ان دنوں میری ڈیوٹی شہر کی جنوبی سڑکوں پر تھی، جب گرمی کے ایک شدید گرم دن اتفاقاً میری ملاقات اتو اری لال سے ہوگئی۔ وہ کوئی تیس بتیس سال کا ایک سادہ سا آدمی تھا جس کی شکل و صورت میں بھی کوئی خاص بات نہیں تھی۔ وہ ایک کم رش والی سڑک پر ایک بڑے برگد کے درخت کے نیچے اپنی پرانی زنگ آلود سائیکل کے ساتھ بیٹھا تھا۔ میں نے اپنے حصے کی لمبی سڑک کی صفائی تقریباً مکمل کر لی تھی۔ دن بہت گرم تھا اور دھوپ خنجر کی نوکوں کی طرح میرے سر میں چبھ رہی تھی جو ویسے ہی جلتے ہوئے سورج کی وجہ سے پھٹا جا رہا تھا۔ کیونکہ روزانہ دس سڑکوں پہ جھاڑو دینا کوئی آسان کام نہیں تھا، حالانکہ میں ہمیشہ سورج طلوع ہونے سے بہت پہلے اپنے کام کے لیے گھر سے نکل جاتا تھا۔ لیکن اُس دن میری بوڑھی ماں اتنی شدید بیمار تھی کہ وہ ساری رات ایک گھنٹہ بھی سو نہیں سکی تھی۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا تھا کہ میری غریب ماں پیٹ کے درد کی وجہ سے رات بھر جاگتی رہی ہو، کیونکہ اسے یہ درد پچھلے دس سال سے تھا۔ لیکن اب یہ اس کے لیے ناقابل برداشت حد تک بڑھ گیا تھا۔ اس کے پھیپھڑے اُس دھول اور کچرے سے بری طرح متاثر ہو چکے تھے جسے وہ ساری عمر صاف کرتی رہی تھی، تاکہ وہ ہمارے لیے کھانے پینے کا کچھ سامان خریدنے کے لیے چند گندے اور مسلئے ہوئے نوٹ کما سکے۔ لیکن اب اس کا جگر مکمل طور پر زہر آلود ہو چکا تھا۔ میرے والد کا انتقال تو تب ہی ہوگیا تھا جب میں اور میرے تین بہن بھائی بہت چھوٹے تھے۔ وہ درد میری ماں کے ساتھ اس کی بیس سالہ مشکلوں بھری شادی شدہ زندگی میں خاموشی سے ساتھ ساتھ چلتا رہا تھا اور اس کی وجہ میرا غریب باپ نہیں تھا، بلکہ اس کی بری قسمت تھی جس نے اسے ہماری زندگی کی انتہائی حقیر نوعیت کی ضرورتوں کو پورا کر سکنے کی معمولی سی خوشی بھی نہ لینے دی تھی، باوجود اس کے کہ اس نے ہمارے لیے بہت محنت اور مشقت کی، لیکن ہماری ضرورتوں کو پورا نہ کر سکنے کا دکھ بالآخر اس کے سینے کا بوجھ بن گیا، جو ایک دن اتنا شدید بڑھا کہ کراچی کی سخت گرمی میں ڈیوٹی کے دوران اس نے جان بوجھ کر خود کو ایک مین سیوریج پائپ کے بدبودار اور تعفن زدہ گندے پانی میں بہا کر خود کشی کر لی اور یوں اپنے آپ کو ہمیشہ کے لیے ایک قابلِ رحم زندگی کی تمام فکروں سے آزاد کر لیا۔ وہ زندگی جس نے ہم سب کی الجھی ہوئی ذمہ داریوں کا بوجھ اس پر لاد کر اسے کچل دیا تھا۔
بلا شبہ میں اپنی زندگی اور اپنے چھوٹے سے خاندان پر ہونے والے ہر ظلم کو بھول اور معاف کر سکتا ہوں لیکن شاید اپنے شفیق باپ کی مایوس کن موت کو نہیں، جس نے اپنی جان، اس قدر بے دردی سے دے دی جیسے کوئی شخص اپنی بے وقعت زندگی کی تمام تکالیف اور مصیبتوں کو انتہائی سستے داموں کسی کو خیرات میں دے دے، نتیجتاً، میری زندگی میں میری ماں کی اہمیت ہر چیز پہ مقدم تھی۔ اگر نوبت یہاں تک آ جاتی کہ مجھے اپنی ماں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان بھی دینا پڑتی، تو میں اُس سے بھی دریغ نہ کرتا۔ اس کی بیماری میری زندگی کا سب سے بڑا غم بلکہ المیہ تھی، کیونکہ اگر اسے چند سال اور زندہ رکھنا تھا تو اس کے لئے اس کے جگر کی پیوند کاری کرانا بہت ضروری تھا، لیکن اس آپریشن کے لیے پیسوں کا انتظام کرنا میرے لیے ایک بہت بڑا مسلۂ تھا۔ خوش قسمتی یا بدقسمتی سے، ان دنوں میں اپنے گھر کا کمانے والا اکلوتا فرد تھا۔ کیونکہ میری ماں اپنی بگڑتی ہوئی صحت کی وجہ سے کام پر جانا بند کر چکی تھی۔
ایک صبح اتواری لال معمول کے مطابق مجھ سے ملا اور سڑک کی تین گھنٹے کی صفائی کے بعد وہ سڑک کے ایک مشترکہ مقام پر میرے ساتھ آ ملا اور اس نے مجھے بتایا کہ کسی نے اسے ایک گراں قدر منصوبے کے متعلق بتایا ہے، جو کسی حیرت انگیز پیشکش سے کم نہیں ہے اور یہ بھی کہ وہ یقیناََ میری ماں کے جگر کے آپریشن کے لیے پیسے جمع کرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہوگی۔ اس نے کہا کہ اگر میں اس کی اسکیم پر راضی ہو جاؤں تو ہم دونوں اس سے بہت بڑا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن تھوڑی دیر میں پانی کا ٹینکر ہماری طرف آیا اور سڑک کے کنارے لگے پودوں پر پانی چھڑکنے لگا، جس نے ہماری بات کا سلسلہ روک دیا اور ہم دونوں کو مجبوراً اپنی صفائی کے کام پر واپس جانا پڑا۔
میں نے جھاڑا ہوا کچرا سڑک کے درمیان والی پٹی کے ساتھ اکٹھا کیا اور پھر اسے اٹھا کر اپنی پیلی ٹرالی میں ڈالنے لگا۔ میرے نئے دستانے تقریباً پھٹ چکے تھے، کیونکہ ان میں کئی سوراخ ہو گئے تھے اور ایک لمحے کے لیے میں نے سوچا کہ انہیں پہن لوں، لیکن پھر لاشعوری طور پر یہ خیال رد کر دیا کہ ایسے دستانے پہننے کا کیا فائدہ جو ہاتھوں پر، چھلنیکی طرح لگتے ہوں، ان دستانوں نے اپنے کئی سوراخوں سے سارا کچرا میرے موٹی جلد والے ہاتھوں پر گرا دیا اور بغیر کسی معقول وجہ کے میں خود سے سوچنے اور سوال کرنے لگا، کہ ہمارے جیسے سڑکوں پر صفائی کرنے والوں کے لیے ان سستے دستانوں کا کیا فائدہ، یہ تو محض دکھاوا ہیں اور اصل میں یہ ایک ہفتے سے زیادہ ہمارے ہاتھوں کی حفاظت نہیں کر پاتے؟ لیکن مجھے اپنے اس بیوقوفانہ سوال کا کوئی سمجھدار جواب نہ مل سکا۔
اگلے دن میں کام پر نہیں جا سکا، کیونکہ میری ماں کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی اور اسے اپنی شدید بیماری میں میری تسلی کی ضرورت تھی۔ میں نے خود کو اتنا بے بس اور محتاج محسوس کیا کہ مجھے ا تواری لال کے وہ الفاظ یاد آ گئے جو اس نے ایک دن پہلے مجھ سے کہے تھے، اگر تم میری اسکیم پر راضی ہو جاؤ تو ہم دونوں کو حیرت انگیز فائدہ ہوگا، خاص طور پر تمہیں آپریشن کے لیے بہت سارے پیسوں کی ضرورت ہے۔ میں نے پختہ فیصلہ کیا کہ اتواری لال سے تفصیل سے پوچھوں گا کہ اصل منصوبہ کیا ہے۔ مجھے احساس ہوا کہ میں اگلے دن کام پر کافی جلدی پہنچ گیا تھا، تاکہ اس منصوبے کے بارے میں سب کچھ جان سکوں، لیکن لگتا تھا کہ وہ اس دن ڈیوٹی پر آنے والا نہیں تھا۔ میرا اندازہ ٹھیک تھا، کیونکہ دن تقریباً ختم ہونے کو تھا اور وہ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں اپنی صفائی ختم کرنے ہی والا تھا کہ میں نے اسے ایک عجیب انداز میں اپنی طرف آتے دیکھا، جیسے وہ کسی چیز یا کسی شخص سے ڈرا ہوا ہو۔
میرے قریب پہنچ کر وہ تھوڑا سا جھکا اور ارد گرد ایک عجیب نظر ڈالنے کے بعد آخرکار ایک دبی ہوئی خشک آواز میں بولا، ہمیں یہ کام آج رات ہی کرنا ہوگا۔ لیکن تمہارا منصوبہ آخر ہے کیا؟ یہ میری تشویش تھی، کیونکہ میں کچھ نہیں جانتا تھا کہ معاملہ کیا ہے اور ہمیں اس متوقع رقم کے لیے کیا کرنا پڑے گا جس کا اس نے ذکر کیا تھا؟ اتواری لال نے بتایا کہ سڑک کی صفائی کا کام ختم کرنے کے بعد وہ رات کو ایک خاندان کے ہاں جز وقتی چوکیداری کرتا ہے جو شہر کا ایک بڑا تاجر ہے۔ اس تاجر کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اس لیے اس نے پچیس سال پہلے ایک لڑکے کو گود لے لیا تھا۔ جبکہ امیر آدمی کی بیوی کئی سال پہلے ایک کار حادثے میں مر چکی تھی۔ چنانچہ گھر میں صرف دو ہی لوگ رہتے تھے، دس کنال پر پھیلے ہوئے ایک شاندار بنگلے میں۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن کہانی میں موڑ تب آیا جب امیر آدمی نے تین ماہ پہلے ایک خوبصورت عورت سے شادی کر لی۔
گود لیے ہوئے بیٹے سے اپنے باپ کی دوسری شادی کا صدمہ برداشت نہ ہوا، خاص طور پر اس لیے کہ اس کے باپ نے اپنی ساری جائیداد اپنی دوسری بیوی کے نام منتقل کر دی تھی۔ اس لیے لڑکے نے اتواری لال کو بتایا کہ اس کا ایک منصوبہ ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اپنے دونوں والدین کو زہر دے دے گا اور ان کی موت کے بعد اگر اتواری لال ان کی لاشوں کو اس مین سیوریج پائپ میں بہا دے جس کی سڑکوں کی وہ صفائی کرتا ہے، تو وہ اسے انعام کے طور پر بیس ملین دے گا۔ چونکہ پچھلی رات گود لیے ہوئے بیٹے نے اپنے دونوں والدین کو زہر دے دیا تھا، اس لیے اتواری لال اس دن ڈیوٹی پر نہیں آ سکا تھا۔ اس نے مجھے پیشکش کی کہ اگر میں لاشیں ٹھکانے لگانے میں اس کی مدد کروں تو وہ انعام کی رقم ہم دونوں میں برابر تقسیم کر لے گا، کیونکہ لڑکا آدھی رات تک باقی تمام ضروری انتظامات کر لے گا، جو لاشوں کو سیوریج کے مین ہول میں منتقل کرنے کے لیے بہترین وقت ہے۔
منصوبہ اتنا بھیانک تھا کہ میں لمحے بھر کے لیے اپنے حواس قائم نہ رکھ سکا اور میں جلدی میں بھی تھا کہ اندھیرا ہونے سے پہلے گھر پہنچ جاؤں۔ مجھے آدھی رات سے پہلے اس، پریشان کن منصوبے کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے کے لیے چند گھنٹے درکار تھے۔ اتواری لال نے میری فطری پریشانی کو محسوس کیا او وہ میرے جانے پر رضامند ہوگیا اور مجھے تاکید کی کہ میں آدھی رات تک تیار رہوں جب وہ میرے گھر آ کر مجھے اس خطرناک کام کے لیے اپنے ساتھ لے جائے گا۔ میں بکھرے ہوئے خیالات کے ساتھ اپنی ماں کی خدمت کرتا رہا، اسے کھانا کھلایا جو وہ پیٹ کے درد کی وجہ سے نہیں کھا سکی۔ آخرکار کافی رات گئے میری ماں درد سے تھک کر سو گئی۔ تب اتواری لال نے میرے گھر کے لکڑی کے ٹوٹے ہوئے پرانے دروازے پر دستک دی۔ ہم دونوں میرے چھوٹے سے گھر کے صحن میں آئے، جہاں میری ماں نیم مردہ حالت میں پڑی تھی جسے درد سے کچھ دیر کی راحت کے سوا شاید کسی چیز کی پرواہ نہیں تھی۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ ہماری باتیں سن رہی تھی اور نیند کا بہانہ کر رہی تھی یا واقعی سو رہی تھی۔ لیکن ہم دونوں چوروں کی طرح موٹے اور گہرے رنگ کے کپڑے کی چادروں میں لپٹے ہوئے خاموشی اور بے آواز گھبراہٹ کے ساتھ اپنے خفیہ مشن کے لیے نکل پڑے۔
ہم اتنے خوفزدہ اور گھبرائے ہوئے تھے کہ ہم میں سے کوئی بھی اپنے اس تکلیف دہ کام سے متعلق ایک دوسرے سے کوئی بات نہیں کر رہا تھا، خاص طور پر اس بات پر کہ لڑکا لاشوں کے ساتھ کب پہنچے گا؟ اچانک ایک سایہ نمودار ہوا اور وہ جلدی سے ہم سے کوئی پانچ چھ گز کے فاصلے پر موجود کسی بڑے سے درخت کے موٹے تنے کے پیچھے چھپ گیا۔ وہ کون ہو سکتا ہے؟ یہ دونوں کے لیے ایک معمہ تھا جس کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ مخلوط اندرونی خوف سے لرزتے ہوئے ہم نے دیکھا کہ ایک کار آ کر رکی اور اس نے دو لپٹی ہوئی سخت لاشیں اور ایک درمیانے سائز کا گہرا بھورا بریف کیس ہمارے قریب سڑک پر اتار دیا۔ لڑکے نے سرگوشی میں اتواری لال سے کہا کہ پیسے بریف کیس میں ہیں اور وہ صبح کی پہلی پرواز سے ملک سے باہر چلا جائے گا اور یہ بھی کہ اتواری لال کو مستقبل میں کبھی اس سے رابطہ نہیں کرنا اور اسے ایک اجنبی سمجھنا ہے۔ میرے پورے جسم میں ایک عجیب سی لہر دوڑ گئی، کیونکہ لڑکا جلدی سے چلا گیا اور ہمیں ایک ظالم رات کے اندھیرے میں دو لاشوں اور بیس ملین کے کرنسی نوٹوں سے بھرے بریف کیس کے ساتھ سڑک پر اکیلا چھوڑ گیا۔ اتواری لال نے جلدی سے بریف کیس پکڑا اور اسے کھول کر تصدیق کی کہ اس میں واقعی پیسے ہیں۔
مدھم چاندنی میں نوٹوں کے بنڈل دیکھنے اور مطمئن ہونے کے بعد اس نے اپنی چادر کے نیچے سے ایک موٹی لوہے کی سلاخ نکالی تاکہ مین ہول کا دھاتی ڈھکن کھول سکے، جسے اس نے تھوڑی سی کوشش سے ہنر مندی سے ہٹا دیا، جیسے اس نے پہلے سے اس کی مشق کی ہو۔ اس نے مجھ سے کہا کہ لاشوں کو گھسیٹ کر ایک ایک کرکے مین ہول کے اندر ڈالنے میں میری مدد کرو۔ خوف اور دہشت نے ہم پر عجیب اثر ڈالا کہ ہم نے اپنا کام غیر متوقع طور پر بہت جلدی ختم کر لیا۔ جس کے بعد ہم دونوں نے آنکھوں میں ایک بے برکت فتح کی تھکی ہوئی مسکراہٹ کا تبادلہ کیا اور بالآخر یہ سوچا کہ گھر جا کر پیسے برابر تقسیم کر لیں گے۔ ہم دونوں میرے گھر پہنچے، پیسے گنے، تقسیم کیے اور اتواری لال اپنا حصہ لے کر چلا گیا۔
ماں اب صحن میں بچھے بستر پر نہیں تھی، میں نے سوچا شائد وہ اٹھ کر اندر کمرے میں نہ چلی گئی ہو، لہذامیں کمرے میں داخل ہوا اور میں نے دیکھا کہ وہ اپنے ٹوٹے ہوئے بستر پر بھی نہیں تھی۔ میں نے شدید مایوسی کے عالم میں اپنے پورے گھر میں اسے تلاش کرنا شروع کر دیا، جو ایک چھوٹی سی جھونپڑی سے بھی چھوٹا تھا، لیکن میری ساری تلاش بے نتیجہ رہی، میں نے اسے تقریباً ہر جگہ تلاش کیا، گھر کے اندر اور باہر بھی، کہیں وہ کچھ دیر کے لیے تازہ ہوا لینے باہر نہ گئی ہو، لیکن وہ کہیں نہیں ملی۔۔ اچانک میرے خون میں ایک خوفناک خیال دوڑا، اوہ! نہیں، کہیں وہ سایہ میری ماں کا تو نہیں تھا۔۔ میں پاگلوں کی طرح چیختا چلاتا خاموش سڑکوں پر اس مین ہول کی طرف دوڑا، جہاں ہم نے ایک گھنٹہ پہلے دو لاشیں پھینکی تھیں۔۔ اوہ! نہیں، مین ہول کا دھاتی ڈھکن ایک طرف پڑا تھا اور وہ مکمل طور پر کھلا ہوا تھا اور اب یقیناََ اس میں دو کے بجائے تین لاشیں تھیں۔۔