1. ہوم
  2. افسانہ
  3. سید محمد زاہد
  4. گردوارہ سبھا سنگھ

گردوارہ سبھا سنگھ

جس جس نگر میں خالصہ سنگت کا بسیرا تھا، بٹوارے کے خونچکاں طوفان نے وہ سب استھان ویران کر دیے۔ شہر کے شہر اجڑ گئے، گھر ویران اور بازاروں کی رونقیں ختم ہوگئیں۔ گردوارہ سبھا سنگھ، جو سیوا، سانت اور دھرم پریت کی نشانی تھا، گہرے سوگ میں ڈوب گیا۔ ہزاروں سکھ مال دولت بستر برتن گردوارہ سبھا سنگھ کے کمروں میں مقفل کرکے، پرواسی ہو گئے۔

جب چڑھدے پنجاب سے مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے ادھر پہنچے، تو تالے توڑ کر وہ سامان ان بے گھر مہاجروں میں بانٹ دیا گیا۔ تہہ خانے کے کمروں میں جو قیمتی برتن اور کپڑے چھپائے گئے تھے وہ بھی ایک ایک کرکے ڈھونڈ لیے گئے۔ شہر کے بوڑھے باسی روایت کرتے ہیں کہ اس گردوارہ صاحب کے کچھ گپت کمروں میں مایا، سونا اور چاندی کے ڈھیر تھے جنہیں سکھ اپنے ساتھ نہیں لے جاسکے، مگر تمام تر کھوج کے باوجود ایسا کوئی خزانہ دریافت نہ ہو سکا۔

مقامی مسلمان اس پَوِتر عمارت کے جلال اور روحانی عظمت کے قائل تھے۔ وہ اس دربار کو ایک زندہ جاوید، باکرامت ہستی مانتے اور اس کی حرمت کو ذرا سا بھی نقصان پہنچانے سے ڈرتے تھے۔ تاہم دوسرے علاقوں سے آئے مہاجرین ان کے اس ادب و احترام کو شرک قرار دے کر جھٹلا دیتے۔

***

دھرم عجیب ہوتے ہیں، گھمن گھیریوں اور بَھو ہراس سے بھرے۔ سنسار کے کھلارے پر ان دیکھی قوتوں کا عمل دخل دھرموں کی نیہہ ہے۔ یہ سب حواس کا دھوکا ہے یا سچ، بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، لیکن کچھ تو ہے جو دھرم کی یہ نیہہ آج تک پکی اور تکڑی ہے۔

ابہام کا اندھیرا اور اسرار کی دھند انہیں تکڑا کرتی ہے، تو بھو اور ڈر کی کیفیت جیون جل بن کر ان کو پالتی ہے۔ وہ باتیں اور کہانیاں، جنہیں عقل ناممکن گردانتی ہے، ان کے بے رنگ وجود میں عقیدت کے گوڑھے رنگ بھرتی چلی جاتی ہیں۔

وہ مسجد، گردوارہ، مندر یا دیوہار جنہیں پرانے زمانے کے ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں سے کھڑا کیا جن کے نام اتہاس کے اوہلے میں چھپ چکے ہیں، اگر وہ آج بھی نسبتاً بغیر کسی بدلاؤ کے کھڑے ہیں تو ان کے بارے میں ایک بار سوچ بچار ضرور کرنا چاہیے۔ یقیناً وقت کے ساتھ ان کے پتھروں کا رنگ میلا ہوگیا ہے، دیواروں پر کائی جمی ہے، دروازوں کو دیمک کھا چکی ہے لیکن ان کا اصل چوکٹھا آج بھی بالکل وہی ہے جو سدا سے تھا۔

وہ عمارت قلعہ تھی یا سانجھی چوپال؟ وہ ایک عام سی عبادت گاہ تھی یا بہکے بھٹکے لوگوں کے لیے پناہ گاہ، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ایک لمبے عرصے سے ویران پڑی اس عمارت کو عام لوگ گردوارہ کہتے تھے۔

کہتے ہیں کہ گرنتھی سبھا سنگھ کو افغانوں نے گرفتار کر لیا۔ اسے خان کے روبرو پیش کیا گیا۔

"تم جس گرو کے سیوک ہو اسے کہو کہ اپنا چمتکار دکھائے اور تمہیں میرے قہر سے بچائے"۔

"میرے گرو دا آکھنا اے، چمتکار وکھانا، رب دا بھید ظاہر کرنا اے۔ رب دی رمز ظاہر کرن توں سر دینا چنگا ہے"۔

خان کو غصہ آیا اور حکم دیا کہ اس کا پیٹ چاک کرکے، بازو کچل کے اور ٹانگیں توڑ کر چھوڑ دیا جائے۔ یہ سسکتا تڑپتا مرے اور اس کے لوگوں کو ہماری ہیبت کا اندازہ ہو۔

سردار سبھا سنگھ نے ٹھٹھا کیا، "تو مجھے نہیں مار سکدا"۔

گرنتھی سبھا سنگھ شدید زخمی حالت میں ست سری اکال، کا نعرہ مستانہ لگاتا اِس جگہ پہنچا۔ تہہ خانے میں موجود خفیہ کمرہ کھولا اور سری گرو گرنتھ صاحب کے سامنے ماتھا ٹیک دیا۔ موت کی آخری ہچکی لیتے ہوئے اس نے گرو کا چمتکار، تمام پراسرار شکتی اور زندگی دا آخری ساہ اس عمارت کو منتقل کر دیا، جس سے اینٹوں اور پتھروں کا بنا ہوا یہ گردوارہ ایک ذی شعور اور زندہ ہستی بن گیا۔ اس کی شکتی عمارت کی نیہہ میں رچ بس گئی اور چمتکار زمین میں دھنس گیا۔ گردوارے کی دیواریں عمارت کی بینائی، بہنے والے پانی کے راستے اس کی رگیں اور وہ چھوٹا سا جادوئی کمرہ جس کے چبوترے پر گرنتھ صاحب موجود تھے، دل و دماغ بن گیا۔

مرتے وقت اس نے عمارت کو حکم دیا۔

میرے خون دی رکھشا کرنا۔۔

جب سردار سبھا سنگھ کا بڑا بیٹا جوان ہوا تو احمد شاہ ابدالی نے پھر دھاوا بول دیا۔ اس نے باپ کی رِیت نبھاتے ہوئے اپنا خون بھی اس عمارت کے دل (خفیہ کمرے) میں شامل کر دیا۔

پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ گردوارہ آفتوں، بلاؤں، بیماریوں اور موسم کی سختیوں سے ایک خاموش اور ان دیکھے محافظ کی طرح اس خاندان کی رکھشا کرتا رہا۔ جو بچے اُس کی دیواروں کی چھتر چھاؤں میں پلتے ان کی موت شاذ و نادر ہی ہوتی۔ ان کو جنم دینے والی مائیں بھی ارد گرد کے لوگوں سے کہیں زیادہ صحت مند رہتیں۔ یہ عمارت بیماریوں سے بچانے کے لیے اپنی صفائی کا خود خیال رکھتی۔ اس کے پانی کی پاکیزگی کی کہانیاں زبان زدِ عام ہوگئیں۔ سردار سبھا سنگھ کی نسل پھلنے پھولنے لگی اور پیڑھی در پیڑھی ان کے بچے طاقتور ہوتے چلے گئے۔ گرنتھی کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد جب وہ عمارت کے چمتکار کا حصہ بنتے تو ان کا زور مزید بڑھ جاتا۔ جلد ہی اس خاندان کے کیرتن اور پاٹھ کا اثر دور دور تک مشہور ہوگیا اور یہ عمارت شرن اور گرو دی اوٹ، کے نام سے جانی جانے لگی۔

ان دٹھی شکتی انسان کے دماغ میں فتور بھر دیتی ہے۔ بیتدے سمے دے نال نال دھرم میں تنت منتر اور پکھنڈ بھی شامل ہو گئے۔ اس کے آسرے کی وجہ سے ایک گرنتھی کے من میں حد سے زیادہ ہنکار پیدا ہوگیا۔ وہ یہ بھول گیا کہ عمارت کی حدود سے باہر جاکر وہ بے آسرا ہو جاتا ہے۔ اس نے باہر جا کر دشمن پر اپنا منتر آزمایا تو ناکام ہوا اور مارا گیا۔

گرنتھی کی اَن چِتی موت نال ہر پاسے تھرتھلی مچ گئی۔ جلد بازی اور خوف کے اس ماحول میں، خاندان کا ایک بیمار بوڑھا اس کے دونوں بیٹوں کو تہہ خانے میں لے گیا اور انہیں قلعے کی جادوئی صلاحیتوں کے بارے میں بتایا۔

عمارت خود تو کچھ بتا نہیں سکتی تھی، سبھا سنگھ کو فوت ہوئے تقریباً دو صدیاں بیت گئی تھیں۔ اتنے عرصے بعد دھرم میں کئی گھمن گھیریاں اور من گھڑت باتیں شامل ہوگئی تھیں۔ جب بوڑھے نے ادھوری اور جھوٹی سچی خبریں ان دونوں بچوں کو دیں، تو ان دونوں میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔

بوڑھے نے دوسری غلطی یہ کی کہ دونوں بچوں کو جادوئی کمرے کے اندر لے گیا۔ عمارت نے دونوں کے خون کو پہچان لیا۔ اس کے نتیجے میں دونوں بھائیوں کے پاس مساوی حق اور اختیار آ گیا، جس نے آگے چل کر ان کے درمیان تنازع، حسد اور تباہی کی بنیاد رکھی۔ بوڑھے نے انہیں بتایا کہ عمارت کا اصل کام خون کے سچے وارثوں کی حفاظت کرنا تھا۔

بڑے بیٹے نے صحن والا استھان سنبھال لیا اور چھوٹا سردار سبھاش سنگھ تہہ خانے کے کمرے کے سامنے بیٹھ گیا۔ یوں وہ دل و دماغ کے زیادہ قریب ہوگیا۔

قدیم عمارت کی آسمان کو چھوتی دیواریں اور بھاری پتھر صدیوں کا راز سینے سے لگائے سنسان اور خاموش کھڑے تھے۔ بڑا بھائی اپنے زعم میں سمجھتا تھا کہ اس پراسرار عمارت نے اس کا انتخاب اس کی اہلیت اور پاکیزگی کی بنا پر کیا ہے۔ وہ خود کو مسند کا واحد اور سچا حقدار جانتا تھا۔ لیکن یہ محض ایک دل فریب دھوکا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ گردوارے کی روح ان دونوں بھائیوں کو صرف خون کی سانجھ کی وجہ سے قبول کر رہی تھی۔

لیکن انہی سنگین دیواروں کے پیچھے بے وفائی اور فریب کا ایک ایسا جال بچھا تھا جس سے بڑا بھائی بالکل بے خبر تھا۔ اس کی بیوی اسے دھوکا دے رہی تھی۔ اس کی کوکھ سے جنم لینے والے چاروں بچے کسی اور کے نطفے سے تھے۔ بڑا بھائی جس کرشماتی خون کا غرور پالے بیٹھا تھا، وہ سانجھ تو اس کے گھر کی دہلیز کے باہر ہی ٹوٹ چکی تھی۔

ادھر دھرم پرچارک سبھاش سنگھ کے شبد کیرتن سے متاثر لوگوں کے بڑھتے سلسلے نے بڑے بھائی کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا۔ ایک تاریک رات میں ظالم نے لرزتے ہاتھوں کے ساتھ اپنے ہی بھائی کے سینے میں خنجر اتار دیا۔ اس گردوارہ کے اندر قتل ایک ہولناک عمل تھا۔ یہ عمارت سبھا سنگھ کے خون کی آخری نشانی کو بچانے کے لیے حرکت میں نہ آئی۔ سب حیران رہ گئے۔

یہ وہ دور تھا جب ملکی حالات بھی گمبھیر ہو گئے۔ بٹوارے کا ڈھول پیٹا گیا تو ہندو مسلم فسادات شروع ہو گئے۔ اس علاقے میں سکھوں کی اکثریت تھی۔ گورونانک کی اس دھرتی میں سکون کا راج تھا۔ پنجاب کے بٹوارے کی آواز ابھری تو سکھوں کو یہ علاقہ چھوڑ کر جانا پڑ گیا۔ سردار سبھا سنگھ کی نسل کا آخری فرد، قاتل بھائی موقع غنیمت جان کر ہندوستان فرار ہوگیا۔

یوں یہ گردوارہ ویران ہوگیا۔

***

سمے کا چرخہ گھومتا رہا۔ بابری مسجد کے المناک سانحے کے بعد ہمارے دیس میں پوتر دھرم استھانوں پر آفت کے بادل چھا گئے اور اس تاریخی گردوارہ صاحب کی عمارت کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ اس بے حرمتی سے ناجائز قابضین کے حوصلے اس حد تک بڑھ گئے کہ انہوں نے اس مقدس دربار کا وجود مٹا کر وہاں تجارتی پلازہ بنانے کی ناپاک اسکیمیں بنانا شروع کر دیں۔

ننکانہ صاحب سے سکھ یاتریوں اور وفود کی آمد و رفت رہتی تھی۔ جب انہیں اس سازش کی خبر ہوئی، تو انہوں نے نگر واسیوں کے سامنے اس دربار کی پراسرار تاریخ کی پرتیں کھولیں اور بتایا کہ یہ پوتر عمارت اپنی رکھشا خود کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔ انہوں نے یہ بچن بھی دہرایا کہ جس دن سردار سبھا سنگھ کی نسل کا کوئی سچا وارث یہاں اپنے چرن رکھے گا، اس دربار کا پرشاد اور کرپا چاروں اور پھر عام ہو جائے گی۔

حکومتِ وقت بھی سکھوں کی حامی تھی۔ سکھ مت کے صوبائی وزیر نے گردوارے کا دورہ کیا تو مسلمانوں کے جذبات بھڑک اٹھے۔ ان کی دلیل مضبوط تھی کہ شہر میں ایک بھی سکھ آباد نہیں تو گردوارہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ کچھ شرپسندوں نے عمارت پر دھاوا بول دیا۔ توڑ پھوڑ کرنے کی کسی میں جرات نہیں تھی لیکن لوگ اس کے اندر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ پرانی کہانیاں بھی ہر زبان پر تھیں۔ لوگ ماننے کو تیار ہی نہیں تھے کہ ایک اینٹوں اور پتھروں کی بنی عمارت اپنی رکھشا خود کر سکتی ہے؟

ایک بوڑھا لوگوں کو سمجھاتا رہا کہ سردار سبھا سنگھ کی کرامت سامنے آ گئی تو سب بھاگ جائیں گے۔ وہ ڈراتا رہا لیکن لوگوں نے ایک رات عمارت کو ملیامیٹ کرنے کا پروگرام بنا لیا۔ بھنک پڑی تو وہ اپنے بچوں کو لے کر عمارت کے تہہ خانے میں چھپے شرپسندوں کے پاس پہنچ گیا۔ جونہی پہلے آدمی نے کدال کا وار کیا، وہ بچوں سمیت اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔ کدال اس کے بیٹے کو لگی اور وہ زخمی ہو کر گر پڑا۔ دوسرا وار اس بچے کے کزن کے سر پر ہوا لیکن اب کی بار کدال ٹوٹ گئی۔ ساتھ ہی عمارت کے در و دیوار لرزنے لگے۔ چھت اور دیواروں سے اینٹیں پتھر گرنے لگے جس سے لوگ باہر کی طرف بھاگ نکلے۔

لوگوں کو بھاگتے دیکھ کر وہ لڑکا بولا، "سارے رک جاؤ! میں سردار سبھا سنگھ دی اولاد ہاں۔ سردار سبھاش سنگھ جیہنوں اوہدے بھرا نے قتل کیتا سی، میرے دادا سن۔ جو گوردوارے نوں نقصان نہیں پہنچائے گا، اوہنوں کجھ نہیں ہووے گا"۔

اسی وقت گڑگڑ کی آواز تہہ خانے میں گونج اٹھی۔ ایک دیوار سرکی تو چھوٹا سا روشن کمرہ سامنے تھا جس کے چبوترے پر سونا چاندی کے ڈھیر کے ساتھ سری گرنتھ صاحب موجود تھے۔

لوگ حیران ہو کر بوڑھے کی طرف دیکھنے لگے۔

وہ بتانے لگا، "سردار سبھاش سنگھ نے میری وڈی پھپھی نال شادی کیتی سی، جیہدا ایہہ پوتا اے۔ ساڈے وڈیریاں نے دھرتی ماتا تے ایس گردوارے نال وفا نبھائی اور اے شہر چھڈ کے روپوش ہو گئے۔

دھرم استھان شانتی تے پریم دا گھر ہندے نے۔ ایس بچے دی رکھشا ایہہ عمارت کر دی اے، ایہنوں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکدا۔ ایس گردوارے دا چمتکار جاری روے گا"۔