دنیا کی ہر نسل اپنے وقت کے مطابق بنتی ہے۔ ہمارے بزرگوں کی دنیا محدود تھی۔ ہمارے والدین کی دنیا روایات اور معاشی استحکام کے گرد گھومتی تھی۔ لیکن جین زی کی دنیا ایک "گلوبل ولیج" میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس نے بچپن سے دنیا کو موبائل اسکرین پر دیکھا۔ ان کیلئے سرحدیں، ثقافتیں، نظریات اور معلومات سب ایک کلک کے فاصلے پر ہیں۔ عام طور پر جنریشن زی 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے نوجوانوں کو کہا جاتا ہے۔ یعنی آج کے ٹین ایجرز اور ابتدائی بیس کی عمر کے نوجوان اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں مگر جین زی صرف ایک عمر کا نام نہیں، بلکہ ایک ذہنی کیفیت اور سماجی تبدیلی کا نام ہے۔
یہ نسل شاید تاریخ کی سب سے زیادہ معلومات رکھنے والی لیکن سب سے زیادہ کنفیوژ نسل ہے۔ انہوں نے گوگل، یوٹیوب، سوشل میڈیا اور اب چیٹ جی پی ٹی کے ذریعے وہ سب کچھ دیکھ لیا ہے۔ جو پہلی نسلوں سے چھپایا جاتا تھا۔ وہ چند سیکنڈ میں مذہب، ثقافت، سیاست، فلسفہ اور سماج پر ہزاروں آراء دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بات پر سوال اٹھاتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ وہ سوال کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ سوال سننے کا عادی نہیں۔ ہم نے صدیوں تک اولاد کو اطاعت سکھائی۔ مکالمہ نہیں۔
ایک زمانے تک والدین کی رفتار دنیا سے زیادہ تھی۔ اس لیے بچے ان کے پیچھے چلتے تھے، مگر اب دنیا اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ اگر والدین خود نہیں سیکھتے تو وہ اپنی اولاد کی سوچ تک نہیں پہنچ سکتے۔ اسی خلا نے جین زی کو ایک عجیب محرومی میں دھکیل دیا ہے۔ وہ سنے نہیں جا رہے۔ صرف جج کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف جین زی کا اپنا مسئلہ بھی ہے۔ ان کے پاس معلومات تو بہت ہیں مگر مطالعہ کم ہے۔ وہ ریسرچ کے بجائے ریلز (reels) سے رائے بناتے ہیں۔ نصاب، یونیورسٹیز اور سماجی ادارے انہیں یہ نہیں سکھا سکے کہ دلیل کیسے بنائی جاتی ہے۔ اختلاف کیسے کیا جاتا ہے اور کسی نظریے کو رد یا قبول کرنے کے لیے علمی بنیاد کیا ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف پرانی نسل اپنے خوف نئی نسل میں منتقل کر رہی ہے اور دوسری طرف نئی نسل ہر روایت کو چند ویڈیوز دیکھ کر رد کر دینا چاہتی ہے۔
یہ تصادم دراصل "روایت اور رفتار" کا تصادم ہے۔ یونیورسٹیز جو مکالمے اور فکری آزادی کی جگہ ہونی چاہئیں۔ وہاں بھی جین زی اکثر تعصب کا شکار نظر آتی ہے۔ کئی اساتذہ اس نسل کو سمجھنے کے بجائے ان سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ ایک ایسا نوجوان جو پراعتماد ہو۔ اچھی انگریزی بولتا ہو عالمی موضوعات پر رائے رکھتا ہو۔ یا اپنے لباس اور انداز میں مختلف ہو۔ وہ بعض اوقات استاد کیلئے "طالب علم" کم اور "چیلنج" زیادہ بن جاتا ہے۔ یہ تعصب ہمیشہ کھل کر ظاہر نہیں ہوتا۔ کبھی پریزنٹیشنز غیر ضروری سختی سے رد کر دی جاتی ہیں۔ کبھی اسائنمنٹس میں نمبر کم دے دیے جاتے ہیں اور کبھی طالب علم کی قابلیت کے بجائے اس کے لباس، لہجے یا سوشل بیک گراؤنڈ کو جج کیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک تعلیمی عمل لگتا ہے، مگر اندر کہیں نہ کہیں ایک نفسیاتی کشمکش چل رہی ہوتی ہے۔ پرانی نسل کو محسوس ہوتا ہے کہ نئی نسل ان کے اختیار، علم اور برتری کو چیلنج کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ استاد سخت ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ کئی جگہوں پر رہنمائی کی جگہ "انا"نے لے لی ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ وہاں طالب علم اکثر "انسان" کم اور"فائل" زیادہ بن جاتا ہے۔
حال ہی میں Bahauddin Zakariya University کے کنٹرولر آفس کا معاملہ سامنے آیا۔ جہاں ایک انتظامی غلطی کی وجہ سے ایک طالب علم کی ڈگری تین سال تک رکی رہی۔ تین سال۔ جو کسی نوجوان کی زندگی میں صرف وقت نہیں بلکہ مستقبل، روزگار، خود اعتمادی اور ذہنی سکون کا سوال ہوتے ہیں۔ یہ صرف ایک یونیورسٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ہمارے پورے تعلیمی اور انتظامی رویے کی عکاسی ہے۔ بیشمار طلبہ ایسے ہیں جو کسی کلرک کی لاپروائی، کسی افسر کی انا یا کسی سسٹم کی سستی کی قیمت اپنے کیریئر سے ادا کرتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ ادارے اپنی غلطیوں کو انسانی غلطی کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں جبکہ ایک طالب علم انہی غلطیوں کا بوجھ برسوں اٹھاتا رہتا ہے۔
جین زی اسی ماحول میں پروان چڑھی ہے۔ ایک طرف انہیں کہا جاتا ہے کہ محنت کرو۔ آگے بڑھو۔ دنیا سے مقابلہ کرو اور دوسری طرف انہی اداروں میں ان کے راستے تعصب اور غیر سنجیدگی سے روک دیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس نسل میں اداروں کے خلاف بداعتمادی بڑھ رہی ہے۔ وہ صرف نظریات پر سوال نہیں اٹھا رہے بلکہ ان سسٹمز پر بھی سوال اٹھا رہے ہیں جو انصاف، قابلیت اور میرٹ کے دعوے تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر اکثر نوجوانوں کو مایوسی دیتے ہیں۔
جین زی کے ہاتھ میں پہلی بار ایسا ہتھیار آیا ہے جو پچھلی کسی نسل کے پاس نہیں تھا۔ فوری معلومات۔ اب وہ ایک منٹ میں یہ جان لیتے ہیں کہ دنیا کے دوسرے معاشرے کیسے رہتے ہیں۔ لوگ کن آزادیوں کے ساتھ جیتے ہیں اور کون سی روایات انسان کو محدود کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نسل در نسل چلنے والے کئی عقائد، رسموں اور سماجی پابندیوں پر سوال اٹھاتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر سوال بغاوت ہوتا ہے۔ شاید نہیں۔ کبھی کبھی سوال صرف یہ ہوتا ہے کہ مجھے سمجھایا جائے۔ مجبور نہ کیا جائے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے مکالمے کی روایت پیدا ہی نہیں کی۔ ہم بچوں کو بولنا سکھاتے ہیں مگر اختلاف کرنا نہیں۔ ہم انہیں کامیاب ہونا سکھاتے ہیں مگر سوچنا نہیں۔ ہم انہیں خوف دیتے ہیں مگر اعتماد نہیں دیتے۔ جین زی کو شاید نصیحت سے زیادہ گفتگو کی ضرورت ہے۔ کیونکہ
جب بھی آنکھوں میں خواب اترے ہیں
شہر جاں پر عذاب اترے ہیں
اگر ہم نے اس نسل کو صرف تنقید، طنز اور کنٹرول کے ذریعے چلانے کی کوشش کی تو ہم ان سے صرف فاصلہ پیدا کریں گے، لیکن اگر ہم نے ان کے سوالوں کو سنا۔ ان کے خوف کو سمجھااور اپنی روایات کو دلیل کے ساتھ پیش کیا۔ تو شاید یہ نسل تباہی نہیں بلکہ ایک نئے سماجی شعور کا آغاز بن سکتی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی مثال سامنے ہے اور پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر پرانی نسل پہلے کاکروچ ہی تھی۔ کاکروچ کئی ہفتوں تک پانی کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں، کیونکہ یہ اپنے جسم کی نمی کو ضائع ہونے سے روکنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ہر نسل اپنے وقت کی پیداوار ہوتی ہے۔ جین زی بھی ہے۔ انھیں ماضی کے آئینے میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ سوال یہ نہیں کہ وہ غلط ہیں یا ہم درست۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے تیار ہیں؟ کیونکہ جین زی وہ نسل ہے۔ جسے ہم نے سنا کم جانچا اور تولا زیادہ کیا ہے۔