1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. برابر کے شہری

برابر کے شہری

باہر کتوں کا ایسا مسلسل کورس جاری تھا جیسے محلے میں آل پاکستان بھونک کانفرنس منعقد ہو رہی ہو۔ امداد صاحب نے تکیہ جھنجھلاہٹ سے ایک طرف پھینکا، کانوں میں انگلیاں دیں اور بڑبڑائے۔ توبہ ہے! ان کتوں نے تو زندگی اجیرن کر دی ہے۔ دن ہو یا رات، یوں بھونکتے ہیں جیسے محلے کے محافظ نہیں، ہماری نیند کے دشمن ہوں۔

نادیہ نے کتاب بند کرکے میز پر دے ماری۔ بالکل ٹھیک کہتے ہیں پاپا۔ ان کے شور میں پڑھائی تو دور کی بات، آدمی اپنے خیالات بھی اکھٹے نہیں کر سکتا۔ میرا تو دماغ ہر پانچ منٹ بعد بھوں بھوں کا ترجمہ کرنے لگتا ہے۔

بیگم صاحبہ نے پردہ ہٹا کر باہر جھانکا۔ گلی میں چار کتے کسی نہایت اہم قومی مسئلے پر باقاعدہ مباحثہ کر رہے تھے۔

آپ محلے کی سوسائٹی میں شکایت کیوں نہیں کرتے؟ کل پھر ایک راہگیر کو کاٹ لیا۔ کتنے ہی واقعات ہو چکے ہیں۔ لوگ ریبیز سے مر رہے ہیں، ہسپتالوں میں ویکسین نہیں ملتی اور یہ مشٹنڈے دن بدن اکڑتے جا رہے ہیں۔

امداد صاحب نے ایسا قہقہہ لگایا جس میں ہنسی کم اور حماقت زیادہ تھی۔

شکایت؟ ارے بھئی کی تھی۔

پھر؟

بولے، مبارک ہو آپ کے محلے میں اب انسانی حقوق کے ساتھ جانوروں کے حقوق بھی نافذ ہو چکے ہیں۔ کتوں کے خلاف کارروائی ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ہم نے پوچھا پھر ہم کیا کریں؟

انہوں نے بڑی محبت سے مشورہ دیا کہ آپ لوگ صبر، برداشت اور بقائے باہمی کا مظاہرہ کریں۔ آخر یہ کتے بھی اسی زمین کے برابر کے شہری ہیں۔

اسی لمحے باہر سے ایک کتے نے اتنے زور سے بھونکا کہ کھڑکی کے شیشے کانپ اٹھے۔

امداد صاحب نے آہ بھری۔ لگتا ہے یہ برابر کا شہری ابھی اپنی تقریر ختم نہیں کرنا چاہتا۔

بیگم صاحبہ نے باہر جھانکا اور سر ہلاتے ہوئے بولیں، جب ہم اس محلے میں آئے تھے تو گنتی کے تین چار کتے تھے۔ صرف ایک سال میں ان کی آبادی ایسی بڑھی ہے کہ لگتا ہے اگلی مردم شماری میں انسان اقلیت اور کتے اکثریت ہوں گے۔

یہ تو ہے مگر کوئی نہ کوئی حل تو نکالنا ہی پڑے گا۔ اب ہم خود بندوق اٹھا کر ان کا صفایا کرنے سے تو رہے اور فرض کریں جوش میں آ کر ایسا کر بھی دیا تو پہلے قتل کے الزام میں جیل جائیں گے، پھر اگر سزائے موت ہوگئی تو آپ بیوہ ہو جائیں گی اور محلے کے کتے خوشی میں بھونک بھونک کر میری فاتحہ پڑھیں گے۔

یہ آخری بار آپ نے کوئی عقل کی بات کی ہے۔ بیگم صاحبہ نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

شکر ہے آپ کو کچھ تو اچھا لگا! امداد صاحب نے خوش ہو کر کہا۔

ویسے بیگم میرے پاس ایک اچھوتا آئیڈیا ہے۔ اگر کسی طرح کتیاؤں کو شعور دے دیا جائے تو کتوں کی آبادی کافی حد تک کنٹرول ہو سکتی ہے۔

بیگم صاحبہ نے حیرت سے دیکھا۔ تو کیا اب آپ محلے کی کتیاؤں سے مکالمہ کریں گے؟ اور وہ آپ کی زبان بھی سمجھ جائیں گی؟

ارے بیگم یہ کام تو آپ مجھ سے بہتر کر سکتی ہیں۔

وہ طنزیہ انداز میں بولیں۔ آپ نے پھر بکواس شروع کر دی۔ بچے سامنے نہ ہوتے تو آپ کی ساری شوخی نکال دیتی۔

اچھا اچھا۔۔ معذرت۔ امداد صاحب نے فوراً ہاتھ جوڑ دیے۔ اب ذرا میرے آئیڈیے پر غور فرمائیے۔

بھونکیے۔۔ سوری، میرا مطلب ہے بولیے۔ بیگم صاحبہ نے سنجیدہ چہرہ بنائے کہا۔

امداد صاحب ایک لمحے کے لیے کھسیا گئے۔ کانوں تک سرخی دوڑ گئی مگر اگلے ہی لمحے گلا کھنکار کر ایسے سنبھل گئے جیسے یہ جملہ انہوں نے سنا ہی نہ ہو۔

ہمارے جگری دوست نٹور سنگھ رائے کے پاس ایک نایاب کتیا ہے۔ وہ دور ہی سے مساجنی سونگھ لیتی ہے۔ کیا نام ہے اس کا۔۔ ہاں، ٹیرا۔ ٹیرا!

وہی جس کے پاس مساجنی میں اعزازی پی ایچ ڈی کی ڈگری ہے اور خود کو بہت بڑی فیمی نسٹ بھی سمجھتی ہے؟

بالکل وہی۔ ٹیرا صرف بھونکتی ہی نہیں، لکھتی بھی ہے اور بطور مہمان خصوصی تقریریں بھی کر لیتی ہے۔ اپنے لمبے، تیز، نوکیلے دانتوں اور ناخنوں سے سی سیکشن کرکے پاپولیشن بھی کنٹرول لیتی ہے۔

آپ بہت متاثر لگتے ہیں ٹیرا سے! کہیں آپ کا چکر تو نہیں چل رہا اسے کے ساتھ؟

بیگم لاحول ولا قوۃ!

اچھا تو پھر؟

میں رائے صاحب سے درخواست کروں گا کہ ڈاکٹر ٹیرا محلے کی کتیاؤں کو اپنی چھتر چھایا میں لے لے۔ انہیں ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کرے، کارنر میٹنگیں کرے، سیمینار منعقد کرے، شعور بیدار کرے۔

پھر؟

پھر کیا۔۔ جب کتیاؤں میں شعور آ جائے گا تو کتوں کی آبادی خود بخود کم ہونا شروع ہو جائے گی۔

یہ تو واقعی زبردست آئیڈیا ہے۔ بیگم صاحبہ نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔ آپ کو فوراً رائے صاحب کے پاس جانا چاہیے۔

میں بھی یہی سوچ رہا تھا۔ امداد صاحب نے سینہ پھلاتے ہوئے جواب دیا۔

جی ہاں، ایسے انقلابی آئیڈیے زیادہ دیر گھر میں رکھنا بھی خطرناک ہوتے ہیں!

٭٭٭

امداد بھائی، میں خود بھی بہت تنگ آ چکا ہوں ان کتوں کے بھونکنے سے۔ لیکن اس پر اپنی ناراضگی کا اظہار اس لیے نہیں کیا کہ ٹیرا بی بی روٹھ جائے گی۔ آخر قبیلہ تو ایک ہی ہے نا۔ آپ کو تو معلوم ہے میں ٹیرا سے کتنا پیار کرتا ہوں اور یہ بھی مجھ سے کتنا عشق کرتی ہے۔ یہ تو سوتی بھی میرے ساتھ ہے۔ میرے بغیر اسے نیند آتی ہی نہیں۔

آپ کا یہ آئیڈیا مجھے تو بہت پسند آیا۔ اب ذرا ٹیرا بی بی سے بھی مشورہ کر لیتے ہیں۔ دیکھتے ہیں ان کی کیا رضا ہوتی ہے۔ رائے صاحب نے امداد صاحب کی پوری تجویز بڑے غور سے سننے کے بعد کہا۔

آپ ٹیرا بی بی کو بلائیے۔ باقی انہیں قائل کرنا میرے ذمے۔ مجھے امید ہے، وہ انکار نہیں کریں گی۔

اچھا، ابھی حاضر کرتا ہوں۔

رائے صاحب اندر گئے اور چند لمحوں بعد ٹیرا بی بی کو نہایت شان سے اپنے بیڈروم سے لے آئے۔ ٹیرا بی بی ایسے جلوہ افروز ہوئیں جیسے کسی بین الاقوامی کانفرنس کی کلیدی مقرر تشریف لا رہی ہوں۔

امداد صاحب نے پوری روداد سنائی۔ ٹیرا بی بی نے آنکھیں بند کرکے چند لمحے گہری سوچ کا تاثر دیا، پھر بڑے اعتماد سے بولیں:

امداد بھائی، مسئلہ اتنا مشکل نہیں جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔ آپ صرف اتنا کیجیے کہ محلے کی سب سے خرانٹ، شاطر، گھاگ اور سینئر کتیا کو میرے پاس لے آئیے۔ ایسی کتیا جس کے بال عمر سے کم اور تجربات سے زیادہ سفید ہوئے ہوں۔ جس نے گھاٹ گھاٹ کا پانی ہی نہیں، کافی، وہسکی اور سکاچ تک چکھ رکھی ہو۔ جس کے محلے کے ہر نوعمر، جوان، ادھیڑ اور بزرگ کتے سے کسی نہ کسی زمانے میں مراسم رہے ہوں اور حرامی حلالی پّلے جننے میں اس کا نام گنز ورلڈ ریکارڈز میں ہو۔ ایسی کتیا جس کی بھونک محلے میں فرمانِ آخر سمجھی جاتی ہو، جس کی فالوونگ ہزاروں میں ہو اور جس کے ایک غرانے سے آدھا محلہ سہم جائے۔

ٹیرا بی بی نے گردن اکڑا کر بات آگے بڑھائی۔

پھر باقی کام مجھ پر چھوڑ دیجیے۔ پہلے میں اسے کتیاؤں کے حقوق، خودمختاری اور مردانہ جبر پر ایک ولولہ انگیز لیکچر دوں گی۔ پھر چند انقلابی نعرے ازبر کراؤں گی۔ اس کے بعد جینڈر سینسٹیویٹی، سیکسچول ہراسمنٹ، ٹوکسک میسکولینیٹی اور پدرسری نظام کی باریکیوں پر ایک خصوصی سرٹیفائیڈ کورس ہوگا۔ آخر میں ایک مختصر سا تربیتی کتابچہ، چند پمفلٹ اور ایک ورکشاپ کٹ بھی اس کے حوالے کر دوں گی۔

ٹیرا نے اطمینان سے پنجہ جھاڑا اور بولی، پھر محلے میں ہماری ایک مقامی شاخ قائم ہوگی، جہاں کتیاؤں کی کپیسٹی بلڈنگ، لیڈرشپ ڈویلپمنٹ، شعور بیداری، ایڈووکیسی، نیٹ ورکنگ اور کمیونٹی موبلائزیشن پر باقاعدہ سیمینار اور ورکشاپس ہوں گی۔ جب ہر کتیا اپنے حقوق سے مکمل آگاہ ہو جائے گی تو کوئی کتا کسی کتیا کے قریب جانے سے پہلے دس بار سوچے گا۔ یوں کتوں کی آبادی خودبخود قابو میں آنا شروع ہو جائے گی اور وہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا جسے برسوں سے میونسپل کمیٹیاں، ویٹرنری محکمے اور کتا پکڑ مہمات حل نہیں کر سکیں۔

واہ بھئی واہ! آپ نے تو معمہ حل کر دیا۔ امداد صاحب خوشی سے اچھلتے ہوئے آگے بڑھے اور عقیدت سے ٹیرا بی بی کا ماتھا چوم لیا۔

امداد صاحب نے کئی دن کی تگ و دو کے بعد آخرکار ایک ایسی کتیا ڈھونڈ ہی نکالی جو رائے صاحب کے بیان کردہ اوصاف پر بدرجۂ اتم پوری اترتی تھی۔ اس کا نام ایگل تھا۔ یعنی عقابنی۔ نام اس پر خوب جچتا تھا، کیونکہ وہ ہر کتے پر ایسی برق رفتاری سے جھپٹتی جیسے عقاب شکار پر جھپٹتا ہے۔ عمر اگرچہ ادھیڑ ہو چکی تھی، مگر چال میں اب بھی وہی لوچ، اچھال میں وہی پھرتی اور اعتماد میں وہی بانکپن تھا کہ کئی نوخیز کتیائیں بھی اس کے آگے پانی بھرتی تھیں۔ ابھی تک سال میں دو بار حاملہ ہوتی اور ہر حمل سے آٹھ دس پِلے باآسانی جنم دے چھوڑتی۔ اس کے تھنوں میں دودھ کی ایسی فراوانی تھی کہ اس کے اپنے پلوں کے علاوہ محلے کے آوارہ پلے بھی موقع پا کر چسر چسر اس کا دودھ پی لیتے تھے۔ ایگل بھی ایسی فیاض تھی کہ کبھی کسی پلّے کو مایوس نہ لوٹاتی۔ ٹیرا بی بی نے جی جان سے اس کی تربیت کی اور جلد ہی محترمہ ایگل اپنی مظلوم و معصوم برادری کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ایک ولولہ انگیز اور انقلابی خطاب فرما رہی تھیں۔

ارے او گلی محلوں کے کچرا دانوں پر راج کرنے والی سہیلیو! ذرا اپنے کان کھڑے کرو اور میری بات غور سے سنو۔ تم سب پر اس پدرسری محلے میں جو ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں نا، آج ذرا اس پورے نظام کا پوسٹ مارٹم کرتے ہیں۔

سنو! ایگل نے اپنی دم کو ایک جھٹکا دیا اور مجمعے پر عقابی نظر دوڑائی۔ ایک کتیا کا جسم صرف اور صرف اسی کی جاگیر ہے۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ کس گلی کے کتے کو لفٹ کرواتی ہے اور کسے دیکھ کر دانت نکالتی ہے۔ وہ کب کتورے پیدا کرے گی، کتنے کرے گی، یا اس پدرسری نظام کو مزید کتے فراہم کرنے سے صاف انکار کر دے گی۔ یہ فیصلہ بھی وہی کرے گی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ قصائی کی دکان کے پیچھے ہڈی پر جھگڑتے ہوئے کوئی بھی ٹمی یا ٹومی اپنی مردانگی کا ڈھول پیٹنے آ پہنچے۔ بھئی، کانسینٹ، یعنی مرضی، لازم ہے۔ چاہے وہ کسی چودھری کے گھر کا پالتو کتا ہو یا گلی کا آوارہ نگوڑا، قانون سب کے لیے ایک ہی ہونا چاہیے۔

ایک لمحے کو سناٹا چھا گیا۔ پھر پچھلی صف میں بیٹھی ایک نوجوان کتیا جوش سے اچھلی، واہ ایگل بہن، دل کی بات کہہ دی۔

واہ واہ! کئی آوازیں ایک ساتھ بلند ہوئیں۔ کچھ کتیاؤں نے خوشی سے دمیں ہلائیں، چند نے زمین پر پنجے مار مار کر اپنی تائید کا اظہار کیا، جبکہ دو چار جذباتی کتیائیں تو جوش میں مسلسل بھونکنے لگیں۔

ایگل بہن زندہ باد۔

شعور ہمارا حق ہے۔

مرضی کے بغیر کچھ نہیں۔

نعرے اتنے زور سے گونجے کہ آس پاس منڈلاتے چند کتے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اور دور کھڑا ایک بڈھا کتا آہستہ سے بڑبڑایا، لگتا ہے آج پھر کوئی سیمینار ہو رہا ہے۔

ایگل نے اپنی آواز مزید بلند کی اور ایک پنجہ فضا میں لہراتے ہوئے کہا، میرا جسم، میری مرضی، ہماری بھاشا میں اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ کوئی کتیا کتورے پیدا کرے گی یا نہیں، کتنے پیدا کرے گی اور کس سیزن میں کرے گی، یہ فیصلہ صرف اور صرف اسی کا ہوگا۔ کوئی دوسرا اس کی کوکھ کا ٹھیکیدار نہیں بن سکتا۔

مجمعے میں سرگوشیوں کی لہر دوڑ گئی۔ کئی نوجوان کتیاؤں نے زور زور سے دمیں ہلائیں، جبکہ چند بوڑھی کتیائیں ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر اثبات میں سر ہلانے لگیں۔

ایگل نے وقفہ لیے بغیر بات آگے بڑھائی اور اگر کوئی کتیا حاملہ ہو جائے مگر اسے کتورے جننے کا ارادہ نہ ہو، تو یہ بھی اس کا اپنا فیصلہ ہے۔ پورے محلے کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اس کی کوکھ پر اپنی مرضی مسلط کرے؟

کسی نے نہیں۔ مجمعے سے کئی آوازیں ایک ساتھ بلند ہوئیں۔

بالکل! ایگل نے جوش سے کہا اور یاد رکھو، جو کتا اس فیصلے کے راستے میں کھڑا ہو، سوال پر سوال اٹھائے، یا خود کو اس کا نگہبان سمجھنے لگے، وہ چاہے کتنا ہی مہذب بن کر آئے، دراصل وہی اس پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتا ہے۔ وہی سب سے بڑا مساجنسٹ ہے۔ وہی سب سے بڑا فاشسٹ ہے۔ وہی سب سے بڑا شاونسٹ ہے!

شرم کرو۔۔ شرم کرو۔۔ چند جذباتی کتیاؤں نے نعرہ لگایا، جبکہ پچھلی قطار میں بیٹھی ایک نوخیز کتیا جذبات سے مغلوب ہو کر بول اٹھی، ایگل بہن، آج تو آپ نے دل کی بھڑاس نکال دی۔

پچھلی صف سے ایک عمر رسیدہ کتیا جذبات سے کانپتی آواز میں بولی، ایگل بہن، آج آپ نے برسوں سے ہمارے سینوں میں دبی ہوئی بھونک کو زبان دے دی۔

یہ سنتے ہی پورا مجمع جوش میں آ گیا۔ کسی نے زمین پر پنجے مارنے شروع کر دیے، کوئی خوشی سے اچھلنے لگی، کئی کتیائیں ایک دوسرے سے لپٹ گئیں اور فضا نعروں، بھونکوں اور شور سے اس طرح گونج اٹھی کہ آس پاس کھڑے کتے گھبرا کر آہستہ آہستہ وہاں سے کھسکنے لگے۔

میرا جسم میری مرضی کا مطلب یہ بھی ہے کہ کسی کتیا کی مرضی کے بنا کوئی کتا اس کے قریب نہیں پھٹک سکتا۔ چاہے وہ اس کا پکا والا جوڑی دار ہو، کوئی کل وقتی یا پارٹ ٹائم بوائے فرینڈ کتا ہو، یا رات کے اندھیرے میں حملہ کرنے والا کوئی السیشین اور اپنا ریپ بھی اپنی مرضی سے کروائے گی۔ اگر کوئی کتا بدنگاہ ہے اور کسی کتیا پر موقع دیکھ کر ہاتھ صاف کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے ریپ کرنے سے پہلے کتیا سے جھک کر، عاجزی سے اجازت لینا پڑے گی اور یہ لازمی ہے۔

تمہاری دنیا میں میرا جسم میری مرضی کا مطلب یہ ہے کہ ہر کتیا چاہے وہ کسی بھی نسل یا علاقے سے تعلق رکھتی ہو، اپنی مرضی سے اپنی کھال چمکائے گی، مٹی میں لوٹے گی یا نالے کے پانی سے نہائے گی۔ وہ گلے میں پٹا پہنے یا ننگی گھومے، یہ اس کا اپنا لائف اسٹائل اور باڈی پوزیٹیویٹی ہے۔ کسی مائی کے لال کتے کو کوئی حق نہیں کہ وہ اس کے لباس یا کھال پر تبصرہ کرے، اس پر نگاہ بد ڈالے، بھونک کر اسے ڈرائے یا اسے شریف اور نیک پروین کتیا بننے کے بھاشن دے۔

یہ سنتے ہی مجمعہ ایک بار پھر نعروں سے گونج اٹھا۔

ایگل نے اپنی آواز میں مزید گرج پیدا کی۔ سیدھی سی بات ہے۔ جب تم گلی سے گزر رہی ہو تو کسی کتے کو یہ حق نہیں کہ جان بوجھ کر تم سے کندھا ٹکرا کر گزرے، تمہارے بالکل پیچھے آ کر اپنی موجودگی کا احساس دلاتا پھرے، یا چوراہے پر بیٹھ کر تمہیں اس طرح گھورتا رہے جیسے تم کوئی چلتی پھرتی ہڈی ہو اور سن لو، تمہاری چھوڑی ہوئی روٹی پر زبردستی قبضہ جما لینا بھی اسی ذہنیت کی علامت ہے۔ یہ سب ٹوکسک میسکولینیٹی ہے۔

شرم کرو۔۔ شرم کرو۔۔ مجمعے سے نعرے بلند ہوئے۔ ایک نوجوان کتیا نے غصے سے زمین پر پنجہ مارا، جبکہ ایک بوڑھی کتیا جذبات سے کانپتی آواز میں بولی، ایگل بہن، آج تو آپ نے ان سب کی اصلیت ننگی کر دی۔

ایگل نے فاتحانہ انداز میں گردن بلند کی۔ خلاصہ صرف ایک ہے۔ محلے کا کوئی بھی کتا، خواہ کتنا ہی معصوم بنے، خود کو کسی کتیا کا مالک، ٹھیکیدار یا محافظ نہ سمجھے۔ ہمیں کسی کی سرپرستی نہیں چاہیے۔ ہم اپنی حفاظت خود کر سکتی ہیں۔

پچھلی صف سے ایک نوخیز کتیا نے معصومیت سے پوچھا، لیکن ایگل بہن، کچھ کتے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اچھے ہیں، ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہی نہیں۔

ایگل نے ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، بیٹی، ہر محلے میں کچھ کتے ایسے ضرور ہوتے ہیں جو خود کو بے قصور ثابت کرنے میں پوری زندگی گزار دیتے ہیں۔ یاد رکھو، صرف یہ کہہ دینا کہ میں ویسا نہیں ہوں کوئی تمغہ نہیں۔ اچھا کردار دعووں سے نہیں، رویّے سے پہچانا جاتا ہے۔

مجمعے میں چند لمحوں کے لیے خاموشی چھا گئی، پھر یکایک نعروں کا طوفان اٹھا۔

ایگل بہن زندہ باد

شعور۔۔ شعور۔۔ شعور

کئی کتیائیں جوش میں اچھلنے لگیں، کچھ نے خوشی سے دمیں ہلائیں، جبکہ دور کھڑے چند کتے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ اگلی گلی کی طرف کھسکنے لگے۔

اور ایک بات اچھی طرح کان کھول کر سن لو۔ ایگل نے مجمعے پر عقابی نظر ڈالتے ہوئے کہا۔ جو کتا ہر وقت اپنے آپ کو کتیاؤں کے حقوق کا سب سے بڑا چیمپئن اور پکا فیمی نسٹ بتاتا پھرے، اس سے زیادہ خطرناک مساجنسٹ کوئی نہیں ہوتا۔ یاد رکھو، میل کبھی فیمی نسٹ نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی اپنے آپ کو فیمی نسٹ کہتا پھرے تو سمجھ لو، اس کی نظر کسی نہ کسی ہڈی پر ضرور ہے۔

یہ سنتے ہی چند لمحوں کے لیے ایسا سناٹا چھا گیا کہ دور کہیں ہڈی چبانے کی آواز بھی سنائی دینے لگی۔ پھر اچانک ایک نوجوان کتیا نے پوری قوت سے نعرہ لگایا، ایگل بہن زندہ باد!

بس پھر کیا تھا۔ پورا مجمع گویا پھٹ پڑا۔ سینکڑوں کتیائیں بیک وقت بھونکنے لگیں، دمیں بے اختیار ہلنے لگیں، پنجے زمین پر اس زور سے پڑنے لگے کہ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے پورا محلہ تالیاں بجا رہا ہو۔

واہ بہن واہ!

دل کی بات کہہ دی!

آج شعور آ گیا

جذبات اس قدر بے قابو ہوئے کہ چند طاقتور کتیاؤں نے ایگل کو کندھوں پر اٹھا لیا۔ پھر ایک فاتحانہ جلوس نکلا۔ آگے ایگل فاتح جرنیلوں کی طرح گردن اکڑائے بیٹھی تھی، پیچھے سینکڑوں کتیائیں جوش میں نعرے لگاتی، دمیں ہلاتی اور فتح کا جشن مناتی چلی جا رہی تھیں۔

رات کا سناٹا دیر تک ایک ہی نعرے سے گونجتا رہا۔

میرا جسم۔۔ میری مرضی!

دور کھڑے چند بوڑھے کتے ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہے، جبکہ محلے کے نوخیز کتوں نے احتیاطاً اس رات کسی بھی کتیا کے قریب سے گزرنے کے بجائے دوسرا راستہ اختیار کرنا ہی بہتر سمجھا۔

ایگل کے اس شاہکار خطاب کو محلے کے انٹرنیشنل میڈیا نے بریکنگ نیوز کے طور پر کور کیا۔ ہر ایرا غیرا نتھو خیرا اس کے ساتھ پوڈ کاسٹ کرنا شروع ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایگل محلے کی ایک معمولی، عام سی کتیا سے ایک اعلیٰ پائے کی برانڈڈ فیمی نسٹ کتیا بن گئی۔ اب محلے کے سبھی نام نہاد چوہدری کتے اس کے نام سے ہی گھبراتے اور دور دور رہتے۔ اس کی ان روشن خیال تعلیمات نے فوراً اپنا جادوئی اثر دکھایا۔ پدرسری نظام کو مزید کتے فراہم نہ کرنے کی مہم اتنی کامیاب رہی کہ کتوں کی افزائشِ نسل کے اعداد و شمار راکٹ کی رفتار سے نیچے آ گئے۔

نتیجہ یہ نکلا کہ پورے محلے میں ایک مثالی سکون طاری ہوگیا۔ اب شاذ و نادر ہی کوئی کتا سر اٹھانے یا بھونکنے کی جرات کرتا تھا۔ اگر کوئی منچلا کتا پرانی عادت سے مجبور ہو کر کہیں ہلکی سی غراہٹ کا مظاہرہ کرتا بھی، تو کتیائیں فوراً چاروں طرف سے گھیرا ڈال کر میرا جسم میری مرضی کا ایسا فلک شگاف نعرہ لگاتیں کہ اس غریب کو دم دبا کر بھاگنا پڑتا۔