افلاطون نے تخیل پر تفصیل سے نہیں لکھا، مگر یہ ایک دل چسپ اتفاق ہے کہ عہد وسطیٰ میں مسلمان فلسفیوں نے، افلاطون کی غار کی تمثیل کو تخیل کا نظریہ وضع کرنے کے لیے استعمال کیا۔ الکندی نے ارسطو کی اصطلاح فنتاسیہ کا ترجمہ خیال کیا۔ بعد ازاں ابن عربی اور دوسروں نے عالمِ خیال کی ترکیب کو تخیل کے مفہوم میں استعمال کیا۔ جب کہ فارابی نے افلاطون کی غار کی تمثیل اور ارسطو کے نظریہء تخیل کی بنیاد پر ایک اپنا نظریہء تخیل وضع کیا۔
یہ نظریہ سیاست، ادب اور آرٹ کے ضمن میں آج بھی اہمیت رکھتا ہے اور یہ مغربی نظریہ تخیل (جسے کانٹ اور کالرج نے بہ طور خاص پیش کیا ہے) سے فکری طور پر زیادہ زرخیز ہے۔
افلاطون نے "جمہوریہ " کی ساتویں کتاب میں، غار کی تمثیل پیش کی ہے۔ زمین کی گہرائی میں ایک غار ہے، جس میں ایک راستہ باہر کی روشنی کے لیے کھلا ہے۔ انسانوں کی ایک تعداد، اس غار میں بچپن سے قید ہیں۔ وہ چل سکتے ہیں نہ گردن موڑ سکتے ہیں۔ وہ صرف سامنے دیکھ سکتے ہیں۔
سامنے ایک دیوار ہے، جس پر کئی عکس اور سائے ہیں۔ غار میں آگ جل رہی ہے، جس سے یہ قیدی نا واقف ہیں۔ اسی آگ کی روشنی سے، غار کی دیوار پر کچھ لوگ (جنھیں یہ قیدی نہیں دیکھ سکتے)، کچھ مجسموں اور مورتیوں کے عکس بنارہے ہیں۔ ان کے لیے یہی سائے اور عکس حقیقت ہیں۔
ان میں سے ایک شخص کسی طرح باہر جاتا ہے تو اسے خاصی جدوجہد کے بعد، یہ علم ہو پاتا ہے کہ وہ سایوں سے، حقیقت کی دنیا میں آیا ہے۔ سورج، حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے، جب کہ آگ مصنوعی اور محدود علم کی نمائندہ ہے۔ اب وہ اعیان اور ان کی نقل کے فرق کو سمجھنے لگتا ہے۔
وہ واپس، قیدیوں کو حقیقت سے آگاہ کرنے جاتا ہے۔ غار کی اس تمثیل کی مغربی تعبیرات، حقیقی اور غیر حقیقی دنیاؤں کے فرق پر مبنی ہیں۔ غار کی دنیا غیر حقیقی ہے، جب کہ باہر کی دنیا حقیقی ہے۔ انسان، غیر حقیقی دنیا میں جکڑے ہوئے ہیں، انھیں حقیقی دنیا میں جانے کے لیے جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔
حقیقی دنیا میں، جانے والا ہی فلسفی اور استاد بنتا ہے۔ وہ واپس آکر، غار میں قید انسانوں کو غیر حقیقی دنیا کے جبر سے آزاد کرواتا ہے۔ عہد وسطیٰ کے مسلمان مفکرین، خصوصاً افارابی، ابن عربی اور ابن سینا نے غار کی اس تمثیل کو حقیقی اور غیر حقیقی دنیا کی تفریق میں جکڑے ہونے سے، گویا آزاد کروایا۔
فارابی نے حقیقت کو دوئی کی حامل ساخت نہیں سمجھا، بلکہ اس کے سہ رخی ہونے کا تصور دیا۔ انھوں نے حقیقت کو محسوسات (the sensible)، قابلِ تخیل (the imaginable) اور معقولات (the intelligible) میں تقسیم کیا۔ حقیقت کے تصور، فن کی جمالیات اور سیاسی، عمرانی اور صوفیانہ فکر میں، حقیقت کایہ تین سطحی تصور، ایک بڑی علمی جست تھا۔
غار میں قید لوگ، محسوسات کی سطح پر زندہ ہیں، جب کہ باہر جانے والا شخص، معقولات قائم کرنے کے قابل ہوا ہے۔ مسلمان فلسفیوں نے حسی ادراک اور معقولات کے ساتھ تخیل کو بھی حقیقت تک رسائی کا وسیلہ تسلیم کیا۔
فارابی، ارسطو کی اس رائے کو تو تسلیم کرتا ہے کہ تخیل کا انحصار، حسی ادراک پر ہے اور یہ کہ حسی ادراک، درست ہوتا ہے، جب کہ تخیل میں غلطی کا امکان ہوتا ہے، مگر وہ ان دونوں باتوں کو بنیاد بناکر تخیل سے متعلق نظریہ سازی کرتا ہے۔ فارابی، حسی ادراک سے حاصل شدہ معلومات کو آنکھیں بند کرکے، ان کی ذہنی تصویر بنانے کو تخیل نہیں کہتا۔
وہ ذہنی تصویر بنانے کی انسانی صلاحیت کی نوعیت اور کارکردگی کے لیے تخیل، مخیل، قوتِ متخیلہ، قابلِ تخیل جیسی اصطلاحات استعمال کرتا ہے۔ فارابی کے نزدیک، تخیل محض ذہنی تصویر (imagining) قائم نہیں کرتا، بلکہ اس تصویر کو برقرار رکھتا ہے اور اس تصویر کو کسی مصرف میں لانے کی استعداد رکھتا ہے اور اس سے آگے بڑھ کر، ایسے معانی بھی پیدا کرتا ہے، جن کا تعلق، باہر کی حقیقی دنیا سے ہوتا ہے۔ نویں صدی میں تخیل کا یہ نظریہ انقلابی سمجھا گیا ہوگا۔
فارابی، ارسطو کے اس خیال سے اتفاق کرتا ہے کہ حسی ادراک کے مقابلے میں، تخیل میں غلطی کا امکان ہوسکتا ہے۔ غلط اور صحیح کا فیصلہ عقل کرتی ہے۔ گویا، کسی معاملے میں عقل ایک طرف اشارہ کرتی ہے، مگر تخیل دوسری طرف۔ لیکن فرد، عقل کے بجائے، تخیل کا ساتھ دیتا ہے۔
وہ عقل کے اشارے کو دیکھ لینے اور تخیل کی غلطی کو محسوس کرلینے کے باوجود، وہ تخیل کی رہ نمائی قبول کرتا ہے۔ کیوں؟ فارابی کے نزدیک، فرد عقل پر اپنے یقین کو معطل کرتا ہے، کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ تخیل، عقل اور سچائی سے مختلف ضرور ہے، متضاد نہیں ہے۔
یعنی تخیل، اس رخ پر چلتا ہے جو عقل سے مختلف ضرور ہے، عقل کے مخالف نہیں ہے۔ تخیل، صرف عقل کے عمومی طریقے سے انحراف نہیں سکھاتا، یہ نئے، تخیلاتی معانی بھی پیدا کرتا ہے۔ تخیلاتی معانی سے مراد، وہ معانی ہیں، جو حسی ادراک سے اخذ شدہ ذہنی تصویروں (images) کو باہم ملانے، ان میں نئے نئے رشتے پیدا کرنے سے حاصل ہوتے ہیں۔
یہاں تخیل، علتی طور پر (causatively) کام کرتا ہے۔ یہی طریقہ عقل کا بھی ہے اور اسی سبب سے، تخیل کا طریقہ، عقل سے مختلف ضرور ہے، مگر عقل مخالف نہیں ہے۔ تخیل مختلف امیجز کو نہ صرف آمیز کرتا ہے، بلکہ ان میں موازنہ بھی کرتا ہے۔ وہ ان امیجز کو حسی ادراک سے، ایک سطح پر آزاد کرلیتا ہے تاکہ وہ ان کی قوت اور استعداد کو بروے کار آنے دے۔
یہ سارا عمل تخلیق کا ہوتا ہے۔ فن کی تخلیق کا بھی اور علم کی تخلیق کا بھی۔ تخیل، تجریدی تصورات کی تخلیق میں بھی کام آتا ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ تخیل کی یہ دونوں تخلیقات، باہر کی دنیا کو روشن کرنے میں کام آتی ہیں۔
فارابی نے تخیل کو اسی بنا پر ایک عمل انگیز قوت کا بھی نام دیا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ مغرب میں، فارابی سے ایک نئی دل چسپی، اسی سبب سے پیدا ہوئی ہے کہ مسلمان، اپنے مقبول عام مذہبی بیانیے میں تخیل کو شامل کرتے ہیں۔ یعنی وہ ابتدائی زمانوں کی محض یادداشت نہیں رکھتے، بلکہ ان کا تخیل رکھتے ہیں اور تخیل، یادداشت کے مقابلے میں زیادہ گہرا اور مئوثر ہے۔
فارابی کا یہ نظریہ نہایت اہم ہے کہ عقل اور تخیل میں تصادم نہیں ہے۔ فارابی اس کا بھی قائل تھا خود عقل، تخیل کو استعمال کرتی ہے۔ فارابی نے عقل کی چار قسمیں بیان کی تھیں۔ عقل منفعل (Passive)، عقل بالفعل (Actual)، عقل مستفاد (Acquired)، عقل فعال (Active)۔
عقل بالفعل، تخیل کو استعمال کرتی ہے۔ یعنی عقل، جب عمل میں آتی ہے، حسی ادراک پر تصرف کرتی ہے تو وہ تخیلی تصویروں پر بھی عمل آرا ہوتی ہے۔
اب اگر ہم افلاطون کی غار کی تمثیل کی جانب پلٹ کر دیکھیں تو کہہ سکتے ہیں کہ غار کے قیدیوں کی زنجیریں، دراصل غار کی تمثیل لکھنے والے اور اس کی مخصوص تعیبر کرنے والوں نے پہنائی ہیں۔
انھیں حسیات کا حامل، مگر تخیل اور عقل سے محروم تصور کیا گیا ہے۔ ان کی کہانی میں، اس امر کو چھپا دیا گیا ہے کہ وہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں، وہ محض سامنے کی دیوار پر نہیں ہے، ان کے اندر بھی تو ایک دیوار موجود ہے، جہاں وہ باہر کی دیوار کے سایوں کو منعکس ہوتے دیکھ رہے ہیں۔
سامنے کی دیوار پر بھی جو سائے پڑ رہے ہیں، وہ انھیں نام دینے کے قابل ہیں، یعنی قابلِ فہم بناسکتے ہیں۔ پھر ان کی ذہنی تصویروں پر تصرف کرکے، تخیل کی مدد سے، حقیقت تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔