1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. مفلوج ضلع

مفلوج ضلع

چمن ایک سرحدی ضلع ہے، مگر اس کی حیثیت محض ایک جغرافیائی مقام تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ شہر آج ریاستی غفلت، انتظامی نااہلی، معاشی استحصال اور سماجی زوال کی ایک زندہ مثال بن چکا ہے۔ یہاں زندگی رفتہ رفتہ اس قدر مشکل بنا دی گئی ہے کہ عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی، علاج، تعلیم اور عزت کے ساتھ جینے کا حق بھی ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ مہنگائی اس شہر میں کسی طوفان کی طرح نہیں بلکہ ایک خاموش زہر کی صورت پھیل چکی ہے جو ہر گھر، ہر دسترخوان اور ہر سانس کو متاثر کر رہی ہے۔

بے روزگاری نے نوجوان نسل کو یا تو مایوسی کی اندھی گلی میں دھکیل دیا ہے یا پھر منشیات، جرائم اور غیر قانونی راستوں پر چلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ میرٹ کی پامالی اس حد تک معمول بن چکی ہے کہ قابلیت اب جرم اور سفارش واحد معیار بن گئی ہے۔ چمن وہ ضلع ہے جہاں گیس کا تصور کبھی حقیقت بن ہی نہیں سکا اور بجلی کی لوڈشیڈنگ غیر اعلانیہ ہونے کے باوجود مکمل طور پر جبری ہے۔ گرمیوں میں بجلی کا نہ ہونا اذیت اور سردیوں میں گیس کا نہ ہونا سزا بن جاتا ہے۔ ریاستی ادارے بل تو پورے وصول کرتے ہیں مگر سہولت دینے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔

صحت کی سہولیات کا حال یہ ہے کہ معمولی بخار، انفیکشن یا حادثے کا مریض بھی کوئٹہ ریفر کر دیا جاتا ہے، گویا چمن میں ہسپتال نہیں بلکہ صرف ریفرل مراکز قائم ہیں۔ غریب آدمی کے لیے کوئٹہ جانا مالی، ذہنی اور جسمانی اذیت کے سوا کچھ نہیں، مگر اس ضلع کے باسیوں کے پاس کوئی اور راستہ بھی نہیں چھوڑا گیا۔ قبائلی رنجشوں اور دشمنیوں کی فضا کو دانستہ یا نادانستہ طور پر برقرار رکھا گیا ہے، کیونکہ تقسیم شدہ معاشرہ سوال نہیں کرتا اور الجھا ہوا عوام اپنے اصل مسائل بھول جاتا ہے۔

بارڈر بندش نے چمن کو معاشی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ لاکھوں لوگ جو سرحد سے وابستہ روزگار پر انحصار کرتے تھے، دو وقت کی روٹی سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس کے برعکس چند مخصوص افراد اور گروہوں کا کاروبار پیکج کی صورت میں جاری ہے، جن کے لیے قانون نرم، سرحد کھلی اور مواقع ہمیشہ دستیاب رہتے ہیں۔ یہ کھلی ناانصافی اس شہر کے اجتماعی ضمیر پر ایک گہرا زخم ہے۔ بازاروں میں ملاوٹ شدہ اشیاء، ناقص اور جعلی ادویات، دو نمبری قصائی اور غیر تربیت یافتہ ڈاکٹرز کھلے عام کام کر رہے ہیں، مگر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کے برابر ہے۔

انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں، بس منافع ہی سب سے بڑا اصول بن چکا ہے۔ منشیات فروشی اور منشیات نوشی عروج پر ہے اور یہ ناسور نوجوان نسل کو خاموشی سے کھا رہا ہے۔ تعلیمی ادارے کمزور، کھیل کے میدان ویران اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع ناپید ہیں، جس کا فائدہ منشیات فروش اور جرائم پیشہ عناصر اٹھا رہے ہیں۔ اس سب کے ساتھ ساتھ سستے شہرت کے بھوکے قلم بیچنے والوں کی ایک منڈی بھی گرم ہے، جہاں سچ کو دبایا جاتا ہے اور جھوٹ کو فروغ دیا جاتا ہے۔

شخصیت پرستی، قومیت اور تعصب کو اس طرح ہوا دی جاتی ہے کہ عوام اصل مسائل کے بجائے نعروں اور جذباتی نعشوں کے پیچھے چلتے رہیں۔ جو آواز سچ بولنے کی کوشش کرتی ہے اسے یا تو غدار، یا مفاد دشمن، یا کسی مخصوص شناخت کے خلاف قرار دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ تریاک کی کاشت اور پیسے بٹورنے کے لیے مختلف ناموں سے لیے جانے والے غیر رسمی ٹیکس اس شہر پر ایک اور ظلم ہیں، جہاں غریب آدمی پہلے ہی مہنگائی اور بے روزگاری سے ٹوٹ چکا ہے۔

چمن آج ایک ایسا ضلع بن چکا ہے جہاں ریاست نظر آتی ہے مگر ماں کی طرح نہیں، بلکہ ایک بے حس تماشائی کی طرح۔ یہاں کے عوام نہ سہولت مانگ رہے ہیں، نہ عیاشی، بلکہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں انسان سمجھا جائے۔ تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور بنیادی سہولیات کوئی احسان نہیں بلکہ حق ہیں، مگر چمن کے باسیوں سے یہ حق مسلسل چھینا جا رہا ہے۔ یہ شہر سرحد پر واقع ضرور ہے، مگر اصل میں یہ پورے نظام کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اگر چمن جیسے شہروں کی آواز نہ سنی گئی تو یہ خاموشی ایک دن چیخ بن جائے گی اور وہ چیخ تاریخ میں ایک اور اجتماعی ناکامی کے طور پر درج ہوگی۔