیا ہے وہ اب اس کی یاد بھی آئے تو وحشتیں ہوں گی کہ دل کی بزم سے کب کا گزر گیا ہے وہ میں اس کے ہجر مزید »
ہم نے ہر سانس قضا ہونے سے بچا رکھی ہےکرن ہاشمی18 ستمبر 2026غزل0107ہم نے ہر سانس قضا ہونے سے بچا رکھی ہے عشق میں وضعِ انا پھر بھی بچا رکھی ہے بات نکلی ہے تو اب دور تلک جائے گی ہم نے ہونٹوں پہ اگرچہ یہ صدا رکھی ہے مصلحت کہہ مزید »
آج پھر یاد کی شاخوں پہ تھکن اتری ہےکرن ہاشمی18 جون 2026غزل0555آج پھر یاد کی شاخوں پہ تھکن اتری ہے چاندنی اوڑھ کے تاروں کی بہن اتری ہے شہرِ پندار کے خاموش سے انساں دیکھو ایسا لگتا ہے کوئی روحِ چمن اتری ہے کس کی آہٹ سے لہومزید »
سکوتِ شہر میں گونجی ہے دستکیں کیا کیاکرن ہاشمی11 جون 2026غزل0214سکوتِ شہر میں گونجی ہے دستکیں کیا کیا اُجڑنے والوں نے دیکھی ہیں حسرتیں کیا کیا شجر سے کٹ کے جو پنچھی ہوا کی زد میں ہے وہ جانتا ہے کہ ہوتی ہیں ہجرتیں کیا کیا مزید »
شامِ الم کے سائے اب آباد ہو چلےکرن ہاشمی04 جون 2026غزل0247شامِ الم کے سائے اب آباد ہو چلے ہم خود ہی اپنی یاد سے آزاد ہو چلے کتنے ہی لوگ شہر کی رونق میں کھو گئے بستی کے سارے رابطے نایاب ہو چلے صحرا کی دھوپ چاٹ گئی صبرمزید »
ہم تو مصروفِ دعا گوشہء محراب میں تھےکرن ہاشمی28 مئی 2026غزل0162ہم تو مصروفِ دعا گوشہء محراب میں تھے جو بظاہر تو میسر تھے مگر خواب میں تھے خار ہی خار ملے راہِ محبت میں ہمیں ہم تو الجھے ہوئے اک رشتہءِ نایاب میں تھے تیرگی جنمزید »