طوفی اس رات کو نیمی کے ساتھ مال روڈ والے مظاہرے کی تیاریوں پر دیر رات تک بات کرتی رہی تھی۔۔ اس کی این جی او نے پہلی بار اتنے بڑے اور اہم ایونٹ کی انچارج اسے بنایا تھا تو قاصرہ الطرف پھولے نہیں سما رہی تھی اور جی جان سے مظاہرے کے بہترین انتظامات میں لگی ہوئی تھی۔۔ اسی دوران وہ نیمی سے بھی کافی قریب آ گئی تھی اور اس قربت میں وہ دل کی باتیں اس سے شئیر کرنے لگی تھی۔۔
اوکے طوفی! میرا خیال ہے کہ انتظامات مکمل ہیں اب سارے۔۔ اب صبح ملیں گے
Sharp 10، o clock
Bye bye
نیمی نے اس کا بائے بائے سن کر لائن کاٹی تھی اور وہ بھی بستر پر ڈھے سی گئی تھی۔۔ گھڑی رات کے تین بجا رہی تھی۔۔ گو کہ طوفی اب اکثر راتوں کو جاگا کرتی تھی بلکہ لیٹ نائٹ پارٹیز کی وجہ سے کئی بار صبح سونے جاتی لیکن۔۔ اس کی طبیعت نے اب تک اس غیر صحت مندانہ اقدام کو قبول نہیں کیا تھا اور اس کا جسمانی نظام اب بھی اس سسٹم کا قبول نہیں کر پایا تھا۔۔
موبائل سائیلنٹ موڈ پر لگا کر اس نے تکیہ دبوچا تھا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ سو چکی تھی۔۔
پھر کسی انجانی سی کیفیت میں قاصرہ الطرف کی آنکھ کھلی تھی
اس کا دل ایک دم رکا۔۔ وہ شدید گھبرائی اور پھر سب نارمل ہوگیا۔۔ نیم غنودگی میں اس نے موبائل کی سکرین آن کی۔۔ صبح کے پونے سات بجے تھے
ایک دم اسجد بھائی کی کال آنے لگی اس کا منہ بگڑا تھا اس نے سکرین آف کرکے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا تھا اور دوبارہ سو گئی تھی
ایک دم وہ ہڑبڑا کر اٹھی تھی۔۔ دھڑ دھڑ اس کے کمرے کا دروازہ بج رہا تھا اور جب ایک تسلسل سے دھڑ دھڑ جاری رہی تو وہ بوکھلا کر اٹھی تھی۔۔ اس نے ڈھیلا سا نائٹ سوٹ پہن رکھا تھا۔۔ تیزی سے چٹخنی گرائی تو سامنے شعیب کھڑا تھا۔۔ کچھ عجیب تو تھا اس کے چہرے پر۔۔ اس سے پہلے کہ قاصرہ اس سے کچھ پوچھتی۔۔ وہ تیزی سے بولا
طوفی! امی فوت ہوگئی ہیں "ف ف فوت"
اس کی ٹانگوں نے ایک دم اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کیا تھا۔۔ وہ دہلیز پر بیٹھتی چلی گئی۔۔
"اٹھو جلدی سے۔۔ اسجد بھائی کی طرف جانا ہے "اس کا بازو پکڑ کر اسے اٹھاتے ہوئے شعیب کا لہجہ پھر سپاٹ ہوگیا تھا۔
قاصرہ کھڑی ہوئی تو شعیب نے اسے غور سے دیکھا
"پراپر کپڑے پہن کر آجاؤ نیچے۔۔ ہارون گاڑی لینے گیا تھا آنے والا ہوگا "شعیب کا لہجہ ایک دم بے تاثر تھا
مگر شوبی! وہ ساکت کھڑی رہی
"کیا شوبی بھئی! پونے سات بجے سے اسجد بھائی تمہیں کال کر رہا ہے۔۔ اب جلدی کرو باقی باتیں راستے میں کرتے ہیں۔۔ "
خالی الذہنی کے عالم میں اس نے وہ شلوار قمیض پہنی تھی جو ابھی پرسوں ہی امی اس کےلیے لائی تھیں اور اس نے بہت ناک بھوں چڑھایا تھا
"امی! آپ کو پتہ بھی ہے کہ ایسے چادر نما دوپٹوں سے مجھے بہت الجھن ہوتی ہے۔۔ سنبھالنے مشکل ہو جاتے ہیں "
امی کے چہرے پر سایہ لہرایا تھا مگر وہ گہرا سانس لے کر پیار سے بولی تھیں
"یہ رنگ تمہیں پسند ہے نا! اس لیے لے لیا"
"پسند ہے نہیں۔۔ تھا اس نے تھا پر زور دیا تھا اور سر جھٹک کر بولی تھی
تھا۔۔ جب میں بے وقوف تھی۔۔ سوٹ کے عنابی رنگ کو اس نے تنفر سے دیکھا تھا
امی کا رنگ سفید پڑ گیا مگر وہ چپ رہیں تھیں اور خاموشی سے اٹھ گئی تھیں
سوٹ اس کی سٹڈی ٹیبل پر رکھ کر کمرے سے باہر نکل گئی تھیں۔۔
"ہاں!"وہ چونکی تھی شعیب اسے بازو سے پکڑے گاڑی میں بیٹھنے کا اشارہ کر رہا تھا
اسجد جوکہ قاصرہ کا بڑا بھائی تھا اس نے حال ہی میں یہ مکان کرایے پر لیا تھا ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا ہوا تھا اور اضافی سامان ہٹا کر کرسیاں لگائی جا رہی تھیں اور قالین بچھا دیا گیا تھا
انتہائی کونے میں ایک چارپائی پر سفید کوری چادر سے لپٹا کوئی وجود اس نے دیکھ تو تھا۔۔
دل ایک دم رکا تھا اور طوفی لہرا گئی تھی۔۔
خالی الذہنی میں قاصرہ الطرف نے دیکھا تھا ہارون اسے پانی پلا رہا تھا اور اس کی دوست ہما نے اسے سہارا دے رکھا تھا
جب ہارون پہلی بار ہما کو اپنے ساتھ گھر لایا تھا تو طوفی شوخی سے آنکھیں گھما کر بولی تھی
Haroon! is she your girlfriend??
ہارون جزبز ہوا تھا مگر ہما کھلکھلاکر ہنس پڑی تھی
"Could be"
ہما نے بھی شرارت سے اسی طرح آنکھیں گھمائیں تھیں۔۔
قاصرہ الطرف کے اتنے فارمل سے انداز میں بات کرنے پر ہارون کو بھی شہ ملی تھی اور وہ بے دھڑک ہما کو گھر لانے لگا تھا
ایک دن جب وہ دونوں گھر آئے تو لاؤنج کے بڑے دیوان پر امی بیٹھی ہوئی تھیں۔۔ وہ شاید ابھی ہی آئی تھیں اس لیے گاؤن اور سکارف پہن رکھا تھا۔۔ بس نقاب نیچے تھا
امی کا منہ ایک دم کھلا کا کھلا رہ گیا تھا۔۔ مگر وہ خاموش رہی تھیں
جینز اور شارٹ کرتی میں ملبوس ہما دوپٹے سے بے نیاز تھی۔۔ کندھوں پر
wolf cut
سلکی بال بکھرے ہوئے تھے۔۔ ایک ادھیڑ عمر کی باپردہ عورت کو دیکھ کر ہما کی بولتی ایک دم بند ہوگئی تھی
"تمہاری مام ہیں شاید؟"
اس نے ہارون سے پوچھا تھا جوکہ نارمل انداز میں کھڑا تھا
"ہاں"
"امی! یہ میری دوست ہما ہے PU سے LLB کر رہی ہے اور ہما یہ امی ہیں "
امی نے سفید ہونٹوں سے
السلام علیکم بیٹا کہا تھا
والسلام آنٹی کیسی ہیں آپ؟ ہما کو تھوڑا وقت لگا تھا مگر اس نے پوزیشن لے لی تھی۔۔
اللہ کا شکر ہے میں ٹھیک ہوں۔۔ آپ ٹھیک ہیں بیٹا؟"
آواز بھرائی ہوئی تھی۔۔ ہما نے ہارون کی امی کی آنکھوں میں دیکھا۔۔ ایک عجیب سا درد تھا وہاں
اس نے نظریں چرا لیں۔۔
قاصرہ الطرف نے سامنے دیکھا تھا۔۔ اسجد بھائی کتنا لٹا پٹا دکھائی دے رہا تھا۔۔ وہ کسی میکانکی عمل کے تحت اٹھی تھی اور اسجد کے گلے لگ گئی تھی۔۔
روز روز کیوں آجاتی ہیں آپ؟ طوفی نے تنک کر کہا تھا
اسجد بھائی کے گھر ٹک کر رہیں۔۔ اپنے ہم خیال بیٹے کے ساتھ۔۔ ہم ادھر بہت خوش ہیں اور کسی قسم کی کوئی کمی محسوس نہیں کرتے "
پرسوں ہی تو اس نے امی کے اپنے گھر آنے پر یہ misbehave
ان سے کیا تھا اور ان کا لایا سوٹ یکسر رد کر دیا تھا
وہی سوٹ جو اس وقت وہ امی کی میت پر پہن کر بیٹھی تڑپ رہی تھی
"جانتی ہوں۔۔ امی نے کتنی تھکی 'لٹی اور ٹوٹی آواز میں جواب دیا تھا
"مجھے آپ تینوں کی یاد آ رہی تھی "
"پلیز مجھ پر ان ڈائیلاگز کا اب کوئی اثر نہیں ہونے والا۔۔ بہت لیٹ ہو گئے یہ مکالمے۔۔ "
شوبی! ہارون! کہاں ہو تم دونوں؟
اس نے زور سے آواز لگائی تھی
شعیب اپنے کمرے کے دروازے پر ظاہر ہوا تھا
"السلام علیکم امی! آپ کب آئیں؟ اس نے کچھ خوش مزاجی دکھائی۔۔
"میری میٹنگ ہے۔۔ میں جانے لگی ہوں۔۔ تم جب فارغ ہو تو امی کو اسجد "بھائی "کی طرف چھوڑ آنا "اس نے بھائی کو تھوڑا چبا کر ادا کیا تھا اور اپنے کمرے میں گھس گئی تھی۔۔
لانگ فراک اور ٹائٹس پہن کر اس نے بال کھلے چھوڑے تھے
In drive
بلا کر وہ بادل ناخواستہ لاؤنج میں آئی تھی
"قاصرہ! دوپٹہ لے لو بیٹا"امی نے تڑپ کر کہا تھا قاصرہ نے موبائل کے کیمرے میں لپ اسٹک ڈارک کی تھی اور ہنس کر بولی تھی
"آپ کی قرآن کلاس میں نہیں جا رہی "۔۔
اور ٹک ٹک کرتی باہر نکل گئی تھی
ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا ہوا تھا اس نے دیکھا اسجد کی بیوی بڑی سی چادر سے گھونگھٹ کاڑھے ادھر ادھر انتظامات دیکھ رہی تھی
چھوٹی حمنہ اس کی گود میں تھی جبکہ عون اور محمد دادی کی پائنتی بیٹھے تھے
محبت بھی کتنی ظالم چیز ہے۔۔ وہ چھوٹے چھوٹے لڑکے گم سم تھے کہ ان کی جان چھڑکنے والی دادی سفید چادر اوڑھے کیوں لیٹی ہوئی ہیں
قاصرہ نے اٹھ کر بھابھی کو گلے لگایا یسریٰ کا چہرہ گیلا تھا مگر اس کی زبان بند رہی۔۔ اس نے ایک حرف تسلی کا نہ کہا۔۔
طوفی کو اس کی خاموشی بہت کھلی مگر ساتھ ہی بہت کچھ
flash back
ہوا تھا
"قاصرہ! تم جس راہ پر چل نکلی ہو وہ بہت غلط ہے۔۔ امی کو حقیقت معلوم ہوئی تو ان کو بہت تکلیف ہوگی "یسریٰ بھابھی نے حتی الامکان آواز پست رکھی تھی۔۔
"پلیز بھابھی وہ میری امی ہیں۔۔ آپ یہ اچھی بہو بننے کے ڈرامے تو کریں ہی مت۔۔ میں نے اپنے کانوں سے سنا ہے جو کچھ آپ اسجد بھائی کو شکایتیں لگاتی ہیں امی کی اور میری بھی "قاصرہ نے سارا لحاظ بالائے طاق رکھ کر بھابھی کو طعنہ دے مارا تھا۔۔
"مجھے جو بھی شکایت ہو ان سے۔۔ میں پھر بھی "یہ "سب کرنے اور کہنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی ان سے "یہ پر زور دے کر یسریٰ نے محمد کو کمرے میں دھکیلا تھا۔۔
"بھابھی! میں بچوں سے بہت پیار کرتی ہوں ان کو مجھ سے دور نہ کریں "طوفی نے عون کو پکڑنا چاہا تھا۔۔
"جو کچھ تم بنتی جا رہی ہو۔۔ میں اس کا ناپاک سایہ اپنے بچوں پر نہیں پڑنے دوں گی
یسریٰ نے مضبوطی سے کہہ کر اپنے کمرے کا دروازہ بند کر دیا تھا۔۔
"اسجد! یسریٰ قاصرہ کے ساتھ جو رویہ رکھے ہوئے ہے۔۔ بیٹا مجھے اس کی بہت تکلیف ہے۔۔ بھولی امی کو بہو کا قاصرہ سے کترانا بہت برا لگ رہا تھا۔۔ انہوں نے دل گرفتگی سے بیٹے سے شکایت کی تھی۔۔
"ایسا کچھ نہیں ہے امی!"اسجد نے لاڈ سے امی کے گلے میں بانہیں ڈالی تھیں۔۔ وہ چاہ کر بھی امی کو ان تبدیلیوں کے بارے میں نہ بتا سکا جو اس نے اور یسریٰ نے بہت دنوں سے قاصرہ میں آتی محسوس کی تھیں اور خصوصاً جس طرح وہ عون اور محمد کی برین واشنگ کی کوششیں کرتی رہتی تھی۔۔ وہ سب اسجد اور یسریٰ کےلیے کسی طور قابل قبول نہ تھا۔۔
قاصرہ الطرف نے من من ہوتے قدموں کے ساتھ خود کو امی کی چارپائی کے پاس دھکیلا تھا۔۔ چادر کا کونا پکڑ کر اوپر اٹھا کر امی کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی تو آنسوؤں کی چادر تن گئی۔۔ اس نے ہاتھ مار کر آنکھیں صاف کیں۔۔ امی کی سفید پڑتی رنگت تو تازہ گلاب جیسی ہوچکی تھی۔۔ بڑھاپے کے آتے اثرات سب غائب تھے اور ایک نورانی جوان نظر آنے والا شاداب چہرہ اس کے سامنے تھا۔۔
"امی!"اس کے حلق سےایک تیز سسکی نکلی تھی
"آپ کو پتہ ہے میں نے آپ کا نام قاصرہ الطرف کیوں رکھا تھا؟"امی جب بھی لاڈ میں آتیں تو اپنا پسندیدہ موضوع چھیڑ دیتیں
"اوہو امی! وہی بورنگ گھسا پٹا ٹاپک "۔۔ طوفی نے بیزاری سے کہا۔۔ امی کا روشن چہرہ ایک دم بجھ کر رہ گیا
"مجھے تو یہ نام بالکل پسند نہیں۔۔ پلیز مجھے طوفی کہا کریں آپ سب۔۔ "
پتھر کاٹ کر رکھ دینے والی کٹیلی آواز تھی اس کی۔۔ اصل بات تو وہ بتا نہ پائی تھی اس وقت کہ نیمی نے اس کے نام سے بیزاری دکھاتے ہوئے اسے طوفی کا نک نیم دیا تھا
اور پھر یہی ہوا تھا اسجد بھائی 'یسریٰ بھابھی اور امی کے علاؤہ سب اسے طوفی کہنے لگے تھے۔۔
"امی! آپ کی قاصرہ الطرف آئی ہے۔۔ دیکھیں امی! وہ بلکی تھی۔۔
پتہ ہے نیمی! ایک جیل میں زندگی گزاری ہے میں نے اور اس جیل کی ہر کھڑکی اور ہر دروازے پر مذہب کا تالا تھا۔۔ جس کو کھولنے کی کنجی صرف اور صرف امی اور ابا کے پاس تھی۔۔ میں رات دن اپنی ہر خواہش پر پابندیاں لگتی دیکھتی۔۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا جیسے لڑکی ہونے کے علاوہ میرا اور کوئی جرم نہیں۔۔
A religious family
یہ ٹھپا اتنا سخت تھا کہ میری معصوم خوشیوں کو اس کے نیچے کچل دیا گیا۔۔ "
ایک دن قاصرہ پھٹ پڑی تھی نیمی کے سامنے
Come on Tufi
اب تم نکل چکی ہو اس
So called religious
ماحول سے۔۔
کھل کر سانس لو۔۔ آزادی کے ماحول میں
لڑکی ہونا کمزوری نہیں
Power
ہے تمہاری
Now don't be sad Tufi dear
اس نے قاصرہ کے کندھے تھپتھپائے تھے اور قاصرہ الطرف کو یوں لگا جیسے اس نے اپنے بچپن اور لڑکپن پر لگائی گئی ایک ایک پابندی کا ایسا بدلہ لے لیا ہے کہ اب وہ صرف وہی کرے گی جو اس کے دل کی خواہش ہوگی۔۔
اس راہ پر چلنے کا آغاز تو بہت دن سے ہو چکا تھا۔۔ سب سے پہلے اس نے نماز چھوڑی تھی۔۔ نماز میں دلچسپی تو وہ بہت پہلے سے کھو چکی تھی۔۔ اس لیے ضمیر کی چیخیں چند دن کی تھیں اور پھر وہ اس کی عادی ہوتی چلی گئی
پہلے پہل اس نے مختلف بہانے تراشے تھے پھر ایک دن خراب موڈ میں تھی تو امی کے کہنے پر ایک دم پھٹ پڑی
"کیا ہے امی؟ آپ نے پڑھ لی ہے نماز؟ جائیں وظائف پڑھیں اور کروٹ بدل کر سو گئی
یہ سوچے بغیر کہ امی کو اس رویے سے کتنی تکلیف پہنچی ہوگی۔۔ خیر جب خالق کی شرم نہ رہے تو پھر مخلوق کی شرم کے کیا معنی ہو سکتے ہیں۔۔
یسریٰ نے اسے اٹھا کر صوفے پر بٹھایا تھا حمنہ سو گئی تھی اور لڑکے اپنی خالہ کے پاس تھے
اس نے ویران آنکھوں اور خالی الذہنی کے عالم میں بھابھی کی طرف دیکھا تھا
"غسل کےلیے لے جا رہے ہیں ہم امی کو۔۔ ظہر کی نماز کے بعد جنازہ ہے "۔۔
وہ آہستہ سے بولی تھی
قاصرہ کا جی تڑپا کہ میں اپنی امی کو آخری غسل دوں مگر پھر اسے یاد آیا کہ اس نے تو مہینوں سے کوئی نماز نہیں پڑھی اور اس کی اتنی نیک امی کو غسل دینے کا اسے کوئی حق نہیں ہے۔۔
اور پھر ابھی پرسوں ہی تو اس نے بے عزت کرکے امی کو اپنے گھر سے نکالا تھا۔۔
"ہائے امی! اس کے دل میں تیز تیز ٹیس اٹھی تھی۔۔
ہائے! صبح پونے سات بجے اگر وہ اسجد بھائی کی کال سن لیتی تو اس وقت دل یوں درد کے بوجھ سے پھٹا نہ جا رہا ہوتا۔۔
بھابھی! اس نے باہر کی طرف جاتی یسریٰ کو پکارا تھا وہ پلٹی
کیا امی صبح پونے سات بجے؟ آنسؤں سے گلا رندھ گیا
اس وقت انہوں نے اسجد سے کہاتھا کہ قاصرہ سے بات کروا دیں مگر تم نے کال اٹینڈ نہیں کی۔۔ یسریٰ خاموش ہوگئی
اور قاصرہ کے دل نے دھڑکنا جیسے چھوڑ ہی دیا۔۔
ہائے! وہ تو اب تک یہ سمجھ رہی تھی کہ شاید اس وقت امی فوت ہوگئی تھیں اور اسجد نے سب سے پہلے اسے ہی کال کی تھی
بیٹی تھی آخر اور وہ بھی اکلوتی۔۔
امی نے تو آخری وقت اس سے بات کرنا چاہی تھی
ہائے امی!
کیا کہنا تھا انہوں نے مجھ سے؟
اس نے آس کی ڈوری تھامے بھابھی کی طرف دیکھا
یسریٰ کے آنسو بہنے لگے وہ کچھ بول نہ پائی
اور ساتھ ہی اسے کسی نے آواز دے دی
آتی ہوں خالہ جان!
ہم بعد میں بات کرتے ہیں قاصرہ۔۔
وہ تیزی سے صحن کی طرف چلی گئی تھی جہاں امی کو غسل دینے کا انتظام کیا جا رہا تھا۔۔
طوفی کو وہ دن یاد آنے لگا جب اس نے طے کر لیا تھا کہ اب وہ پردہ ترک کر دے گی۔۔ دلی طور پر تو وہ کب سے اس پابندی سے متنفر ہو چکی تھی اب تو بس آخری ضرب کا وقت تھا۔۔ اسے این جی او کے مین دفتر میں جاب کےلیے نیمی نے کب سے آفر دی ہوئی تھی جوکہ اس نے قبول کر لی تھی اور آج اس کی joining کا دن تھا۔۔ طوفی نے سوچا کہ آج کے خوش آئند دن ہی پوری طرح پر پھیلا کر اڑان بھرنے کا تجربہ بھی کر ہی لیا جائے۔۔ دیکھیں تو عورت ہونے کو پابندی سے طاقت بنانے میں کیسا سکون ملتا ہے!
یوں بھی اب تک وہ این جی او کے کام بھی ڈھکے چھپے انداز میں ہی کر رہی تھی۔۔ اب وقت آ گیا تھا کہ اپنے نعرے اور نئے نظریے کے ساتھ کھل کر جینے کا آغاز کیا جائے
صبح اٹھ کر اس نے اپنے ہلکے گلابی سوٹ کو جما جما کر استری کیاتھا جو کہ اسے نیمی نے ہی تحفہ دیا تھا۔۔ چائے پیتے پیتے امی نے مسکرا کر پوچھا
کیا بات ہے آج صبح صبح کپڑے استری ہو رہے ہیں۔۔ سوٹ بھی نیا لگ رہا ہے!
جی امی! نیمی نے دیا ہے انہوں نے این جی او کے مین آفس میں ایک جاب آفر کی تھی۔۔ میں نے accept کرلی ہے۔۔ آج joining دے رہی ہوں۔۔ اس نے صاف ہموار آواز میں کہا تھا
امی ایک دم چونکی تھیں
یہ کیا کہہ رہی ہو بیٹا؟
وہی جو آپ نے سنا۔۔
اس نے سوٹ ہینگر میں لٹکایا اور تیار ہونے چلی گئی
جب وہ نک سک سے تیار ہو کر آئی تو امی کو شکستہ سا بیٹھے ہوئے دیکھا۔۔
اور جب وہ اسی حلیے میں باہر کی طرف بڑھی تو امی تڑپ کر اٹھ کھڑی ہوئیں
بیٹا اس طرح جا رہی ہو؟
جی! اب اسی طرح جاؤں گی۔۔
یہ کہہ کر اس نے بیرونی دروازہ کھولا اور باہر نکل آئی۔۔ ایک دم اسے بہت عجیب لگا
سامنے سے ساتھ والے جمال انکل گزر رہے تھے انہوں نے اسے دیکھا اور سرجھکا کرگزر گئے۔۔ طوفی کو بہت ہنسی آئی۔۔
ہا ہا ہا انکل سمجھے ہوں گے ہمارے گھر کوئی مہمان آئی ہوگی۔۔ وہ اپنے آپ کو نارمل کرتی سٹاپ کی طرف چلنے لگی۔۔ کچھ دیر عجیب لگتا رہا پھر اسے لگا کہ یہ تو اس کے دل کی آواز تھی۔۔ پردہ بہت عرصے سے اس کےلیے ایک ایسی سرگرمی بن چکا تھا جو اس کے دل کی دنیا سے بالکل لگا نہیں کھاتا تھا اس لیے نارمل ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی
این جی او کے آفس میں اسے اس طرح بنا گاؤن سکارف کے آتے دیکھ کر سب نے تالیاں بجا کر اس کا استقبال کیا اور قاصرہ کے اندر سے وہ شرم اور جھجھک بھی جاتی رہی جو کچلنے اور دبانے کے باوجود فطرتاً اس کے مزاج کا حصہ تھی۔۔
این جی او کے دفتر کی جاب نے طوفی کو سر تا پا بدل کے رکھ دیا تھا۔۔ یہیں اس کے حلقۂ احباب میں بہت اضافہ ہوا
بہت سی لڑکیاں
بہت سے لڑکے
سب مل کر شانہ بشانہ چلتے
اسے لگتا کہ جنس کو درمیان میں لانا کس لیے ضروری بنا دیا گیا ہے؟
جبکہ ہم سب ایک دوسرے کے ساتھی ہیں
کیا مرد کیا عورت
خوامخواہ اب تک مردوں کو ہوا بنا کر پیش کیا گیا اور ان کو دیکھ کر چھپنا سکھایا گیا۔۔ اب وہ عورت اور مرد کی تخصیص کے بغیر بطور انسان سب سے ملتی بات کرتی
کام کرتی اور سب کچھ نارمل لگتا۔۔
اس نے یہ دیکھنا بھی چھوڑ دیا کہ امی کی آنکھیں اکثر گیلی رہتی ہیں اور وہ بہت زیادہ خاموش رہنے لگی ہیں۔۔
انہیں دنوں شعیب کو ایک قریبی دوست کے توسط سے اسی علاقے میں ایک فرنشڈ مکان کی آفر ہوئی جہاں اس کی فرم تھی اور اس نے قاصرہ کو اس opertunity
کے بارے میں بتایا
تو ٹھیک ہے شوبی! تم وہ مکان فائنل کرلو
تم میں اور ہارون وہاں چلے جاتے ہیں
شعیب نے بھنوئیں اٹھا کر اسے دیکھا
"ایسے کیا دیکھ رہے ہو
مسز اسجد اسے اتنا تو بھڑکا ہی چکی ہے کہ وہ لوگ بہت جلد اپنے رستے ہم سے الگ کر لیں گے تو اس سے پہلے ہم کیوں نہ کر لیں بھئی
!"
اور امی!
امی اسجد کے ساتھ رہیں گی اور خوش رہیں گی۔۔
طوفی نے اتنی آسانی سے کہا جیسے وہ ماں نہ ہوں کوئی سامان ہوں۔۔
ہارون طوفی سے زیادہ امی بیزار تھا وہ بھی جھٹ اس پروگرام میں شامل ہوگیا اور وہ لوگ اس مکان میں شفٹ ہو گئے۔۔ ایک صبح سے شام تک کی کام والی رکھ لی گئی اور اس ہوٹل نما مکان کی گاڑی چلنے لگی۔۔
شروع میں کافی دن تو وہ امی سے ملے ہی نہیں
پھر ہارون کو ڈینگی ہوگیا اور وہ ہسپتال داخل رہا تو اس کے بعد ملنا ملانا شروع ہوگیا۔۔ اس کے بعد سے امی اکثر ان کے گھر آجایا کرتی تھیں مگر قاصرہ الطرف کا دل ہوتا کہ جتنی جلدی ہو سکے وہ واپس چلی جائیں۔۔
مختلف آوازیں کانوں میں پڑیں تو طوفی کو جیسے ہوش آ گیا۔۔ اس نے دیکھا کہ قریبی مسجد سے جنازے والی مخصوص چارپائی آ چکی ہے اور امی کو غسل کے بعد اس پر منتقل کیا جا چکا ہے۔۔ امی کی بہنیں، بھابھیاں اور ان کے کئی ددھیالی رشتہ دار بھی آ چکے تھے۔۔
وہ سب لوگ جو امی کی طرح مذہبی رنگ میں رنگے ہوئے تھے طوفی نے ان کو بھی ملنا جلنا چھوڑ دیا تھا۔۔
کچھ آ کر اسے ملیں اور کچھ نے جن نظروں سے اسے دیکھا تھا۔۔ وہ نظریں اسے اندر تک چیر گئی تھیں کوئی اور دن ہوتا تو وہ
"ہونہہ"
کہہ کر گردن جھٹک دیتی
مگر آج طوفی کو یہ سب نہیں سوجھ رہا تھا۔۔ وہ آگے بڑھی اور چارپائی کے قریب جاکر بیٹھ گئی بڑے سے دوپٹے میں اس نے خود کو لپیٹ رکھا تھا امی کا چہرہ دیکھ کر وہ خود پر قابو نہ رکھ سکی اور سسک سسک کر رو دی۔۔
اس کے بالکل پیچھے بیٹھی دو عورتیں آپس میں بات کر رہی تھیں
"اللہ مغفرت کرے کتنی اللہ والی تھیں رافت آپا "
"ہاں مگر اولاد کی طرف سے بہت دکھی تھیں۔۔ "ساتھ والی نے چچ چچ کرتے ہوئے لقمہ دیا
"لڑکی نہیں دکھائی دے رہی ان کی۔۔ ان کی عزت کا کچرا کرکے چلی گئی۔۔
ماں نے سات پردوں میں رکھا اور اب وہ بغیر دوپٹے کے پھرتی ہے
توبہ توبہ۔۔ استغفراللہ
پاس سے ایک اور نے اونچی آواز میں استغفار کرنا شروع کر دیا ان کے الفاظ تیزاب کی مانند طوفی کے جسم کو جلائے دے رہے تھے۔۔
کتنا مشکل ہوتا ہے اپنے آپ کے بارے میں منفی باتیں سننا۔۔ کوئی اور وقت ہوتا تو وہ اس استغفار کرنے والی کو ایسی بےنقط سناتی کہ اسے منہ چھپا کر نکل جانا پڑتا مگر اس وقت تو وہ سب کچھ کوڑے کی مانند اس کے وجود کو زخمی کئے جا رہا تھا۔۔
اللہ جانے یسریٰ بھابھی کہاں تھیں اور اس کی دونوں خالائیں کہاں تھیں وہ تو دوپٹے میں منہ چھپائے بیٹھی سنتی رہی جو جو امی کی سہیلیاں اور ہمسائیاں اس پر تبصرے کرتی رہیں۔۔
پھر اس نے اسجد شعیب اور ہارون کی آوازیں سنیں۔۔ ان کے ساتھ کچھ اور مرد بھی تھے۔۔ سب عورتیں کھڑی ہوگئیں یسریٰ نے گاؤن پہن لیا تھا وہ آگے بڑھی اور روتے روتے امی کے کفن کو درست کیا اور پھر مردوں نے جنازے کی چارپائی اٹھا لی
کلمۂ شہادت کی صدا بلند ہوئی
ماؤف دماغ کے ساتھ طوفی نے یاد کیا کہ کلمۂ شہادت کے جواب میں کیا پڑھنا ہوتا ہے تو اس کو بالکل بھی یاد نہ آیا۔۔ اس چیز نے اس کے دل کی دھڑکن کو اتنا بے ترتیب کیا کہ وہ ہوش و خرد سے بیگانہ ہوگئی۔۔
اللہ جانے اسے کتنی دیر بعد ہوش آیا تھا۔۔ چھوٹی خالہ اور یسریٰ بھابھی دونوں اس کے قریب موجود تھیں۔۔ یسریٰ کے ہاتھ میں ٹرے تھی
"چھوٹی خالہ! قاصرہ کو سہارا دے کر بٹھائیں اور اسے کھانا کھلائیں۔۔ "بھابھی خالہ سے مخاطب تھی
بھابھی! امی چلی گئیں؟ قاصرہ نے بےتابی سے پوچھا تھا۔۔
ہاں جی! اسجد بتا رہے تھے کہ آدھے گھنٹے تک وہ لوگ آ جائیں گے تدفین کے بعد۔۔ یسری کی رو رو کر آواز بھاری ہوگئی تھی
یہ محسوس کرکے طوفی اور تڑپ گئی کہ امی میری تھیں اور وارث بھابھی بن گئیں۔۔
خالہ! مجھے لگتا تھا کہ یہ وقت عارضی ہے۔۔ بالآخر سب ٹھیک ہو جائے گا اور میں اپنی امی کے ساتھ نارمل بیٹیوں کی طرح رہنے لگوں گی۔۔ میں ہر بدتمیزی بے ادبی کے بعد یہی سوچتی تھی۔۔ قاصرہ نے اسی خالہ کو ایک دم گلے لگا لیا تھا جس نے اسے ایک دن سڑک پر بغیر دوپٹے کے دیکھ کر روک لیا تھا
قاصرہ! اس تبدیلی کی اصل وجہ جان سکتی ہوں؟
بغیر لگی لپٹی رکھے چھوٹی خالہ نے براہِ راست پوچھ لیا۔۔ قاصرہ گڑبڑائی اور فوری طور پر کوئی جواب نہ دے سکی۔۔ کیونکہ وہ تو بس اپنا آپ منوانے کےلیے ایک کے بعد ایک تبدیلی کی سیڑھیاں اترتی چلی گئی تھی یہ سوچے بغیر کہ یہ سب انحطاط آخر کہاں جا کر رکے گا۔۔
میں اس بارے میں بات کرکے بحث کے دروازے نہیں کھولنا چاہتی۔۔ یہ کہہ کر وہ خالہ سے کتراتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی۔۔
خالہ کچھ نہ بولیں اور اس کی کمر سہلاتی رہیں۔۔
بھابھی اور خالہ نے بہلا بہلا کر چند نوالے اسے کھلا ہی دئیے۔۔ یسریٰ چائے لےکر آئی تو قاصرہ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا
بھابھی! پلیز بتائیں نا امی مجھ سے کیا کہنا چاہتی تھیں؟
یسریٰ کے چہرے پر غم کے بادل چھا گئے۔۔
انہوں نے چند جملے کہے تھے جو میں نے ریکارڈ کر لیے
سناتی ہوں ابھی۔۔ یسری نے موبائل کھول کر امی کا وائس میسج نکالا تھا
درد میں ڈوبی امی کی نحیف آواز ابھری
قاصرہ الطرف میری پیاری بیٹی! مجھ سے بہت غلطی ہوئی کہ میں نے دین سکھانے کے نام پر بہت سی بے جا سختیاں آپ پر کیں اور بہت بار آپ کے ابا کے درشت رویے کا بھی ساتھ دیا۔۔ آپ اسی لیے مجھ سے روٹھی ہوئی ہیں نا! مجھے معاف کر دیں۔۔ میری بخشش کی دعا کر دیں۔۔ بھائیوں کو بھی یہی۔۔ آواز مدھم ہوتی ہوتی ختم ہوگئی۔۔
روتے روتے قاصرہ کی ہچکی بندھ گئی۔۔
امی مجھے لوٹنا ہے امی مجھے لوٹنا ہے۔۔ امی مجھے لوٹنے کی چاہت ہے
امی! لوٹ سکتی ہوں نا!
قاصرہ روتی جاتی تھی اور کہتی جاتی تھی
امی! لوٹ سکتی ہوں نا!