قاضی ملا عبدالسلام باباؒ عشیزئی اچکزئی ایک استعمار شکن مجاہد، پشتو ادب کا روشن ستارہ اور تحریکِ آزادی کے ان گمنام ہیروز میں شامل ہیں جن کی علمی و سیاسی جدوجہد کی داستان سوسنِ چمن سے لے کر طلب المذہب اور ذردانہ دُر تک پختون شعور کی بیداری کی ایک عظیم اور ناقابلِ فراموش تاریخ ہے۔
قاضی باباؒ کا عظیم کردار ایسا درخشاں باب ہے جس کی ضوفشانی نہ صرف اپنے عہد بلکہ آنے والی صدیوں تک پختون قوم کے فکری افق کو منور کرتی رہے گی۔ جب بھی تاریخ کے اوراق میں آزادی، غیرت، علم، استقامت، تقویٰ، شجاعت اور دینی حمیت کے نقوش تلاش کیے جائیں گے تو برصغیر کے اس عظیم فرزند کا نام نہایت آب و تاب کے ساتھ نمایاں نظر آئے گا۔ آپ کی ولادتِ باسعادت سن 1881ء مطابق 1300ھ میں بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے تاریخی اور جغرافیائی طور پر اہم کوہسار کوژک کے دامن میں واقع شیلاباغ کے قریب ایک سادہ مگر باوقار بستی شانہ میں ہوئی۔
یہ وہ خطہ تھا جہاں پہاڑوں کی سختی، موسموں کی شدت اور فطرت کی بے رحم آزمائشیں انسان کو صبر، حوصلہ اور استقلال کا درس دیتی ہیں اور یہی اوصاف حضرت قاضی باباؒ کی شخصیت کا بنیادی جوہر بنے۔ آپ کا تعلق پختونوں کے غیرت مند اور تاریخ ساز اچکزئی قبیلے کی شاخ عشیزئی سے تھا، ایک ایسا قبیلہ جس نے ہمیشہ ظلم، جبر اور استبداد کے سامنے سر جھکانے کے بجائے سینہ سپر ہونا اپنا شعار بنایا اور جس کی رگوں میں آزادی کی تڑپ خون بن کر دوڑتی رہی۔
قاضی باباؒ کا خاندانی ماحول دینی وقار، علمی روایت اور قومی حمیت کا حسین امتزاج تھا جس نے بچپن ہی سے آپ کی فکر و نظر کو ایک واضح سمت عطا کر دی۔ ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے والدِ محترم کے زیرِ سایہ حاصل کی جہاں قرآنِ مجید، ابتدائی فقہ اور اخلاقی تربیت نے آپ کی شخصیت کی بنیاد رکھی۔ کم عمری ہی میں آپ کی ذہانت، حافظہ اور علم کی پیاس نمایاں ہو چکی تھی، اسی لیے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے آپ نے پشین اور بعد ازاں قندھار کا رخ کیا جو اس دور میں علومِ دینیہ، تفسیر، حدیث، فقہ اور منطق کے بڑے مراکز سمجھے جاتے تھے۔
ان علمی مراکز میں قیام کے دوران آپ نے وقت کے جید علما اور مشائخ کی صحبت اختیار کی، علمی مباحث میں حصہ لیا اور نہ صرف روایتی دینی علوم میں مہارت حاصل کی بلکہ فکر کی گہرائی اور نظر کی وسعت بھی پیدا کی۔ قاضی باباؒ کا علمی امتیاز یہ تھا کہ وہ محض نصوص کے حافظ نہیں تھے بلکہ ان کے روحانی اور سماجی مفہوم کو بھی بخوبی سمجھتے تھے اور یہی وصف آگے چل کر انہیں ایک انقلابی مفکر اور رہنما بناتا ہے۔
ظاہری طور پر آپ سادگی اور وقار کی مجسم تصویر تھے۔ بلند قامت، روشن اور نورانی چہرہ، سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق گھنی سفید داڑھی، کشادہ پیشانی اور متانت سے بھرپور آنکھیں آپ کی شخصیت میں ایک خاص روحانی جلال پیدا کرتی تھیں۔ سفید لباس اور سادہ دستار آپ کی پہچان تھی اور قناعت و درویشی کا یہ عالم تھا کہ باوجود علمی اور سماجی مقام کے آپ نے کبھی ظاہری شان و شوکت کو اختیار نہ کیا۔ سفر کے دوران اکثر پیادہ چلنا پسند کرتے تاکہ عاجزی، انکسار اور زمین سے رشتہ برقرار رہے، اسی لیے عام آدمی آپ کو اپنا محسن اور رہنما سمجھتا تھا۔
قاضی باباؒ کی زندگی کا اصل مقصد پختون قوم کو فکری، سیاسی اور روحانی غلامی سے نجات دلانا تھا۔ آپ ایک گوشہ نشین صوفی یا محدود دائرے کے عالم نہیں تھے بلکہ ایک ایسے بیدار مغز رہنما تھے جنہوں نے علم کو عمل سے اور فکر کو جدوجہد سے جوڑ دیا۔ برطانوی سامراج کے تسلط کے دور میں جب خوف، مصلحت اور خاموشی کو دانائی سمجھا جاتا تھا، قاضی باباؒ نے حق گوئی اور مزاحمت کو اپنا شعار بنایا۔
آپ کی تصانیف، دروس اور پشتو شاعری نے پختونوں میں آزادی کا شعور بیدار کیا جس کے نتیجے میں استعماری حکمرانوں کی نیندیں حرام ہوگئیں۔ انگریز حکومت نے بارہا آپ کے گھر پر چھاپے مارے، آپ کی قیمتی کتب اور نایاب علمی مسودات ضبط کرکے جلا دیے اور آپ کو قید و بند کی صعوبتوں سے گزارا گیا، مگر نہ تشدد، نہ قید اور نہ ہی محرومیاں آپ کے عزم کو متزلزل کر سکیں۔ زندان کی تاریک کوٹھڑیاں بھی آپ کے حوصلے کی روشنی کو مدھم نہ کر سکیں بلکہ ہر آزمائش کے بعد آپ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرے۔ اسی جدوجہد کے دوران آپ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی، فخرِ افغان باچا خان اور خان حاجی زقوم خان اچکزئی جیسے عظیم رہنماؤں کے رفیقِ کار بنے۔
آپ کی فکری بصیرت، دینی استدلال اور قومی غیرت نے ان تحریکوں کو اخلاقی اور روحانی بنیاد فراہم کی جنہوں نے پختون قوم کو اجتماعی شعور عطا کیا۔ ادبی میدان میں قاضی باباؒ کا مقام نہایت بلند اور منفرد ہے۔ آپ کی شاعری محض جذباتی اظہار نہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام ہے۔ آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف سوسنِ چمن پختون معاشرت، اخلاقی اقدار، غیرت، حمیت، خودداری اور آزادی کی تڑپ کا آئینہ دار ہے، جبکہ طلب المذہب میں آپ نے دینی اور فقہی مسائل کو پشتو زبان اور شعری اسلوب میں اس انداز سے پیش کیا کہ ایک عام آدمی بھی دین کی روح کو سمجھ سکے۔ یہ آپ کی عظمت کا ثبوت ہے کہ آپ نے علم کو خواص تک محدود رکھنے کے بجائے عوام تک منتقل کیا۔
قاضی باباؒ کی فکر کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ جب تک پختون اپنی روایات، اسلامی تعلیمات اور پختون ولی کے سنہری اصولوں کو حقیقی معنوں میں نہیں اپنائیں گے، وہ کبھی خودمختار نہیں ہو سکتے۔ آپ نے مغربی تہذیب کی اندھی تقلید سے خبردار کیا اور قوم کو اپنی شناخت پر فخر کرنا سکھایا۔ باچا خان بابا کو آپ کا کلام اس قدر عزیز تھا کہ انہوں نے خود اس کی اشاعت اور ترویج میں گہری دلچسپی لی۔ زندگی کے آخری ایام تک قاضی باباؒ تصنیف اور فکری رہنمائی میں مصروف رہے اور بالآخر 94 برس کی بھرپور، بامقصد اور جدوجہد سے لبریز زندگی گزارنے کے بعد سن 1394ھ مطابق 1974ء میں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
آپ کی وفات پختون قوم کے لیے ایک عظیم سانحہ تھی، مگر آپ کے افکار، تعلیمات اور انقلابی کلام نے آپ کو ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ آج بھی قاضی ملا عبدالسلام باباؒ عشیزئی اچکزئی کا نام حریت، علم اور استقامت کی علامت ہے اور ان کی زندگی کا ہر ورق ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قومیں صرف علم، اتحاد، کردار اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے ہی اپنی کھوئی ہوئی عظمت دوبارہ حاصل کر سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کے فیضان کو عام فرمائے اور پختون قوم کو ان کے افکار پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔