1. ہوم
  2. افسانہ
  3. سید احسن تقویم
  4. دستک

دستک

پورے چاند کی روشنی رات کی تاریکی میں گھل کر اس کا اثر زائل کررہی تھی۔ وہ دن کا تھکا ہارا بستر پر سویا پڑا تھا۔ کروٹ بدلی تو آنکھ کھل گئی۔ بہت کوشش کی مگر دوبارہ آنکھ نہ لگ سکی۔ خیالات اس تیزی سے حملہ آور ہوئے کہ پسپائی اختیار کیے بنا چارہ نہ رہا۔ وہ اٹھا اور بوجھل قدموں سے کچن کی جانب بڑھ گیا۔ چائے تیار کی اور نوش کرنے کی خاطر ڈائنگ ٹیبل پہ آ بیٹھا۔ وہ چائے کی دھیرے دھیرے چسکیاں لیتا ہوا خیالات کے میدانوں میں سرپٹ گھوڑے دوڑا رہاتھا۔ چائے ختم ہوئی تو کپ کو ان دھلے برتنوں کے ساتھ سنک میں چھوڑ دیا۔

وہ کچن سے باہر نکلا ہی تھا کہ بیرونی دروازے پر دستک ہوئی۔ رات کے اس وقت دستک سن کر دل کی رفتار تیز ہوگئی۔ وہ گو کہ کم ملنسار نہ تھا مگر رات کے اس پہر دروازہ کھولنا اسے ایک آنکھ نہ بھاتا۔ اس نے دستک کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی مگر یہ کسی صورت کم نہ ہوتی۔ وہ باہر نکلا، گیراج کو روشن کیا اور بیرونی دروازہ کھول دیا۔

باہر کا منظر عجیب تھا۔ چار آدمی سفید شلوار قمیض میں ملبوس کھڑے تھے۔ کچھ لمحات اس نے اشخاص کی گنتی میں صرف کردیے۔ اس نے شکلوں کا بغور معائنہ کرنے کی کوشش کی مگر کچھ نتیجہ برآمد نہ ہوسکا۔ روشنی ان کے اجلے سفید کپڑوں کا تو سراغ دیتی تھی مگر چہرے جیسے سیاہ ہوں اور روشنی ان سے ٹکڑا کر گویا ان کی طرف ہی سمٹ جاتی ہو۔

وہ کچھ لمحے بت کی مانند کھڑا رہا اور ان میں سے کسی کے بولنے کا انتظار کرتا رہا۔ جب ان اشخاص میں سے کسی نے لب کشائی نہ کی تو اس نے خود ہی بولنے کا بیڑا اٹھایا۔ قوت گویائی جو تقریباً سلب ہوچکی تھی، فقط ایک لفظ "کون" ہی اس کی زبان سے ادا ہوسکا۔ اس نے اپنا سوال دوبارہ دہرایا مگر جواب تو دور خود اپنا ہی سوال اسے سنائی دیا۔ اس نے دوبارہ ان سیاہ مورتوں کی طرف نگاہ کی مگر کچھ سراغ نہ ملا۔ اضطراب تو پہلے ہی سے موجود تھا اب خوف نے بھی انگڑائی کی۔ اسے اپنے ہاتھ کانپتے ہوئے محسوس ہوئے۔ وہ فوراً دروازے کو اندر سے مقفل کرکے اندرونی ہال کی جانب بڑھ گیا۔ دل زور سے سینے پر چوٹیں کرنے لگا جیسے ابھی سینہ پھاڑ کر باہر کی اور ہو جائے گا۔

اس نے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی مگر نتیجہ بے سود رہا۔ دستک وقفوں سے جاری تھی۔ اس نے کان میں روئی ٹھونس لی اور تکیے سے دونوں کانوں کو دبالیا۔ کچھ سکون میسر ہوا تو نیند نے آلیا۔ صبح کا اجالا ہوا تو اس نے ہال کی کھڑکی سے باہر جھانکا۔ بیرونی دروازے کے نچلے حصے سے کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا۔ اس نے سکھ کا سانس لیا۔ پورا دن وہ کام کاج میں لگا رہا حتی کہ شام کی آمد ہوگئی۔ مطلع ابرآلود ہوا تو بارش کا سماں پیدا ہوگیا۔ موسم کی شدت نے اس کے بے چین دل کو اور بے قرار کردیا۔ ہلکی ہلکی بونداباری مسلسل جاری تھی۔ دل کے بھیتر خوف کی وجہ سے آنکھ نہ لگ رہی تھی۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا دروازے پر پھر دستک ہونے لگی۔ وہ خوف کے مارے اسے نظرانداز کرتا رہا۔ اس کے جسم پر کپکپی طاری ہوچکی تھی۔ آخرکار اس نے ہمت جمع کی اور گیراج میں باہر نکل آیا۔ بارش ہورہی تھی۔ آسمان پر بجلی کڑکتی تو ہر سو اجالا ہوجاتا۔ اس نے بیرونی گیٹ کھولا اور باہر جھانکا۔ باہر وہی کل رات والا منظر تھا۔ چار آدمی سفید شلوار قمیض میں ملبوس کھڑے تھے۔ اس نے وہی سوال دہرایا۔

کون ہو تم لوگ؟

جواب نہ پاکر اس کےاندر غصے کی ایک لہر پیدا ہوئی۔ اس نے گالی بکی اور وہی سوال دوبارہ دہرایا۔

سامنے خاموشی تھی۔ وہ پوری طرح بھیگ چکا تھا۔ اچانک بجلی چمکی اور ان چار لوگوں کے چہرے عیاں ہوگئے۔ وہ ان چہروں کو دیکھ کر بری طرح چکرا گیا۔ وہ چہرے کسی اور کے نہ تھے بلکہ سبھی اسی کے ہی ہمشکل تھے۔ گویا خود کو ہی دیکھ لیا ہو مگر وجود کی ایسی تقسیم اس پر خوشگوار تاثر پیدا نہ کر سکی۔ ان چہروں پر کوئی زاویہ اظہار موجود نہ تھا۔ وہ مکمل طور پر خالی تھے۔ اس کا گلا رندھ گیا۔ آواز حلق میں ہی کہیں اٹک گئی۔ ان خالی چہروں کے سامنے گویا وہ خود کو ہی بھول چکا تھا۔ اس کا جسم فقط بارش میں بھیگا ہوا پھتر تھا۔ بجلی چمکی اور چہرے ایک دفعہ پھر عیاں ہوئے۔ وہی چہرے، ہمشکل مگر اس بار مسکراہٹ لیے ہوئے۔ وہ بری طرح گھبرایا، بھاگنے کی خاطر پیچھے مڑنا چاہا۔ مگر خود کو منجمد پایا۔

اسے اپنا وجود کٹھ پتلی محسوس ہوا جو کسی اور کے ہی اشارے پر جنبش کرتا ہو۔ پھر بجلی چمکی۔ پھر چہرے اس کے سامنے کھلے ایک اور تاثر کے ساتھ۔ اب کی بار ان پر رنج و الم پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھا۔ اس کو اپنا دماغ ماوف ہوتا محسوس ہوا۔ پھر بجلی چمکی۔ اب کی بار ان چہروں پر خوف کے سائے منڈلا رہے تھے۔ خوف اپنی انتہا کو یوں پہنچا جیسے رگوں میں خون کی بجائے خوف دوڑتا ہو۔ اس نے اپنی پوری قوت صرف کی اور واپس بھاگنے کی کوشش کی مگر پاوں پھسلا اور سر پتھر سے ٹکرا گیا۔ خون کا فوارا پھوٹا اور بارش کے پانی میں حل ہوکر بہنے لگا۔

صبح کا اجالا ہوا تو اہل محلہ کو سفید کپڑوں میں ملبوس کیچڑ آلود لاش ملی۔