ہمارے لیے ایک لفظ، ایک لمحے، ایک فقرے، ایک ملاقات، حتی کہ ایک روپے کی ایک اہمیت ہو سکتی ہے۔ کسی اور کی اسی ایک لفظ، ایک لمحے، ایک فقرے یا ایک ملاقات کی اہمیت وہی ہو، یہ بالکل ضروری نہیں۔
یہ 1997 کا دور تھا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے نواز شریف کا وہ دور تھا جس میں پشاور آٹے کی قلت سے دوچار تھا۔ یادداشت البتہ دھوکہ بھی دے سکتی ہے لہذا تاریخ دان تصحیح کر سکتے ہیں۔
سفید پوشی کے ایام تھے۔ سفید پوشی جو شریف غریب اپنی غربت کا بھرم رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ موبائل فون ابھی خواب تھے۔ ٹیلی فون محلے کے ایک گھر میں موجود ہوتا تھا۔
وہ سرکاری ملازم تھا۔ ایک عدد بائیک کا مالک۔ یہ بائیک اس کے پاؤں تھے۔ بائیک کا نمبر PRM8023 تھا۔
وہ تین بچوں کا باپ بھی تھا جنہیں روزانہ سکول لے جانا اور واپس لانا اس کی ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔ آندھی ہو، بارش یا طوفان، اپنی ذمہ داری اس نے پوری کرنی ہوتی تھی۔ باوجود اس کے کہ پانچ برس قبل اس کی اوپن ہارٹ سرجری ہوچکی تھی کیونکہ تب سٹنٹ نامی شے ایجاد نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت تک Statins بھی اتنی عام نہیں ہوئی تھیں۔ ہوتیں تو شاید حالات کچھ الگ ہوتے۔
اس شام وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ماہانہ سودا سلف کی خریداری کے بعد گھر آیا تھا۔ چھت پر ٹنکی میں پانی صاف کرنے کے لیے "پنکی" ڈالی تھی۔ اس نے بس ایک نظر جا کر ٹنکی کو دیکھنا چاہا تاکہ واپس آکر باقی کا سودا سلف لے کر آسکے۔
سفید پوش یوں ہی رکشوں کا خرچ بچایا کرتے تھے۔
وہ اوپر چھت پر گیا۔ ٹنکی دیکھی۔ واپس نیچے آیا۔ بائیک جہاں کھڑ کرکے گیا تھا وہاں سے غائب تھی۔ قریب بیس منٹ کی تلاش کے بعد اسے احساس ہوچکا تھا کہ بائیک۔۔ چوری ہوچکی ہے۔۔
پبلک ٹرانسپورٹ اس علاقے میں موجود نہیں تھی۔ رکشے اس کی قوت سے باہر ہوا کرتے تھے۔ بائیک چوری ہونے کے دو دن بعد وہ ایک دوست کو باقاعدہ دل میں درد محسوس کرتے سینہ ملتے ہوئے روہانسی آواز میں بتا رہا تھا کہ "کوئی میرے پاؤں کاٹ کر لے گیا ہے"۔
تب تک کوئی حل سمجھ نہیں آرہا تھا۔
تین چار دن بعد اتفاق سے اسے دور نوجوانی کے ایک دوست کی امریکہ سے کال آئی۔ سلام دعا ہوئی۔ حال احوال پوچھے گئے تو اس نے حال احوال کے نام پر بائیک چوری کا واقعہ گوش گزار کر دیا۔
دوست نے فوری طور پر کچھ پیسے شاید پندرہ ہزار روپے بھیج دیے۔ کچھ پیسے اس نے ادھر ادھر سے پکڑے۔ کچھ جوڑ رکھے تھے۔ یہ سب ملا کر اس نے استعمال شدہ یاماہا خرید لی جس کی قیمت اس وقت بتیس ہزار روپے تھی۔
اور یوں اس کی ٹانگیں اسے واپس مل گئیں۔
ہمارے لیے ایک لفظ، ایک لمحے، ایک فقرے، ایک ملاقات، حتی کہ ایک روپے کی ایک اہمیت ہو سکتی ہے۔ کسی اور کی اسی ایک لفظ، ایک لمحے، ایک فقرے یا ایک ملاقات کی اہمیت وہی ہو، یہ بالکل ضروری نہیں۔
اگر آپ کسی کے لیے اپنے ایک لفظ، ایک لمحے، ایک فقرے یا ایک ملاقات کی اہمیت سے واقف ہیں، تو یقین کیجئے اس دنیا میں آپ سے بڑا غنی شخص کوئی نہیں۔
باقی تو وقت، بکواس اور پیسہ سبھی آتا جاتا رہتا ہے۔