بوڑھے برگد کی جڑیں زمین کی گہرائیوں تک پھیل چکی تھیں اور شاخوں سے نکلنے والے ریشے جھک جھک کر زمین کو چھو رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے صدیوں سے کھڑا یہ درخت صرف زمین میں پیوست نہیں بلکہ وقت کی تہوں میں بھی اپنی جڑیں اتار چکا ہے۔ آتے جاتے لوگ اسے دیکھ کر گزر جاتے۔ میں دیر تک اسے دیکھتی رہی۔ اچانک برگد نے مجھ سے کہا۔
"میرے سبز پتے، میری شاخیں اور ان سے نکلنے والا دودھیا محلول دیکھ رہی ہو؟ یہ سب اس ملک کی علامتیں ہیں جسے تم پاکستان کہتے ہو۔ میری پیچ در پیچ شاخیں، میری بوڑھی ہیبت، میرے تحفظ کے لئے جاری ہونے والے مسلسل نوٹیفکیشن اور میری بقا کے لیے کی جانے والی علامتی جدوجہد۔ کیا یہ سب تمہیں اپنے وطن کی یاد نہیں دلاتے؟"
اس کے پتوں اور نرم شاخوں سے نکلنے والا گاڑھا، دودھیا محلول زمین پر ٹپک رہا تھا۔
"اسے برگد کا دودھ کہتے ہیں"، درخت نے کہا۔ "دراصل یہ خلوص اور دیانت کی علامت ہے۔ البتہ اس میں بے ایمانی اور ہوس کی ملاوٹ ہو جائے تو یہی دودھ سیاہ نشان چھوڑ دیتا ہے"۔ "اور اگر اسے ہوا، روشنی اور مستقل مزاجی مل جائے تو؟" میں نے پوچھا۔ برگد مسکرایا۔ "تو تھوڑی سی ہوا بھی اسے ربڑ کی طرح جما دیتی ہے"۔ میں نے سوچا کہ ہمارے معاشرے میں بھی شاید یہی ہوتا ہے۔ حالات کی ہوا، اقتدار کی روشنی اور مفادات کی حرارت بعض چیزوں کو اتنا مضبوط کر دیتی ہے کہ پھر انہیں توڑنا آسان نہیں رہتا۔ برگد کی جٹاؤں جیسی لٹکتی جڑیں عجیب پراسرار تھیں۔ "ان ریشوں میں بہت سے راز دفن ہیں"، درخت نے کہا۔
مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ان میں سازشیں، بند فائلیں، سرخ فیتے میں لپٹی کمیٹیوں کی رپورٹس، ادھورے فیصلے اور مکمل نہ ہونے والے وعدے بندھے ہوئے ہوں۔ کمال یہ تھا کہ انہی ریشوں میں بے ایمانی بھی تھی اور ایمان داری بھی۔ میں نے برگد کی طرف دیکھا تو وہ زار زار رو رہا تھا۔ اسی دوران ایک پتے نے میرے کان کے قریب آ کر سرگوشی کی۔ "کچھ مت کہنا۔ یہاں غدار بھی ہیں"۔ برگد یک دم بلک اٹھا۔ "چپ رہو۔ یہ نادان ہیں۔ ایک ہی درخت کے پتے بھلا مختلف سوچ اور فکر میں کیسے بٹ سکتے ہیں؟ ہم نے سردی گرمی ساتھ جھیلی ہے۔ آندھی آئی تو ایک دوسرے کی پناہ بنے۔ دھوپ ہوئی تو سایہ دیا۔ ہر ظلم پر یکجا آواز اٹھانے والے یہ پتے اب ایک دوسرے کو دشمن کیسے کہہ سکتے ہیں؟"
مجھے یوں لگا جیسے کوئی کھیل جاری ہے۔
"یہ زمانہ عجیب ہے"، برگد بولا۔ "اب چہرے بدلنے کے لیے وقت نہیں لگتا۔ کبھی ایک بٹن کافی ہوتا ہے"۔
اس میں ذرہ برابر شک نہیں کہ ہم سب پاکستان کی محبت میں گرفتار ہیں۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ رائے کے معمولی اختلافات کو اتنا بڑا بنا دیا گیا ہے کہ جیسے محبتِ وطن بھی کسی مخصوص گروہ کی جاگیر ہو۔ جب اختلافِ رائے کے دروازے بند ہونے لگیں تو برداشت، رواداری اور ایثار کے پودے بھی سوکھنے لگتے ہیں۔ میں نے برگد کی طرف دیکھا۔ اس کے کچھ پتے دھوپ میں چمک رہے تھے اور کچھ ہوا کے ساتھ لرز رہے تھے۔ میں نے بے اختیار کہا۔
کتنے ہی برس گزرے آزادی کامل کو
اب تک نہ مگر ہم کو وعدوں کا خیال آیا
جس راہ پہ ٹھہرے ہیں وہ خون میں ڈوبی ہے
اک خوف مسلسل کو اب تک نہ زوال آیا
کچھ دیر بعد برگد کے پتوں پر جیسے سرخی اترنے لگی۔ "یہ سرخی؟" میں نے پوچھا۔ برگد نے کہا۔
"یہ ان لوگوں کے لہو کی یاد ہے جنہوں نے اس مٹی کے لئے اپنی جان دی۔ شہادت کسی ایک دن کا واقعہ نہیں، اس کی بازگشت نسلوں تک جاری رہتی ہے"۔ مجھے یقین تھا کہ اس سرزمین کی کہانی صرف مایوسی کی کہانی نہیں۔ لیکن میرے دِل نے پھر بھی دہائی دی۔ تاش کے پتوں کی طرح بکھرے ہوئے، قسمت آزماتے چہرے اب تھک چکے ہیں۔ انہیں ہر چند سال بعد نئے خواب دکھائے جاتے ہیں۔ نئے منصوبے، نئے نعرے، نئی تختیاں اور نئی افتتاحی تقریبات، مگر تھکے ہوئے چہروں کی تھکن وہیں رہتی ہے۔ برگد نے آہستہ سے کہا۔ "تمہیں ہر نیا منصوبہ تشہیر کیوں دکھائی دیتا ہے؟"میں نے کہا۔ "کیونکہ کبھی کبھی منصوبے کا افتتاح اس کے نتیجے سے زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ تختی چمکتی رہتی ہے، مگر جس کے لئے منصوبہ بنایا گیا تھا۔ وہ اپنی ضرورت لیے وہیں کھڑا رہتا ہے"۔
برگد نے گہری سانس لی۔ "پانی ہمیشہ نشیب کی طرف جاتا ہے"، اس نے کہا۔ "اور اپنے ساتھ جو کچھ لاتا ہے، وہی زمین کی قسمت بناتا ہے"۔ حکومتیں بدلتی ہیں۔ بیانیے اور ترجیحات بدلتی ہیں۔ سوشل میڈیا کے ٹرینڈ بدلتے ہیں۔ مگر عام آدمی کے حصے میں آنے والی حقیقت اکثر وہی رہتی ہے۔ سیاسی موسم بدلتے رہتے ہیں، لیکن ٹیکس کا بوجھ صرف عوام ہی کے حصے میں آتا ہے۔ میں نے برگد کی زمین کو چھوتی جٹاؤں کو دیکھا۔ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ یہ جڑیں عوام کی تصویر ہیں۔ زمین سے جڑی ہوئی، بوجھ اٹھاتی ہوئی، آندھی میں جھکتی ہوئی، مگر پھر بھی قائم۔ ہر بار عوام اپنے تھکے ہوئے دِل کے ساتھ ایک نیا خواب پکڑ لیتے ہیں۔
شاید خواب دیکھنا ان کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے اور سب سے بڑی طاقت بھی۔ برگد نے مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں نمی تھی، مگر امید کے رنگ اب بھی روشن تھے۔ "دیکھو"، اس نے کہا، "درخت صرف اپنی جڑوں سے زندہ نہیں رہتے۔ انہیں نئی شاخوں، نئے پتوں اور نئی ہوا کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ "شاید ہماری ضرورت بھی یہی ہے۔ نیا بھی چاہیے اور پرانا بھی۔ تبدیلی بھی چاہیے اور تسلسل بھی۔ اختلاف بھی چاہیے اور احترام بھی۔ سوال بھی چاہیے اور جواب بھی اور سب سے بڑھ کر یہ شعور کہ ایک ہی درخت کے پتے اگر ایک دوسرے کو دشمن سمجھنے لگیں تو آندھی کو انہیں گرانے کے لئے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی۔ ہوا چلی۔ پتے سرسرائے۔ کچھ پتے ایک دوسرے سے ٹکرائے اور پھر خاموش ہوگئے۔
مجھے لگا جیسے بوڑھا برگد کہہ رہا ہو۔ "ریشے بہت الجھ گئے ہیں، مگر جڑیں ابھی زندہ ہیں"۔ شاید یہی ہماری امید ہے۔ کاش ہم انہیں کاٹنے کے بجائے سمجھ سکیں۔ کاش ہم ایک دوسرے کے پتوں پر شک کرنے کے بجائے پورے درخت کو دیکھ سکیں۔ کاش ہم ان ریشوں کو سلجھا سکیں۔