1. ہوم
  2. افسانہ
  3. حمیرا ثاقب
  4. لَت

لَت

عابیہ نے روٹی بیلتے بیلتے برآمدے میں جھانکا تھا۔۔ رمیز احمد آ چکے تھے اور اماں کے تخت کے قریب صوفے میں دھنسے ہوئے بیٹھےتھے۔۔ امّاں نے جوش سے بولتے بولتے رمیز احمد کی طرف دیکھا تو ان کی زبان کو بریک لگ گئی تھی۔۔ رمیز احمد اپنے موبائل پر جھکے ہوئے تھے اور لبوں پر شرارتی سی مسکراہٹ تھی۔۔ وہ اتنے محو تھے کہ اماں کا بولتے بولتے اچانک رک جانا بھی ان کو محسوس نہ ہوا۔۔ اس بات نے اماں کے جوش و خروش کے ساتھ ساتھ ان کے چہرے کے رنگ کو بھی گہنا دیا تھا۔۔ مگر رمیز احمد بے خبر رہے۔۔

عابیہ نے یہ سب تاسف سے دیکھا اور دوبارہ روٹیاں بنانے لگ گئی۔۔

"عاقب! یسریٰ! موبائل بند کریں "

عابیہ نے سالن کا ڈونگا ٹیبل پر رکھتے ہوئے کہا تھا۔۔ دونوں بچے جانتے تھے کہ ماں کھانے کے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتی۔۔ عابیہ نے عاقب کی نگاہوں کا تعاقب کیا تھا۔۔ اس نے باپ کے موبائل سے آتی تیز آوازوں کی طرف صرف چہرے کے اشارے سے ماں کو توجہ دلائی تھی۔۔

"سنیں! آپ بھی موبائل بند کر دیں۔۔ " اس نے آواز دبا کر شوہر کو توجہ دلائی تھی۔۔ اماں کافی بجھی بجھی سی تھیں۔۔ عابیہ نے ان کو سہارے سے بٹھا کر کھانے کی ٹرے ان کے آگے رکھی تھی۔۔

"صفوان کب تک آئے گا عابیہ!" اماں نے اپنے چھوٹے بیٹے کے بارے میں بہو سے دریافت کیا تھا۔۔ " اس کے آفس میں آج کوئی غیر ملکی وفد آیا ہوا ہے۔۔ وہ مصروف ہے۔۔ کہہ رہا تھا رات دیر ہو جائے گی"۔ عابیہ نے ماش کی دال پلیٹ میں ڈالی تھی اور بون لیس چکن کڑاہی کا ڈونگا عاقب کی طرف کھسکایا۔۔ عاقب کے ہونٹوں کے ساتھ ساتھ آنکھیں بھی مسکرائیں اور وہ رغبت سے سالن پلیٹ میں ڈالنے لگا۔

رمیز احمد ہنوز موبائل میں الجھے ہوئے تھے۔۔

"عابی! قہوہ ملے گا؟" رمیز احمد نے بیڈ پر نیم دراز ہوتے ہوئے کہا تو اپنے بستر کو سیدھا کرتی عابیہ نے "جی" کہہ کر کمرے سے باہر کا رستہ کیا تھا۔۔ یسریٰ کچن سمیٹ چکی تھی۔۔ مسکرائی

جی ممی! اب؟"

"کچھ نہیں بیٹا! آپ کے پاپا نے قہوہ پینا ہے۔۔ " الماری سے ساس پین نکالنے لگی تو یسریٰ بولی"میں بنا دیتی ہوں ممی! آپ لیٹیں جاکر آپ پیئں گی؟"

"نہیں بیٹا! میں چائے پی چکی ہوں اماں کے ساتھ"۔۔

یسریٰ نے پانی چڑھایا اور باپ کے من بھاتے مصالحوں کے ساتھ قہوہ تیار کرنے لگی۔۔

سلام پھیر کر عابیہ نے دیکھا کہ رمیز احمد قہوے کی چسکیاں لیتے ہوئے موبائل میں محو ہیں۔۔ وہ خاموشی سے تسبیحِ فاطمہ کا وردکرنے لگی۔۔ جائے نماز سمیٹ کر وہ اٹھی تو گھڑی نے رات کے گیارہ بجا دئیے۔۔

باہر موٹر سائیکل کی مخصوص آواز آئی۔۔ اس نے سوچا شاید رمیز احمد اٹھ کر دیکھ لیں۔۔ مگر وہ ہنوز موبائل میں گم تھے۔۔ عابیہ کو شدید غصہ آیا۔۔ مگر وہ جانتی تھی کہ صفوان احمد آیا ہے اس لیے اسے تو باہر جانا ہی تھا۔۔

صفوان کی بیوی اور دونوں بچے آج کل اپنے ننھیال گئے ہوئے تھے۔۔ ورنہ لائبہ ہی صفوان احمد کا ہر کام دیکھتی تھی۔۔

"کھانا کھائیں گے صفوان؟" اس نے تھکے تھکے دیور کے چہرے پر طائرانہ نظر ڈالی تھی۔۔

"نہیں بھابھی! Foreign Delegate کے ساتھ ڈنر تھا۔۔ آپ کیوں جاگ رہی ہیں؟"

تمہیں کھانا پوچھنا تھا نا اس لیے اور کچھ چاہیے؟"

"نہیں بھابھی! آپ آرام کیجیے! اماں سو گئیں؟"

"لیٹ تو گئی تھیں۔۔ سونے کا کچھ کہہ نہیں سکتی"۔۔

"چاچو! آجائیں اندر۔۔ اماں کبھی سوئی ہیں آپ کو ملے بغیر"۔۔

سامنے والے کمرے سے یسریٰ کی چہکتی آواز آئی تھی تو صفوان احمد مسکرا دیا۔۔

عابیہ نے اپنے کمرے کا دروازہ کھولا اور صفوان احمد اماں کو ملنے ان کے کمرے میں داخل ہوگیا۔۔

رمیز احمد نزدیک کا چشمہ آنکھوں پر لگائے لگائے خراٹے لے رہے تھے۔۔ Pakistani spy in India والی reel بار بار چلی جا رہی تھی۔۔ عابیہ کو بہت غصہ آیا مگر اس نے نرمی سے چشمہ اتار کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا، موبائل کاسائیڈ بٹن دبا کر اسے بند کرکے رکھا اور لائٹ بجھا کر سونے لیٹ گئی۔۔

رمیز احمد آفس کے لیے نکل رہے تھے

"سنیں! تہنیت اور علی آ رہے ہیں۔۔ رات کو کھانے کے بعد جائیں گے۔۔ کچھ چیزیں میسج کر رہی ہوں۔۔ بھجوا دیجیے گا۔۔ "عابیہ نے ان کے موزے پکڑاتے ہوئے کہا۔۔

"او! تہنیت بٹیا آ رہی ہیں۔۔ " رمیز احمد مسکرائے

"شکر ہے کہ کسی کے ذکر سے تو آپ کے چہرے پر مسکراہٹ آئی ہے" عابیہ بولی تو رمیز احمد نے بھنویں سکیڑ کر اس کی طرف دیکھا۔۔ عابیہ نے جان بوجھ کر پشت موڑ لی۔۔

"یاد سے بھجوا دیجیے گا۔۔ "

عابیہ نے پھر تاکید کی تھی

"اچھا اچھا" کہتے رمیز احمد گھر سے باہر نکل گئے تھے۔

عابیہ کا غصے اور پریشانی سے دماغ کھول رہا تھا۔۔ رمیز احمد مسلسل آن لائن تھے واٹس ایپ پر مگر ابھی تک اس کا میسج نہیں دیکھا تھا۔۔ تنگ آکر اس نے چادر لپیٹی اور پرس لے کر سامان لینے چل پڑی۔۔ امّاں ساری رات کے جاگنے کے بعد گہری نیند میں تھیں۔۔

جب وہ سامان لےکر گھر آئی تو عاقب یونیورسٹی سے آچکا تھا

"ممی! آپ دروازہ کھول کر کہاں چلی گئی تھیں؟"

وہ حیرت سے بولا تھا

اماں بھی چوپٹ آنکھیں کھولے عابیہ کی طرف متوجہ تھیں

عابیہ کا صبر جواب دے گیا۔

"کیا کرتی؟ تمہارے پاپا کو کہا بھی تھا کہ تہنیت نے رات کا کھانا کھانا ہے ہمارے ساتھ۔۔ سامان بھجوا دیں۔۔ اب تک میسجز کو بلیو ٹِک نہیں لگا۔۔ کیا کرتی پھر۔۔ خود چلی گئی۔۔ "

"سامان تو عبدل چاچا دے گئے ہیں ابھی۔۔ عاقب نے کہا تو اس نے برآمدے کے کونے میں لگی ڈائننگ ٹیبل کی طرف دیکھا جو مختلف لفافوں سے بھری ہوئی تھی۔۔

"حد ہے ویسے! موبائل ہے کس لیے؟ رابطے کے سوا ہر کام کروا لو اِس پر۔۔ ایک اوکے کہہ دیتے تو مجھے بھی اندازہ ہو جاتا کہ میسج دیکھ لیا ہے۔ "

بولتی بولتی وہ تیز تیز کام بھی کر رہی تھی۔۔

"لاؤ! لہسن پیاز میں بنا دیتی ہوں بیٹا" اماں نے دلار سے کہا تھا۔۔

"جی اماں۔۔ " عابیہ سامان سمیٹتے ہوئے بولی تھی۔۔

عابیہ نے نوبیاہتا بیٹی کے لیے کھانے پر خوب اہتمام کیا تھا۔۔ تہنیت گہرے میک آپ اور چمچماتے جوڑے میں بہت پیاری لگ رہی تھی۔۔ علی میاں کے چہرے پر نئے پن کی جھجھک تھی۔۔ یسریٰ بہن کو چھیڑ رہی تھی اور عاقب علی سے باتیں کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔ رمیز احمد کا فون بجا سکرین پر نظر دوڑا کر وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔۔

"جی جی میاں صاحب السلام علیکم" وہ برآمدے سے نکل کر صحن میں چلے گئے تھے۔۔

عابیہ نے میٹھے کی ڈش ٹیبل پر رکھی تھی۔۔ یسریٰ اضافی برتن اٹھا رہی تھی۔۔ رمیز احمد ابھی تک صحن میں فون پر لگے ہوئے تھے۔۔ عابیہ کا غصہ بڑھتا جا رہا تھا۔۔ وہ آہستگی سے رمیز احمد کے قریب جاکر کھڑی ہوگئی۔۔ انہوں نے اشارے سے پوچھاکہ کیا ہے؟"فون ختم کریں"

اس نے بمشکل آواز دبائی۔۔

رمیز احمد نے اسے گھور کر دیکھا اور جانے کا اشارہ کیا۔۔

مگر وہ وہیں کھڑی رہی۔۔

"اچھا! میاں صاحب میں زرا بعد میں آپ سے بات کرتا ہوں "

رمیز احمد نے کال کاٹی

کیا ہے؟ وہ غرائے۔۔

"بیٹی اور داماد آئے ہوئے ہیں۔۔ آپ تو بھول ہی گئے میاں صاحب کے نشے میں۔۔ "

"چلو چلو۔۔ پتہ ہے مجھے۔۔ رمیز احمد نے ہاتھ ہلاتے ہوئے طیش میں کہا تھا۔۔ عابیہ شدید تھک چکی تھی۔۔ مگر کچن سمیٹنا ضروری تھا۔۔ دعوت کے بعد کا پھیلاوا باہر آ رہا تھا۔۔ یسریٰ کا صبح پیپر تھا اس لیے وہ کمرے میں جا چکی تھی ورنہ تہنیت کی شادی کے بعد سے وہ ماں کا بہت خیال رکھنے لگی تھی۔۔

عابیہ جب سب کچھ نپٹا کر اپنے کمرے میں آئی تو رمیز احمد حسب معمول چشمہ ناک کی پھنگ پہ ٹِکائے۔۔ نیم دراز سو رہے تھےاور موبائل پر reel چل رہی تھی۔۔

عابیہ نے شدید غصے میں رخ پھیرا اور منہ کان لپیٹ کر لیٹ گئی مگر reel پوری آواز کے ساتھ بار بار چلی جا رہی تھی۔۔ وہی جملے سر پر ہتھوڑے کی مانند بجنے لگے تو اٹھ کر اسے گزشتہ رات والا عمل دہرانا ہی پڑا۔۔ رمیز احمد کی آنکھ کھل گئی

"کک کک۔۔ کیا ہوا؟"وہ ہڑبڑائے۔۔ "کچھ نہیں فون آن تھا وہ بند کر رہی تھی۔۔ سو جائیے "عابیہ نے بڑی برداشت سے کام لیا تھا۔۔

امّاں اکھڑی اکھڑی سانسیں لے رہی تھیں۔۔ عابیہ کے ہاتھ پاؤں پھول رہے تھے۔۔

دسیوں بار رمیز احمد کا نمبر ملایا۔۔ انٹرنیٹ کال کی۔۔ مگر انہوں نے فون نہ ہی اٹھایا۔۔ صفوان احمد آفس کے کام سے اسلام آباد گیا ہوا تھا اور عاقب یونیورسٹی تھا۔۔

اچانک اسے یاد آیا کہ صفدر رکشہ والے نے کچھ دن پہلے ہی کہا تھا کہ اگر کوئی کام ہو تو مجھے فون کر لیا کریں۔۔

عابیہ نے کال ملائی جو کہ فوراً اٹھا لی گئی اور اگلے بیس منٹ میں وہ اماں کو لے کر ہسپتال پہنچ گئی تھی۔۔ سانس اتنی کھنچ رہی تھی کہ عابیہ کی اپنی سانسیں رک رہی تھیں۔۔ وہ بصد مشکل خود کو سنبھالے اماں کو سہارا دئیے رہی۔۔ پرائیویٹ ہسپتال کی ایمرجنسی میں فوری طور پر اماں کو ابتدائی طبی امداد دے کر آئی سی یو میں لے گئے تھے۔۔

جب اماں کا علاج شروع ہوگیا تو عابیہ کی جان میں جان آئی اس نے صفدر رکشہ والے کا شکریہ ادا کرکے اسے فارغ کیا اور قریبی بنچ پر گر سی گئی۔۔

فون کی ٹوں ٹوں کی طرف توجہ کی۔۔ رمیز احمد کال کر رہے تھے۔۔ جی تو یہی چاہا کہ اٹھائے ہی ناں! مگر پیسوں کی ضرورت تھی۔۔ سو کڑوا گھونٹ بھر کر کال اٹھا لی۔۔

"کیا مسئلہ ہے یار! کال کرتی چلی جاتی ہو۔۔ اگر کوئی اٹھا نہیں رہا تو صبر کر لو۔۔ کچھ دیر بعد بات کی جاسکتی ہے۔۔ "

الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق رمیز احمد شروع ہو گئے۔۔ عابیہ کا دماغ بھک سے اڑ گیا۔۔

"ویسے تو ہر وقت موبائل کے اوپر چڑھے ہوتے ہیں اور کال کرو تو اٹھاتے نہیں "دباتے دباتے بھی آواز تیز اور لہجہ تلخ ہوگیا۔۔ رمیز احمد کو سہار کہاں

"فضول بکواس کی ضرورت نہیں۔۔ مصروف تھا میں " اور کال کاٹ دی

عابیہ کا غصے سے دماغ کھولنے لگا۔۔

"تمہاری ہی ماں کو ہسپتال لائی ہوں امین ہسپتال سرکلر روڈ پر۔۔ آنا ہے تو آجاؤ۔۔ اس نے شدید طیش کے عالم میں میسج ٹائپ کیا اور بھجوا دیا۔۔ اٹھ کر الیکٹرک کولر تک گئی۔۔ پانی پیا اور دماغ کو پُرسکون کرنے لگی۔۔ پھر عاقب کو کال ملا کر اسے ساری صورتحال بتائی اور ہسپتال آنے کا کہا۔۔

عاقب اور رمیز احمد آگے پیچھے ہی ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔۔

اماں ابھی تک آئی سی یو میں ہی تھیں۔۔

یسریٰ اور تہنیت دونوں کی کئی مسڈ کالز تھیں۔۔ عابیہ نے دیکھا تو گڑبڑائی۔۔ پچھلی دو راتوں سے وہ ڈھنگ سے سو نہیں پائی تھی۔۔ ہسپتال کے بنچ پر کیسے نیند آئی پتہ ہی نہیں چلا۔۔

باری باری دونوں کو کال کرکے مختصراً صورتحال بتائی۔۔

اماں کو وارڈ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔۔ یسریٰ کینو کا رس اور سوپ لے کر آئی تھی۔۔ عابیہ چمچ سے اماں کو رس پلا رہی تھی کہ منیرہ آ گئی

"السلام علیکم اماں! کیسی ہیں آپ؟"اس نے اماں کے برینولا والے ہاتھ پر ہلکے سے ہاتھ رکھا تھا۔۔

اور منہ موڑ کر عابیہ سے بولی "بھابھی! ایک کال یا میسج ہی کر دیتیں۔۔ میں بھی فوراً آجاتی اماں کا حال پوچھنے۔۔ " عابیہ کا ہاتھ کانپا تھا جس سے وہ اماں کو رس پلا رہی تھی۔۔

وہ خاموش رہی۔۔

اماں نے چند چمچ پی کر عابیہ کو اشارہ کیا کہ بس۔۔ تو وہ ان کا منہ پونچھ کر پیچھے ہٹ گئی۔۔

"آؤ منیرہ! اِدھر اماں کے پاس بیٹھ جاؤ"۔۔

عابیہ جس کرسی سے اٹھی تھی اس کی طرف اشارہ کیا تھا۔۔ منیرہ کے تیور جارحانہ ہی تھے۔۔ مگر خاموشی سے آکر ماں کے پاس بیٹھ گئی تھی۔۔

"اماں! آپ ٹھیک ہیں؟"اس نے ماں کا ماتھا چھوا تھا۔۔

"ہوں"

اماں کو شدید کمزوری ہو رہی تھی۔۔ انہوں نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔

رمیز احمد چائے کا تھرماس اور ڈسپوزیبل کپ لے کر آئے تھے۔۔

یسریٰ سب کو چائے دینے لگی۔۔

"بڑے بھیا! اتنا لیٹ بتایا مجھے" منیرہ پھر شروع ہوگئی۔۔ عابیہ نے ایک زخمی نظر شوہر کو دیکھا۔۔ جس نے نظریں چرالیں اور دوسری نظر نند پر ڈالی

"منیرہ! میں رکشے پر اماں کو ہسپتال لائی ہوں۔۔ اس وقت مجھے کہاں ہوش تھا کہ کس کو کال کروں۔۔ کس کو میسج کروں" آواز کو دبا کر حتی الامکان نرمی سے عابیہ نے کہا تھا۔۔

"بھابھی! میں کِس ہوں۔۔ " منیرہ نے بھرائی آواز میں کہا اور سر جھکا کر سوں سوں کرنے لگی۔۔

عابیہ گھبرا گئی

"سوری منیرہ! سوری" اس نے نند کے کندھے دبائے تھے۔۔ سارا وارڈ یہ "انڈین سوپ" بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔۔

ڈاکٹرز کا خیال تھا کہ آج کی رات اماں کو ہسپتال رکناچاہیے تاکہ کل تک سانس کی صورتحال مانیٹر کی جائے اور پھر تسلی کے بعد ہی ڈسچارج کیا جائے اور وارڈ میں رہنے کی اجازت صرف ایک اٹینڈنٹ کو تھی۔۔ عابیہ کی حالت کافی خراب تھی اور منیرہ تو ڈرامے کی قسط مکمل کرکے جا چکی تھی۔۔ یسریٰ کو ماں پر رحم آیا۔۔

"ممی! آپ گھر چلی جائیں۔۔ میں رات رک جاتی ہوں اماں کے پاس" اس نے ماں کے کندھے دبائے تھے۔۔

عاقب تیزی سے آگے بڑھا

"آئیں ممی! میں آپ کو گھر لے جاتا ہوں "

"واہ برخوردار! تو تم گھر جاؤ گے اور باپ ادھر باہر بنچ پر رات گزارے گا۔۔ کچھ احساس ہے اِس بات کا بھی۔۔ "

یہ رمیز احمد تھے۔۔ جو کہ موبائل کے رسیا ہونے سے پہلے اماں کے جانثار اور فداکار تھے۔۔

ساری عمر اماں کا پرچم بلند رکھنے کے لیے عابیہ کا ناطقہ بند کئے رکھا تھا۔۔ اب ایک رات ماں کے لیے ہسپتال کے بنچ پر کاٹتے ہوئے ان کو غش پڑرہے تھے۔۔

عابیہ نے حیرت سے شوہر کی طرف دیکھا۔۔ ایک عجیب سا بدلاؤ تو وہ بڑے عرصے سے شوہر میں محسوس کر رہی تھی۔۔

مگر! وہ اتنا خود غرض ہو چکا ہے یہ اسے اب اندازہ ہو رہاتھا۔۔

"عاقب بیٹا! تم رک جاؤ بہن کے ساتھ۔۔ میں کبھی نہ جاتی مگر شدید تھک گئی ہوں۔۔ صبح ہوتے ہی آ جاؤں گی "عابیہ نے بیٹے کو سمجھایا تھا۔۔

یوں عابیہ اور رمیز احمد گھر آئے اور عابیہ کے طیش کی اس وقت کوئی حد نہ رہی جب رمیز احمد موبائل آن کرکے لیٹ گئے۔۔ ہینڈ فری یا ائیر پوڈز کا بھی تکلف نہیں کرتے تھے اور ساتھ لیٹا بندہ کتنا بیزار ہو رہا ہے۔۔ اس کی بھی ان کو کوئی پروا نہ تھی۔۔

عابیہ نے بات تو آرام سے ہی کی تھی مگر بڑے دنوں کی فرسٹریشن ایک غلط موقعے پر باہر نکلی تھی۔۔

"نوجوانوں کو مات کر دیا ہے آپ نے موبائل استعمال کرنے میں۔۔ ماں ہسپتال ہے اس کا ہی کچھ لحاظ کر لیتے"

"تم میری استانی ہو؟ جب دیکھو لیکچر پلانے لگ جاتی ہو "

"استانی کی کیا بات ہے۔۔ درست صلاح دی ہے۔۔ صبح پھر ہسپتال جانا ہوگا۔۔ "

رمیز احمد اگر موبائل کے نشے سے نکل کر سنتے تو بات درست تھی عابیہ کی۔۔ لیکن اکثر مرد بیوی کی بات کو بے وجہ انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔۔ خاص طور پر اس وقت۔۔

جب بیوی درست کہہ رہی ہو۔۔

"ہاآاااں بھئی! تم نے تو خوب نمبر بٹور لئے ہسپتال لے جاکر۔۔

عابیہ کا ضبط جواب دے گیا

"بس کر دو رمیز احمد! یہ ہی دیکھ لو کہ وہ تمہاری ماں ہے۔۔ میری نہیں "

"جانتا ہوں۔۔ تم نے میری ماں کو اپنی ماں سمجھا ہی کب ہے۔۔ جب دیکھو تمہاری ماں تمہاری ماں۔۔ "

تن فن کرتا رمیز احمد اللہ جانے کیا کیا بولتا جا رہا تھا۔۔ اس نے ایک بار بھی یہ نہ سوچا کہ صبح سے عابیہ ہی تھی جو اماں کے ساتھ اکیلی خوار ہو رہی تھی۔۔

"ایک لفظ اور نہیں سنوں گی۔۔ چپ۔۔ ایک دم چپ"

عابیہ چیخی تھی۔۔ رمیز احمد نے پوری قوت سے گھما کر زوردار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا تھا۔۔

کچھ دیر تو عابیہ سُن ہو کر دیکھتی رہی۔۔ پھر اٹھی اپنا موبائل اٹھایا اور عاقب کے کمرے میں جاکر دروازہ اندر سے بند کر لیا۔۔

کچھ دیر تو رمیز احمد بھی سمجھ نہ پائے کہ یہ سب ہو کیا گیا ہے؟

پھر سر جھٹک کر موبائل کھول لیا اور حسبِ معمول reels دیکھتے دیکھتے سو گئے۔۔

صبح آنکھ کھلی تو ٹائم دیکھا

دس بج چکے تھے۔۔

ہائیں! وہ ہڑبڑا کر اٹھے۔۔

باہر سے بولنے کی آوازیں آ رہیں تھیں۔۔ تیزی سے باہر نکلے

تہنیت اور علی عاقب کے ساتھ کھڑے تھے۔۔

"ہسپتال میں کون ہے؟" رمیز احمد کو اور کچھ نہ سوجھا تو گڑبڑا کر بولے۔۔

"ہم تو آٹھ بجے ہی گھر آ گئے تھے پاپا! اماں اندر لیٹی ہوئی ہیں" عاقب تیزی سے بولا تھا

رمیز احمد ماں کے کمرے کی طرف بڑھے تو عاقب کی آواز آئی "ممی ابھی تک سو رہی ہیں؟"

رمیز احمد رکے اور ابھی وہ جواب سوچ ہی رہے تھے کہ عاقب نے ان کے کمرے میں جھانکا تھا

"پاپا! ممی کہاں ہیں؟"

رمیز احمد نے بولنا چاہا مگر زبان نے ساتھ نہ دیا۔۔ عاقب اس دوران سارےگھر میں ماں کو ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔۔

"میں تو سمجھ رہا تھا کہ ممی سو رہی ہیں۔۔ یسریٰ نے کہا ممی بہت تھک گئی ہیں۔۔ سویا رہنے دیتے ہیں۔۔ " عاقب نے بولتے بولتے اپنے کمرے کے دروازے پر ہاتھ مارا تھا۔۔ مگر دروازہ اندر سے بند تھا۔۔

دروازہ پیٹ پیٹ سب بے حال ہو گئے مگر عابیہ نے دروازہ نہ کھولا۔۔ آخر کار زور لگا کر دروازہ توڑا گیا۔۔

اندر عابیہ بے حس و حرکت پڑی ہوئی تھی۔۔ اس کے دائیں گال پر رمیز احمد کی پانچوں انگلیاں گہرائی کے ساتھ ثبت تھیں۔۔