کفر کی صریح بساط پر جان ہارنا، نفاق کے اس منافقانہ اور غدارانہ طرزِ زندگی سے ہزار گنا افضل ہے جو اندر سے ایمان کی جڑیں کھوکھلی کرتا ہے۔ منافقت کی غلیظ کوکھ سے جنم لینے والے کردار سب سے پہلے اپنے ہی دین، پاکیزہ وطن اور غیور ملت کی پیٹھ میں خنجر گھونپتے ہیں اور ان کے ضمیر کا جنازہ اس دھوم سے اٹھتا ہے کہ عزت، حیا، غیرت اور ننگ و ناموس کی کوئی ادنیٰ رمق یا نشانی ان کی رگوں کے خون میں باقی نہیں بچتی۔
یہ پست فطرت لوگ اغیار کی ذلیل خوشنودی، چند ٹکڑوں اور عارضی مفادات کی خاطر اپنے ہی وطن کی ماؤں، بہنوں اور معصوم بیٹیوں کی چادریں اور آنچل سرِ بازار نیلام کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور پھر اپنے اس بھیانک و قبیح جرم کو چھپانے کے لیے دین کی مقدس کتابوں اور الہامی دساتیر کے صفحات سے منافقانہ تاویلات، جھوٹے فتوے اور تقدس کے لبادے تلاش کرکے لاتے ہیں۔ یہ منافقین دراصل دین کی مقدس و معتبر کتابوں، وطنِ عزیز کی شیریں مٹی، مٹی کی خوشبو اور اپنے ہی غریب عوام کی معصوم، ننھی منھی امیدوں کے بے رحم سوداگر ہیں جو ہر پاکیزہ شے کو کوڑیوں کے دام بیچ ڈالتے ہیں۔ ان کی رگوں میں دوڑتا ہوا خون نہیں بلکہ بے حسی کا گندلا پانی ہے جو ہر رشتے اور ناطے کو غرق کر دیتا ہے۔ اسی لیے ربِ کائنات اور رسولِ اکرم ﷺ نے کافر کے مقابلے میں منافق کا انجام بدترین، ہولناک اور اسفل السافلین بتایا ہے کیونکہ کھلا دشمن تو سامنے سے وار کرتا ہے مگر آستین کا یہ سانپ پوری بستی کو اندر سے نگل جاتا ہے۔
اس بدبودار، ذلیل اور کھوکھلی منافقانہ زندگی کو طویل کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ انسان کفر کی حالت میں ہی موت کی آغوش میں سو جائے کیونکہ منافقت کی بقا ملت کی فنا ہے اور اس ناسور کا خاتمہ ہی دھرتی کی حقیقی پاکیزگی کی ضمانت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی تہذیب ملیا میٹ ہوئی، اس کے پیچھے کسی بیرونی لشکری کا ہاتھ نہیں بلکہ انہی اندرونی دیمک زدہ منافقوں کی سازشیں کارفرما تھیں جو دن کو مصلے پر روتے ہیں اور رات کو اعداء کے کیمپوں میں وطن کے نقشے بیچتے ہیں۔ یہ وہ جونکیں ہیں جو معاشرے کا خون چوستی ہیں اور پھر خود کو مسیحا بنا کر پیش کرتی ہیں۔ ان کی فکری پستی کا یہ عالم ہے کہ یہ ضمیر کی ہڈیوں پر جاہ و جلال کے ایوان کھڑے کرتے ہیں اور غریب کی بھوک کا مذاق اڑاتے ہوئے اپنے اقتدار کی شمعیں روشن رکھتے ہیں۔
الہیٰ قوانین کے مطابق منافق کا ٹھکانہ جہنم کا وہ سب سے نچلا گڑھا ہے جہاں تپش اور عذاب کی شدت کا تصور بھی کانپ اٹھنے کے لیے کافی ہے کیونکہ انہوں نے سچائی کا روپ دھار کر حق کی پیٹھ پر چھرا گھونپا ہوتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی قانون، کوئی بھی اخلاقی ضابطہ اور کوئی بھی مہذب معاشرہ ایسے غداروں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا جو اپنی دھرتی ماں کی حرمت کا سودا چمکتے ہوئے سکوں کے عوض کر ڈالتے ہیں۔ ان کا وجود دھرتی پر ایک ایسا بوجھ ہے جسے اٹھانے سے زمین بھی لرزتی ہے اور آسمان بھی ان کی شقاوت پر خون کے آنسو روتا ہے اس لیے نفاق کے سائے میں جینے سے موت کا انتخاب کہیں زیادہ معتبر اور لائقِ تحسین ہے۔ اس زہر کا تریاق صرف اور صرف خالص ترین سچائی، بے باک غیرت اور قومی حمیت کی اس بیداری میں پوشیدہ ہے جو منافقت کے ان سیاہ چہروں سے تقدس کا جھوٹا نقاب نوچ پھینکے اور انہیں رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بنا دے تاکہ آنے والی نسلیں وطن کی مٹی اور دین کی حرمت پر سودے بازی کرنے کے ہولناک انجام سے ہمیشہ باخبر رہیں۔