کلنگ، اڑیسہ کی جنوبی ریاست تھی۔ اشوک، اسے دشمن کے طور پر دیکھتا تھا۔ چالیس سالہ اشوک نے کلنگ پر حملہ کیا۔ اشوک کے تیرھویں کتبے کے مطابق، اس جنگ میں ایک لاکھ لوگ مارے گئے، جب کہ جنگ سے متاثرین کی تعداد ڈھائی لاکھ کے قریب تھی۔
اس زمانے میں، ہندوستان کی آبادی تین سے ساڑھے تین کروڑ تک تھی۔ ان میں سے ڈھائی کروڑ، اشوک کی رعایا تھے۔ کلنگ کی آبادی کا بیش تر حصہ، اس جنگ میں، گویا کام آگیا۔ اشوک نے دیکھا کہ لوگ قتل ہوئے، زخمی ہوئے، ملک بد ر ہوئے، فاقوں سے مرے۔
شہنشاہ اشوک کے لیے، موت، زخم، بھوک، وطن بدری میں کچھ بھی نیا نہیں تھا۔ یہ جنگوں میں معمول کی بات تھی۔ اشوک کلنگ کی جنگ کا فاتح تھا۔ ایک بادشاہ کے لیے فاتح ہونے کا مطلب، زیادہ سے زیادہ علاقوں کو زیر کرنا، اپنی سلطنت کی سرحدوں کو وسیع کرنا، اپنا خزانہ بھرنا اور اپنی دھاک بٹھانا تھا۔ کلنگ کی جنگ نے، اسی مفہوم میں اشوک کوفاتح بنایا تھا۔
اسے فتح کا جشن منانا چاہیے تھا، شراب، رقص، جنس سے، مگر اس نے اپنے دل کو ندامت کی زد پر محسوس کیا۔ وہ اب تک بہ طور بادشاہ، موت، زخم، بھوک، وطن بدر ی کو معمو ل سمجھتا آیا تھا۔ معمول کی کوئی یادداشت نہیں ہوتی۔ یہ مسلسل واقع ہوتا ہے، کوئی اثر، نشان، یادگار چھوڑے بغیر۔
لیکن کلنگ کی جنگ نے اس معمول میں شگاف ڈال دیا تھا۔ یہ جنگ، اپنے تمام تر تشدد، دہشت، خون، فاقوں، آگ، گھروں اور ماحول کی بربادی کے مناظر کے ساتھ، اشوک کی یاد میں بار بار ابھرنے لگی۔
اسے لگا کہ یہ جنگ، اس کے حافظے اور دل پر گہرے زخم چھوڑ گئی ہے۔ اس نے معمول کے ٹوٹنے کے بعد، کچھ نئے لمحات کا تجربہ کیا۔ جنگی تشدد وبربریت کو محسوس کرنے کا لمحہ، انسانی مصائب کو محسوس کرنے کا لمحہ، ندامت کو پہاڑ کی مانند دل کو کچلتے محسوس کرنے کا لمحہ۔
اشوک کی قلبِ ماہیت کا واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نے ان لمحات کی حفاظت کی۔ ان لمحات کو کسی ماورائی طاقت کی ایسی عطا سمجھا، جس نے ا س کی دل کو تقدس آمیز ہیبت سے بھر دیا۔
اس نے یہ لمحات محسوس کرتے ہوئے، ایک روایتی شہنشاہ کے کردار کو یکسر فراموش کردیا۔ ایک روایتی شہنشاہ کادل جب مغموم ہوا کرتا ہے تو وہ کچھ وقت کے لیے خود کوشراب، رقص، موسیقی، جنس میں غرق کر لیتا ہے۔ وہ غم کو اپنے محکوم انسانوں کی خصوصیت سمجھتا ہے۔
ایک شہنشاہ، کسی عام انسانی وصف کی زدپر کیسے آسکتا ہے؟ شہنشاہ بننے کا مطلب، اپنے دل کو عام انسانی خصوصیات سے الگ کر لینا ہے۔ ایک دیوتا، ایک خدا بن جانا ہے۔ انسانوں کے دکھوں، مصائب سے الگ ہوجانا ہے۔
لیکن کیا کوئی شہنشاہ، عام انسانی احساسات سے الگ ہوسکتا ہے؟ دیوتا، خدا ہونے کا دعویٰ ایک بات ہے، خدا بننا دوسری بات ہے۔ آدمی، خدا نہیں ہوسکتا۔ شہنشاہ بہ ہر حال آدمی ہی ہے، اس لیے وہ قتال کو معمول بنا کر، عوامی احتساب سے بچ سکتا ہے، دل کے ملال سے نہیں۔
چناں چہ یہی وجہ ہے کہ بادشاہوں کے درباروں میں شراب و جنس ورقص وغنا کی افراط ہوا کرتی ہے، محض تفریح کے لیے نہیں، روزانہ کی ندامتوں کے داغوں کے قہر سے بچنے کے لیے۔
نوٹ: زیر تکمیل "جنگ کا روزنامچہ" سے اقتباس۔