صبح سویرے ہی اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔ بیرونی آہنی دروازے سے باہر جھانکا تو اسے گلی میں گاڑیوں کی ایک قطار دکھائی دی۔ سفید، کالی اور نیلی گاڑیاں۔ درخت ساکت پتوں کے ساتھ یوں کھڑے تھے، گویا اسی کو دیکھ رہے ہوں۔ اس نے بھرپور نظر سے ان درختوں کو دیکھا اور گھر سے باہر نکل آیا۔
وہ اکثر صبح سویرے اٹھ جاتا تھا۔ سوچوں میں گم گلی کوچوں کا رخ کرتا اور دھیمے دھیمے قدم اٹھاتا بازار جا نکلتا۔
بازار کی اکثر دکانوں پر اس وقت تالے پڑے ہوتے، البتہ چند دکانیں کھلی ہوتیں۔ وہ ان کھلی دکانوں کے اندر لازماً جھانکتا اور دکاندار کا چہرہ تکتا۔ انہی دکانوں میں ایک دکان چاچا مختار کی تھی۔ وہ چائے بناتا تھا۔ خشخشی داڑھی، سر پر سفید ٹوپی اور ہاتھ میں چائے کی پیالی لیے گاہکوں کی خدمت میں مصروف رہتا۔ چند کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد وہ اسی دکان پر رکتا۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا۔
پیدل واک اسے اس قدر تھکا دیتی کہ چائے پینا اس کی مجبوری بن جاتا، بلکہ مجبوری سے زیادہ ایک طرح کی ٹریٹ۔ وہ اسی ایک کپ چائے سے پورے دن کے لیے خود کو تیار کرتا تھا۔
صبح کے وقت دکان پر رش کم ہوتا۔ ایک وقت میں اکا دکا ہی گاہک موجود ہوتے۔
چاچا مختار چائے پیش کرنے کے بعد اکثر اس کے پاس آ بیٹھتا اور دل کی بھڑاس نکالنے لگتا۔ جتنی دیر وہ دکان پر موجود رہتا، اسے چاچا مختار کی بپتا سننی پڑتی۔ گھر کے مسائل سے لے کر محلے کے جھگڑوں تک سب کچھ اس کے گوش گزار کیا جاتا۔ وہ خاموش بیٹھا چائے کی چسکیاں لیتا رہتا اور مصائب سنتا رہتا۔ پھر کوئی گاہک آ جاتا اور چاچا اس کے لیے چائے بنانے لگتا۔ وہ کچھ دیر مزید بیٹھنے کے بعد گھر لوٹ آتا۔
گھر پہنچ کر وہ کچھ دیر ہال میں موجود صوفے سے ٹیک لگا کر، منہ اوپر کیے، چھت کو گھورتا رہتا اور کبھی آنکھیں بند کر لیتا۔ پھر اٹھ کر ہال کی سامنے والی دیوار پر ٹنگے ڈھائی فٹ لمبے آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوتا۔ یہ پندرہ بیس منٹ اس کی خود آگاہی کی ایک مشق ہوتے۔ وہ صرف اپنے تاثرات پڑھنے کی کوشش کرتا۔ کبھی اس کا چہرہ بالکل سپاٹ ہوتا، مگر کبھی تاثرات سے بھرا ہوا۔ یہ تاثرات زیادہ تر ایک ہی نوعیت کے ہوتے۔ وہ انہیں اچھی طرح جانتا تھا۔ ان تاثرات سے اسے ایک طرح کی اپنائیت ہوگئی تھی۔ یہ تاثرات صرف اس کے اپنے تھے، جنہیں اس کے سوا کوئی اور نہیں جانتا تھا۔
اس کے بعد وہ ہلکا پھلکا ناشتہ تیار کرتا۔ ایک دو ٹوسٹ اور فرائی انڈا۔ سادہ اور فوراً تیار ہو جانے والا ناشتہ۔ پھر نہاتا، ناشتہ کرتا اور دفتر جانے کی تیاری میں لگ جاتا۔
دفتر میں اس کا دل کھول کر خیر مقدم کیا جاتا۔ ایک ایماندار اور محنتی ملازم کا استقبال ہمیشہ کشادہ دلی سے کیا جاتا ہے۔ فائلوں کا ایک ڈھیر اس کے سامنے رکھ دیا جاتا۔
وہ سر جھکائے کام میں جت جاتا۔ اس کی انتھک محنت اور قابلیت کے ہر سو چرچے تھے، مگر اس کی ایک اور شہرت بھی تھی۔ لنچ بریک کے دوران کھانا کھاتے ہوئے کوئی نہ کوئی کولیگ اس کے سر پر آ کھڑا ہوتا۔ اپنا مسئلہ بیان کرتا اور اس سے تسلی بخش حل مانگتا۔ وہ خاموشی سے سب سنتا اور بہتر سے بہتر تجویز پیش کرتا۔ اگر مسئلہ پیچیدہ ہوتا تو سوچنے کے لیے کچھ وقت مانگ لیتا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مسئلہ آج بتایا جاتا اور اس کا حل وہ اگلے دن یا اس سے اگلے دن پیش کرتا۔
زیادہ تر مسائل کم اور دل کی بھڑاس زیادہ ہوتی۔ یوں دفتری کام کے علاوہ لنچ بریک میں اسے ایک تھیراپسٹ کی خدمات بھی انجام دینا پڑتیں اور وہ یہ سب بغیر کسی اف کے کرتا رہتا۔
دفتر میں اسے ایک رازدار کی حیثیت سے بھی دیکھا جاتا۔ کولیگز اس بات سے مطمئن تھے کہ ان کی پرائیویسی بھی برقرار رہتی ہے اور مسئلے کا حل بھی مل جاتا ہے۔
شام کو دفتر سے فارغ ہو کر وہ تھکا ہارا سیدھا گھر لوٹتا۔ گھر، جہاں ہر سو خاموشی کا راج ہوتا۔ خاموشی کچھ دیر کے لیے اس کے تھکے ہوئے اعصاب کو سکون دیتی، مگر پھر یہی خاموشی اسے کاٹ کھانے کو دوڑتی۔
وہ پھر آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوتا۔ گھنٹہ دو گھنٹے تک خود کو دیکھتا، اپنے تاثرات پڑھتا اور پھر خود سے باتیں کرنے لگتا۔
آج رات بھی وہ معمول کے مطابق آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔ تھکن زدہ چہرہ، اداسی اور بیزاری کے ملے جلے تاثرات لیے۔ وہی تاثرات جو روزانہ اس کے چہرے پر موجود ہوتے۔ وہ کچھ دیر انہیں دیکھتا رہا۔ پھر بڑبڑانے لگا۔ ابتدا کچھ مہمل الفاظ سے ہوئی، پھر دھیمی آواز میں کچھ گنگنانے لگا۔ چند لمحوں کے لیے دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھا۔ گھڑی نو بجا رہی تھی۔ وہ دوبارہ آئینے میں دیکھنے لگا۔ اب وہ سیٹی بجانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا کہ اچانک اسے اپنے عکس میں کچھ تبدیلی محسوس ہوئی۔ اس نے بغور دیکھنا شروع کیا۔ یہ تبدیلی صرف چند سیکنڈ کے لیے رونما ہوئی تھی۔ اسے عکس میں اجنبیت محسوس ہوئی۔ کچھ ایسے تاثرات، جو اس کے اپنے نہ تھے۔
آئینے میں ایک ایسا چہرہ موجود تھا جو سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ وہ مبہوت رہ گیا۔ چند ہی سیکنڈ بعد اس کے سامنے پھر وہی معمول کا چہرہ تھا۔
رات بھر وہ سوتا بھی رہا اور کروٹیں بھی بدلتا رہا۔
اگلی صبح معمول کے مطابق تھی، مگر اس نے ہال میں ٹنگے آئینے میں خود کو دیکھنے سے گریز کیا۔ واک کے بعد گھر لوٹا تو واش روم کے آئینے میں ہی اپنا بناؤ سنگھار کرتا رہا۔ دفتر میں سارا دن مغز کھپائی کے بعد شام کو گھر آیا تو ہال والے آئینے میں خود کو دیکھنے کی خواہش جاگ اٹھی۔ جیسے تیسے ہمت جمع کی اور آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
اسے اپنا ہی چہرہ دکھائی دیا۔ وہی تاثرات، مگر اس بار ان پر خوف غالب تھا۔
کچھ دیر بعد اس نے خود کو معمول پر محسوس کیا۔ چند مہمل کلمات ادا کرنے کے بعد وہ دن بھر کی بھڑاس نکالنے لگا۔
اس کی زندگی گویا دفتر، کولیگز کی چالاکیوں، ناچاقیوں اور جسمانی تھکن کا نوحہ بن کر رہ گئی تھی۔ انہی باتوں سے اس کا دل ہلکا ہوتا تھا۔ وہ اپنا بوجھ اتارنے میں اس قدر محو تھا کہ آئینے میں اپنے تاثرات پر توجہ ہی نہ دے سکا۔ اچانک بولتے بولتے وہ رکا اور آئینے میں دیکھا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی اور وجود اس کی باتوں کو پوری توجہ اور انہماک سے سن رہا ہو۔ عکس مکمل ارتکاز کے ساتھ اسے دیکھ رہا تھا، جیسے ہر بات سمجھنے کی کوشش کر رہا ہو۔ وہ اس منظر کی تاب نہ لا سکا اور یک دم پیچھے ہٹ گیا۔
رات کو کھانا کھانے کے بعد وہ بستر پر دراز ہوگیا۔ آج نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ بار بار وہی منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا۔ اسے اپنی ذہنی حالت پر شک ہونے لگا تھا۔ وہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔
آخر اس نے دوبارہ آئینے کے سامنے جانے کا فیصلہ کیا تاکہ اس مخمصے سے خود کو آزاد کر سکے۔ وہ دھیمے قدموں سے چلتا ہوا اسی آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ رات کا ایک بج رہا تھا۔ بلب کی مدھم روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی۔ خوف زدہ اور متجسس تاثرات لیے اس کا چہرہ آئینے میں دکھائی دے رہا تھا۔ وہ کوئی دس منٹ تک خاموشی سے خود کو دیکھتا رہا۔ اس بار وہ کچھ نہ بولا، صرف آئینے کو گھورتا رہا۔ کچھ اطمینان ہوا تو بیڈ روم کی طرف مڑنے لگا، مگر مڑتے ہی اسے محسوس ہوا کہ وہ تو مڑ چکا ہے، لیکن آئینے میں اس کا وجود جوں کا توں کھڑا ہے۔
اس نے پلٹ کر دیکھا۔ آئینے میں اس کا وجود بالکل سپاٹ چہرے کے ساتھ موجود تھا۔ ایک ایسا چہرہ جو ہر طرح کے تاثرات سے خالی تھا۔ اس نے اپنا بازو ہوا میں بلند کیا، مگر آئینے میں موجود وجود ساکت کھڑا رہا، گویا کوئی پینٹنگ ہو۔
خوف سے اس کے چہرے پر پسینے کی بوندیں ابھر آئیں۔ اس کا جسم کانپنے لگا۔
اسی لمحے اس نے دیکھا کہ سپاٹ چہرے پر آہستہ آہستہ ایک مسکراہٹ نمودار ہو رہی ہے۔
وہ اپنی جگہ منجمد ہوگیا۔ اس مسکراہٹ میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ وہ اپنی نگاہیں نہ ہٹا سکا۔
اچانک ایک آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
"آج کچھ بولو گے نہیں؟"
ایک ایسی آواز اور ایک ایسا چہرہ، جو اس کا اپنا تھا، مگر اپنا ہو کر بھی پرایا تھا۔
وہ جواب دینا چاہتا تھا مگر آواز حلق سے نہ نکل سکی۔
وہ ایک قدم پیچھے ہٹ گیا۔ اس کا دماغ گویا مفلوج ہوگیا تھا۔ وقت کی رفتار دھیمی پڑ چکی تھی۔ عکس اسے سوالیہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ یہ سب برداشت نہ کر سکا۔ اس نے کمرے سے بیڈ شیٹ اٹھائی اور آئینے پر ڈال دی۔ وہ تھک کر نڈھال ہو چکا تھا۔ اعصاب جواب دے چکے تھے۔ بے بس ہو کر بستر پر گر پڑا اور پوری رات جاگتا رہا۔
صبح کا اجالا ہوا تو معمول کے مطابق واک پر نہ جا سکا۔ فریش ہوا، ناشتے کے نام پر چند نوالے زبردستی کھائے، تیار ہوا اور دفتر کے لیے نکل پڑا۔
دفتر کی عالیشان عمارت میں داخل ہونے کے لیے آہنی گیٹ پار کرکے تقریباً آدھا کلومیٹر پیدل چلنا پڑتا تھا۔ جونہی وہ پورٹیکو میں داخل ہوا، سامنے والی دیوار پر دروازے کی دائیں جانب ایک آئینہ لگا ہوا دکھائی دیا۔
آئینے کے نیچے انگریزی میں لکھا تھا:
"Am I Totally Prepared?"
اس کے قدم وہیں منجمد ہو گئے۔ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ ایک ساتھی آ پہنچا۔ اس نے اس کی کمر پر ہلکی سی تھپکی دی اور آئینے میں دیکھتے ہوئے اپنے بال درست کرنے لگا۔
"دیکھ کیا رہے ہو؟ تم بھی اپنے بال سیدھے کر لو۔ اسی لیے یہ آئینہ لگایا گیا ہے"۔
وہ یہ کہہ کر عمارت کے اندر داخل ہوگیا۔
وہ وہیں کھڑا رہا۔ آئینے میں خود کو دیکھنے کی خواہش اب خوف پر غالب آ رہی تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اگلے چند سیکنڈ میں وہ آئینے کے سامنے جا کھڑا ہوا۔
آئینے میں ایک رتجگا وجود اس کے سامنے کھڑا تھا۔
لاچارگی اور عبرت کا ایک نشان۔
اس نے عکس کی آنکھوں میں جھانکا۔ ان آنکھوں میں عجیب سا سحر تھا۔ گو یہ اس کی اپنی آنکھیں تھیں، مگر ان سے ایک عجیب قسم کی توانائی خارج ہو رہی تھی، جس نے اسے زمان و مکان کے احساس سے بے نیاز کر دیا تھا۔ خودی کا احساس گویا فنا ہو چکا تھا۔
اتنے میں ایک کولیگ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ بری طرح چونک اٹھا۔
"کب تک خود کو دیکھتے رہو گے؟"
کولیگ بولا۔
اس کی آواز نے اسے کسی اور ہی جہاں سے کھینچ کر دوبارہ اسی دنیا میں لا پٹخا، جہاں غل غپاڑا، فائلیں اور کام کا بوجھ تھا۔ دونوں دنیاؤں کا احساس اب اس کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکا تھا۔
عمارت میں داخل ہونے سے پہلے اس نے ایک بار پھر آئینے کی طرف دیکھا۔
اس کا عکس مسکرایا اور الوداع کہنے کے لیے اس نے ہاتھ ہلا دیا۔