"آج میں نے گھر میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا ہے۔ تم ضرور آنا۔ عصر کے بعد شروع ہو جائے گی۔ مدرسے سے بچے بلوائے ہوئے ہیں۔ قورمہ، شیر مال، پلاؤ اور کھیر مہمانوں کی خدمت میں پیش کی جائے گی"۔
میرے جگری دوست عامر کا واٹس ایپ میسج تھا۔
قرآن خوانی میں زیادہ وقت نہیں بچا تھا۔ قصور عامر کا بھی نہیں تھا۔ میں نے ہی میسج دیر سے دیکھا تھا۔ چنانچہ میں فوراً تیار ہوا اور عامر کے گھر پہنچ گیا۔
دروازے پر عامر کے ملازم نے میرا استقبال کیا اور اندر جا کر میرے آنے کی اطلاع دی۔ جونہی دروازہ کھلا، اگربتیوں کی پاکیزہ خوشبو نے طبیعت معطر کر دی۔ اندر سے قرآن پاک پڑھنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ میرے جذبۂ ایمانی نے بھی ٹھاٹھیں مارنا شروع کر دیں۔
عامر باہر آیا اور بڑے تپاک سے مجھ سے بغل گیر ہوا۔ "آ گئے شہزاد بھائی آپ کا ہی انتظار تھا"۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے وسیع و عریض لانج میں لے گیا۔ وہاں مدرسے کے تقریباً تیس بچے نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ قرآن پڑھ رہے تھے۔ سب کے جسم ایک مخصوص ردھم کے ساتھ آگے پیچھے ہو رہے تھے۔ ان کے پڑھنے کی رفتار واقعی دیدنی تھی۔
وہ کیا پڑھ رہے تھے، یہ سمجھنا میرے لیے خاصا مشکل تھا۔ دراصل اتنی تیزی سے پڑھا جا رہا تھا کہ اگر کوئی عربی زبان کا پروفیسر بھی وہاں موجود ہوتا تو شاید اسے بھی شبہ ہوتا کہ قرآن پڑھا جا رہا ہے یا کوئی انتہائی تیز رفتار آڈیو فائل چل رہی ہے۔
لیکن اس سے کیا فرق پڑتا تھا؟ اصل مقصد تو قرآن ختم کرنا تھا اور وہ بھی مغرب سے پہلے۔ مولوی صاحب نے مغرب کے بعد ایک اور قرآن خوانی کا ایڈوانس پکڑ رکھا تھا۔
لانج کے ساتھ ایک مہمان خانہ بھی تھا۔ عامر مجھے وہاں لے گیا۔ قریب بیس لوگ سفید چادروں پر براجمان تھے۔ سب کے ہاتھ میں ایک ایک سپارہ تھا۔ اللہ جانے وہ پڑھ رہے تھے یا صرف صفحات تبدیل کرنے کی مشق کر رہے تھے۔ البتہ لب مسلسل ہل رہے تھے، اس لیے میں نے بھی یہی فرض کیا کہ پڑھ ہی رہے ہوں گے۔
"یہ لو، تم آخری سپارہ پڑھ لو۔ یہی رہ گیا تھا"۔ عامر نے مجھے سپارہ تھما دیا۔
میں نے سپارہ ہاتھ میں پکڑا اور چادر پر بیٹھ گیا۔ سچ یہ ہے کہ مجھے عربی پڑھنی نہیں آتی تھی۔ لیکن اتنے مذہبی ماحول میں یہ اعتراف کرنا مجھے اپنی عزتِ نفس کے خلاف محسوس ہوا۔ چنانچہ میں نے بھی وہی طریقہ اختیار کیا جو باقی سب اختیار کیے ہوئے تھے۔ لب ہلاؤ۔ سر ہلاؤ اور وقتاً فوقتاً ایک دو بار زور سے آمین بھی کہہ دو۔
کچھ دیر بعد عامر نے اعلان کیا، "ماشاءاللہ بچوں نے قرآن ختم کر لیا ہے۔ اب مولوی صاحب دعا کروائیں گے۔ سب حضرات دعا میں شریک ہو جائیں"۔
سب لانج میں جمع ہو گئے۔
مولوی صاحب نے ہاتھ اٹھائے، آنکھیں بند کیں اور نہایت رقت آمیز لہجے میں دعا شروع کی:
"یا رب العالمین عامر صاحب کا یہ ہدیۂ قرآن اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔ ان کی ہر نیکی کو ان کے فیس بک اکاؤنٹ کی ریچ میں تبدیل فرما۔ ان کے ایک لاکھ فالوورز کو دو لاکھ، دو لاکھ کو چار لاکھ اور چار لاکھ کو اتنا زیادہ فرما کہ فیس بک کا سرور بھی پریشان ہو جائے۔ آمین!"
"یا اللہ ان کے ہر فالوور کو ان کی ہر پوسٹ پر سرخ دل دینے کی توفیق عطا فرما۔ جو دل دینے میں کنجوسی کرے، اس کا موبائل چوری ہو جائے اور اس کے لیپ ٹاپ میں وائرس آ جائے۔ آمین!"
"یا باری تعالیٰ ان کے تمام فالوورز کو کمنٹ کرنے کی سعادت نصیب فرما۔ جو صرف پوسٹ پڑھ کر چپ چاپ نکل جاتے ہیں، ان پر اپنا عذاب خصوصی نازل فرما۔ یا اللہ عامر بھائی کے فیس بک دشمنوں اور حریفوں کو، جن کے فالوورز ایک لاکھ سے زیادہ ہیں، اپنی قدرت سے ایسا نیست و نابود فرما کہ ان کی پوسٹ پر صرف تین یا چار فالورز رہ جائیں"۔
"یا اللہ ان حریفوں نے آج تک مجھے قرآن خوانی پر نہیں بلایا، حالانکہ تو خوب جانتا ہے کہ میرے ریٹ دوسروں کے مقابلے میں نہایت مناسب ہیں اور میری سروس مارکیٹ میں سب سے اعلیٰ ہے۔ یا اللہ ان کے دلوں میں خوف پیدا فرما۔ آمین!"
مولوی صاحب نے ذرا گلا صاف کیا اور اگلی دعا شروع کی:
"یا رب العزت عامر بھائی کے فالوورز میں فی میل فالوورز کی تعداد بہت کم ہے۔ اس کمی کو اپنے فضل و کرم سے دور فرما۔ ان کے فیس بک اکاؤنٹ میں مکمل جینڈر بیلنس قائم فرما۔ آمین!"
"یا باری تعالیٰ جو فالوور عامر بھائی کی پوسٹ پر لائک نہ کرے، اس کے رزق میں اتنی تنگی نہ فرما کہ ہم پر الزام آئے، بس اتنی ضرور پیدا فرما کہ اگلی بار پوسٹ دیکھتے ہی لائک کرنے پر مجبور ہو جائے۔ آمین!"
"یا اللہ عامر بھائی کے فیس بک اکاؤنٹ کو نظرِ بد سے محفوظ فرما۔ اگر کوئی حسد کرنے والا ان کے فالوورز گننے لگے تو اس کی انگلیاں تھکا دے۔ اگر کوئی ان کی ریچ دیکھ کر حسد کرے تو اس کا انٹرنیٹ سست کر دے۔ آمین!"
"یا اللہ اگر کوئی ہیکر ان کا اکاؤنٹ ہیک کرنے کی کوشش کرے تو اس کے تمام حربوں کو خاک میں ملا دے۔ اس کا پاس ورڈ بھلا دے، اس کا ای میل لاگ آؤٹ کر دے اور اس کے موبائل کی بیٹری عین اس وقت ختم کر دے جب وہ ہیکنگ کے آخری مرحلے میں پہنچے۔ آمین!"
اب مولوی صاحب کے لہجے میں مزید جوش پیدا ہوگیا۔۔
"یا باری تعالیٰ عامر بھائی کو فیس بک کو صرف مجروں، گانوں، تصویروں اور دیگر خرافات کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اسلام کی ترویج کا بھی ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرما۔ آمین!"
"یا اللہ ان فالوورز کے درجات بلند فرما جو عامر بھائی کی پوسٹیں اپنی وال پر شیئر کرتے ہیں۔ ان کے شیئر کو قبول فرما، ان کے کمنٹ کو قبول فرما اور ان کے لائک کو اجرِ عظیم عطا فرما۔ آمین!"
"یا رب العالمین عامر بھائی کو فیس بک پر لاگ اِن کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کی عادت عطا فرما اور لاگ آؤٹ کرتے وقت استغفار کرنے کی بھی توفیق دے۔ آمین!"
"یا اللہ جب عامر بھائی نئی پوسٹ لکھیں تو انہیں ایسا موضوع عطا فرما جو وائرل ہو۔ جب تصویر لگائیں تو ایسی تصویر عطا فرما جس پر ہزاروں دل آئیں۔ جب ریل بنائیں تو ایسی ریل عطا فرما جو الگورتھم کے دل کو بھا جائے۔ آمین!"
"یا اللہ ان کی ہر پوسٹ کے نیچے "واہ کمال"، "زبردست"، "ماشاءاللہ" اور "کیا کہنے" لکھنے والے مستقل فالوور عطا فرما۔ آمین!"
"یا اللہ جو شخص ان کی پوسٹ صرف پڑھ کر گزر جائے، اسے واپس بھیج۔ جو کمنٹ کیے بغیر چلا جائے، اسے کمنٹ کرنے کی توفیق دے۔ جو لائک کیے بغیر نکل جائے، اسے واپس لا کر لائک کروا اور جو شیئر کیے بغیر چلا جائے، اسے ایسا ضمیر عطا فرما کہ رات بھر سو نہ سکے۔ آمین!"
مولوی صاحب نے ہاتھ اٹھائے رکھے اور آخری دعا شروع کی:
"یا رب العالمین! جو بدبخت عامر بھائی کی ویڈیو ڈاؤن لوڈ کرکے اپنے نام سے چلائے، یا ان کی پوسٹ کاپی کرکے اپنی وال پر ایسے سجائے جیسے یہ وحی اسی پر نازل ہوئی ہو، اسے شیطان کے لیے مخصوص جہنم عطا فرما۔ آمین!"
"یہ کیا مذاق تھا، عامر؟" جب سب مہمان رخصت ہو گئے اور گھر میں سناٹا چھا گیا تو میں نے عامر سے پوچھا۔
عامر نے حیرت سے میری طرف دیکھا۔ "مذاق؟ یار، قرآن خوانی ہی تو کروائی ہے۔ کوئی جرم تو نہیں کیا!"
"وہ تو ٹھیک ہے، لیکن کس لیے؟ میں تو سمجھا تھا تم نے اپنے مرحوم والد کی روح کو ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی کروائی ہے"۔
عامر نے فوراً ہاتھ اٹھایا۔ "میری جان، وہ ایک الگ فنکشن ہے۔ وہ بھی جلد ہوگا"۔
"تو پھر آج کی یہ قرآن خوانی کس خوشی میں تھی؟"
عامر نے سینہ پھلایا، کرسی پر ذرا سیدھا ہو کر بیٹھا اور فاتحانہ انداز میں بولا، "کل میرے فیس بک فالوورز کی تعداد الحمد اللہ ایک لاکھ ہوگئی"۔
اس کے لہجے میں ایسی عقیدت تھی جیسے ابھی ابھی کوئی آسمانی سند لے کر آیا ہو۔
"میں چاہتا تو اس خوشی میں ایک پرتعیش پارٹی کر سکتا تھا۔ فائیو اسٹار ہوٹل بک کروا سکتا تھا، کھانے کے درجنوں آئٹم رکھوا سکتا تھا، ڈی جے بلا سکتا تھا، لیکن میں نے دینی راستہ اختیار کیا۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کا اس سے بہتر طریقہ اور کیا ہو سکتا تھا؟"
میں خاموش رہا۔ وہ مزید جوش میں آ گیا۔
"ایک لاکھ فالوورز معمولی بات نہیں، شہزاد ایک لاکھ تم اپنے آپ کو دیکھو۔ بیس برس سے فیس بک پر ہو۔ ابھی تک پانچ سو فالوورز بھی پیدا نہیں کر سکے۔ ایک لاکھ فالوورز کا مطلب صرف ایک لاکھ لوگ نہیں ہوتے۔ ایک لاکھ فالوورز کا مطلب ہے ایک لاکھ ممکنہ لائکس، ایک لاکھ ممکنہ کمنٹس، ایک لاکھ ممکنہ شیئرز اور سب سے بڑھ کر ایک لاکھ ممکنہ حاسدین!"
میں نے حیرت سے پوچھا، "حاسدین؟"
"بالکل! جتنے زیادہ فالوورز، اتنے زیادہ حاسدین۔ اسی لیے قرآن خوانی کروائی"۔
"لیکن ایک بات بتاؤ، یہ ایک لاکھ فالوورز حاصل کیسے کیے؟"
"تمہیں نہیں معلوم؟"
"نہیں"۔
"کیا تم میری فیس بک پوسٹیں نہیں پڑھتے؟"
"نہیں"۔
"تم تو فیس بک پر میرے دوست ہو۔ فیس بک پر دوستوں کو پوسٹ سب سے پہلے جاتی ہے۔ تمہیں تو میری ہر پوسٹ سب سے پہلے ملتی ہوگی"۔
میں نے کہا، "ہاں یار، دوست تو ہوں تمہارا، لیکن تمہاری واہیات پوسٹوں سے بچنے کے لیے تمہیں ان فالو کر رکھا ہے"۔
یہ جملہ میرے منہ سے غیر ارادی طور پر نکل گیا اور پھر وہ ہوا جس کی مجھے بالکل توقع نہیں تھی۔
عامر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ چند لمحے مجھے خاموشی سے دیکھتا رہا، جیسے میں نے اس کے فیس بک اکاؤنٹ پر نہیں بلکہ اس کی عزتِ نفس پر ان فالو کا بٹن دبا دیا ہو۔
"چالیس سال سے تمہارا دوست ہوں اور تم نے مجھے فیس بک پر ان فالو کر رکھا ہے؟"
"عامر، وہ صرف فیس بک ہے۔۔ "
"صرف فیس بک؟" وہ تقریباً چیخا۔
"تمہارے لیے صرف فیس بک ہوگی میرے لیے میری عزت، میری ساکھ، میری ریچ، میری آڈینس، میری انگیجمنٹ، میری پوری ڈیجیٹل زندگی ہے! تم نے میری پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا!"
"مذاق مت کرو عامر!"
وہ اب پوری طرح غصے میں تھا۔
"مجھے آج معلوم ہوا کہ تم میرے دوست نہیں، میرے فیس بک دشمن ہو۔ تم میری پوسٹیں نہیں دیکھتے، میری ریچ نہیں بڑھاتے، لائک نہیں کرتے، کمنٹ نہیں کرتے اور اوپر سے مجھے ان فالو بھی کر رکھا ہے!"
اس نے فوراً دروازے کی طرف دیکھا اور بلند آواز میں پکارا، "چوکیدار!"
چوکیدار حاضر ہوا۔ عامر نے میری طرف اشارہ کیا۔ "انہیں باہر کا راستہ دکھاؤ"۔
میں نے حیرت سے کہا، "عامر، میری بات تو سنو"۔
"اب کوئی بات نہیں سننی۔ اس نے منہ دوسری طرف پھیر لیا۔
"آج سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ چالیس سال کی دوستی۔۔ ختم!
چوکیدار میرے قریب آ گیا۔ میں دروازے کی طرف چل پڑا۔
پیچھے مڑ کر دیکھا تو عامر اپنے موبائل میں مصروف تھا۔ شاید یہ دیکھ رہا تھا کہ میرے جانے کے بعد اس کی فالوورز کی تعداد ایک لاکھ سے کم تو نہیں ہوگئی۔