1. ہوم
  2. افسانہ
  3. سید محمد زاہد
  4. عورت، کھیل اور روحانی محبت

عورت، کھیل اور روحانی محبت

لیو ٹالسٹائی لکھتے ہیں: "اپنی بیوی سے مواصلت بھی گناہ ہے اگر اس میں روحانی محبت کا عنصر نہ ہو"۔ روحانی محبت تو محبت کی معراج ہے، یہاں تو حقیقی محبت ہی دکھائی نہیں دیتی۔

میں شادی ہال میں بیٹھا، دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف یہی سوچ رہا تھا کہ کیا شانزہ اور علی میں محبت ہے؟ یہ ان کی کامرانی کا دن تھا، یہ ان کی بزمِ عروسی تھی۔ محفلِ نکاح میں چہ مگوئیوں کا نشانہ میزبان خاندان اور نوبیاہتا جوڑا ہی ہوتے ہیں۔ میرا ذہن بھی کج روی پر مائل تھا، لیکن علی کا تمام حاضرین کے سامنے فخر سے مجھے اپنا واحد جگری یار، کہہ کر متعارف کروانا میرے قدم روک رہا تھا۔ دوسری طرف اس تعارف پر شانزہ کے چہرے پر ابھرتے ناگواری کے آثار مجھے بہکا رہے تھے۔ دوست مجھے سنا سنا کر ان کی ایسی مدح بیان کر رہے تھے جو ہجوِ ملیح کے زمرے میں آتی تھی۔ آخر میں نے بھی اپنے بے ترتیب دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھا اور رسماً ان کی گفتگو میں شامل ہوگیا: "علی اور شانزہ ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں"۔

یہ کہتے ہوئے میں نے جوڑے کی طرف دیکھا۔ علی کے لبوں پر متمکن دائمی مسکراہٹ میرے جگر میں نشتر کی طرح چبھ رہی تھی۔ یہ وہی خود اعتمادی اور زعم تھا جو ہمیشہ اس کے چہرے پر بکھرا دکھائی دیتا تھا۔

اس دن میں شانزہ کو اپنے کلب ممبران سے ملوانے لایا تھا جب علی بیٹنگ سے واپس آ کر سیدھا ہمارے پاس کھڑا ہوگیا۔ وہ بیٹ سے اپنے پیڈ کو یوں مار رہا تھا جیسے کسی معرکے سے فاتحانہ لوٹا ہو۔ پیڈز سے اڑتی گرد ہمارے منہ پر پڑ رہی تھی۔ اسی اثنا میں اس کی نگاہ شانزہ پر پڑی۔ سلام کرتے ہوئے وہ اس کا ہاتھ یوں دیکھ رہا تھا جیسے آنکھوں ہی آنکھوں میں انگوٹھی کا ناپ لے رہا ہو۔

میرا دل چاہتا تھا آج اپنے ساتھ بیٹھے لوگوں کو بتا دوں کہ میں شانزہ کو اسٹیڈیم صرف میچ دکھانے نہیں لایا تھا۔ ہم کئی ماہ سے ایک ہی دفتر میں کام کر رہے تھے، رات دیر تک ریسٹورنٹس میں بیٹھ کر دنیا و مافیہا کی ہر بات پر بحث کرتے، خوشیوں کے لمحات میں شریک ہوتے رہے تھے۔ میں علی کو سب کچھ بتا چکا تھا۔

شانزہ چلی گئی تو میں اس سے الجھ پڑا: "تم جانتے ہو میں اسے پسند کرتا ہوں"۔

"اس جیسی حسین عورت کے کئی چاہنے والے ہوتے ہیں"۔

"میرا اس سے خاص تعلق ہے"۔

مسکراہٹ بھری آواز میں جواب ملا: "تم ہمیشہ کے ٹھرکی ہو! ہر عورت کے بارے میں ایسی باتیں کرتے ہو۔ جو تمہاری طرف ایک بار ہنس کر دیکھ لے، تم بہک کر خواب دیکھنے لگتے ہو اور اسے ہی حقیقت گردان لیتے ہو"۔

"اس سے میں نے تمہارا تعارف کروایا تھا"۔

"ایک اچھی خاتون سے ملاقات کروانے کا شکریہ"۔ اس کے چہرے پر بکھری مسکراہٹ مجھے زہر لگی۔

"میں اسے پروپوز کرنے والا ہوں"۔

"تو کیا سوچ رہے ہو؟ ڈرتے ہو کہ وہ ناں کہہ دے گی؟ تم جیسے خوش حال لوگ قدم بڑھانے سے کتراتے ہیں۔ تم چاہتے ہو کہ پہل عورت کی طرف سے ہو"۔

وہ مسکرانے لگا: "دورِ حاضر کی عورت خوددار بھی ہے اور باصلاحیت بھی۔ وہ کسی پر بوجھ نہیں، بلکہ عورت مرد کا ایک محکم سہارا ہے۔ مرد کو اس کی ضرورت ہے، جسے سچی حاجت ہو، اسے چاہیے گھٹنے ٹیک کر اس کا ہاتھ مانگے"۔

اگلی ملاقات پر میں نے محسوس کیا کہ علی اور شانزہ کے مابین ہم آہنگی اور رمز و کنائے کا وہ تعلق بن چکا ہے جو قربت کی نئی کہانیاں بُنتا ہے۔

علی کی ناقابلِ برداشت عادت یہ تھی کہ وہ ہر مقابلہ جیت لیتا تھا۔ چاہے وہ کرکٹ ہو یا محبت اور جیت کے بعد وہ خود کو اس طرح حق بجانب اور اخلاقی طور پر برتر ثابت کرتا کہ ہارنے والے کا دکھ یا اعتراض معمولی، حقیر اور بے معنی ہو جاتا۔ وہ اٹھ کر باہر گئی تو علی نے جیب سے انگوٹھی کی ڈبیہ نکال کر ٹیبل پر رکھ دی۔

میرے پیٹ میں ایک عجیب سا ہول اٹھا، بالکل ویسے ہی جیسے لفٹ کی تار اچانک ٹوٹ گئی ہو۔

"تم مذاق کر رہے ہو"۔

"میں اس معاملے پر کیوں مذاق کروں گا؟"

"مجھے نہیں معلوم۔ ویسے ایک بات بتاؤ، تمہارا ساتھ کتنا پرانا ہے؟ شاید ایک سال؟"

"تین سال"۔

"تین؟"

علی ہنس پڑا: "تم اسٹاک ایکسچینج کے بروکر، اسکرین پر چمکتے اعداد و شمار کے علاوہ کسی اور چیز پر کہاں دھیان دیتے ہو؟"

اس نے ڈبیا کھولی۔ ہیرا نفاست سے تراشا گیا تھا، مگر میرے معیار سے بہت کم تھا۔ علی نے شاید انٹرنیشنل میچز میں ملنے والی کٹ اور بیٹ بیچ کر یا چھ مہینے تک اچھے کھانوں کی بجائے چکن کڑاہی کھا کر پیسے بچائے ہوں گے۔

"کیا وہ قبول کر لے گی؟" میں نے اس سے پوچھا۔

"ان شاء اللہ"۔

پراعتماد آواز میں اپنی صلاحیتوں پر مان جھلک رہا تھا اور زبان پر نام اللہ کا، تاکہ سامنے والا کچھ کہنے کے قابل نہ رہے۔ لہجے کا یہ اعتماد مجھے بے چین کر رہا تھا اور کسی پیش قدمی پر اکسا رہا تھا۔ اس کی کامیابی کے تصور سے ہی میری حالت ایسی تھی جیسے کوئی انگاروں پر لوٹ رہا ہو، بھلسے جا رہا ہو۔

اسٹاک ایکسچینج میں قدم رکھنے سے پہلے میں علی سے کہیں بہتر اور باصلاحیت بلے باز تھا۔ ٹیم سلیکشن سے ایک ہفتہ قبل، ٹریننگ کے دوران میرا گھٹنا زخمی ہوگیا۔ درد ایسا نہ تھا کہ میں کھیل نہ سکتا، ڈاکٹر نے مجھے ادویات اور دو ماہ آرام کا مشورہ دیا۔ علی نے یہ بات ٹیم مینجمنٹ کو بتا دی۔ وہ سلیکٹ ہوگیا۔

اگلے ہی دن وہ مین آف دی میچ، کی ٹرافی اور میرے گھٹنے کے لیے برف کی تھیلی لیے کمرے میں داخل ہوا۔

"اس ٹرافی پر تمہارا حق تھا، قسمت نے مجھے تھما دی"۔

میں نے درمیان میں رکھی ٹرافی پر سرد نگاہ ڈالی: "تو پھر تم نے میری مخبری کیوں کی؟"

"ڈاکٹر نے تمہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا تھا"۔

"تم جانتے تھے کہ وہ مجھے کھیل سے باہر کر دیں گے"۔

"میں جانتا تھا کہ تم اپنا گھٹنا تباہ کرنے جا رہے ہو۔ خدا خیر کرے، آگے تمہیں اور کئی مواقع ملیں گے"۔

چالاکی کو قسمت اور خفت کو خدا کے نام کے پیچھے چھپا کر وہ مجھے فریب دینے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں نے منہ پھیر لیا۔

"ایک سال کے انتظار سے کچھ نہیں بگڑے گا۔ پی ایس ایل اگلے سال پھر آئے گا۔ اگر تمہارا گھٹنا خراب ہو جاتا تو عمر بھر کے لیے نا اہل ہو جاتے"۔

وہ واقعی مخلص تھا یا ہمدردانہ الفاظ اس کے اعترافِ جرم کا پردہ تھے؟

بعد کے برسوں میں علی یہی کہتا رہا کہ میں نے چوٹ کے باعث کرکٹ چھوڑ دی۔ حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ تھی۔ میرا گھٹنا جلد ہی ٹھیک ہوگیا، مگر سینہ ایسا ناسور بن گیا جو آج بھی رستا ہے۔ جس زندگی پر میرا حق تھا، اسے وہ جی رہا تھا اور وہ دنیا کو یہی باور کراتا رہا کہ اس نے مجھے تباہی سے بچا لیا تھا۔

سال ہا سال کے بعد اب وہ شانزہ کو بھی ٹرافی بنا کر میرے سامنے سے اچک کر لے جا رہا تھا۔ میں محض بت بنا دیکھتا رہ جاؤں تو میری بے حساب دولت کا آخر کیا مصرف؟ آج وہ کھلاڑی کے طور پر اپنی مقبولیت کو استعمال کرتے ہوئے محبت کا کھیل جیتنا چاہتا تھا، لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ میں انسانوں کے جذبات سے کھیلنے کا ماہر تھا۔

اسٹاک مارکیٹ نے مجھے بہت کچھ سکھایا تھا، میں لوگوں کی امیدوں کا قاتل تھا۔ میں ان کے ڈوبتے سرمائے پر داؤ لگاتا۔ وہ لٹ جاتے اور میں فتح یاب ہوتا۔ یہ معاملہ بھی ویسا ہی تھا۔ بظاہر پیچیدہ، مگر حقیقت میں بے حد سادہ: لوگوں کی خواہشات کو ان کی سوچ سے بھی پہلے بھانپ لو، نقصان کے خوف اور منافع کے لالچ کو استعمال کرکے انہیں جوا کھیلنے پر مجبور کرو، بے بسی کے وقت ہمدرد بن کر شیشے میں اتارو اور عین موقع پر چوٹ لگاؤ۔ یہ سب ابلیس کے ہتھیار ہیں جو ہم اسٹاک ایکسچینج میں استعمال کرتے ہیں۔

"تمہیں معلوم ہے، لوگ چہ مگوئیاں کر رہے ہیں؟" میں نے کہا۔

"کس بارے میں؟"

"شانزہ کے بارے میں"۔

میری امید کے عین مطابق علی کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئی۔

"میں نے سنا ہے کہ وہ آج کل کسی اور سے مل رہی ہے"۔

یہ جھوٹ بغیر کسی کوشش کے میری زبان سے نکل گیا۔ سوچی سمجھی منصوبہ بندی، نہ اندرونی ہچکچاہٹ۔

علی نے مجھے غور سے دیکھا، پھر مسکرایا: "تم بہت بدمعاش ہو"۔

"شاید"۔

"کس سے سنا ہے؟"

"افواہیں سنی ہیں، مجھے ان پر یقین نہیں"۔

علی نے انگوٹھی کو دیکھا، پھر ڈبیہ بند کرکے واپس جیب میں رکھ لی۔

اگلے ایک ماہ کے دوران میں نے علی کے سامنے ایک نام کا ذکر بھی کر دیا۔ دوسری طرف میں نے شانزہ سے کہا کہ علی شادی سے ہچکچا رہا ہے، وہ آج کل ایک اسپورٹس جرنلسٹ کے بہت قریب ہے۔ پچھلے غیر ملکی دورے کے بعد علی کچھ پریشان بھی لگ رہا تھا، جیسے وہ کچھ اعتراف کرنا چاہتا ہو۔

پھر دسمبر کی ایک ٹھنڈی رات شانزہ نے مجھے فون کیا۔

"کیا کوئی ایسی بات ہے جو مجھے معلوم ہونی چاہیے؟"

رات کا وقت تھا۔ وقت کا انتخاب ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ میں اپنے کمرے کی کھڑکی سے سڑک پر گزرتی گاڑیوں اور دور عمارتوں کی زرد روشنیوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ رو رہی تھی۔

"کیا پوچھنا چاہتی ہو؟"

"جو کچھ تمہیں علم ہے"۔

"کیوں؟"

"میں غلط فیصلے سے ڈر رہی ہوں۔ تم پر مجھے بہت اعتماد ہے، مجھے اس وقت سہارے کی ضرورت بھی ہے"۔

وہ ایسا لمحہ تھا جب میں نے ایک بار سوچا کہ یہ کہانی ختم کر دینی چاہیے، سچ بتا کر، لیکن میں یہ کھیل جیتنا چاہتا تھا۔

"علی کو کسی بھی چیز سے زیادہ کرکٹ سے محبت ہے۔ میڈیا میں موجود رہنا کھلاڑیوں کی مجبوری ہوتی ہے۔ لوگوں کی داد سمیٹنا ان کی ایسی خواہش ہوتی ہے جو انہیں غلط راستوں پر ڈال دیتی ہے"۔

ایک گھنٹے بعد وہ میرے پاس تھی۔

وہ کبھی کبھی آنکھ اٹھا کر مجھے دیکھتی تھی۔ وہ کچھ کہہ سکی، نہ میں کچھ بول سکا۔ بولنے کا موقع بھی نہیں تھا۔ آنکھیں زبان کا کام کر رہی تھیں۔ شکوے، شکایت، رمز و کنایت۔ سب اشاروں میں ہوا۔

دوہرا پن یا دوغلا پن میرا فن ہے، میرے بزنس کا تانا بانا ہے۔ سازش و منافقت کے سہارے پرخار ٹہنیوں سے پھول چننا میرا کام ہے۔ ملامت مجھے دکھی کرنے کی بجائے حوصلہ دیتی ہے۔ ہم سرمایہ داروں کی زندگی کا مقصد صرف اور صرف مفادات کا حصول ہوتا ہے۔ مجھے علی سے نفرت تھی، اس کی کامیابیاں اور اس کے چہرے پر بکھری مسکراہٹ مجھے آگ کی طرح جلا رہی تھی۔ شانزہ میرے پاس تھی: ذرا سی ہمدردی جتانے پر مزید قریب سرک آئی۔ وہ تھی یا آگ کی لپٹیں جو میرے بدن کو گھیر رہی تھیں! میں نے اپنا بدن ٹٹولا جس سے کئی نہریں رواں ہوگئیں۔ آگ کی نہریں۔ میں اس آگ میں جھلس رہا تھا کہ شانزہ کے بدن کا چمن جام بکف پھولوں کو لیے میرے ساتھ لپٹ گیا۔ یک دم ایسی ٹھنڈک محسوس ہوئی کہ میرا بدن میرے وجود سے نکل کر کہیں دور جا گرا۔

اگلے ہی لمحے وہ مردہ وجود سے الگ ہٹ کر مقطع بن کر بیٹھ گئی۔ کافی دیر ویسے ہی بیٹھی رہی، پھر اٹھی اور سلام کیے بغیر چلی گئی۔ میں کھڑکی میں کھڑا باہر سڑک پر گاڑیوں کو آتے جاتے دیکھتا رہا۔ لوگ بھاگتے بھاگتے تھکتے نہیں۔ ان سڑکوں پر بچھا مفادات کا جال انہیں الجھائے رکھتا ہے۔

دو ہفتے بعد علی نے اسے پروپوز کر دیا۔ اس نے ہاں کہہ دی۔

میں نے فون کیا، مبارک دی۔ بولی: "تمہیں معلوم ہے اس کے ساتھ رہنا کیسا ہوتا ہے؟"

"میں اسے بہت اچھی طرح جانتا ہوں"۔

"پھر یہ بھی جانتے ہو گے کہ وہ کسی بات کا غصہ نہیں کرتا، ہر غلطی معاف کر دیتا ہے"۔

میں خاموش رہا۔

"ہر غلطی، ہر بد مزاجی، ہر وہ لمحہ جب میں اسے مایوس کرتی ہوں، انہیں بھول کر مسکرانے لگتا ہے۔ وہ خدائی صفات کا حامل ایک مکمل انسان ہے"۔

"اسے جیتنے کا فن آتا ہے اور جیتنے کے بعد وہ یہ بھی ثابت کرنا جانتا ہے کہ وہ اس جیت کا حقدار تھا"۔

دلہن کی رخصتی کا وقت تھا۔ شانزہ نے کئی بار میری طرف دیکھا۔ میں نظر نہیں ملانا چاہتا تھا۔ دوستوں کے درمیان ابھی تک وہی زیرِ بحث تھے۔

"علی ہمیشہ سے ایک ایسا انسان رہا ہے جو جس کام کا آغاز کرتا ہے اسے انجام تک پہنچاتا ہے"۔

میں نے شرمندگی پر قابو پا لیا تھا اور گفتگو میں پھر شامل ہوگیا: "کوئی ریس ہو، کوئی وعدہ ہو، یا دوستی۔ حتیٰ کہ دوسرا شخص اس کے لیے معاملات کو کتنا ہی مشکل کیوں نہ بنا دے، وہ ہارتا نہیں"۔

"اور شانزہ انسانوں کو پہچاننے کا فن جانتی ہے"۔ ساتھ والے نے پھر طنزِ ملیح کا سہارا لیا تھا۔ ایک بار میں نے سوچا کہ اس تشنیع کا جواب دے ہی دوں، پھر خیال آیا کہ میں ایک بزنس مین ہوں اور ہم اپنے کاروبار کے راز چھپا کر رکھتے ہیں۔

علی اور شانزہ رخصتی کے لیے اٹھے تو رشتہ داروں کا ہجوم ان کے گرد گھیرا بنا چکا تھا۔ دوستوں نے مجھے بھی آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔ میں نے اپنے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجا کر محفل کی چہ مگوئیوں کا آخری جواب دیا:

"علی جیتنا جانتا ہے، کھیل ہو یا"۔

پہلی بار میرے اندر کا چالاک بروکر بات مکمل کرنے کے الفاظ ڈھونڈ رہا تھا۔ پھر مجھے حقیقت نظر آئی، شانزہ نے علی کو اس لیے نہیں چنا تھا کہ وہ ہر بازی جیت جاتا ہے، بلکہ اس لیے چنا تھا کیونکہ وہ محبت کو کبھی بازی مانتا ہی نہیں تھا۔ ٹالسٹائی نے تو کہا تھا: "روحانی عنصر کے بغیر مواصلت گناہ ہے"۔ میں جس کھیل کو جیتنے کے لیے ابلیس کا روپ دھارے ہوئے تھا، وہ تو غیر مشروط طور پر گناہ کی ایک بچھائی ہوئی بساط تھی۔ علی نے اپنے کردار سے اس بساط پر مجھے مات دے کر بتا دیا کہ عورت سے محبت، روحانی محبت کا دوسرا نام ہے۔

واہ میرے جگری یار۔ محبت کی زندگی روح ہے، کھیل نہیں۔