1. ہوم
  2. کالمز
  3. فرحت عباس شاہ
  4. اقبال اور ایران

اقبال اور ایران

اقبال کی شاعری میں ایران کا تصور ایک وسیع اور گہرا موضوع ہے جس پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بات ذہن نشین رہتی ہے کہ علامہ اقبال محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک مفکر، فلسفی اور مصلح تھے جن کی شاعری نے مسلم امہ کو اس کا فکر و فلسفہ اور برصغیر کے مسلمانوں کو نئی نظریاتی زندگی عطا کی۔ ان کی شاعری میں ایران کو جو مقام حاصل ہے وہ محض ایک ہمسایہ ملک کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک تہذیبی، ثقافتی اور روحانی مرکز کی حیثیت سے ہے۔ اقبال نے ایران کو اسلامی تہذیب کا اہم ستون قرار دیا اور اس کی عظمت کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کے نزدیک ایران اور اسلام کا رشتہ ایسا ہے جیسے روح اور جسم کا ہوتا ہے، دونوں ایک دوسرے کے تکمیلی ہیں اور انہیں الگ نہیں کیا جا سکتا۔

اقبال کی شاعری کا ایک بڑا حصہ فارسی زبان میں ہے جس کی وجہ ان کی فارسی ادب اور تمدن سے والہانہ محبت تھی۔ وہ فارسی کو اسلامی تہذیب کی بنیادی زبان سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ اس زبان کے ذریعے وہ پوری اسلامی دنیا تک اپنا پیغام پہنچا سکتے ہیں۔ ان کی مشہور فارسی تصانیف میں اسرار خودی، رموز بیخودی، پیام مشرق، زبور عجم اور جاوید نامہ شامل ہیں جن میں ایران اور ایرانی تہذیب کا تذکرہ بار بار آیا ہے۔ اقبال نے ان کتابوں میں نہ صرف ایران کی تحسین کی ہے بلکہ ایرانی قوم کو ان کی تہذیبی شناخت کے تحفظ اور مغربی استعمار کے خلاف آواز اٹھانے کی ترغیب بھی دی ہے۔

اقبال کے نزدیک ایران صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک روحانی حقیقت ہے۔ انہوں نے ایران کو حرم کا درجہ دیا اور اس کی عظمت کو اس طرح بیان کیا کہ ایران ان کے دل میں بسا ہوا تھا۔ انہوں نے ایران کو حرم سے تشبیہ دی ہے جو اس ملک کے تقدس اور عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے ایسے اشعار اس بات کی علامت ہیں کہ اقبال کے دل میں ایران کے لیے کس قدر محبت اور عقیدت تھی اور وہ ایران کو کس بلند مقام پر فائز سمجھتے تھے۔

اقبال کے فلسفہ خودی میں ایران کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ ایران نے اسلامی تعلیمات کو سمجھ کر انہیں اپنے اندر جذب کیا اور اس طرح ایک معتبر تہذیب کو جنم دیا۔ وہ ایرانی قوم کو خودی کی اعلیٰ مثال سمجھتے تھے کیونکہ ایران نے کبھی بھی اپنی تہذیبی شناخت نہیں کھوئی اور ہمیشہ دوسری قوموں پر اپنا اثر قائم رکھا۔ وہ ایرانی قوم کی خودداری اور عزت نفس کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور انہیں دوسری قوموں کے لیے نمونہ قرار دیتے ہیں۔ اقبال کا فلسفہ خودی دراصل ایرانی تصوف سے ماخوذ ہے اور انہوں نے اسے اپنے انداز میں پرویا ہے۔

سیاسی بیداری کے حوالے سے بھی اقبال نے ایران کو اہمیت دی۔ انہوں نے ایرانی قوم کو مغربی استعمار کے خلاف آواز اٹھانے اور اپنی تہذیبی شناخت بچانے کی ترغیب دی۔ ان کا خیال تھا کہ مغربی طاقتیں ایران کی تہذیب اور ثقافت کو ختم کرنا چاہتی ہیں لیکن ایرانی قوم کو چاہیے کہ وہ اپنی اسلامی اور ایرانی شناخت کو برقرار رکھے۔ اقبال ایرانیوں کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ زندگی کا دارومدار صرف ایران کی فکر میں ہے اور اگر تم ایران کے بارے میں نہیں سوچو گے تو یہ ویرانہ کس کے لیے آباد ہے۔ اسے اشعار دراصل ایرانی قوم کو بیدار کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ وہ اپنی تہذیبی ورثے کو محفوظ رکھیں۔

علمی ورثے کے حوالے سے اقبال ایران کو علم و دانش کا گہوارہ مانتے تھے۔ انہوں نے ایرانی سائنسدانوں، فلسفیوں اور شاعروں کی خدمات کو سراہا اور انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ ان کے نزدیک ایران نے دنیا کو علم و عرفان کی روشنی عطا کی اور انسانیت کی رہنمائی کی۔

علام ایران کو علم و ادب کا مدرسہ قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس کی نسل سے ہر صاحب نسب آیا یعنی ایران نے دنیا کو بڑے بڑے عالم، فلسفی اور شاعر دیے۔ انہوں نے خاص طور پر ابن سینا، فارابی، خیام، رازی اور دیگر ایرانی سائنسدانوں اور فلسفیوں کا تذکرہ کیا اور ان کی خدمات کو سراہا۔

اقبال کی شاعری میں ایران کا تصور ان کی محبت اور عقیدت کا آئینہ دار ہے۔ انہوں نے ایران کو کبھی فراموش نہیں کیا اور ہمیشہ اس کی عظمت کو بیان کیا۔ اقبال کی ایران سےمتعلق ہر شعر یہ ظاہر کرتا ہے کہ ایران اقبال کے لیے محض ایک ملک نہیں بلکہ ان کی روح کا حصہ تھا۔

اقبال کی شاعری میں ایران کا موضوع اتنا وسیع ہے کہ اس پر کئی جلدیں لکھی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے ایران کو مختلف زاویوں سے دیکھا اور اس کی مختلف جہتوں کو اجاگر کیا۔ ان کا ایران محبتوں کا ایران تھا، تصوف کا ایران تھا، خودی کا ایران تھا اور علم و دانش کا ایران تھا۔ انہوں نے ایران کو کبھی بھی ایک عام ملک کی حیثیت سے نہیں دیکھا بلکہ ہمیشہ اسے ایک اعلیٰ مقام پر فائز کیا۔ ان کی یہ نگاہ ایران کے لوگوں کے دلوں میں ان کے لیے محبت اور عقیدت کا باعث بنی اور آج بھی ایران میں اقبال کو ایک عظیم شاعر اور مفکر کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ علامہ اقبال ایران سے گہری محبت رکھتے تھے اور اسے مشرق کا دل اور اسلامی تہذیب کا گہوارہ سمجھتے تھے، وہ فارسی تہذیب سے اتنے جڑے ہوے تھے کہ فارسی میں انہوں نے اپنا بیشتر کلام تخلیق کیا۔ اقبال نے ایران کے روحانی عروج، خودی اور سیاسی بیداری کے حوالے سے اشعار کہے، جن میں تہران کو مشرق کا مرکز بنانے کی خواہش نمایاں ہے۔

ایران کے حوالے سے مشہور اشعار۔۔

تہران کو مشرق کا مرکز بنانے کی خواہش۔۔

تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا
شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے

ایران کی روحانی و ثقافتی اہمیت (فارسی)۔۔

چون چراغِ لالہ سوزم در خیابانِ شما
ای جوانانِ عجم! جانِ من و جانِ شما

(ترجمہ: میں تمہاری راہوں میں لالہ کے چراغ کی طرح جل رہا ہوں، اے عجم/ایران کے نوجوانو! میری جان اور تمہاری جان ایک ہے)۔

ایران کی عظمت کا اعتراف۔۔

خیمہ زن شد در دلم، ایرانِ قدیم
یادِ من آمد، زِ اصفہانِ قدیم

(ترجمہ: میرے دل میں قدیم ایران نے ڈیرے ڈال لیے ہیں اور مجھے پرانے اصفہان کی یاد آ گئی ہے)۔

اقبال کی فارسی شاعری، میں خاص طور پر ایران کے لیے ان کی محبت اور مشرق کے لیے ان کی امیدیں چھپی ہوئی ہیں۔

آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اقبال کی شاعری میں ایران کا تصور ایک روشن اور تابندہ تصور ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کی شاعری نے ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو مضبوط کیا اور دونوں ملکوں کے عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شاعری آج بھی دونوں ملکوں میں یکساں مقبول ہے اور ان کے اشعار زبان زد عام ہیں۔ اقبال کا ایران سے محبت کا یہ سفر ہمیشہ جاری رہے گا اور ان کی شاعری آنے والی نسلوں کو ایران کی عظمت سے روشناس کراتی رہے گی۔