کیا وہ ذکر ترا، تسمیہ ہی بھول گیا
میں ابتدا میں کہیں، انتہا ہی بھول گیا
عجیب بھول بُھلیّوں میں تھا جو عکسِ حیات
خدا کی ذات کا یہ آئینہ ہی بھول گیا
کبھی تو جان کے میں نے گرا دیے مصرعے
ردیف یاد رکھی، قافیہ ہی بھول گیا
ترے ہی عشق نے بخشی شعور کی دولت
میں عہدِ ماضی کا ہر واقعہ ہی بھول گیا
تری نگاہ نے ایسا حصار کھینچا ہے
میں اپنے گرد لگا دائرہ ہی بھول گیا
وہ اک نگاہِ کرم تھی جھلک نہیں تھی فقط
مریضِ عشق ہر اک، عارضہ ہی بھول گیا
کھلا جو مجھ پہ حقیقت کا در محبت میں
رہِ وفا کا ہر اک معرفہ ہی بھول گیا
جسے جلا کے رکھا عمر بھر سرِ محفل
بجھانا دن کو وہی قمقمہ ہی بھول گیا
یہ کیا طلسم تھا، خیرہ نگاہ تھی میری
سلوک و ضبط کا ہر ضابطہ ہی بھول گیا
حسینؑ سے نہ کیا، جس نے عشق وہ احمد
تمام فلسفہِ کربلا ہی بھول گیا