1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد نسیم رنزوریار
  4. عالمِ کفر کا خونی کھیل اور امتِ مسلمہ کا لہو

عالمِ کفر کا خونی کھیل اور امتِ مسلمہ کا لہو

کیا اب بھی بیدار ہونے کا وقت نہیں آیا؟ آج جب میں قلم اٹھاتا ہوں تو دل خون کے آنسو روتا ہے اور روح کانپ اٹھتی ہے۔ ایشیاء کی سرزمین، جو کبھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھی، آج مسلم دشمن قوتوں کی ہوس اور سازشوں کے باعث بارود کے ڈھیر میں بدل چکی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا وہ ناپاک مثلث، جس کا واحد مقصد اسلام کی بیخ کنی اور مسلمانوں کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے، آج پوری قوت کے ساتھ اسلامی ممالک کو تختہ مشق بنائے ہوئے ہے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ یہ تینوں قوتیں ایک ہی ایجنڈے پر کاربند ہیں۔ "مسلمانوں کو آپس میں لڑاؤ، ان کی معیشت تباہ کرو اور ان کے اتحاد کے پرخچے اڑا دو"۔

فلسطین کی گلیوں میں گرتا ہوا معصوم بچوں کا لہو ہو، افغانستان کی ویران ہوتی بستیاں ہوں، یا کشمیر میں بہتی خون کی ندیاں ہر جگہ ظالم کا ہاتھ ایک ہے اور مظلوم کی پکار ایک ہی کلمے سے جڑی ہے۔ آخر یہ عالمی درندے کیا چاہتے ہیں؟ ان کا ہدف صرف جغرافیہ نہیں بلکہ وہ ایمانی جذبہ ہے جو استعمار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں "گریٹر اسرائیل" کا خواب دیکھ رہا ہے، امریکہ اپنی گرتی ہوئی عالمی ساکھ بچانے کے لیے مسلم ممالک کی تیل اور گیس کی دولت پر غاصبانہ قبضہ چاہتا ہے اور بھارت خطے میں اکھنڈ بھارت کے جنون میں مبتلا ہو کر پاکستان اور کشمیریوں کی بقاء کے درپے ہے۔

یہ جنگیں اتفاقی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی عالمی سازش کا حصہ ہیں۔ اسلامی ممالک میں خانہ جنگی کیوں پیدا کی جاتی ہے؟ اس لیے کہ جب ہم آپس میں دست و گریبان ہوں گے تو ان کا اسلحہ بکے گا، ان کی تجوریاں بھریں گی اور ہماری نسلیں یتیم ہوں گی۔ یہ طاقتیں جمہوریت اور انسانی حقوق کا راگ الاپ کر اسلامی ریاستوں میں مداخلت کرتی ہیں، مگر ان کا اصلی چہرہ غزہ کے ملبے اور شام کی سسکتی انسانیت میں صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں کفر متحد ہو کر باطل کے جھنڈے تلے اکٹھا ہو چکا ہے، وہاں مسلم امہ کا پلیٹ فارم "او آئی سی" اور دیگر اسلامی تنظیمیں کیوں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں؟ کیا ہمارا ضمیر اس قدر مردہ ہو چکا ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کا تماشہ دیکھتے ہیں اور بزدلی کی چادر اوڑھ کر عالمی آقاؤں کے اشاروں پر ناچتے ہیں؟

یہ سیاسی مداخلتیں اور جنگیں دراصل اسلام کے قلعوں کو اندر سے کھوکھلا کرنے کی کوشش ہیں تاکہ کوئی خالد بن ولیدؓ یا صلاح الدین ایوبیؒ دوبارہ جنم نہ لے سکے۔ آج وقت آ گیا ہے کہ ہم اس دردناک حقیقت کو تسلیم کریں کہ کفر کبھی ہمارا دوست نہیں ہو سکتا۔ قرآنِ پاک کی صداقت پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ یہود و نصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے جب تک تم ان کی ملت کی پیروی نہ کرو۔ اے امتِ مسلمہ! بیدار ہو جاؤ، تمہاری خاموشی تمہیں تاریخ کے اندھیروں میں غرق کر دے گی۔ پاکستان سے لے کر مراکش تک، اگر آج ہم نے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا نہ کیا، اگر ہم نے اپنی داخلی پالیسیوں کو قرآن و سنت کے تابع نہ کیا اور اگر ہم نے ان عالمی شیطانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر "حق" نہ کہا، تو یاد رکھو کہ تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

یہ جنگ صرف سرحدوں کی نہیں، یہ بقاء کی جنگ ہے، یہ ایمان اور کفر کا وہ معرکہ ہے جہاں اب درمیانی راستہ کوئی نہیں۔ عالم کفر کے بربریت ہر اس کلمہ گو کو جھنجھوڑ رہا ہے جس کے دل میں رتی برابر بھی غیرتِ ایمانی باقی ہے۔ اٹھو! اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، کیونکہ ظالم کا ہاتھ روکنا صرف جہاد نہیں بلکہ بقائے ملت کا واحد راستہ ہے۔