1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. پراسرار عورت (4)
Mohammad Shehzad

پراسرار عورت (4)

"تمہارا گھر اتنا صاف ستھرا اور ترتیب سے سجا رہتا ہے۔ تمہارا لان بھی بیحد خوبصورت ہے۔ پھر بھی میں نے تمہارے گھر پر آج تک کوئی ملازم نہیں دیکھا۔ ظاہر ہے یہ سب کام تم اکیلے تو کر نہیں سکتیں۔ اس کا راز کیا ہے؟" شہباز نے آج غزالہ سے ایک مختلف سوال کر ڈالا۔

"تم آتے ہی اس وقت ہو جب سب ملازم چھٹی کر جاتے ہیں"۔

"تم بلاتی ہی ایسے وقت ہو"۔

"تو کیا سب کے سامنے بلایا کرو؟ سب کے سامنے ننگی پھرا کروں؟ میرے پاس نوکروں اور غلاموں کی فوج ہے۔ اپنا اپنا کام کرتے ہیں اور گھر لوٹ جاتے ہیں۔ نہ بھی ہوں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مجھے کسی کی محتاجی اچھی نہیں لگتی۔ نوکر سب کام کر ڈالتے ہیں۔ صبح سے شام لگے رہتے ہیں بیچارے۔ گو کہ گھر کے پیچھے چار چھوٹے چھوٹے کمرے ہیں۔۔ سرونٹ کوارٹرز۔۔ مگر مجھے ایک خاص وقت کے بعد مکمل خاموشی اور تنہائی اچھی لگتی ہے۔ اس لئے انہیں چھٹی دے دیتی ہوں۔ اس دوران اگر کوئی چھوٹا موٹا کام نکل بھی آئے تو خود کر لیتی ہوں۔ ویسے آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میں امور خانہ داری میں ماہر ہوں۔ بہت اچھا کھانا بناتی ہوں۔ لیکن اب نہیں۔ اس کی وجہ یہ کہ میرا خانساماں خود بہت اچھے ذائقے دار کھانے بناتا ہے۔ میں تب بناتی ہوں جب وہ چھٹی پر ہوتا ہے۔ یا باہر سے آرڈر کر لیتی ہوں"۔ غزالہ نے کہا۔ آج اس نے شہباز کو کافی عرصے بعد یاد کیا۔ افضال گھر پر نہ تھا۔

"تم اس تنہائی میں کیا کرتی ہو؟"

"سوچتی ہوں۔ غور و فکر کرتی ہوں۔ انہیں یاد کرتی ہوں جو مجھ سے پیار کرتے ہیں یا تھے"۔

"مجھے بھی؟" شہباز نے اسکی طرف دیکھتے پوچھا۔

"نہیں۔۔ صرف انہیں یاد کرتی ہوں جن کا پیار بے لوث تھا یا ہے۔ تم مجھ سے پیار نہیں کرتے۔ تم میری خوبصورتی سے پیار کرتے ہو۔ میری روح سے نہیں۔ اس کا ثبوت میں تمہیں دے چکی ہوں۔ میں نے میک آپ سے اپنا چہرہ مسخ کیا اور تمہاری چیخیں نکل گئیں۔ تم صرف جسم دیکھتے ہو۔ روح نہیں"۔

شہباز کے خیال میں غزالہ فلسفہ بگھار رہی تھی۔ روح سے پیار کرنے والی بکواس اس سے ہر لڑکی نے کی۔ اس میں کوئی نئی بات نہ تھی۔ اس لئے اس نے غزالہ سے الجھنے کے بجائے ایک اور سوال پوچھ ڈالا:

"کیا میرے علاوہ بھی کوئی اس طرح آتا ہے تمارے پاس؟"

"مجھے پتہ تھا تم ایک نہ ایک دن یہ سوال ضرور کرو گے۔ کتنا گھسا پٹا سوال ہے۔۔ کیا میں تمہاری جورو ہوں کہ تم مجھ سے وفاداری کی امید رکھو؟ ایسا فضول سوال تو وہ بھی نہیں کرتا۔۔ "

"کون نہیں کرتا؟"

"وہ ہی جس کی میں جورو ہوں"۔

"افضال یا تمہارا شوہر۔۔ کس کس کی جورو ہو تم؟"

"دونوں کی!" غزالہ نے کہا اور پھر ایک قہقہہ لگایا۔ اس کے قہقہہے کا خاص انداز تھا۔ معصومانہ۔ جیسے کوئی سات آٹھ برس کی بچی ہو۔

"ایسا سوال وہ ہی کرتا ہے جو اپنی عورت سے وفاداری کی امید رکھے۔ تم تو میرے ایک ادنی سے غلام ہو۔ تمہیں دربار میں بلایا جاتا ہے۔ یہ سوال تو مجھے تم سے کرنا چاہیے کہ کون کون تمہارے پاس آتا ہے یا میرے علاوہ تم کس کس کی غلامی کرتے ہو۔ کیا میں نے کبھی ایسا احمقانہ سوال کیا؟" اس نے اپنی بات جاری رکھتے کہا۔

"میں قسم اٹھا کر کہتا ہوں جب سے تمہارے پاس آیا۔۔ اس لمحے کے بعد اب تک کسی اور کے پاس نہ گیا۔ لیکن اس غلام کو بس ایک ہی شکایت ہے کہ اسکی ملکہ اسے شاذونادر دربار میں طلب کرتی ہے۔ کیا یہ غلام چوبیس گھنٹے اپنی ملکہ کی غلامی کر سکتا ہے؟"

"کر سکتا ہے مگر یہ اعزاز حاصل کرنا پڑے گا اور اس کا حصول بہت مشکل ہے۔ شاید ناممکن ہو تمہارے لئے"۔ غزالہ بولی۔

"میں سب کچھ کر سکتا ہو اس اعزاز کے حصول کے لئے۔ تم آزما کر تو دیکھو!"

"چھوڑو!"

"نہیں۔ بتاؤ کیا کرنا پڑے گا مجھے؟"

"کیا بتاؤں؟ شادی کرو گے کیا مجھ سے؟"

"ہاں کرونگا!"

"سب کچھ جانتے ہوئے بھی۔۔ تمہارا دماغ خراب ہے کیا؟ لگتا ہے کافی دنوں سے تم نے کچھ کیا نہیں۔ ٹہرو ابھی اتارتی ہو تمہارے سر سے عشق کا بھوت۔۔ "

***

شہباز میٹھی نیند میں اک حسین خواب دیکھ رہا تھا۔ وہ غزالہ کے ساتھ تھا۔ ایک مکمل مشرقی غزالہ۔۔ اسکی بیوی کے روپ میں۔ اچانک اسے ایسا محسوس ہوا کوئی اسے شانوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہا ہے۔ وہ ہڑبڑا کر بیدار ہوگیا۔ اس کا خواب بکھر چکا تھا۔ واقعی کوئی اسے جگانے کی کوشش کر رہا تھا۔ وہ افضال تھا۔

"گڈ مارننگ سر، کیا آپ کپڑے اتار کر قالین پر سوتے ہیں؟ آپ کو چبھتا نہیں؟" یہ کہہ کر وہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا اوپر چلا گیا۔ شہباز یہ ہی سوچتا رہ گیا کہ آخر اس کے ساتھ ہوا کیا تھا اور کب تک ایسا ہی ہوتا رہے گا؟"

جاری ہے۔۔