1. ہوم
  2. کالمز
  3. ناصر عباس نیّر
  4. حسن منظر کے لیے حرفِ تعزیت
Nasir Abbas Nayyar

حسن منظر کے لیے حرفِ تعزیت

تعزیتی جملے لکھنا آسان نہیں ہوا کرتا۔ آپ کسی کی موت پر کوئی رسمی جملہ کیسے لکھ سکتے ہیں؟ ایک شخص کی زندگی ہی نہیں، موت بھی دوسرے شخص سے مختلف ہوا کرتی ہے۔ اس کی موت کا دکھ، سوگ، اس کی کمی، زیاں، سب الگ ہوا کرتے ہیں۔ یہی مشکل حسن منظر کے تعلق سے، مجھے کل سے درپیش ہے۔ حسن منظر اپنے معاصرین، پیش روؤں اور پس روؤں سے الگ ہیں۔

سب ممتاز ادیب الگ ہی ہوا کرتے ہیں، مگر ایک حقیقی ادیب کا امتیاز، دوسرے ادیب کے امتیاز سے بھی الگ ہوا کرتا ہے۔ اس کے ادبی موضوعات، اسالیب، زندگی کرنے کا طور، ادب میں مقام بنانے کی جدوجہد یا اس سے بے نیازی جدا ہواکرتے ہیں۔

حسن منظر اکثر باتوں میں جدا تھے۔ وہ بیرون ملک کے علاوہ، لاہور، کراچی، حیدرآباد میں رہے، مگر ادبی مجالس و تقاریب میں کم نظر آتے۔ وہ صلہ و ستائش سے بے نیاز نہیں تھے، مگر ان کی ہوس سے بے نیاز ضرور تھے۔

اعزازت ملے تو خاموشی اور وقار سے، ایک معمول سمجھ کر وصول کر لیے۔ نہیں ملے تو کوئی شکایت نہیں کی۔ کسی نے ان کی تحریروں پر اعتراض کیا تو دل میں کوئی پر خاش نہیں رکھی۔ خاموشی، تنہائی اور ایک سچا انکسار، ان کی شخصیت کا حصہ تھے۔

ان کے خاندان نے ہجرت کی۔ تب وہ تیرہ برس کے تھے۔ انھیں بھی وہ سب کچھ نہیں بھولا، جسے وہ مراد آباد والے گھر میں چھوڑ آئے۔ مثلاً میڈل، کپ، اپنے استا دبھگت رام شرما کی دی ہوئی کتابیں، سٹیشنری۔ انھوں نے پریم چند، حسرت موہانی اور ٹیگور کو بھی فراموش نہیں کیا۔

ٹیگور کا جلیاں والا باغ کے واقعے کے بعد سر کا خطاب واپس کرنا، گاندھی کو نوجوانوں کو غلط تعلیم دینے پر ٹوکنا بھی، انھیں نہیں بھولا۔ لیکن انھوں نے اپنی یادوں کو اپنے ادب کا مستقل اور مرکزی موضوع نہیں بنایا۔ لاہور میں لکھنے کا آغاز، یادوں سے نہیں، ترقی پسندانہ افسانے لکھنے سے کیا۔ پریم چند (جن کے آخری مگر نامکمل ناول منگل سوتر اور ان کی اہلیہ کی کتاب "پریم چند گھر میں" کا اردو ترجمہ کیا) اور میکسم گورکی سے دلی لگاؤ رہا۔

طاقت کا غلبہ اور محروم کی بے بسی، ایک یا دوسری طرح سے، ان کے فکشن کا موضوع رہی۔ عام آدمیوں، عام گھروں، زمین کا نوحہ لکھا۔ اس کا عروج ان کا ناول حبس ہے۔ اس کا مرکزی کرادر اسرائیل کا گیارھویں وزیر اعظم ایریل شیرون ہے جو آٹھ برس کوما میں رہا۔ ناول، اس کے ذہن میں چلنے والے واقعات کی روداد ہے۔

ناول میں ایک ایک کرکے یہودیت، زائیون ازم، پوگرام، ہولوکاسٹ، انتفاضہ، نکبہ، توریت، تالمود، کوشر، دیوار گریہ، موسیٰ، تھیوڈر ہرزل، امریکا، فلسطین، بالفور، برطانیہ اپنے اپنے مقام پر بیا ن ہوتے جاتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ ان کے کچھ ناول باہر سے متعلق ہیں۔ حسب کے علاوہ، العاصفہ پوری طرح، دھنی بخش کے بیٹے بڑی حد تک۔

ان کا ایک اہم "اے فلک نا انصاف" (اپنے محبوب شاعر غالب کی شاعری سے ماخوذ) ہے، جس کا پس دارا شکوہ اور اورنگ زیب عالمگیر کی کش مکش ہے، جس میں عالمگیر فتح حاصل کرتا ہے۔ ناول میں داراشکوہ کے بادشاہ بننے کے امکان کو پیش کیا گیا ہے اور یہ دیکھنے کی کوشش کی گئی کہ اس صورت میں تاریخ کا رخ کیا ہوتا۔ یہ فکشن کے ذریعے متبادل تاریخ پیش کرنے کا تجربہ ہے۔ وبا بھی ایک اہم ناول ہے اور صدر مملکت کا خود رو پھول، قابل ذکر ڈراما ہے۔ انھوں نے بچوں کے لیے بھی لکھا۔

وہ اپنے ترقی پسند میلان کے باوجود گہرے مذہبی شخص تھے۔ وہ مذہب کو انسانی زندگی نہیں، زندگی کا حصہ سمجھتے تھے، یعنی تما م جانداروں میں بھی مذہب کو کارفرما دیکھتے تھے۔

سب سے زیادہ جس کتاب کو پڑھا وہ قرآن کریم ہے، انھوں نے گلزارجاوید کو بتایا کہ قرآن کریم نے ہر بار ان کے اضمحلال کو دور کیا۔

تاہم مذہبیت کے باوجود، ان کے یہاں گہری مذہبی و ثقافتی رواداری بھی تھی۔ اسی لیے وہ بھگوت گیتا، رامائن، مہابھارت، بائبل کو بھی دل چسپی سے پڑھتے تھے۔

ستیم، شوم، سندرم: یعنی سچائی، مقصدیت اور جمال کو اپنا تخلیقی منشور قرار دیتے تھے۔ وہ اپنی مسلم شناخت کے باوجود، ہندوستانی تہذیب اور اس کے فکری و جمالیاتی مظاہر سے دلی لگاؤ رکھتے تھے۔ عالمی ادب سے بھی دل چسپی تھی، تاہم زیادہ کلاسیکی ادب پڑھا۔

شاعروں میں غالب ان کے پسندیدہ تھے۔ سفر و حضر میں دیوان غالب ان کے پاس ہوا کرتا تھا۔ مجھ سے کبھی کبھار ای میل سے رابطہ ہوتا تو غالب کے بارے میں بات کیا کرتے۔

درست زبان لکھنے پر اسی طرح کاربند رہتے، جس طرح اپنی مذہبیت اور عام انسانی ہمدردی پر۔ درست زبان سے مراد، زبان کا اہل زبان کے یہاں اور مستند کتب میں مخصوص مگر مستقل استعمال ہے۔

درست زبان سے گہری وابستگی تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ درست زبان لکھنا مشکل نہیں، درست زبان کو تخلیقی سطح پر برتنا مشکل ہے۔ وہ ناول اور فارم نہیں، نوول اور فورم لکھا کرتے تھے۔ حسن منظر اس میں بڑی حد تک کامیاب تھے۔

افسانوں، ناولوں کی مانند، ان کے افریقا میں قیام کی یادوں کی کتاب "گزرے دن" عمدہ تخلیقی نثر کا نمونہ ہے۔

انھوں نے جتنا لکھا، اتنا شائع نہیں کروایا۔ آٹھ سال کی عمر میں لکھنا شروع کیا۔ مگر پہلی کتاب 1981 میں شائع کی۔ فکشن کو پختہ عمر میں شائع کرنے کے اعتبار سےوہ نیر مسعود اور اسد محمد خاں کی مانند تھے۔

ان کے سب ناول اکیسویں صدی میں شائع ہوئے۔ اکادمی ادبیات نے انھیں نہ صرف کمال فن ایوارڈ دیا، بلکہ ان کے ناول حبس کا انگریزی ترجمہ بھی شائع کیا۔

انھیں بلاشبہ پڑھا گیا، سراہا گیا۔ ان پر خاصا لکھا بھی گیا۔

انھوں نے بانوے برس کی، مجموعہ طور پر خوشحال، تخلیقی اعتبار سے بھر پور، مطمئن زندگی بسر کی۔