1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد شہزاد
  4. اردو کے لیکچرار اور منٹو

اردو کے لیکچرار اور منٹو

میرا مضمون "منٹو تو ننگا ہے" ان لوگوں کو اچھا نہیں لگا جو کالجوں میں اردو کے لیکچرار یا پروفیسر ہیں۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ میں نے ان کی ہتک کی ہے۔ حالانکہ میرے مضمون کی بات بہت سادہ تھی۔ میں نے صرف یہ کہا تھا کہ ہمارے بہت سے اردو کے استاد منٹو کے بارے میں اپنی رائے خود نہیں بناتے۔ وہ چند نام نہاد دانشوروں کے پیچھے چلتے ہیں اور پھر منٹو کے ایسے عقیدت مند بن جاتے ہیں کہ اس پر تنقید سننا بھی گوارا نہیں کرتے۔

ان کا منٹو پر ایمان کچھ ایسا ہوتا ہے جیسے کسی پجاری کا اپنے دیوی دیوتاؤں پر۔ انہیں ان کے استادوں نے گھٹی میں یہ بات دی ہوتی ہے کہ منٹو برصغیر کا سب سے بڑا افسانہ نگار ہے۔ ان کے استادوں کو بھی یہی بات ان کے استادوں نے بتائی تھی۔ یوں ایک رائے نسل در نسل چلتی رہتی ہے اور کوئی یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتا کہ آخر منٹو کو سب سے بڑا افسانہ نگار ماننے کی وجہ کیا ہے۔

لیکن سب ایسے نہیں ہیں۔ کچھ اردو کے استاد ایسے بھی ہیں جو کامن سینس رکھتے ہیں۔ کنویں کے مینڈک نہیں ہیں۔ وہ صرف اردو کی کتابیں نہیں پڑھتے بلکہ دنیا کا ادب بھی پڑھتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں، موازنہ کرتے ہیں اور اپنی رائے خود بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اردو پڑھنے والوں کی ایک بڑی تعداد کی ادبی دنیا بہت محدود ہے۔ خاص طور پر اردو کے بہت سے لیکچرار انگریزی ادب اصل انگریزی میں پڑھتے ہی نہیں۔ وہ اردو میں ترجمہ شدہ کتابوں پر گزارا کرتے ہیں اور ان میں بھی اکثر ترجمے ایسے ہوتے ہیں جو اصل کتاب کا لطف، زبان اور انداز ہی ختم کر دیتے ہیں۔

ذرا سوچیں، اگر کسی نے شیکسپیئر کو اصل انگریزی میں نہیں پڑھا اور صرف اس کے اردو ترجمے پڑھے ہیں تو وہ شیکسپیئر کے اصل جملے، اس کی زبان، اس کے لفظوں کا کھیل اور اس کی تحریر کی اصل طاقت کیسے سمجھ سکتا ہے؟ یہی معاملہ گارشن، ٹالسٹائی، دوستووسکی، آسکر وائلڈ، چیخوف ایڈگر ایلن پو، ساکی اور موپاساں کا ہے۔ یہ لوگ دنیا کے بڑے ادیب ہیں۔ انہیں صرف اردو ترجمے میں پڑھ کر یہ سمجھ لینا کہ عالمی ادب سمجھ لیا، درست نہیں۔

موپاساں کا افسانہ پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ ایک چھوٹا سا واقعہ کس طرح پوری کہانی بن سکتا ہے۔ ساکی چند صفحات میں ایسا موڑ پیدا کر دیتا ہے کہ قاری چونک جاتا ہے۔ ایڈگر ایلن پو کہانی میں خوف اور بے چینی کیسے پیدا کرتا ہے، یہ پڑھنے سے سمجھ آتا ہے۔ شیکسپیئر کردار اور مکالمہ کیسے بناتا ہے، یہ ترجمے کے بجائے اصل زبان میں پڑھنے سے زیادہ واضح ہوتا ہے۔ گارشن کی دنیا الگ ہے۔ اس کے ہاں حقیقت اور عجیب و غریب واقعات اس طرح ساتھ چلتے ہیں کہ قاری کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ حقیقت پڑھ رہا ہے یا خواب۔

یہ سب پڑھنے کے بعد جب کوئی اردو کا افسانہ پڑھا جائے تو اسے پرکھنے کا پیمانہ بھی بدل جاتا ہے۔ پھر صرف یہ نہیں دیکھا جاتا کہ افسانے کا موضوع کیا ہے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کہانی واقعی کہانی ہے یا صرف ایک خیال ہے؟ کردار زندہ ہیں یا صرف مصنف کے ہاتھ کی کٹھ پتلیاں؟ مکالمہ قدرتی ہے یا بنایا ہوا؟ انجام واقعی کہانی کا نتیجہ ہے یا زبردستی آخر میں چپکا دیا گیا ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ افسانہ پڑھنے کے بعد قاری کے ذہن میں کچھ رہ بھی جاتا ہے یا نہیں؟

ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ طالب علم کو شروع ہی سے سوال کرنا نہیں سکھایا جاتا۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ یہ بڑا شاعر ہے، یہ بڑا افسانہ نگار ہے، یہ عظیم ناول ہے۔ طالب علم کا کام ہے اسے یاد کرنا اور امتحان میں لکھ دینا۔ وہ پوچھے کہ کیوں بڑا ہے، تو اس سوال کا جواب دینے کے بجائے اسے خاموش کرا دیا جاتا ہے۔

پھر یہی طالب علم بڑا ہو کر استاد بنتا ہے اور اپنے استاد کی بات آگے پہنچاتا ہے۔ استاد نے کہا تھا منٹو بڑا ہے، لہٰذا منٹو بڑا ہے۔ کسی نے کہا فلاں افسانہ شاہکار ہے، لہٰذا وہ شاہکار ہے۔ اس میں اپنی رائے کہاں سے آئے گی؟

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ہمارے ملک میں شاید ہی کوئی بچہ یہ سوچ کر ایف ایس سی کرتا ہے کہ بڑا ہو کر اردو کا لیکچرار بننا ہے۔ زیادہ تر بچے ڈاکٹر یا انجینئر بننے کا خواب دیکھتے ہیں۔ جب نمبر ساتھ نہیں دیتے تو راستے بدلتے ہیں۔ بی اے میں داخلہ لیتے ہیں۔ جو انگریزی میں کمزور ہوتے ہیں، وہ اردو کی طرف آ جاتے ہیں۔ پھر کسی نہ کسی طرح ایم اے اردو کر لیتے ہیں۔

اس کے بعد اچھی نوکری کے راستے بہت کم رہ جاتے ہیں۔ کارپوریٹ سیکٹر میں ایم اے اردو کی بنیاد پر کوئی بڑا عہدہ تو ملنے سے رہا۔ پھر دو راستے بچتے ہیں۔ یا سی ایس ایس کریں یا اسکول، کالج میں استاد لگ جائیں۔ تھرڈ ڈویژن والے تو ویسے بھی سی ایس ایس کے اہل نہیں ہوتے۔ چنانچہ کالج کی لیکچراری ایک محفوظ راستہ بن جاتی ہے۔ سرکاری نوکری، پکی نوکری، پنشن اور ایک نسبتاً محفوظ زندگی۔

یہاں میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہر اردو لیکچرار ایسا ہی ہوتا ہے۔ بالکل نہیں۔ قابل اور محنتی استاد بھی موجود ہیں۔ لیکن سوال اکثریت کا ہے اور اکثریت کو نظر انداز کرکے ہم مسئلہ حل نہیں کر سکتے۔

ہمارے تعلیمی نظام میں بھی قابلیت سے زیادہ سلیبس ختم کرنے پر زور ہے۔ بچے نے سوچنا نہیں، نمبر لینے ہیں۔ استاد نے بحث نہیں کرنی، سلیبس مکمل کرنا ہے۔ جو کتاب میں لکھا ہے وہ پڑھا دو، بچے اسے رٹ لیں اور امتحان میں لکھ دیں۔ یوں ایک ایسا نظام بن جاتا ہے جس میں سوال کرنے والا طالب علم بھی آہستہ آہستہ سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے۔

پھر یہی لوگ جب ادب کے استاد بنتے ہیں تو ادب کو بھی اسی طریقے سے پڑھاتے ہیں۔ یہ بڑا ادیب ہے، یہ بڑا افسانہ ہے، یہ اس کا مرکزی خیال ہے، یہ اس کا خلاصہ ہے۔ بس سبق ختم۔ لیکن ادب اس طرح نہیں پڑھا جاتا۔

منٹو کو بھی اسی طرح پڑھنے کی ضرورت ہے۔ منٹو نے بہت اچھے افسانے لکھے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا ہر افسانہ شاہکار ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس کے ہر افسانے میں کوئی خامی نہیں نکالی جا سکتی۔

منٹو کو بڑا افسانہ نگار ماننے کے لیے اس کے کمزور افسانوں کو بھی زبردستی اچھا قرار دینا ضروری نہیں۔

بلکہ اگر ہم واقعی منٹو کو بڑا سمجھتے ہیں تو ہمیں اسے تنقید سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ اس کے اچھے افسانے سامنے رکھیں، ان کی خوبیاں بتائیں، اس کی کمزور تحریروں کی کمزوریاں بتائیں اور پھر دنیا کے دوسرے افسانہ نگاروں کے ساتھ اسے رکھ کر دیکھیں۔

یہی اصل امتحان ہے۔

اگر کوئی کہے کہ موپاساں کا فلاں افسانہ منٹو کے فلاں افسانے سے بہتر ہے تو اس سے ناراض ہونے کے بجائے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ ساکی کا افسانہ زیادہ مضبوط ہے تو اس سے پوچھنا چاہیے کہ اس کی وجہ کیا ہے۔ اگر کوئی ایڈگر ایلن پو کو سامنے رکھ کر منٹو کے کسی افسانے پر بات کرے تو اسے گستاخ کہنے کے بجائے اس کی دلیل سننی چاہیے۔ لیکن ہمارے ہاں معاملہ الٹا ہے۔

آپ منٹو کی تعریف کریں تو آپ صاحب علم ہیں۔ منٹو پر تنقید کریں تو آپ ادب سے ناواقف ہیں۔ منٹو کے کسی افسانے کو کمزور کہیں تو فوراً سوال اٹھتا ہے کہ آپ نے منٹو کو سمجھا بھی ہے یا نہیں۔ یہ رویہ عجیب ہے۔

کسی ادیب کو پوجنے کے بجائے اسے پڑھنا چاہیے۔ ادب میں بت نہیں ہوتے۔ ادیب ہوتے ہیں، ان کی اچھی تحریریں ہوتی ہیں، بری تحریریں ہوتی ہیں اور ان پر بات کرنے کا حق ہر قاری کو ہونا چاہیے۔

میرا اعتراض منٹو پر نہیں، منٹو پر اندھی عقیدت پر ہے اور میرا اعتراض اردو کے لیکچرار ہونے پر بھی نہیں، اس ذہنیت پر ہے جس میں استاد خود سوچنے کے بجائے اپنے استاد کی رائے آگے پہنچاتا ہے۔

اگر کوئی اردو کا استاد واقعی ادب پڑھانا چاہتا ہے تو اسے پہلے اپنے طالب علم کو یہ سکھانا ہوگا کہ شیکسپیئر کو بھی پڑھو، گارشین کو بھی، ایڈگر ایلن پو کو بھی، ساکی کو بھی، موپاساں کو بھی اور منٹو کو بھی۔ ممکن ہو تو اصل زبان میں پڑھو، ورنہ کم از کم اچھا ترجمہ پڑھو۔ پھر خود فیصلہ کرو کہ کون بڑا ہے اور کیوں بڑا ہے۔

صرف اس لیے کسی ادیب کو بڑا نہ مانو کہ تمہارے استاد نے اسے بڑا کہا تھا۔ اسے پڑھو، پرکھو اور پھر اپنی رائے بناؤ۔

ورنہ استاد بدلتے رہیں گے، طالب علم بدلتے رہیں گے، نسلیں بدلتی رہیں گی، مگر ایک ہی گھٹی آگے منتقل ہوتی رہے گی۔

منٹو بڑا ہے، اس لیے بڑا ہے۔ یہ دلیل نہیں ہے۔

منٹو کیوں بڑا ہے؟ یہی اصل سوال ہے۔