1. ہوم
  2. کالمز
  3. سید محمد زاہد
  4. ہماری ادبی تقریبات

ہماری ادبی تقریبات

ایک وہ دور تھا جب ادبی تقریبات اور مشاعرے مشترکہ ہندوستان کی تہذیب و ثقافت کی پہچان ہوا کرتے تھے۔ یہ ثقافت دہلی، لکھنؤ کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے دور دراز علاقوں (جیسے حیدرآباد اور کلکتہ) میں بھی اس وقت سے پروان چڑھ رہی تھی جب سلاطین ہند اور امرائے دکن و بنگال شعرا و ادبا کی سرپرستی کیا کرتے تھے۔ اس وقت پیرس اور وینس جیسے شہروں سے بھی اہلِ علم ہندوستانی ادب اور کلچر سے شناسائی حاصل کرنے کے لیے ادھر آتے تھے۔ ہمارے تھیٹروں میں رامائن، شکنتلا، اندر سبھا اور انارکلی جیسے عظیم شاہکار پیش کیے جاتے۔ ہمارے میلوں میں امیر خسرو، وارث شاہ، میرا بائی اور خواجہ غلام فرید کے دوہے اور کافیوں کی گونج جذبات کو گرماتی تھی۔

شاعری اور ادبی تحریروں کی بنیاد حسن و عشق کے بیان اور اس کے پردے میں جبر و استبداد کے خلاف مزاحمت پر رہی ہے۔

کالی داس کی شکنتلا عورت کی بے بسی اور جدوجہد کی علامت ہے۔ وارث شاہ کی ہیر ہو یا شرت چندر کی پارو، یہ سب عورت پر روا رکھے جانے والے جبر کے خلاف مزاحمت کا استعارہ ہیں۔

شاعری کا دوسرا بڑا موضوع سیاسی چیرہ دستیاں اور عوام پر حکمرانوں کا ظلم ہے۔ غالب نے دہلی کی بربادی اور شہنشاہِ ہند کی بے بسی پر کہا تھا

داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خاموش ہے

تختِ دہلی اور ہندوستان کی دیگر ریاستوں پر جب فرنگیوں کا تسلط ہوا تو ہماری علمی و ادبی تہذیب بھی زوال پذیر ہونے لگی۔ انگریز کے خلاف جدوجہد میں اس تہذیب نے اپنی بقا کی جنگ لڑی جس کی واضح جھلک ہمیں آزادی ہند کے جلسوں اور اسلامیانِ ہند کے بڑے بڑے مشاعروں میں نظر آتی ہے۔ حفیظ جالندھری کی شاہنامۂ اسلام ہو یا علامہ اقبال کا شکوہ و جوابِ شکوہ: ان کو سننے کے لیے خلقِ خدا جوق در جوق امڈ آتی تھی۔ اس دور کے شعرا کی عظمت اور ان کی عوامی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سرسید احمد خان جیسے مفسر قرآن بھی اپنی نجات کا ذریعہ مسدسِ حالی کو قرار دیتے تھے۔

انگریز کے خلاف تحریکِ آزادی میں حسرت موہانی، ظفر علی خان، پنڈت ہری چند اختر اور آغا شورش کاشمیری کی نظمیں زبانِ زدِ عام ہوگئیں۔ ادیبوں کی اس جدوجہد میں نوبل انعام یافتہ رابندر ناتھ ٹیگور نے جلیاں والا باغ کے دردناک سانحے کے خلاف احتجاجاً انگریزوں کی طرف سے ملنے والا سر، کا خطاب واپس کر دیا تھا۔

شاعری کا تیسرا بڑا موضوع مذہب ہوتا ہے۔ پنڈتوں، پادریوں اور مولویوں کی مذاہب پر اجارہ داری اور پیروکاروں پر عائد کی جانے والی ناجائز پابندیوں کے خلاف شاعر ہمیشہ لکھتا رہا ہے۔ ان کے خلاف ہمارے صوفیا کی کافیاں عوام میں اس قدر مقبول ہوئیں کہ روزمرہ محاورے کا روپ دھار گئیں۔

بید قرآناں پڑھ پڑھ تَھکّے
سجدے کر دیاں گھس گئے مَتّھے

نہ ربّ تیرتھ، نہ ربّ مکّے
جِس پایا تِس نُور انوار

عشق دی نوِیوں نوِیں بہار

ہندوستانی شعرا اس معاملے میں ہم سے کئی درجہ آگے ہیں۔ سحر بدایونی نے کہا تھا:

سبحہ سے مطلب نہ کچھ زنار سے
ہیں جدا ہم کافر و دیں دار سے

اس معرکۂ بغاوت کی حد لامکاں کے اس پار تک جا پہنچتی ہے:

پھل ہے اس بت کی آشنائی کا
مجھ کو دعویٰ ہے اب خدائی کا

سردار درشن سنگھ آوارہ کی مذہبی ٹھیکیداروں کے خلاف اور مذاہب کی آپسی لڑائیوں پر نظمیں کانگرس کے جلسوں میں سنائی جاتی تھیں۔ انگریز حکمرانوں کو بھی وہ دو دو ہاتھ لیتا تھا۔

تقسیمِ ہند کے ساتھ ہی یہ تہذیب بھی دو لخت ہوگئی۔ اردو کو پاکستان نے قومی زبان کے طور پر اپنایا تو دوسری طرف اردو اور فارسی دونوں ہی معتوب ٹھہریں۔ وہاں اردو رسم الخط اب خال خال ہی دکھائی دیتا ہے، جبکہ ادھر ہمارے ہاں شاہ مکھی، سنسکرت یا ہندی تحریر پڑھنے والا شاذ و نادر ہی کوئی شخص ملتا ہے۔

قیامِ پاکستان کے بعد کچھ عرصے تک مشاعروں کا اوج قائم رہا۔ تاہم، جہاں آمریت نے ملک کے دیگر تمام شعبوں کا بیڑا غرق کیا، وہیں ہمارا ادبی اور ثقافتی معیار بھی ڈوب گیا۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی کئی ادبا زیرِ عتاب آ گئے، سید سجاد ظہیر جیسے بلند قامت ادیب کو غیر ملکی شہری قرار دے کر ملک بدر کر دیا گیا۔

پہلے مارشل لا کے دوران قلم کاروں پر بے پناہ تشدد کیا گیا۔

جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اس دور میں ادبی کلچر کے جنازے کے خود شاہد ہیں۔ حسن و عشق کے بیان پر پابندیاں عائد ہوئیں۔ ہر فلم، کہانی، ڈرامہ اور لکھت پہلے درِ سرکار پر پیش ہوتی۔ صدر پاکستان اپنی ہر تقریر میں کئی نئی چیزوں کی اجازت دینے سے منکر ہو جاتے۔

اس پر حیدرآباد سندھ کے شاعر عنایت علی خان نے پھبتی کسی۔

اس کے رخسار پہ ہے اور ترے ہونٹ پہ تل
تلملانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

فلم اور ڈرامے کے راستے میں دیواریں کھڑی کی گئیں۔ پی ٹی وی کی عمارت میں ساڑھی زیبِ تن کرنے والی خواتین کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔

اس تاریک دور میں ادب اور شاعری میں کئی منفی اور ناپسندیدہ تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ کچھ لوگوں نے حکومتی سرپرستی میں منبر و محراب کی مدح سرائی شروع کر دی۔ اسکولوں میں ادبی سرگرمیوں کے بجائے میلاد کی محافل نے لے لی۔ بزم ادب نامی پیریڈ ہی ختم کر دیا گیا۔

ناول، فلم اور ڈراما جب آزادانہ خطوط پر نہ چل سکے تو انہوں نے مذہب کی چھتری تلے پناہ لی۔

ہم نے اسی قاتل کے آستانے پر دم توڑ دیا
جس کے خنجر کی تیزی کی مثال دیا کرتے تھے

المیہ یہ ہوا کہ جو صوفیانہ شاعری حکمرانوں اور مذہبی ٹھیکیداروں کے خلاف بغاوت کا دوسرا نام تھی، اسے عوام کو صبر و شکر کی تلقین اور صدر پاکستان کو امیر المومنین، ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔

جب عوام ان سانچوں کی طرف راغب نہ ہوئے تو اسٹیج پر مزاحیہ شاعری کو بطور پروڈکٹ، لانچ کیا گیا۔ ابتذال اور جگت بازی نے تھیٹر اور ڈرامے پر مکمل قبضہ کر لیا اور یوں یہ نفیس اور مہذب تفریح چھچھورے اور گھٹیا کھیل میں ڈھل گئی۔ یہی لوگ اب ہمیں ہر سکرین پر ہر وقت رذیل جملے کستے نظر آتے ہیں۔

آج یہ گلہ عام ہے کہ شاعروں کو کوئی نہیں سنتا۔ جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عمدہ ادب مفقود ہو چکا ہے۔ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں کی ادبی نشستوں میں سامعین کی تعداد ایک دو درجن سے زیادہ نہیں ہوتی اور وہ بھی خود سنانے والے ہی ہوتے ہیں۔

تو کیا ادبی تقریبات اور مشاعرے ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گے؟

ہرگز نہیں!

عوام آج بھی اچھے ادب کے پیاسے ہیں۔ وہ جبر و استبداد، ظلم اور زیادتی کے خلاف آوازِ احتجاج پسند کرتے ہیں۔ لوگ نئے اور روشن خیالات کو اپنانے کی خواہش رکھتے ہیں، بشرطیکہ کوئی سچا رہبر بنے۔ کوئی انہیں لکھ کر دے یا سنائے۔ سوال یہ ہے کہ آج کے ان فراعین کے سامنے کلمۂ حق کہنے کی ہمت کون کرتا ہے؟ ابھی کچھ ہی سال پہلے کی بات ہے جب افکار علوی نے ایک پیج والے نئے سیاسی و مذہبی مرشد کے خلاف نظم لکھی تو پورا ملک گنگنا اٹھا:

مرشد! میں جل رہا ہوں، ہوائیں نہ دیجیے
مرشد! ازالہ کیجیے، دعائیں نہ دیجیے

اگر ہمارے شاعر اور ادیب جراتِ رندانہ کے ساتھ بغاوت لکھیں۔ آج بھی معاشرتی ناہمواری، جبر و استبداد، حکمرانوں کی چیرہ دستیوں اور مذاہب کے ٹھیکیداروں کے خلاف بغاوت کا علم بلند کریں تو لوگ انہیں سننے کو تیار ہیں۔ خاتون خانہ کے خلاف شاعری، عورتوں پر گھٹیا جگت بازی اور ذومعنی اشعار کہنے والوں کو سننے کون آئے گا؟ مہذب اقوام صاف ستھری شاعری سنتی ہیں۔ تعلیم یافتہ سمجھدار لوگ اچھی فلم دیکھنا چاہتے ہیں۔ اچھی موسیقی عوام میں ہمیشہ مقبول ہوتی ہے۔ لوگ آزادی بھی چاہتے ہیں، اظہار کی آزادی۔ اپنی آرزووں کی تکمیل چاہتے ہیں، اس کے لیے وہ ہر حد پار کرنے کو تیار ہیں۔ کوئی ان کی خواہشات کو زبان دے تو وہ سننے آتے ہیں۔

دل پر پہرے نہیں، نظر اسیر نہیں
بلندی عرش کے پار ہے مقامِ آرزو

***

نوٹ: یہ تحریر ہمارے علاقے میں ہونے والی ادبی تقریبات میں عوامی شرکت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو دیکھ کر لکھی گئی۔ کچھ سال پہلے فاروق آباد اور شیخوپورہ میں فلکی نامہ، ادبی تنظیم نے پروگراموں کا انعقاد شروع کیا۔ محض چار پانچ سال کے مختصر عرصے میں صورت حال یہ ہے کہ وہ سال میں آٹھ سے دس پروگرام منعقد کرتے ہیں۔ ان کے سالانہ مشاعرے میں تین چار سو افراد شریک ہوتے ہیں اور دیگر میں بھی حاضری اکثر سو سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل کے ساتھ سجائی گئی ایک شام میں ہال ہمہ وقت لبالب بھرا رہا اور یہ نشست چار گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ فلکی نامہ کے ساتھ مل کر مقامی پریس کلب اور ملک کی مختلف ادبی تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ فیمینسٹ تھیٹر سنگت، کے تعاون سے ہونے والے نجم حسین سید کے ڈرامہ "چوگ کسنبے دی" میں ناظرین کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ انہی کے ڈرامے دیوا مندری، کو جس میں مرکزی کردار معروف طالب علم رہنما عروج اورنگ زیب نے ادا کیا، عوام کی بھرپور پذیرائی ملی۔