1. ہوم
  2. کالمز
  3. ناصر عباس نیّر
  4. جوگندر پال کی سالگرہ اور ان کا ناول "نادید"
Nasir Abbas Nayyar

جوگندر پال کی سالگرہ اور ان کا ناول "نادید"

پانچ ستمبر کو جوگندر پال کی سالگرہ تھی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے جاوید آفتاب اور رضا نعیم نے، اسی روز، ان کے لیے پاک ٹی ہاؤس میں ایک تقریب رکھی۔ مجھے بھی مدعو کیا گیا۔ جوگندر پال، پانچ ستمبر 1925ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ تقسیم کے بعد انبالہ گئے۔ تقدیر انھیں انبالہ سے کینیا لے گئی۔ چودہ برس، وہاں تدریسی اور دوسری ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد، ہندوستان واپس آئے۔ اگلا پڑاؤ اورنگ آباد تھا، جہاں وہ انگریزی پڑھاتے رہے۔

جب پچپن سال کے ہوئے تو کینیا سے ملنے والی پنشن دگنی ہوگئی تو اورنگ آباد کی ملازمت ترک کردی اور دہلی منتقل ہوگئے۔ طبیعت میں لالچ نہیں تھا۔ اب کل وقت، ادب کو دینے لگے۔ ادب کو کل وقت دینے کا مطلب، روزانہ چودہ اٹھارہ گھنٹے لکھنا پڑھنا نہیں ہے۔ یہ تو سراسر مشقت ہے۔ ادب کو کل وقت دینے کا مطلب، اپنے عام، اوسط، بہترین اور بدترین تجربات کو بہترین اسلوب میں لکھنے کی فرصت کا حامل ہونا ہے۔

انھوں نے خود وفاتیہ (self-obituary) لکھا، جس میں انھوں نے سیالکوٹ، انبالہ، کینیا، اورنگ آباد اور دہلی میں اپنے قیام کو جنموں کا چکر کہا ہے۔ گویا انھوں نے اس فانی حیات میں پانچ جنم لیے۔ 2016ء میں انھیں جنم چکر سے موکش ملا۔

جوگندر پال سے میرا تعارف 1990ء کی دہائی میں ہوا، جب میری تحریریں وزیر آغا کے رسالہ "اوراق" میں شائع ہونا شروع ہوئیں۔ (اتفاق یہ ہے کہ آج ہی آغا صاحب کی برسی ہے)۔ معاصر اردو ادیبوں سے میری شناسائی اور کی تعلق کی ابتدا "اوارق" ہی سے ہوئی۔

جوگندر پال کے افسانے، "اوراق" میں باقاعدگی سے شائع ہوا کرتے۔ ان کے افسانچے اور آج کا فلیش فکشن، "نہیں، رحمٰن بابو" کے عنوان سے، چھپا کرتے۔ ان میں سے کچھ تو دو سطروں کے اور کچھ چھ سات سطروں اور کچھ دس بارہ سطروں تک کے ہوا کرتے۔ وہ زبان، تھیم، اسلوب، تکنیک ہر اعتبار سے غیر معمولی تھے۔ ان کی فکشن نگاری کی بصیرت اور مہارت کا عروج کہے جاسکتے ہیں۔

2007ء میں گوپی چند نارنگ کی دعوت پر، ساہتیہ اکادمی کے فراق گورکھ پوری سیمینار میں شرکت کے لیے، پہلی بار دہلی گیا۔ جوگندر پال سے، خاص طور پر ملنے ان کے گھر بھی گیا۔ وہ ایک طویل یادگار ملاقات تھی۔ اس کی اکثر باتیں بھول گئی ہیں، مگر ان کا مہربان، شائستہ، نرم، دھیما لہجہ اب تک یاد ہے۔

وہ کسی شکوے، کسی دعوے، کسی فخر کے بغیر مجھ سے کافی دیر باتیں کرتے رہے۔ ان کی اہلیہ کرشنا جی اور ممتاز فکشن نگار جیلانی بانو سے بھی، وہیں ملاقات ہوئی۔

انھوں نے اپنی کتابوں کے علاوہ، پینگوئن دہلی سے شائع ہونے والا شمس الرحمٰن فاروقی کا ناول "کئی چاند تھے سر آسماں" بھی، مجھے دیا۔ انھوں نے اس سے متعلق رائے کا اظہار بھی کیا، جس کا ذکر پھر کسی وقت سہی۔ میں اگرچہ بعد میں کئی بار دہلی گیا، مگر ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔ وہ دہلی کی تقریبات میں کم ہی آتے تھے۔

جوگندر پال پنجابی تھے۔ انگریزی ان کے روزگار کی زبان تھے اور اردو تخلیق کی زبان۔ سریندر پرکاش بھی، ان کی مانند، پنجابی تھے جو فیصل آباد سے پہلے دہلی، بعد میں ممبئی پہنچے تھے۔ وہ جدید اردو افسانے کا اہم نام ہیں۔

تقسیم کے بعد ہندوستان میں، ہندو ادیبوں کا، ہندی کے بجائے، اردو کو ذریعہ اظہار بنائے رکھنا، دل گردے کا کام تھا۔ یہ لسانی قوم پرستی کی سیاست سے عملی انحراف تھا، جس کی قیمت، ان ادیبوں کو ادا کرنا پڑی ہوگی۔

بیدی وکرشن چندر کے برعکس، جوگندر پال اور سریندر پرکاش کو شہرت، تقسیم کے بعد ملی۔ جوگندر پال، اہم فکشن نگار تھے، مگر انھیں وہ توجہ نہیں ملی جو ان کے معاصرین کو ملی۔ اس کی وجہ، ان کا فکشن نہیں، ادبی سماجیات ہے۔

تقسیم کے بعد، جن ادیبوں نے تقسیم، ہجرت، صدمے، تشدد، جارحیت، ناستلجیا، شناخت کو باقاعدہ آئیڈیالوجی بنا لیا، انھیں ادبی سماجیات میں جلدی اور زیادہ جگہ ملی۔ جوگندر پال کے یہاں، تقسیم و ہجرت کا تجربہ موجود ہے، آئیڈیالوجی نہیں۔ پھر اس تجربے کو دیکھنے کا زاویہ بھی، نہ تو محض جدید ہے، نہ ترقی پسندانہ۔ نہ محض علامتی، نہ فقط سماجی طبقاتی۔

وہ انسانی صورتِ حال کو کلی طور پر اور اس کی تہوں اور پیچیدگیوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس صورت حال کو اندر، یعنی خواب و تخیل سے بھی اور باہر سے، یعنی واقعہ و تاریخ کے تناظر میں بھی۔ سب سے اہم یہ کہ اندر اور باہر کی حدوں کو پگھلتا محسوس کرتے ہیں۔

تخیل اور تاریخ، خواب اور واقعہ میں فرق کی لکیر، اکثر مدھم ہوجاتی ہے۔ انھیں عام طور پر جدید فکشن نگار کہا گیا ہے، مگر وہ اس جدیدیت میں شریک محسوس نہیں ہوتے، جس کی مثالیں ایک طرف سریندر پرکاش، بلراج مین را پیش کرتے ہیں، دوسری طرف انتظار حسین، یا پھر انور سجاد، خالدہ حسین، رشید امجد، سمیع آہوجہ و دیگر۔

جوگندر پال نے افسانچے، افسانے، ناول لکھے۔ تینوں کو اپنے لہو میں گوندھ کر لکھا ہے۔

ان کے افسانوی مجموعوں میں دھرتی کا کال، رسائی، مٹی کا ادراک، لیکن، بستیاں، اہم ہیں۔ سلوٹیں اور نہیں رحمان بابو، افسانچے ہیں۔

ایک بوند لہو کی، نادید اور خواب رو، ان کے ناول ہیں۔ ان میں سب سے اہم "نادید" ہے۔ ویسے تو تقسیم، سرد جنگ، سرمایہ دارانہ جمہوریت، ہجرت اور دکھ، ان تینوں کا پس منظر ہیں، تاہم "نادید" میں، ایک اور گہرا تجربہ موجود ہے۔ دید ونادید کے فرق اور اس فرق کے مٹنے کا۔

اس ناول کا ذکر تھوڑا بہت ہوا ہے، مگر یہ کہیں زیادہ توجہ کا مستحق ناول ہے۔ یہ اندھوں کے گھر کی کہانی ہے۔ فوراً حوزے سارامگو کے "اندھے لوگ" کا خیال آتا ہے، مگر "نادید" 1983ء میں، جب کہ سارامگو کا "ا ندھے لوگ" 1995ء میں، پرتگالی میں شائع ہوا۔ اس کا انگریزی ترجمہ، دو سال بعد شائع ہوا اور اگلے سال ساراگو کو نوبیل انعام ملا۔ دونوں ناولوں میں یہ مماثلت ہے کہ نابیناؤں کی نظر سے دنیا کو دیکھا گیا ہے۔

سارامگو کے یہاں، ایک وبا کے سبب، شہر اندھا ہوجاتا ہے، جب کہ جوگند ر پال کے یہاں، کچھ لوگ جو پیدائشی بینائی سے محروم ہیں، ایک گھر میں مقیم ہیں۔ سارامگو کے لیے اندھا پن، ایک سزا ہے، جب کہ پال جی کے لیے اندھاپن فطرت کی ایک اپنی طرز کی کجی اور انسانی دنیا بلکہ جنوبی ایشیائی دنیا کی ایک اٹل، تاریخی سچائی ہے۔

جوگندر پال خو د بتاتے ہیں کہ وہ جب کینیا میں تھے تو انھوں نے ایک بلائنڈ ہاؤس کا دورہ کیا تھا۔ اندھوں کو ایک جگہ دیکھنا اور ان کی دھنسی ہوئی آنکھوں میں اپنی آنکھوں کو مرکوز پانا، ناقابل فراموش واقعہ تھا۔ ایک اندھے کو دیکھنے اور ڈھیر سارے اندھوں کو ایک جگہ دیکھنے میں بہت فرق ہے۔ اسی فرق نے ان سے، دو دہائیوں بعد، ناول لکھوایا۔

ناول کے دو حصے ہیں۔ پہلا حصہ، بینائی، بصارت اور بے بصری کے امتیازات سے متعلق ہے۔ نابینا کیا واقعی دنیا سے کٹ جاتا ہے؟ کیا اس کی دوسری حسیات، نابینا پن کی تلافی کرتی ہیں یا حواس خمسہ نہیں، حواس اربعہ کا حامل ہوا کرتاہے اور اسی پر قانع؟ کیا آدمی صرف آنکھوں ہی سے دیکھتا ہے؟ کیا دیکھنے میں، نہ دیکھنا اور نہ دیکھنے میں دیکھنا شامل نہیں ہوا کرتا؟ وہ ان سوالات کو سامنے رکھتے ہوئے کہانی لکھتے چلے جاتے ہیں۔

اس پہلے حصے میں ان کا اسلوب، قول محال سے لبریز ہے۔ حقیقت اور خواب، واقعہ اور کیفیت، سچ اور جھوٹ، کردار اور شخص، باہر اور اندر کی حدیں، باہم آمیز ہوتی ہیں۔ ایک بے یقینی کا یقین اور یقین کی بے یقینی پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔

ناول کا مرکزی کردار بابا ہے، جو اندھوں کے اس گھر کا سربراہ ہے۔ باقی اہم کرداروں میں شرفو، بھولا، رتنے، رونی، لکھی، سنگھا اور اس کا پلا ہے۔ اندھوں کا یہ گھر، ہاسٹل بھی ہے، سکول بھی اور کارخانہ بھی۔ اندھوں کو رہنے کو جگہ دی گئی ہے۔ ان کی تعلیم اور ان کی معاش کا انتظام بھی ہے۔ اکثر لوگ ٹوکریاں بناتے ہیں۔ یہی ان کا روزگا ر ہے۔ ان کے ہاتھ، ان کی آنکھیں ہیں۔ پہلے حصے کا اہم واقعہ رونی کا غائب ہوجانا ہے، ویشیا بننا ہے اور کچھ سالوں بعد، اپنی بیٹی لکھی کے ساتھ واپس آنا ہے۔

ناول کا دوسرا حصہ، بابا کی آنکھوں کے ٹھیک ہونے سے شروع ہوتا ہے۔ وہ سیڑھیوں سے گرتا ہے تو اس کے سر کو چوٹ لگتی ہے اور بینائی واپس آجاتی ہے۔ وہ کسی کو نہیں بتاتا، سوائے مہا گرو کے۔ اس دوسرے حصے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں بابا، رونی، بھولا خاص طور پر اپنی کہانی خود بیان کرتے ہیں۔ یعنی یہاں ناول کی بیانیہ تکنیک، مابعد جدید ہے۔ تب اردو میں مابعد جدیدیت کا غلغلہ نہیں ہوا تھا۔

اندھوں کے گھر کے سربراہ بابا کی ملاقات، فٹ مین نام کے ایک آدمی سے ہوتی ہے۔ وہ غیر ملکی جاسوس ہے جو ہندوستان کے پنڈتوں، وزیروں، لیڈروں اور کئی دوسروں کو اپنا ایجنٹ بناتا ہے۔ بھاری رقم دیتا ہے۔ ان سے ہندومسلم فسادات کرواتا ہے۔ جمہوریت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ آنکھیں ملنے کے بعد، بابالالچی ہوگیا ہے۔ وہ جو دیکھتا ہے، اس سب کو حاصل کر لینا چاہتا ہے۔ پہلے اسے پانچ سو ڈالر ملتے ہیں۔ پھر راجیہ سبھا کی رکنیت اور بڑے اخبارات میں کوریج۔

مہاگرو، اسے ہدایات دیتا ہے کہ اسے راجیہ سبھا میں کیا گفتگو کرنی ہے۔ پھر وزیر اعظم سے ملاقات، جہاں اسے یو این او کی اندھوں کے لیے کانفرنس کا منتظم بنایا جاتا ہے اور اس کانفرنس کے لیے سفر سے پہلے، اسے وزیر خارجہ کو قتل کرنے، جہاز کو بم سے اڑانے اور خود گولی کھاکر مر جانے کا حکم ملتا ہے۔ وہ پوری رات اضطراب میں گزارتا ہے اور بالآخر وہ بم کو اندھے کنویں میں پھینکتا ہے اور خود کشی کر لیتا ہے۔

ناول کا یہ حصہ واقعاتی تیز رفتاری کا حامل ہے اور کسی جاسوسی ناول کا حصہ معلوم ہوتا ہے، تاہم اس میں بھی جوگندر پال کا قول محال پر مبنی اسلوب، برقرار رہتا ہے۔ وہ کہانی کو اندھوں کے گھر، راجیہ سبھا یعنی ایک اور طرح کے اندھوں کے بڑے گھر تک لے جاتے ہیں۔ نیز دکھاتے ہیں کہ آزادی کے بعد بھی جنوبی ایشیا، ایک نئے مگر مختلف قسم کے استعمار کا شکار بناہوا ہے۔ اندھوں کا گھر، اب علامت بن جاتا ہے۔ ناول میں تیسری آنکھ کا بھی ذکر ہے، مگر نئے زمانے میں تیسری آنکھ، تیسری دنیا کو اندھا بنائے رکھنےو الی، پہلی اور دوسری دنیاؤں کی ہوس پرستانہ آنکھ ہے۔

آخر میں، اس ناول سے کچھ جملے نقل کررہا ہوں، یہ واضح کرنے کے لیے کہ اردو ناول میں طنز، آئرنی، قول محال کااستعمال خاصا پرانا ہے۔

"تمھیں تو معلوم ہے کہ اندھے کے دل میں اترنا ہو تو کتنا نیچے اترنا پڑتا ہے"۔

"میرے پلے نے بھونک بھونک کر میرے دل میں تمھاری پوری مورت کھینچ دی ہے"۔

"میرا مسئلہ اپنی بدکاریوں سے نجات حاصل کرنا نہیں، میر امسئلہ صرف یہ ہے کہ میری نیک نامی بنی رہے"۔

"کسی کو بھی یہ حق نہیں پہنچتا کہ محض اپنی شخصی ضمیر کی دیوانہ ضد پوری کرنے کی خاطر قومی نوعیت کا سکینڈل کھڑاکرکے رکھ دے۔ جب عوام کی بہبود اسی میں ہو کہ بعض باتوں پر پردہ پڑا رہے تو ضمیر کی من مانی کا سامان بنائے رکھنا غیر جمہوری ہے"۔

"میں انھیں بتاؤں گا کہ ملکوں کی آپسی لڑائیوں کا ایک ہی کارن ہے: آنکھیں۔ آدمی اپنی آنکھیں پھوڑ لے تو جس ملک میں بھی رہے اسے وہی ملک اہنا گھر لگے"۔