1. ہوم
  2. غزل
  3. کرن ہاشمی
  4. زخموں سے دل ہمارا اب چور ہوگیا
Kiran Hashmi

زخموں سے دل ہمارا اب چور ہوگیا

زخموں سے دل ہمارا اب چور ہوگیا
اک زخم تھا پرانا ناسور ہوگیا

کیسے سنائیں قصے اپنے ہی رتجگوں کے
اب جاگنا ہمارا مشہور ہوگیا

پل بھر ہی حسنِ یار کو دیکھا گیا مگر
پھر یہ کہ عشق جلتے ہی طور ہوگیا

پھر یاد آ گیا ہے بیدرد شام کو
پھر آج دل ہمارا رنجور ہوگیا

اب دل پہ کب ہے کوئی بھی قابو رہا مجھے
یہ ساتھ رہ کے تیرے مغرور ھو گیا

ڈھوتا ہے تیری یاد کو دیکھو یہاں وہاں
اب دل ہمارا یوں ہی مزدور ہوگیا

دیکھو کرن کے دل کو ہےسادہ کس قدر
دیکھا ہےتجھ کو جب سے مسرُور ہوگیا