عہدِ حاضر کا ایک المیہ یہ ہے کہ ہماری بستیاں مسجدوں کی معموریت سے آراستہ ہیں مگر انسانی دل روحانی ویرانی کا شکار ہو چکے ہیں۔ ظاہری پیکر پر وقار میناروں اور بلند گنبدوں کے سایے میں آباد ہیں جبکہ باطن خالص مادیت، غرور، بے حسی اور غفلت کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ ہم نے عبادت گاہوں کو تو سنگ و مرمر سے سجا لیا ہے لیکن محبتِ الٰہی، خوفِ آخرت، صبر، شکر اور بندگی کی اصل روح کو اپنے قلوب سے بے دخل کر رکھا ہے۔ ایسا ملحقہ اور بظاہر خوبصورت تضاد تاریخِ انسانیت کا سب سے بڑا فکری و ہندسی المیہ ہے جہاں انسان نے زمین پر ترقی و آبادی کے بڑے بڑے مینار تو قائم کر لیے مگر اپنے اندر کے شہرِ دل کو بالکل ویران، خالی اور اجڑ بنا ڈالا۔
اس مسجد اور دل کے فکری خلا کے سبب سماجی توازن کو براہِ راست نقصان پہنچا ہے جس کے نتیجے میں معاشرے میں سکون نام کی چیز ناپید ہو چکی ہے۔ مذہب محض ایک رسم، ایک ڈھال اور ایک روایتی فریضہ بن کر رہ گیا ہے جہاں جسم تو سجدے میں جھکتا ہے مگر روح کا حلقہ کردار، نیت اور اخلاق باطنی طور پر دین دار نہیں بلکہ خالص منافقت کا عکاس ہوتا ہے۔ سماجیت کا یہ عالم دردگراہ ہے کہ ہم پانچ وقت آذان کی پرکار صدا سنتے ہیں مگر ہمارے اندر کی آوازیں مادیت کی دھن پر اور خوفِ خدا سے غافل رہتی ہیں۔ مسجدوں کے فرش پر قالینوں کے سجادہ بچھتے ہیں مگر اسی صفِ اول میں کھڑے ہونے والے انسانوں کے دلوں میں اپنے مسلمان بھائی کے خلاف کینہ، حسد، بغض اور حق تلفی کے خنجر چھپے ہوتے ہیں۔
ہم ظاہری دین داری کے لبادے اوڑھ کر مسجدوں کی زینت تو بڑھا رہے ہیں مگر معاشرتی استحکام، انصاف، امانت اور دیانت کا کہیں نام و نشان تک باقی نہیں ہے۔ باہمی بھائی چارہ اور خلوص معدوم ہو چکا ہے جبکہ مسجدیں نمازیوں کے ہجوم سے چھلکتی ہیں، یہ اس بات کا زارعلمی واضح ثبوت ہے کہ ہمارا کردار اور دھڑکتا ہوا دل مکمل طور پر مردہ اور بے جان ہو چکا ہے۔ اس حیرت انگیز اور عجیب معاشرتی حالت پر اور قلمی کر و فر سے سوچا تو جاتا ہے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ دل کی ویرانیہ اصل تنزلِ الٰہی اور عذاب کا باعث و مقصد ہوتی ہے۔ مسجد کا آباد ہونا اس وقت تک کوئی بنیادی فائدہ نہیں دے سکتا جبکہ اسے گھیرنے والے انسانوں کے اندر اخلاقی و کرداری مفلسی اور انسانی قدرتوں کی پامالی کی دھڑکنیں تڑپتی ہوں۔
معاشرہ اس وقت یقیناً بحران کا شکار رہے گا جب تک ظاهری شکل عبادت و اطاعت کی کر رکھی جاتی ہے مگر باطنی خوبصورتی، توبہ، استغفار اور پاکیزگی کو کوسوں دور رکھا جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال صرف ایک معمولی فکری غلطی نہیں ہے بلکہ ایک گہرا ہفتلق قلبی بیماری ہے جو مسلمانوں کو استقلال اور اخلاقیت سے گرا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ظاہری عمارتوں کے ساتھ اپنے دلوں کی عمارت کو بھی خوفِ خدا، حق پرستی اور انسان دوستی کے نور سے سجائیں تاکہ ہمارا صرف مسجد معمور نہ ہو بلکہ ہمارا دل بھی ذکرِ الٰہی سے آباد اور زندہ ہو سکے جس سے اصل انقلاب برپا ہو سکے۔