Thursday, 17 October 2019
/ کالمز / محمد نسیم رنحوریار / رجب طیب اردگان

رجب طیب اردگان

اللہ تعالیٰ ہروقت برسرزمین ایک ایسی ہستی اور شخصیت کو ابھراتے ہیں جو امت مسلمہ اور دین ومذہب کے دفاع کا جنگ لڑرہاہے۔ ہماری دینی کتابوں کا بھی یہی خلاصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ غیرت مند اور شجاع لوگوں کوپسند کرتے ہیں۔ ہمیشہ مشکلات میں اسکا ساتھ بھی دیتاہے۔ ہمارے موجودہ دور کے اس گمبھیر حالت کا نڈر بے باک اور بہادر عظیم شخصیت و لیڈر جو واحد تن تنہا دنیا کے صلیبی طاغوت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالا کے مقابلہ کررہاہے۔ وہ ہے رجب طیب اردگان ترکی کا صدر ہے۔

خوش بخت ہے وہ قوم جسکے لیڈر دنیاکوواضح طورپر امریکی اور دیگر مغربی دنیاکے ظلم و جبر سے پردہ اٹھاتے ہوئے انکو خبردار کرتے ہیں کہ مزید مسلمانوں کی خون سے کھیلنے کاسلسلہ بند کیا جائے۔ یہی ایک مردمومن ہے جوپوری دنیا میں مظلوم امت کی ترجمانی کررہاہے۔ جسکے حقائق اور دباؤ سے جنرل اسمبلی میں مظلوم مسلمانوں کی خوب ترجمانی ہوئی۔  اسی  اصلیت اور حقانیت کی بدولت وہ آج عالم اسلام کے دلوں پر راج کررہا ہے۔

یہ وہ شخصیت ہے جس نے ترکی کو ایک تباہ شدہ معاشی حالت سے نکال کر ایک مضبوط معیشت بنایا۔ ترکی جسے کبھی یورپ کا بیمار آدمی کہاجاتا تھا اب معاشی طورپر کئی یورپی ممالک سے زیادہ مضبوط ہے۔ جبکہ یورپی ممالک دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔ یہ لیڈر رجب طیب اردگان ترکی کے ایک معمولی کوسٹ گارڈ کے گھر میں 26 فروری 1954 کوپیدا ہوئے۔ انکے والد کانام احمد اردگان۔ والدہ کانام ٹینزائل ہے۔ دو بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ جب طیب اردگان تیرہ سال کے تھے انکی فیملی استنبول میں جابسی انکی فیملی کے مالی حالات اس قدر پسماندہ تھے کہ رجب طیب اردگان کے بچپن میں سکول کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے ٹافیاں ڈبل روٹی اور شربت فروخت کرنا پڑا۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ قاسم پاشا سے حاصل کی۔ جہاں اسلامی اور مغربی تعلیم دونوں دی جاتی تھی۔ 1965 میں قرآن پاک حفظ کرکے فارغ ہوئے۔ اسکے بعد امام خطیب ہائی سکول سے تعلیم حاصل کی 1973 میں میٹرک اور دیگر اضافی مضامین پاس کرکے ایوب ہائی سکول سے ڈپلومہ کی سند حاصل کی۔ اسی طرح مرمرہ یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنیسٹریشن ڈگری حاصل کی۔ وہ شروع ہی سے سیاسی دنیا میں دلچسپی رکھتے تھے 1976میں استنبول میں یوتھ پارٹی کے ہیڈ مقرر ہوئے مارچ 1994میں استنبول کے مئیر منتخب ہوئے۔ اس وقت استنبول پانی کی قلت۔ آلودگی اور ٹریفک جیسے مسائل کا شکار تھا۔ ان مسائل کوختم کرکے انہونے استنبول کو جدید شہر کی شکل دی کرپشن کو جڑسے ختم کردیا۔ اور استنبول کے دو بلین ڈالرز کے قرضے کا بڑا حصہ واپس کردیا۔

1998 میں ایک جلسے میں اسلامی نظم پڑھنے کے جرم میں چار مہینے کی سزا سنائی گئی اور مئیر شپ سے بھی ہٹادیاگیا۔ 2001 میں انہوں نے جسٹس اینڈڈویلپمینٹ کے نام سے ایک پارٹی بنائی۔ 2002 کے الیکشن میں انکی پارٹی نے دوتہائی ووٹ لے کر فتح حاصل کی۔ تب سے ابتک یہ پارٹی ترکی کی حکومت کوکامیابی سے سنبھالے ہوئے ہے۔ رجب طیب اردگان کے سفر میں بہت سی مشکلات آئی مگر طیب اردگان ہمت نہ ہاری۔ فوج اور بیورکریسی کی مخالفت کے باوجود فتح حاصل کی اور ترکی کی قسمت کو تبدیل کرکے رکھ دی۔ تیسری دنیا کا ملک کہلانے والا ملک آج دنیا کی16وی بڑی اقتصادی طاقت ہے۔ کرپشن قتل و غارت سے پاک لوگ ہمیشہ ہی لیڈر بن جاتے ہیں اور عالمی سطح پر شہرت یافتہ اور پختہ یقین کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اسرائیل اس مجاہد کے خوف و ھراس میں مبتلا ہے اور کوشش کرتے ہی کہ ترکی کی حالت کو کس طریقے سے خراب کریں۔

رجب طیب اردگان کی کامیابی کے بڑی وجوہات اپنے ہی ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد سٹیپ بائی سٹیپ سرکاری اور سیاسی عہدوں پہ فائز ہونا۔ اپنے ملکی قوانین سے خوب واقفیت۔ کرپشن سے پاک معاشرے کے انعقاد۔ عوامی مساوات برقرار رکھنا۔ میرٹ کی بحالی غریبوں کی مدد اور حوصلہ افزائی کرنا اور ساتھ ساتھ مسلم ممالک کی ترجمانی کرنے سے کل کے ایک غریب مدرسے کی طالب علم آج کے اسلامی ہیرو سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ سب کمالات اصول زندگی کے مطابق بسرکرنے کی نتیجہ ہے۔ اس عظیم شخصیت کی لیڈری عالم اسلام کے تمام حکمرانوں کیلئے ایک روشن مثال ہے۔