1. ہوم
  2. غزل
  3. علی رضا احمد
  4. کوئی ایسا نوعِ انسانی میں ہے

کوئی ایسا نوعِ انسانی میں ہے

کوئی ایسا نوعِ انسانی میں ہے
جس کی شہرت چاک دامانی میں ہے

بات کیسے کوئی سمجھائے اسے
اور یہ قصّہ میرا سُریانی میں ہے

دیکھتے ہیں اب یہ رکتی ہے کہاں
ناؤ جیون کی بھی طغیانی میں ہے

اب یہ کاٹے گا نگینوں کو تمام
شاہی ہیرا اپنی تابانی میں ہے

جو سنائی ہے کہانی اس طرح
راز سارا تیری حیرانی میں ہے

خطہ یہ جنگ و جدل کا ہے عجب
چین اس کو دورِ طوفانی میں ہے

رونقیں آئیں گی کیسے اب یہاں
دشتِ دل کی سمت ویرانی میں ہے

پاؤں گا آرام میں اے دردِ دل؟
میری دھڑکن تیری نگرانی میں ہے

لطف دولت کا ہے احمد فقر میں
یہ امارت تنگ دامانی میں ہے