1. ہوم
  2. افسانہ
  3. ناہید جنجوعہ
  4. گاہک
Naheed Janjua

گاہک

میں نے آج سے پہلے کبھی بھی کسی کے لئے اپنے دل میں ایسی ہمدردی محسوس نہیں کی تھی جیسی میں نے آج اپنی تازہ ترین کاروباری کاروائی پر محسوس کی، جو میری گیارہویں فروخت سے متعلق تھی، یعنی میری گیارہویں بیوی، جو نہ صرف میری پچھلی تمام ملکیتوں میں خوبصورت ترین تھی بلکہ سب سے زیادہ وفادار بھی تھی۔ میں اس قسم کا انسان ہی نہیں تھا جو "رحم" جیسی کسی شے کے معنی تک جانتا ہو، کیونکہ یہ لفظ میری زندگی کی لغت میں سرے سے موجود ہی نہ تھا۔ بلاشبہ میں اپنی اس بیوی کی عزت تو کرتا ہی تھا ان بہت سی خوبیوں کی وجہ سے جن کو "نجابت اور معصومیت" کہا جا سکتا تھا، لیکن پگھل جانا میرے "کاروبار" کا اصول نہیں تھا، کیونکہ مجھے ہمدردی یا رحم جیسے کسی بھی عام انسانی نرم جذبے کے بہاؤ میں بہہ جانے کی تربیت نہیں دی گئی تھی، بلکہ ایسے ہر اُس رویے سے دور رہنے کی عادت ڈالنے کا کہا گیا تھا، جو ہمارے "کام" کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہو۔

ہمارے کام کرنے کا طر یقہ کار کچھ ایسا تھا کہ عام لوگ آسانی سے ہم تک رسائی حاصل نہیں کر سکتے تھے اور صرف "متعلقہ" طبقہ ہی ہمارے رابطے اور دستیابی کی جگہیں جانتا تھا۔ ہماری کوئی مستقل رہائش گاہ نہیں تھی اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ ہم ایک جگہ سے دوسری جگہ اور ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہوتے رہتے تھے۔ دہائیوں سے یہ ہمارا "پیشہ" تھا۔ اگرچہ مقامی پولیس اپنے وسائل سے کوشش کرکے ہمیں ڈھونڈ سکتی تھی، لیکن کچھ "ہمراز مجرموں" کی مہربانی کی وجہ سے ہمارا کاروبار مسلسل چلتا رہتا تھا۔ ہم شادی کے لیے خوبصورت کنواری لڑکیاں تلاش کرتے تھے، لیکن کبھی انہیں چھوتے نہیں تھے، کیونکہ وہ ہمارے لئے "نئی گاڑیوں" کی طرح ہوتی تھیں، جتنی زیادہ ان کی دیکھ بھال کی جاتی، اتنی ہی وہ قیمتی ہوتیں۔ ایک وقت میں صرف ایک شادی ہمارا دستور تھا۔

ہم صحیح خریدار کا انتظار کرتے تھے اور "جواہر" دکھا کر یا ان کی تصویروں کے ذریعے ان کی قیمت طے کرتے تھے تا کہ "بیوی" کی لاعلمی میں ہم ان کی قیمت لگا سکیں۔ ہم بیوی کو روزمرہ کے تمام معاملات میں مصروف رکھتے تھے سوائے "ذاتی" وقت گزارنے کے۔ ہمارے پیشے سے وابسطہ لوگوں کی ان فروخت ہونے والی بیویوں کے علاوہ دوسری بیویاں بھی تھیں جن سے اُن کے بچے بھی تھے اور جن کا ان بیویوں سے کوئی تعلق وا سطہ نہیں تھا۔ نئی بیویاں ہمارے لیے "اے ٹی ایم" کارڈز یا بینک "چیک" کی طرح ہوتی تھیں، جو صرف ہماری زندگی اور دیگر معاملات چلاتی تھیں۔ ہم انہیں ایک ماہ سے زیادہ نہیں رکھتے تھے، تاکہ ان کے ہمارے ساتھ طویل قیام کی وجہ سے ہم پھنس نہ جائیں یا بے نقاب نہ ہو جائیں۔ ایک بار جب ہم قیمت طے کر لیتے اور اپنی "بیویوں" کو کسی مناسب کلائنٹ کے حوالے کر دیتے، تو ہم اپنے کلائنٹس کو طلاق کے کاغذات بھی دے دیتے تھے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ ہمیں اپنی سابقہ بیویوں پر کوئی قانونی یا مذہبی حق نہیں ہے۔ یہ سارا طریقہ کار دونوں "تاجروں" کے درمیان مکمل رازداری اور خفیہ طریقے سے کیا جاتا تھا۔

یہ اتفاق تھا کہ اپنی تمام تر کوششوں اور جدوجہد کے باوجود میں اپنی گیارہویں بیوی کے لیے صحیح گاہک تلاش کرنے میں ناکام رہا۔ ایک مہینے سے زیادہ کا وقت پہلے ہی گزر چکا تھا، لیکن ابھی تک کوئی قابلِ قبول گاہک نہیں ملا تھا۔ دراصل میں اس کی فروخت سے جتنا ممکن ہو سکتا تھا اتنا پیسہ وصول کر لینا چاہتا تھا۔ ایک دن میں اسی سلسلے میں کسی سے ملنے جا رہا تھا، لیکن بدقسمتی سے جس کیب کو میں نے کرائے پر لیا تھا اسے حادثہ پیش آ گیا اور جب مجھے ہوش آیا تو میں نے خود کو ایک مقامی ہسپتال میں پایا۔ ڈاکٹروں نے میرے خاندان اور میرے پتے کے بارے میں معلومات لیں۔ تو مجھے بتانا پڑا کہ میں کہاں رہتا ہوں؟

اگلا پورا ہفتہ وہ ہسپتال میں میری دیکھ بھال کرتی رہی۔ میری بائیں ٹانگ ٹوٹ گئی تھی اور میں اس کی مدد کے بغیر دو قدم تک نہیں چل سکتا تھا۔ وہ اتنی معصوم اور سب کام کرنے میں اتنی مستعد تھی کہ میں اس کی وفاداری ا ور خد مت کے آگے مذید دیوار بن کر کھڑا نہ رہ سکا۔ ایک عجیب طرح کے جبری احساس نے مجھے مسلسل اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا، جس سے میں چاہ کر بھی آذاد نہیں ہو پا رہا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ اگر میں نے اسے کھو دیا تو میں اپنی زندگی میں خدا کا سب سے قیمتی تحفہ کھو دوں گا۔ کئی موقعوں پر، جب وہ میری دیکھ بھال کرتی تو مجھے یوں لگتا، جیسے میں اب وہ آدمی ہی نہیں رہا جو کبھی اپنی گذشتہ دس بیویوں کے معاملے میں ہوا کرتا تھا۔

میں اس کے لیے اپنے جذبات کو سمجھنے اور جانچنے سے بالکل قاصر تھا۔ میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ آخر اس میں ایسی کیا خاص بات ہے جس نے مجھے خود سے نفرت کرنے پر مجبور کر دیا ہے، کیونکہ حقیقت تو یہی تھی کہ آخر کار وہ تھی تو میری جائز اور شرعی بیوی ہی اور میں اُسکا ایک بے شرم اور بے غیرت شوہر، جو اسکا سودا کسی مادی شے کے طر ح کرنے والا تھا اور جو اس کی خوبصورتی اور پرکشش جوانی کو کسی "بزنس کارڈ" کے طور پر استعمال کرنے والے کسی رذیل دلال سے کم نہ تھا۔ میں نے دل ہی دل میں اپنی اس مجرمانہ اور نا قابلِ معافی حرکت پر اپنے آپ کو ہر طرح کی لعنتیں دیں، تاکہ میں اپنے ضمیر کی آہ و بکا اور شدید زہریلے پن کو کچھ پرسکون کرسکوں، جو میرے اندر ایک پہاڑ کی طرح پھیل رہی تھی اور جس کی موٹی اور دبیز تہوں کا وزن مجھے زمین میں مسلسل دھکیل رہا تھا، وہی مجرمانہ حرکت جو میں اتنے سالوں سے اتنی ساری لڑکیوں کے ساتھ کرتا آ رہا تھا جو دراصل میری بیویاں تھیں اور جنہیں میں معاشرے کے بدبختوں کو بیچ دیتا تھا، جنہوں نے صرف ان کی خوبصورتی اور پاکیزگی کو تباہ کرنا تھا اور صرف خدا ہی جانتا تھا کہ کتنی دیر تک اور کہاں کہاں! یہ خیال ہی میرے دل کو اپنی تیز دھار سے چیر رہا تھا جسکی کاٹ میری روح میں بہت گہرائی تک پیوست ہو رہی تھی۔

میں اپنے بستر سے اٹھا اور سہارا لینے کی غرض سے اپنی بیساکھیوں کو پکڑنے کی کو شش کرنے لگا، تاکہ صحیح طریقے سے کھڑا ہو سکوں، کیونکہ آج، اپنی خوبصورت بیوی سے متعلق اس کے مجوزہ گاہک کے ساتھ حتمی معاہدہ کرنے اور رقم لینے کا دن تھا۔ لیکن اسی لمحے میں نے دیکھا کہ میری بیوی نے مجھ سے پہلے ہی میری بیساکھیاں مجھے دینے کے لیے میری طرف بڑھا دیں ہیں۔ اوہ! میرے خدا۔۔ وہ کتنی بے چاری تھی۔ اسے تو اندازہ تک نہیں تھا کہ میں اس کی لاعلمی میں اس کے ساتھ کیسا گھناؤنا کام کرنے والا تھا۔ وہ اپنے بہترین لباس میں تیار ہو رہی تھی جیسا کہ میں نے اسے کہا تھا کیونکہ میں نے اسے بتایا تھا کہ ہم دونوں ایک رشتہ دار سے ملنے جا رہے ہیں جو اسی شہر میں رہتا ہے۔

میں بھی تیار ہوا، طلاق کا کاغذ نکالا جس پر میں نے ابھی دستخط نہیں کیے تھے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ میں اس بیوی سے متعلق ہر چیز کے لیے اتنا غیر معمولی برتاؤ کیوں کر رہا تھا؟ میں اسے اسٹامپ پیپر پر طلاق دینے میں اتنا وقت کیوں لگا رہا تھا؟ میں نے پہلے ہی پچھلی دس طلاقوں کی طرح کا مسودہ تیار کروا لیا تھا۔ میرا سر مسلسل عجیب طرح کے سوالوں سے پھٹ رہا تھا جن کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ ہم مقررہ وقت پر ہوٹل پہنچ گئے۔ متعلقہ گاہک بھی ہم سے پہلے وہاں مو جود تھا۔ اس نے ہمارے لیے شاندار کھانے کا آرڈر دیا۔ ہم نے کھانا شروع کیا۔ ہمارے طے شدہ معاہدے کے مطابق، ہمیں کچھ دیر کے لیے میز چھوڑ کر ایک کونے میں ملنا تھا تاکہ اپنی "پروڈکٹس" یعنی چیک اور طلاق کے کاغذ کا تبادلہ کریں۔

اس نے مجھے چیک دیا اور طلاق کا کاغذ مانگا۔ میں نے اسے اسٹامپ پیپر دکھایا جو مناسب طریقے سے تیار کیا گیا تھا لیکن نیچے میرے دستخط کے بغیر تھا۔ اس نے اسٹامپ پیپر کو گھورا اور پھر سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا۔ میں نے اس سے کہا، "معاہدہ منسوخ ہے، میں اسے اپنی سچی بیوی کے طور پر رکھوں گا"۔ میرے گاہک نے مسکرا کر کہا، "دونوں رکھو، چیک بھی اور اپنی بیوی بھی، آؤ اپنا کھانا ختم کرتے ہیں"۔ سوچتا ہوں کہ ایک مرد، اپنی زندگی میں ہر چیز قربان کر سکتا ہے لیکن بیوی کے روپ میں ایک وفادار عورت نہیں۔ میرا وہ گاہک بھی شائد کوئی سچا مرد تھا، جسکو میری اس کمزوری کو بھانپ لینے میں ایک لمحہ بھی نہ لگا، لیکن مجھے یہ بات دس معصوم عورتوں کی زندگی بر باد کرنے کے بعد سمجھ میں آئی۔۔