Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / محمد نسیم رنحوریار / پسماندہ بلوچستان

پسماندہ بلوچستان

بلوچستان رقبے کی لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اسکا رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے۔ جو پاکستان کے کل رقبے کا تقریباً 44 فیصد  بنتا ہے۔ یہ صوبہ محل وقوع کے لحاظ سے پاکستان کا اہم ترین صوبہ ہے۔ اسکے شمال میں افغانستان خیبر پختون خواہ۔ جنوب میں بحرہ عرب مشرق میں سندھ اور پنجاب جبکہ مغرب میں ایران واقع ہے۔ اسکا 832 کلو میٹر رقبہ ایران کے سرحد کیساتھ ملا ہوا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بلوچستان میں پتھروں کے دور سے بھی آبادی تھی۔ بلوچستان کی قدیم تاریخ کا اندازہ آثار  قدیمہ کی دریافتوں سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ 7000 سال قبل مسیح کے زمانے کی آبادی اور ثقافت کے نشانات ملے ہیں۔

سکندر اعظم سے پہلے اس خطے پر مکمل طور پر ایران کے حکمران قابض تھے۔ اور انکی سلطنت کے دوران بلوچستان کو کواٹہ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ تقریباً 325 قبل مسیح میں جب سکندر اعظم عراق کے علاقے پر لشکرکشی کرنے جارہا تھا۔ تو اس وقت مکران کے ریگستان سے ہی گزرا تھا۔ مکران میں اس وقت ہندوستان کے قدیم باشندے آبادتھے۔ قدیم پاکستان کے وقت یہ مشرقی بنگال سندھ پنجاب خیبرپختون خواہ کی طرح انگریزوں کی سلطنت میں نہیں تھابلکہ 1947 میں قلات بلوچستان مکران لسبیلہ اور خاران ریاستوں پر مشتمل تھے۔ جس پرانگریزوں کے نمائندے حکمران تھیں۔ قلات کی ریاست اس وقت سب سے بڑی ریاست کا درجہ رکھتی تھی۔ اسکے حکمران خان قلات میر احمد یارخان تھے۔ انہوں نے پاکستان کے قیام سے دو روز قبل اپنے ریاست کو مکمل طور پر آزاد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ خصوصی تعلقات پر مزاکرات کی پیشکش کی تھی۔ دوسرے تمام بلوچ اقوام اداروں نے مکمل حمایت کی تھی۔ بلوچستان کی علیحدہ حیثیت برقرار رکھنے کی ضرورت کو فرض سمجھا۔ لیکن بلوچستان میں خان آف قلات نے ان اقدام کو بغاوت اور سیاسی چال سے تعبیر کیا۔ اور اسکے خلاف ضروری کاروائی کا آغاز کردیا۔

بالآخر 1948 میں خان قلات اپنی شکست کی وجہ سے بلوچستان کیساتھ شمولیت پر مجبور ہوگئے۔ لیکن خان قلات کے بھائی شہزاد عبدالکریم ودیگر رہنماؤں نے اس فیصلے کی مزمت کی۔ اور وہ سب اسکے خلاف پروپیگنڈہ کرنے لگے۔ لیکن مضبوط سیاسی اتحاد و بنیاد نہ ہونے کی وجہ سے انہیں ماننا پڑا۔ اور فرار ہوکر افغانستان چلے گئے۔ 1973 تک بلوچستان مکمل طورپر گورنر جنرل کے کنٹرول میں رہا۔ 1956کے آئین کے تحت بلوچستان کو مغربی پاکستان کی ایک یونٹ میں ضم کردیا گیا۔ 1970میں عام انتخاب ہوئے۔ اس میں پہلی بار اسکو ایک الگ صوبے کی حیثیت حاصل ہوئی۔ اس وقت نیشنل عوامی پارٹی فاتح رہی۔ 1972میں پہلی دفعہ بلوچستان میں باقاعدہ طور منتخب حکومت قائم کی گئی۔

اس صوبے کی کل 32 اضلاع ہیں۔ جس میں آواران۔ بارکھان۔ بولان۔ چاغی۔ ڈیرہ بگٹی۔ گوادر۔ ہرنائی۔ جعفرآباد۔ جھل مگسی۔ قلات۔ کھچ۔ خاران۔ خضدار۔ کھلو۔ لسبیلہ۔ لورلائی۔ مستونگ۔ نصیرآباد۔ موسیٰ خیل۔ پنجگور۔ نوشکی۔ قلعہ عبداللہ۔ کوئٹہ۔ سبی۔ ژوب۔ صحبت پور۔ پشین۔ قلعہ سیف اللہ۔ شیرانی۔ واشک۔ زیارت۔ اورلہری۔ ہے۔ بلوچستان زمانہ قدیم سے قدرتی وسائل اور ذخائر سے مالا مال خطہ ہے۔ جہاں تیل۔ گیس۔ اور دیگر معدنیات  شامل ہیں۔ کوئٹہ صوبہ بلوچستان کا صدرمقام اوربڑا تاریخی شہر ہے۔ یہ شہر پھلوں کی وجہ سے شہرت کا حامل ہے۔ دیگر صوبوں کی نسبت یہاں برف باری ہونے کی وجہ سے سخت سردی پڑتی ہے۔ اس وقت صوبے کی آبادی ایک محتاط اندازے کی مطابق 90 لاکھ اور ایک کروڑ کے درمیان ہے۔ کوئٹہ شہر کی وجہ تسمیہ بڑی دلچسپ ہے۔ اسکے بارے میں کہتے ہیں کہ اسکا اصل نام کواٹہ تھا۔ کواٹہ کا لفظی مطلب قلعہ ہے۔ اگر آپ اس شہر کو غور سے دیکھیں۔ تو چاروں طرف پہاڑ ہونے کی وجہ سے یہ آپکو قلعہ نما نظرآتاہے۔ یہاں کے مشہور پھلوں میں انگور انار سیب خوبانی اور چیری ہیں۔

پاکستان کا قومی جانور مارخور بکرا بھی یہاں پایا جاتا ہے۔ اس تاریخی پس منظر کے باوجود پاکستان کے اس تاریخی صوبے کے اکثر لوگ پہاڑ یا دیہاتوں میں رہتے ہیں اور آج تک کئی ایسے اضلاع بھی ہیں جسکے علاقائی لوگ تعلیم۔ صحت کے مراکز۔ اور صاف شفاف پانی کی سہولیات سے محروم ہیں۔ اسکے علاوہ اس جدید دور میں پرنٹ میڈیا۔ الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا  سے محروم ہے۔ اپنی زندگی کی بیشتر ضروریات جانوروں کی خریدوفروخت اور کھیتی باڑی  اور زراعت سے پورا کرتے ہیں۔ پکی سڑکوں کی بجائے پرانے اور پتھری راستوں سے پہاڑ کے دامن سے گزرتے ہیں۔  بلوچ اور پشتون اقوام کی تعداد دیگر اقوام سے بہت زیادہ ہے۔ ان اقوام کے علاوہ براہوی۔ ہزارہ اور کم آبادی والے پنجابی اور سندھی بھی بستے ہیں۔ اس صوبے کی زیادہ تر آبادی قبائل پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شہر سے باہر رہتے ہیں۔ اسی وجہ ہے کہ شہری آبادی اتنی زیادہ نہیں ہے۔ ہمارے اس صوبے میں کئی ایسے علاقے بھی ہیں جسکو عوامی افراد کا جانا حکومت کی طرف سے بالکل ممنوع ہے۔ اسی رکاوٹ سے اکثر لوگوں کی زمین جائیدادیں اور باغات وہاں کے علاقے میں انکے کنٹرول سے باہر ہے۔ وہ غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے دوچارہیں۔

مثال کے طورپر بارتہ گزی چو چاغی میں ہے ایک علاقہ ہے۔ جسکے تعلیمی مراکز کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں معیاری تعلیم دینا تو دور کی بات ہے۔ اس علاقے کے بچے مستقبل کے اندھیروں میں ڈوب رہے ہیں۔ اس طرح بے روزگاری کی وجہ سے عوام مختلف قسم کی مزدوری میں لگے ہیں جس سے وہ اپنے گھروں کی چولہے جلاتے ہیں۔ ان علاقوں میں ایرانی پٹرول کی سمگلنگ کاکام عروج پر ہے جس سے کئی نوجوان  پٹرول کی آگ میں جل چکے ہیں۔ اسکے علاوہ یک مچ نامی علاقہ ہے جو اج بھی آلودہ پانی پیتے ہیں۔ جو جانور بھی نہیں پیتے۔ بعض اوقات ایران میں صورت حال خراب ہونے کی وجہ سے علاقائی لوگوں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔  اسی طرح ریکوڈک اور سینڈک کے علاقے جو لوگوں کیلئے نو گو ایریاز ہیں۔ 

تعلیم کے سرکاری دفتروں میں خوردبرد اور کرپشن کی وجہ سے میرٹ پامال ہے۔ قابل اور محنتی طلباء کو کبھی افسر شاہی کی وجہ سے کبھی علاقے کے وزیر کی اقرباپروری سے اپنے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ دوسری طرف سینکڑوں تعلیمی اداروں کے باوجود تعلیمی آفسرز کی غفلت سے اکثر سکول کھنڈرات میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ بعض سکولز عوام اپنے پرائیوٹ مہمان خانوں کی طرح استعمال کرتے ہیں۔ اس ناسور کی برعکس دوسری طرف پرائیوٹ اداروں کی من مانیاں بڑی بڑی فیسیز ناتجربہ کار اساتذہ کی وجہ سے تعلیمی نظام روز بروز پسماندگی اور سیاست کا شکار ہے۔ جب کسی صوبے میں تعلیمی نظام بہتر نہ ہوسکے تو ناممکن ہے کہ اس علاقے کی انتظامیہ رشوت سے پرہیز کریں اور وزراء کرپشن کو گناہ سمجھے۔  مہنگائی کی شرح یہاں تک پہنچ گئی کہ باپ کی ہاتھوں سے بچے  ذبح ہوچکے ہیں۔ آخر حکومت کیوں اس صوبے کی حالات بدلنے میں ناکام رہی ہے۔

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ہمارے یہاں کے سیاسی لیڈرز یا اسمبلی کی نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والے وزراء میرٹ  کی بدولت کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ بزور دولت یا طاقت عوام کے سر پر مسلط ہیں۔ آج کی موجودہ صوبائی اسمبلی میں کئی ایسے وزراء بھی ہیں جسکو اردو بولنا نہیں آتی، آئین اور دستور سے باخبر ہونے کی دعوے تو دور کی بات ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ موجودہ اسمبلی میں موجود وزراء کے علاقوں میں بدامنی پسماندگی غربت منشیات  کے باوجود وہ اسمبلی میں تقریر کے علاوہ کوئی کردار ادا نہیں کرر ہے۔