1. ہوم
  2. افسانہ
  3. سید احسن تقویم
  4. پیر خانہ
Syed Ahsan Taqveem

پیر خانہ

وہ صبح کا ناشتہ کرتا اور اپنے پیر خانے پہنچ جاتا۔ پیر خانہ کیا تھا، کوئی دس بارہ مرلے زمین پر چار دیواری کر دی گئی تھی۔ سامنے لوہے کا ایک بڑا سا گیٹ تھا جس پر ہمیشہ زنگ کی ہلکی سی تہہ جمی رہتی۔ گیٹ کھولتے ہوئے ایک خاص قسم کی چرچراہٹ پیدا ہوتی جو دور تک سنائی دیتی۔

​اندر داخل ہوتے ہی ایک کشادہ سا صحن تھا۔ صحن کے ایک جانب کمرہ تھا جس کے سامنے برآمدہ بنا ہوا تھا۔ برآمدے میں دو قبریں تھیں۔ قبروں پر اکثر پھولوں کی پتیاں بکھری رہتیں۔ کبھی کسی نے تازہ گلاب رکھ دیے ہوتے اور کبھی پھولوں کی چادر کا کوئی پرانا سا ٹکڑا قبروں پر پڑا ہوتا۔ جمعرات یا جمعہ کو مریدین کی آمد زیادہ ہوتی تو قبروں کی صفائی بھی ہو جاتی۔ کوئی جھاڑو دے دیتا، کوئی پھول رکھ دیتا اور کوئی فاتحہ پڑھ کر چند لمحے وہیں بیٹھا رہتا۔

​کمرے میں داخل ہوتے ہوئے سامنے والی دیوار پر دو بڑی بڑی تصویریں ٹنگی تھیں جن پر پھولوں کے ہار ڈالے گئے تھے۔ پھول قدرے مرجھائے ہوئے دکھائی دیتے۔ کوئی ہفتہ بھر پرانے تو ضرور تھے۔ ایک تصویر باپ کی تھی اور ایک ماں کی۔ باپ کی تصویر میں ایک ضعیف آدمی سر پر پگڑی باندھے، سفید لباس میں بیٹھا دکھائی دیتا تھا۔ چہرے پر لمبی سی داڑھی تھی۔ آنکھوں میں ایک عجیب سی سنجیدگی تھی۔ ماں کی تصویر نسبتاً چھوٹی تھی۔ اس نے سر پر دوپٹہ لیا ہوا تھا۔ تصویر میں اس کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ تھی۔

​کمرے میں دو چارپائیاں ہر وقت بچھی رہتیں۔ ایک پر بابا جی دراز ہو جاتے جبکہ داہنی دیوار والی چارپائی ہمیشہ خالی رہتی۔ اس پر نہ کوئی بستر ہوتا اور نہ تکیہ۔ بس ایک صاف ستھری سی چادر بچھی رہتی جسے روز صبح جھاڑ دیا جاتا۔ کوئی مرید یا شاگرد اگر غلطی سے اس چارپائی پر بیٹھنے لگتا تو بابا جی اسے فوراً ٹوک دیتے۔ "وہاں نہیں بیٹھنا" اور بس اتنا ہی کہتے۔ کوئی پوچھتا بھی نہیں تھا کہ کیوں۔

​اسی طرز پر برآمدے کی دیوار، جو کمرے کی بیرونی دیوار تھی، دو تصویریں ٹانگ دی گئی تھیں۔ یہ تصویریں بھی ہو بہو کمرے والی تصویروں کی نقل تھیں۔ البتہ یہاں ایک اور فریم ٹنگا تھا جس پر ماں باپ کی شان میں قصیدہ لکھا ہوا تھا۔ اس کے نیچے ایک چھوٹا سا طاق بنا ہوا تھا جس میں کبھی کبھار اگربتیاں جلائی جاتیں۔ طاق کی دیوار دھویں سے سیاہ پڑ چکی تھی۔ ان تصویروں پر اگر پھولوں کے ہار نہ بھی ٹنگے ہوتے تب بھی یہ مرحومین ہی کی تصویریں محسوس ہوتیں۔ ان تصویروں میں سے ایک خاص قسم کی خاموشی چھلکتی تھی۔ وہ خاموشی جو اکثر مرے ہوئے لوگوں کی تصویروں کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔ جیسے تصویر میں موجود آدمی اب اس دنیا کا حصہ نہیں رہا، مگر اس کے چہرے پر وقت وہیں رک گیا ہے۔

​قبروں کے گرد ایک چھوٹا سا لوہے کا جنگلہ بنا دیا گیا تھا۔ ایک طرح کی چار دیواری۔ جنگلے پر بھی جگہ جگہ زنگ لگ چکا تھا۔ بارش کے دنوں میں اس کے نیچے مٹی جمع ہو جاتی اور گرمیوں میں قبروں کے گرد گھاس نکل آتی۔ مریدین کو جمعہ یا ہفتہ کے دن حاضری کی اجازت تھی۔ کوئی زمین کا مسئلہ لے آتا، کوئی لڑائی جھگڑے کا۔ کسی کو بیٹے کی فکر ہوتی اور کسی کو بیٹی کی شادی کی۔ بابا جی سب کی سنتے۔ کبھی دیر تک خاموش رہتے، کبھی ہلکا سا دم کرتے اور کبھی صرف اتنا کہتے: "فکر نہ کر، اللہ بہتر کرے گا"۔

​برآمدے کے عین سامنے کشادہ صحن تھا جس میں دو تین بھینسیں بھی بندھی ہوتیں۔ کبھی وہ جگالی کر رہی ہوتیں اور کبھی دم ہلا ہلا کر مکھیوں کو اڑاتیں۔ مویشی خانہ، جو گوبر سے اٹا رہتا، تھوڑا سا اونچا رکھ کر باقی صحن سے الگ کر دیا گیا تھا۔ صبح کے وقت وہاں سے گوبر اور بھوسے کی ملی جلی بو اٹھتی۔ دوپہر کو دھوپ پڑتی تو بو کچھ اور گہری ہو جاتی۔

​مریدین کبھی اسی صحن میں بیٹھ جاتے اور کبھی کمرے میں۔ مرد و زن کی تمیز نہ تھی۔ مرد اپنا رونا روتے اور عورتیں اپنا۔ ہاں، عورتوں کا تناسب ہمیشہ زیادہ ہی ہوتا۔ کسی کے ہاں اولاد نہ ہوتی۔ کسی کا شوہر اس سے بات نہ کرتا۔ کسی کا بیٹا گھر سے نکل گیا ہوتا۔ کسی کی بیٹی کو بخار رہتا اور کسی کو یقین ہوتا کہ اس کے گھر پر سایہ ہے۔ بابا جی سب کو سنتے۔ کبھی آنکھیں بند کر لیتے اور کبھی سر ہلاتے رہتے۔

​بابا جی اب کافی ضعیف ہو چکے تھے۔ منہ دانتوں سے خالی ہو چکا تھا۔ داڑھی سفید تھی اور وہ اس پر کبھی خضاب نہ لگاتے۔ چہرے پر ایک طرح کی سادگی اور عاجزی ٹپکتی تھی۔ انہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا جیسے دیکھنے والا سو سال پیچھے چلا گیا ہو۔ لباس بھی ہمیشہ سادہ ہوتا۔ سفید شلوار قمیض، کبھی کندھے پر چادر اور پاؤں میں پرانی سی چپل۔ ان کی یہی سادگی اور عاجزی تھی کہ مریدین کا تانتا بندھا رہتا۔

​اب جسم ناتواں تھا اور مریدین زیادہ۔ پس ایک دو شاگرد ہمہ تن ان کی مدد کو رہتے۔ ایک مریدین کو ترتیب سے بٹھاتا، دوسرا پانی پلاتا اور تیسرا بابا جی کے اشارے پر اگربتی یا کوئی دوسری چیز لے آتا۔

​جمعہ والا دن خاص ہوتا۔ اس دن قابض جنات کو رفع دفع کیا جاتا۔ جن مریدین کو کسر یا سایہ ہوتا، اگربتی جلا کر اس کے نتھنوں کے قریب کر دی جاتی۔ دھواں سیدھا ناک میں جاتا تو بعض لوگ کھانسنے لگتے۔ کسی کی آنکھوں سے پانی بہنے لگتا اور کوئی سر جھٹکنے لگتا۔ پھر کچھ دم سا کیا جاتا۔ دم کیا تھا، قرآنی آیات اور کچھ ایسے مہمل الفاظ کا مرقع جو مریدین کی سمجھ سے باہر ہوتے۔ بابا جی کی آواز کبھی دھیمی ہو جاتی اور کبھی اچانک بلند۔ کمرے میں بیٹھے لوگ سانس روکے سنتے رہتے۔

​ادھر دم ختم ہوتا، ادھر جن اچھل کر باہر جسم چھوڑ جاتا۔ کبھی کوئی عورت چیخ مارتی۔ کبھی کوئی زمین پر ہاتھ پاؤں مارنے لگتا اور کبھی کسی کی گردن ایک طرف ڈھلک جاتی۔ شاگرد فوراً اسے سنبھال لیتے۔ "چلا گیا ہے"، بابا جی کہتے اور حاضرین میں ایک سرگوشی سی پھیل جاتی۔ "جن نکل گیا ہے"۔ کمرا اگربتی کے دھویں سے اٹا اور اس کی خوشبو سے مہکا ہوتا۔ کمرے کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تاکہ دھواں اندر جمع نہ رہے۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ جن یا چڑیل جب ایک جسم کو چھوڑتی تو دیگر حاضرین میں سے کسی کے بھی جسم میں داخل نہ ہوتی۔ مریدین بلا خوف اپنی باری کا انتظار کرتے اور اپنی باری آنے پر نتھنے پھلا کر اگربتی کا دھواں اندر لیتے۔

​اسی جگہ پر سالانہ عرس بھی منعقد کیا جاتا۔ مریدین خاص اہتمام سے ہر سال پہنچتے اور قبروں پر پھولوں کی چادریں چڑھاتے۔ محفلِ نعت منعقد کی جاتی۔ دور دور سے لوگ آتے۔ کوئی دیگ چڑھاتا، کوئی چاول لے آتا اور کوئی گوشت۔ دعائے خیر کے بعد لنگر کھلتا۔ مریدین جی بھر کر کھاتے اور گھروں کو لوٹ آتے۔

​جمعہ اور اتوار بابا جی مریدین میں گھرے رہتے۔ صبح سے شام ہو جاتی۔ ان کی آواز بیٹھ جاتی مگر لوگ ختم نہ ہوتے۔ شام کو جب اندھیرا پھیلنے لگتا تو مریدین گھروں کو ہو جاتے۔ بھینسیں اپنی جگہ بندھی رہتیں۔ صحن میں خاموشی اتر آتی۔ شاگرد برتن سمیٹتے، چارپائیاں درست کرتے اور پھر بابا جی سے اجازت لے کر رخصت ہو جاتے۔

​بابا جی اپنی چارپائی پر دراز ہو جاتے۔ عشا کی نماز ادا کرنے کے بعد وہ حقے کی چلم کو تمباکو سے بھرتے۔ یہ کام وہ خود اپنے ہاتھوں سے کرتے۔ شاگردوں کو بھی اس کام کی اجازت نہ تھی۔ پہلے تمباکو کو انگلیوں سے دباتے، پھر چلم پر کوئلے رکھتے اور دیر تک اسے سلگاتے رہتے۔ مریدین کے ساتھ ساتھ شاگردوں کو بھی رخصت ہو جاتی۔ پیر خانے کا گیٹ اندر سے بند کر دیا جاتا۔ صحن میں اندھیرا پھیل جاتا۔ صرف کمرے میں سو واٹ کا بلب جل رہا ہوتا جبکہ برآمدے میں ایک کم روشنی کا بلب ٹمٹما رہا ہوتا۔

​حقے کو گرم کرنے کے بعد وہ اسے دونوں چارپائیوں کے عین وسط میں رکھتے۔ اس وقت ان کے چہرے پر نور کی الگ ہی بہار پھوٹتی۔ ماتھا خوشی سے دمکتا دکھائی دیتا۔ وہ حقے کی نڑی ہاتھ میں لیتے، ایک لمبا کش لگاتے اور دھواں آہستہ آہستہ باہر نکالتے۔ پھر نڑی اپنی چارپائی سے اٹھا کر سامنے والی خالی چارپائی کی طرف بڑھا دیتے۔ کچھ دیر تک ان کا ہاتھ اسی طرح آگے رہتا۔ جیسے کوئی دوسرا آدمی نڑی پکڑنے والا ہو۔ پھر وہ خود ہی ہاتھ واپس کھینچ لیتے۔ کچھ دیر بعد نڑی پھر ان کے اپنے ہاتھ میں ہوتی۔

​نڑی سے دھواں کھینچنے کے پرلطف لمحات کے عین بیچ گپوں کا دور شروع ہو جاتا۔ کبھی وہ ہلکا سا ہنستے۔ کبھی سر ہلاتے۔ کبھی یوں کہتے جیسے کوئی انہیں کوئی بات بتا رہا ہو۔ "ہاں، ہاں، مینوں یاد اے"۔ پھر چند لمحے خاموش رہتے۔ "نہیں بابا جی، وہ بات ایسی نہیں تھی"۔ کمرے میں صرف ان کی آواز ہوتی۔ حقے کے پانی کی گڑگڑاہٹ ہوتی اور کبھی باہر بندھی بھینسوں کی زنجیر ہلنے کی آواز۔ کبھی کبھار وہ اچانک سامنے والی چارپائی کی طرف دیکھ کر مسکرا دیتے۔ "تہانوں، اوہ گل یاد اے" وہ پوچھتے۔ پھر خود ہی ہنس پڑتے۔ کمرے کی دیوار پر ٹنگی تصویر میں ان کے باپ کی آنکھیں اسی طرح سامنے دیکھ رہی ہوتیں۔

​وقت گزرتا رہتا۔ سو واٹ کے بلب کی روشنی دونوں چارپائیوں پر یکساں پڑتی رہتی۔ ایک چارپائی پر بابا جی بیٹھے ہوتے۔ دوسری چارپائی خالی ہوتی۔ مگر بابا جی کے لیے شاید وہ خالی نہ تھی۔

​جیسے ہی رات کے دس بجتے، بابا جی کا لہجے میں تھکان ظاہر ہونے لگتی۔ وہ حقے کی نڑی ایک طرف رکھتے، دونوں ہاتھوں سے چارپائی کا سہارا لے کر اٹھ کھڑے ہوتے اور عین سامنے والی چارپائی کی طرف دیکھنے لگتے۔ کچھ دیر خاموش رہتے۔ پھر نہایت شفقت سے کہتے: "ابا جی، تسی ہن سو جاو۔ کافی رات ہوگئی اے"۔

​کمرے میں چند لمحوں کے لیے مکمل خاموشی چھا جاتی۔ بابا جی سامنے دیکھتے رہتے۔ پھر جیسے کسی کے جواب کا انتظار کرتے۔ ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آتی۔ وہ سر ہلاتے اور پھر آہستہ سے ہاتھ بڑھا کر بلب بجھا دیتے۔

​یکدم اندر اور باہر کا اندھیرا برابر ہو جاتا۔ صحن میں بندھی بھینسوں کی سانسوں کی آواز سنائی دیتی۔ برآمدے میں قبریں خاموش پڑی رہتیں اور کمرے کے اندر، دو چارپائیوں کے درمیان رکھا حقہ رات بھر ٹھنڈا ہوتا رہتا۔