1. ہوم
  2. افسانہ
  3. محمد شہزاد
  4. بیش قیمت خواب (3)

بیش قیمت خواب (3)

پچھلے تین دنوں سے ملک اور اس کی بیوی کا ڈبل بیڈ محمودہ کے زیر استعمال تھا۔ ملک کی بیوی میکے میں تھی۔ جب جب ایسا ہوتا ملک دفتر نہ جاتا۔ کام گھر سے ہی کرتا۔

جب تھک جاتا تو محمودہ اسے آرام پہنچا کر دوبارہ تازہ دم کر دیتی۔ تھکن کا یہ احساس اسے دن میں کم از کم تین بار تو ضرور ہوتا۔ محمودہ بھی اسکی تھکن اتارنے کے لئے سو سو جتن کرتی۔ دوپہر کا وقت تھا۔ دوسرے نوکر سرونٹ کوارٹر میں تھے۔ اس کے دونوں بیٹے دفتر میں تھے۔ وہ تھکن سے چور محمودہ کے سامنے پڑا تھا۔

"ملک صاحب۔۔ آج میں پھر آپ سے وہی پرانی خواہش دہرا رہی ہوں۔ صرف ایک بیٹا اور عنایت کر دیجئے مجھے۔ آج کوئی احتیاط نہ برتیے۔ جس جان نے آنا ہے آ کر ہی رہتی ہے۔ کر دیجئے نہ یہ خواہش پوری؟ آپ سے کبھی کوئی فرمائش نہیں کی۔ کر دیجئے آج! میں آپ کے حق میں تاحیات دعاگو رہوں گی"۔ محمودہ ملک کے آگے گڑگڑا رہی تھی۔

"یہ ممکن نہیں۔ میرا سابقہ پچھتاوا ہی مجھے چین سے سونے نہیں دیتا۔ بوبی اتنا پیارا بچہ ہے۔ میرا جی چاہتا ہے اسے گود میں اٹھا کر پیار کروں۔ بہت دل کرتا ہے اسے اپناؤ لیکن یہ ممکن نہیں۔ وہ تو اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ بیٹی نہیں ہوئی۔ ورنہ میں تو جیتے جی مر جاتا۔۔ "

"کیوں ملک صاحب۔۔ بیٹیوں سے اتنی نفرت کیوں ہے آپ کو؟" محمودہ نے پوچھا۔

"بیٹی مرد کی غیرت ہوتی ہے محمودہ۔ تجھ سے ہوتی تو تیرے ہی جیسی ہوتی۔ کسی نہ کسی کا بستر گرم کر رہی ہوتی اس وقت۔ میری تو اب بھی بیٹی کی خواہش ہے مگر اب تمہاری بیگم صاحبہ مزید بچے پیدا نہیں کر سکتیں اور میں دوسری شادی۔۔ کھل کر یا چھپ کر بھی نہیں کر سکتا"۔ ملک نے کڑوا سچ اگل ہی دیا جسے سن کر محمودہ کی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے۔

"تو رو رہی ہے؟ غلطی ہوگئی۔ منہ سے نکل گیا۔ میرا یہ مطلب نہیں تھا۔ مجھے معاف کر دے محمودہ۔۔ " ملک نے ہاتھ جوڑتے کہا۔ اسے فوراً احساس ہو چکا تھا اپنی غلطی کا۔ بات بہت ہی سخت تھی جو محمودہ کے دل پر تیر کی طرح پیوست ہو چکی تھی۔ ملک محمودہ کو واقعی بہت چاہتا تھا۔ اگر ذرا بھی ممکن ہوتا تو رحیم سے خلع دلوا کر اس سے شادی کر لیتا۔

"آپ کیوں معافی مانگ رہے ہیں۔۔ سچ ہی تو کہا آپ نے۔۔ افسانے آپ کی بیٹی نہیں۔ پھر بھی وہی کر رہی ہے جو آپ نے ابھی ابھی کہا۔۔ " محمودہ ملک سے گھر کی کوئی بات نہ چھپاتی۔ افسانے اور بوبی کا رشتہ اور اسکی نئی نوکری کا حال۔۔ سب کچھ ملک کے علم تھا۔ وہ بھی بہت بڑا رازدان مرد تھا۔ ہر شے نگل جاتا تھا۔ دکھی ضرور ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ کر بھی کیا سکتا تھا؟ کس حیثیت میں بوبی کی اصلاح کرے؟ کیوں افسانے کو غیرت کے نام پر قتل کرے؟ وہ تو اس کا خون ہی نہ تھی! وہ اکثر سوچتا کہ وہ مکمل بے غیرت ہو چکا ہے۔ وہ محمودہ کے ساتھ سوتا۔ دونوں بیٹے محمودہ کے ساتھ سوتے۔ بیوی تک محمودہ کے ساتھ سوتی۔ حمام میں سب ہی ننگے تھے! دونوں بیٹوں کو اس کے کرتوتوں کا علم تھا۔ وہ اس کا پردہ رکھتے اور باپ ان کا۔ باہمی احترام اسی کا نام تھا۔

"ہم دونوں کے ساتھ مکافات عمل ہو رہا ہے محمودہ۔ صبر کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں!" ملک اسے تسلی دے رہا تھا۔ نہ جانے محمودہ کو کیا سوجھی، جھٹ سے طیش میں آ گئی اور دو ٹوک انداز میں ملک کو ایسی دھمکی دے ڈالی جس کے آگے اس نے ہتھیار ڈال دیے۔ اس نے اس لمحے محمودہ کو قدرتی انداز میں پیار کیا۔ ایک نہیں کئی بار! مگر وہ اداس تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے محمودہ کی خواہش پورا کرنا پڑی۔ کیا کرتا۔۔ بےبس تھا۔

وہ نہ کرتا تو اس کے دونوں بیٹوں میں سے کوئی ایک کر دیتا! گو وہ دونوں بھی احتیاط کے قائل تھے مگر محمودہ کی خواہش کے آگے فوراً ڈھیر ہو سکتے تھے۔ اس عورت کا حسن بڑوں بڑوں کی عقل پر پردہ ڈال سکتا تھا۔ اب اس کی رب ذوالجلال سے ایک ہی دعا تھی۔۔ لڑکی نہ ہو! ادھر یہ ہی دعا محمودہ کے لبوں پر بھی تھی۔ وہ اپنے آنسو بھول چکی تھی۔ اب وہ بے انتہا خوش تھی۔ وہ نماز پڑھنا چاہتی تھی۔ غسل کرنے سے پہلے اس نے ملک کے پیر چومے جیسے وہ کوئی پہنچا ہوا پیر ہو اور وہ اسکی مریدنی۔ ایسی جو بیٹے کی خواہش لئے در در بھٹک رہی تھی اور آج اسے بیٹا مل ہی گیا!

***

"اچھا یہ بتا تو نے اتنے کم دنوں میں پانچ ہزار عورتیں کیسے اکھٹے کر لیں؟" رانی نے افسانے سے پوچھا۔

"بس قیمت چکا دی صرف لمحہ بھر سوچ کر۔۔ " افسانے بولی۔

"کیا مطلب؟ قیمت تو دفتر دے رہا ہے۔۔ " بات رانی کی سمجھ میں نہیں آئی۔

"یہ سب کچھ میرے کزن دیمے نے کیا ہے۔ اس کی پہلی شرط یہ تھی کہ وہ ایک پیسہ بھی نہیں لے گا اور یہ کام کر دے گا لیکن میں اس سے شادی کے لئے ہاں کر دوں۔۔ "

"تو یہ قیمت چکائی تو نے۔۔ "

"نہیں۔ میں نے اسے صاف صاف کہہ دیا کہ میری اس سے شادی ناممکن ہے"۔

"تو پھر کونسی قیمت چکائی تو نے؟"

"اس نے ایک اور شرط رکھی۔ وہ میرے ساتھ سونا چاہتا تھا۔ اس صورت میں بھی وہ کچھ نہیں لے گا۔ میں نے یہ قیمت چکائی۔۔ "

"ارے واہ۔۔ دل خوش کر دیا۔ اسے کہتے ہیں فیصلہ کرنے کی قوت! اچھا تجھے بعد میں کوئی پچھتاوا تو نہیں ہوا؟ کیونکہ تو دیمے کو شدید ناپسند کرتی ہے۔۔ "

"آپ کی شاگرد ہوں۔ آپ ہی نے نصیحت کی تھی کہ جیون میں کسی چیز کا رگریٹ نہ کرنا ورنہ زندگی ساری عمر دکھی گزرے گی اور ناپسند اسے شوہر کے روپ میں کرتی ہوں۔ میں کوئی اس کی بیوی تو بن نہیں گئی!" افسانے نے شرارتی لہجے میں کہا۔

"اف۔۔ " رانی کے منہ سے اک سرد آہ نکلی۔ اچھا یہ تو بتا کیسا تھا وہ؟" اب رانی سوالوں سے لطف اندوز ہونا شروع ہوگئی تھی۔

"میکس کی طرح منہ زور گھوڑا!" افسانے نے قہقہہ بلند کرتے کہا۔ رانی قہقے لگانی لگی۔

"اچھا یہ بتا کتنی بار ہوا؟"

"صرف چار بار!" افسانے ہنستے ہوئے بولی۔

"کتنا ٹائم دیا تو نے اسے؟"

"یہ ہی کوئی تین گھنٹے۔۔ "

"بوبی نہیں تھا گھر پر؟"

"وہ شمیم کے ہاں فلم دیکھ رہا تھا۔۔ " افسانے بولی۔ رانی کی آنکھوں میں شیطانی چمک امڈ رہی تھی۔

"پھر ایک کام اور کر۔۔ "

"کیا؟"

"بوبی کے ساتھ دیمے کو بھی لے آ۔ زبردست جشن ہوگا! لائے گی نا؟"

"کیوں نہیں۔ اب تو مجھے بھی جشن منانا آ گیا ہے۔۔ آہستہ آہستہ۔۔ " افسانے نے یہ جملہ سنجیدہ انداز میں کہا۔ رانی مطلب سمجھ گئی۔ کہیں دل کے کسی گوشے میں خفیف سا پچھتاوا بول رہا تھا جس کی زندگی چند لمحات سے زیادہ نہ تھی۔ ایسے پچھتاوے اسے بھی ہوا کرتے تھے مگر ایک یا دو منٹ سے زیادہ دیر کے لئے نہیں!

"پھر وہ دس لاکھ کا چیک میں تیرے نام لکھوں گی۔۔ " رانی بولی۔

"کون سا دس لاکھ کا؟" افسانے نے حیرت سے پوچھا۔

"ارے طے یہ پایا تھا کہ دیمے کو فی عورت دو سو روپے کمیشن ملے گا۔ اب اسے تو اپنی پے منٹ مل گئی۔ لہذا اس پیسے پر تیرا حق ہے۔ تو یہ پیسہ اپنے ملبوسات پر خرچ کرنا اور ہاں تیری ڈرائیونگ کلاس کیسی جا رہی ہے؟"

"جناب اب میں گاڑی چلا سکتی ہوں۔ تنگ سے تنگ جگہ میں ریورس بھی کر لیتی ہوں۔ اگلی بار ڈرائیور کی جگہ میں چلاؤں گی۔ پرائیویسی اچھی ہے نہ!" افسانے آنکھ مارتے بولی۔

"تو بھی ایک نمبر کی حرافہ ہے میری طرح!" رانی نے قہقہہ لگاتے کہا اور پھر دونوں دیر تک قہقہے لگاتی رہیں۔ افسانے کو ایک اور بہت عظیم دوست اور ماں مل چکی تھی رانی کی صورت میں!

***

"یار سیدھے سادے لفظوں میں یہ ہے کہ اگر میرا دل کرے تو چوک میں کھڑے کتے کو دے دوں۔۔ بھری دوپہر میں۔۔ ہزاروں کے سامنے۔۔ آگے سے بھی، پیچھے سے بھی۔۔ ہر طرح سے۔۔ لیکن اپنے شوہر کو نہ دوں! اس کے باوجود میری شان میں کوئی کمی نہ آئے۔ میں سچی ساوتری رہوں۔ میں شادی شدہ بھی رہوں۔ قابل عزت بیوی، ماں، بہن، بیٹی، ساس اور بہو بھی رہوں۔ اسی معاشرے کی ایسی آئیڈیل عورت بھی رہوں جسے فیمی نازیوں کے علاوہ ہر طبقہ رشک بھری نگاہوں سے دیکھے اور کاپی کرے! اب سمجھ میں آیا تیری؟ اگر اب بھی نہیں آیا تو ایک ڈرنک اور لے لے۔ تیرا گلاس خالی ہو چکا ہے"۔

یہ ایک سہانی شام تھی۔ رانی کے گھر کے وسیع و عریض لان کے علاوہ مہمان گھر کے اندر لاؤنج میں بھی موجود تھے۔ سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ لائیو موسیقی چل رہی تھی۔ ایک خوش گلو گلوکار اور گلوکارہ فلمی گانوں اور غزلوں سے طبع آزمائی کر رہے تھے۔ نشاط و سرور کی یہ محفل رانی نے افسانے کے اعزاز میں سجائی تھی۔ ایک سے بڑھ کر ایک "نابغہ" اس محفل کی جان تھا۔

کھوڑُو "میرا جسم میری مرضی" کا مفہوم جاننے کی کوشش کر رہا تھا۔ رانی نے پہلے پہل اسے دانشوروں کی طرح دیدے گھما گھما کر سمجھانے کی کوشش کی تو اس نے سمجھنے سے صاف انکار کر دیا۔

"رانی تجھے پتہ ہے ہم کتنے گہرے دوست ہیں۔ نہ میں تیرے آگے نہ تو میرے آگے دانشوری جھاڑ سکتی ہے۔ مجھ سے وہ ڈائلاگ بازی نہ کر جو تو ڈونرز سے کرتی ہے۔ مجھے تو آپس کی زبان میں بتا کہ اس سلوگن کا مطلب کیا ہے!" کھوڑُو بولا جو بہت اعلی تعلیم یافتہ امیر زمیندار اور سیاستدان تھا۔۔ رانی کا پرانا عاشق۔ اسے اچھی طرح علم تھا کہ "میرا جسم میرا مرضی" کیا ہے۔ وہ رانی کو چھیڑ رہا تھا۔ وہ اپنی دوست اور میزبان کو اشتعال دلا رہا تھا تا کہ تنگ آ کر وہ اسے اس نعرے کا مطلب اس انداز میں سمجھائے جس میں وہ سمجھنا چاہتا تھا۔

رانی بھی سمجھ چکی تھی۔ اسے علم تھا جب تک وہ کھوڑُو کو "آسان" زبان میں نہیں سمجھائے گی، وہ اس کی جان نہیں چھوڑے گا۔ رانی کسی مہمان سے بات کرے تو کھوڑُو ہاتھ میں جام تھامے لہراتا لہراتا کباب میں ہڈی بن جائے اور دھت شرابی کے انداز میں پوچھے: "رانی یہ بتا میرا جسم میری مرضی ہے کیا!" وہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر کر رہا تھا۔ موج میں آیا ہوا تھا۔ پارٹی کا مزہ لے رہا تھا۔ پورا ڈرم بھی شراب کا پی لے، کبھی دھت نہیں ہوتا تھا۔ جب کھوڑُو کو تیسری بار اسی انداز میں اچنگ اٹھی تو رانی سے نہ رہا گیا۔ اس نے سب کچھ کھول کھول کر بتا دیا "چوک"، "کتے"، "دینے دلانے" اور "آگے پیچھے" والی بات کرکے۔ کھوڑُو ایسے خوش ہوا جیسے موگیمبو خوش ہوا کرتا تھا۔ وہ اب اس "علم غیب" سے دیگر مہمانوں کو مستفید کر رہا تھا بار بار یہ کہہ کر: "تمہیں پتہ ہے یہ میرا جسم اور میری مرضی اصل میں ہے کیا؟ یہ ہے کہ اگر میرا دل کرے تو چوک میں کھڑے کتے کو۔۔ " یہ کہتے کہتے وہ کتے کی طرح حرکت کرتا مگر بھونکے بغیر۔ کھوڑُو کی ان ہی حرکتوں کی وجہ سے رانی کا لان نان سٹاپ قہقوں سے گونج رہا تھا۔

"رانی واٹ از فیمی نازی؟" میکس نے پوچھا اور پھر کہا: "بہت دلچسپ ٹرم ہے!"

"ارے کچھ بھی نہیں بس میری ایجاد ہے۔ "فیمی نسٹ" سے "فیمی نازی" بنا دیا۔ جب میں عورتوں کو ٹاک شوز پر بے تکان بولتا اور گرجتا برستا دیکھتی ہوں، نازیوں کی یاد شدت سے آ جاتی ہے۔ یہ طیش میں منہ سے جھاگ اڑاتے، دوسروں کی بات کاٹتے، پاگلوں کے طرح چلا چلا کر ایک ہی جملہ ہذیانی انداز میں بکے جاتی ہیں بکے جاتی ہیں۔ سوچے سمجھے بغیر جو منہ میں آئے بھونکے جائیں گی بھونکے جائیں گی۔ بس انکے لئے ہے یہ ٹرمینالوجی۔ اصلی فیمی نسٹس کی تو میں بہت قدر کرتی ہوں۔۔ " رانی نے یہ بات ایسے بھولپن سے کہی کہ سب پھر سے قہقہے بلند کرنے لگے۔

"لو بھئی اصلی مہمان تو اب پدھارے۔۔ " جیسے ہی رانی کے منہ سے یہ جملہ نکلا سب مہمانوں کی نظروں کا رخ وہیں ہوگیا جہاں رانی کی تھیں۔

افسانے گاڑی سے اتر کر لان کی جانب دھیرے دھیرے قدم بڑھا رہی تھی۔ ساتھ میں اسکی ماں، بھائی اور شمیم تھے۔ لیکن وہ سب افسانے سے ایک قدم پیچھے تھے۔۔ جیسے وہ انکی لیڈر ہو اور یہ تینوں اس کے پیروکار۔ اس کی چال میں بلا کا حسن اور لے تھی۔ اس معاملے میں ماں بھی کچھ کم نہ تھی۔ دونوں اعلی قسم کی نیوی بلیو ساڑھیوں میں ملبوس تھیں۔ دونوں کے بلاؤز سلیولیس، بدن سے تنے ہوئے، آدھی آدھی چھاتیاں ڈھانپے! فضا میں ایک آہ بلند ہوئی۔ جیسے شاہد پرویز نے اپنے ستار پر سا سے سا تک کی مینڈھ کھینچ کر ہر پنڈت اور خاں صاحب کو دم بخود کر دیا ہو۔

"خوبصورتی کے دو حسین جزیرے!" میکس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔

"بے شک!" رانی ان دونوں کی جانب تکتے تکتے بولی۔ لگ رہا تھا دونوں حسینائیں کتھک جانتی ہیں۔ قدم ایسے ہی ناپ تول کر بڑھا رہی تھیں۔ کسی کے وہم و گماں تک میں نہ ہوگا کہ ان میں سے ایک کسی کی گھریلو ملازمہ ہے اور دوسری اسکی بیٹی۔ ان کی زمین پر قدم رکھنے، اسے اٹھانے اور آگے بڑھنے میں غضب کی خوبصورتی اور ادائیں تھیں۔ کون دل ہوگا اس لمحے جو دھک دھک نہ کر رہا ہو! یہ ہی وہ لمحہ تھا جب رانی مہمانوں کو چھوڑ کر ان کی طرف بڑھی۔

"رانی کے غریب خانے پر آپ سب کو خوش آمدید۔ اس بے رنگ محفل میں رنگ ہی رنگ بھر دیے آپ نے اپنی آمد سے۔۔ " رانی نے باہیں پھیلاتے کہا۔ اس اگوہرء میں صوفیہ اور شاہینہ رانی کے پاس پہنچ کر اس کے دائیں بائیں کھڑی ہو چکی تھیں۔ وہ واقعی رانی تھی اور یہ دائیں بائیں کھڑی خوبصورت لڑکیاں اس کی کنیزیں۔ تاثر کچھ ایسا ملا دیکھنے والوں کو!

بوبی نے رانی کو تازہ گلاب کے پھولوں کا گلدستہ پیش کیا جو اس نے وصول کرنے کے بعد صوفیہ کے ہاتھ میں پکڑا دیا۔ قد میں تیرہ سالہ بوبی رانی کے برابر ہی تھا۔ اس نے پیار سے بوبی کو گلے لگایا۔ اس لمحے اس کوئی سخت سے چیز اپنی دائیں ران پر محسوس ہوئی۔ اسکے بدن میں اک لہر سی دوڑ گئی۔ اس احساس سے وہ بہت اچھی طرح واقف تھی۔ یہ اس کے کئی حسین ترین احساسات میں سے ایک تھا۔ لیکن تیرہ سال کے بچے کی بدولت ایسا احساس بدن میں اترتے اس نے دوسری بار محسوس کیا۔ پہلی بار یہ احساس اسے اس کے بھائی عدیل نے دیا تھا۔ رانی کی آنکھوں میں ابھرتی چمک محمودہ پلک چھپکتے محسوس کر چکی تھی۔ بوبی کے بعد رانی افسانے، محمودہ اور شمیم سے گلے ملی۔ ماریہ اور عارف لاؤنج میں بیٹھے تھے۔ افسانے کو آتے دیکھ کر وہ بھی باہر آ چکے تھے اور اب رانی کے قریب پہنچ چکے تھے۔

"ماشااللہ افسانے۔۔ ماشااللہ محمودہ۔۔ دونوں ماں بیٹی آج قیامت ڈھا رہی ہیں۔ اللہ نظر بد سے بچائے۔ جڑواں بہنیں لگ رہی ہیں بس ایک کم عمر ہے۔۔ اتنا سا فرق ہے"۔ ماریہ دونوں سے گلے ملتے بولی۔ نہ جانے اچانک کیا ہوا کہ عارف بھی ان دونوں سے گلے مل لیا۔ یہ سب کچھ اتنا بےساختہ اور آناً فاناً ہوا کہ اس کا نوٹس کوئی لے ہی نہ سکا۔ ماریہ بھی نہیں! عارف اس بےساختگی میں ایک نئے احساس سے روشناس ہو چکا تھا۔

رانی نے افسانے کو ان لوگوں سے فرداً فرداً متعارف کروایا جن سے وہ پہلی بار مل رہی تھی۔ کھوڑُو بری طرح افسانے کی ماں پر لٹو ہو چکا تھا۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ڈرنکس کے کاونٹر پر لے گیا جو لان میں ہی سجایا گیا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے محمودہ کے لئے سکاچ کا ڈرنک تیار کیا۔ وہ یہ سوچ ہی نہیں سکتا تھا کہ جس عورت کو وہ یہ مشروب پیش کررہا تھا وہ لوئر مڈل کلاس سے تھی۔ محمودہ نے بھی بھرم قائم رکھا۔ ویسے بھی سکاچ اس کے لئے نئی نہ تھی۔ ملک کے ساتھ کئی بار پی چکی تھی۔ رانی کی زیادہ توجہ بوبی کی جانب تھی۔ افسانے ماریہ کے ساتھ لاؤنج میں جا چکی تھی۔

"سچی!" افسانے نے ماریہ سے پوچھا۔

"ہاں۔۔ اس میں جھوٹ بولنے والی کیا بات ہے!" ماریہ نے افسانے کی حیرانی دور کرتے کہا۔

"لیکن اتنی جلدی؟ میں تو کم از کم چار سال بچہ پیدا نہ کروں۔۔ " افسانے بولی۔

"افسانے میری شادی پینتیس برس میں ہوئی۔ بس دو بچے کرنے ہیں چالیس سے پہلے پہلے۔ اس لحاظ سے درست وقت ہے"۔ ماریہ بولی۔ اس کے آنگن میں ایک نیا پھول کھلنے والا تھا۔

"اوہو۔ یہ تو میں بھول ہی جاتی ہوں۔ دراصل آپ ابھی بھی چوبیس پچیس کی ہی دکھتی ہیں۔ کب آ رہا ہے بے بی؟"

"بس پانچ ماہ بعد۔۔ "

"لڑکا ہے یا لڑکی؟"

"ارے اتنی جلدی جینڈر نہیں پتہ چلتا۔ جب چھ ماہ کا ہوگا تب پتہ چلے گا۔ لیکن میرا دل کہہ رہا لڑکا ہے۔ انشااللہ!" ماریہ نے ایسے لہجے میں کہا جیسے رب سے دعاگو ہو اک بیٹے کے لئے۔

"بیٹا ہی ہوگا۔۔ انشااللہ!"

"دیکھ کھوڑُو محمودہ پر لائن مار رہا ہے۔ ایک نمبر کا حرامی ہے یہ۔ آج تیری ماں کی خیر نہیں"۔ رانی لاونج میں داخل ہوتے افسانے اور ماریہ کے سامنے رکھی میز پر بیٹھتے بولی۔

"ماں اچھی طرح جانتی ہے ان جیسے ٹھرکیوں سے نمٹنا"۔ افسانے بولی۔

"تو کھوڑُو کے حرامی پن کو نہیں جانتی۔ ضدی سے ضدی عورت کو بھی دو منٹ میں اپنے بستر پر لے آتا ہے اور تیری اماں بھی خوب بھاؤ دے رہی ہے اسے"۔ رانی نے کہا۔

"ماں اس وقت آپکے گھر پر ہے۔ کھوڑُو کیسے اسے اپنے بستر پر لے کر جا سکتا ہے؟" افسانے بولی۔

"تجھے یہ بات سمجھ نہیں آئے گی۔ چھوڑ۔ یہ تیری کزن شمیم بہت پسند آئی مجھے۔ بہت دم ہے اس میں۔ تو اسی کی نوکری کی بات کررہی تھی نہ مجھ سے اس دن؟" رانی نے افسانے سے پوچھا۔

"جی یہ ہی ہے"۔ افسانے بولی۔

"یہ بھی تیری طرح قیمت چکا دے گی؟" رانی نے پوچھا پھر مزید کہتے بولی:

"رکھ لے۔ لیکن انگریزی بولنا سکھا اسے ورنہ ایک خاص لیول سے آگے نہ جا سکے گی اور تمام ادائیں اور نخرے بھی سکھا"۔ رانی بولی۔

شمیم بھی بہت خوبصورت تھی اور رانی حسن کی دلدادہ تھی۔ اپنی پسند کا حسن رانی کسی بھی قیمت پر خریدنے کے لئے ہر وقت تیار رہتی۔

"آپ فکر نہ کریں۔ ہر قسم کی قیمت ادا کرے گی۔ اسے احساس ہے۔ انگریزی کافی بہتر کر بھی چکی ہے۔ ٹھیک ہو جائے گی۔ میں خود ٹرین کر رہی ہوں"۔ افسانے بولی۔

"اگر تو ٹرین کر رہی ہے تو ہو جائے گی۔ شاباش۔ چالیس ہزار پر رکھ لے"۔ رانی بولی۔

"تھینک یو رانی۔ یو آر ویری جینیرس!" افسانے نے خوشی سے کہا۔

"تم دونوں گپیں ہانکوں۔ میں ذرا دائی اماں کا شکریہ ادا کر آؤ۔۔ " رانی یہ کہہ کر لان کی جانب چل پڑی۔

"یہ دائی اماں کون ہے؟" ماریہ نے افسانے سے پوچھا۔

"اصل میں ریحانہ پریگنینٹ ہوگئی تھی کسی سیاستدان سے۔ دائی اماں نے سب پریشانیاں منٹوں میں دور کر دیں"۔ افسانے بولی۔

"اچھا صغراں کی بات ہو رہی ہے۔ شاید بوڑھی ہوگئی ہے اس لئے اب اسے رانی نے "دائی اماں" کا خطاب دے دیا ہے"۔ ماریہ بولی۔

"کہیں آپ بھی؟"

"ہاں بس ایک دفعہ۔ بہت پرانی بات ہے۔۔ " ماریہ مسکراتے بولی۔ استاد اور شاگرد میں کسی چیز کا پردہ نہ تھا۔

"عارف سے؟"

"اور کون ہو سکتا ہے۔ تم یقین کرو یا نہ کرو۔ میرے تعلقات پہلے دن سے اس لمحے تک سوائے عارف کے کسی اور سے نہیں رہے۔۔ " ماریہ نے بہت فخر سے اپنی شاگردہ کو یقین دلایا۔

"غلط۔ میرے ساتھ بھی تو ہیں؟" افسانے نے شرارت بھرے انداز میں کہا۔

"میں مرد کی بات کر رہی ہوں بےوقوف۔ تیرا میرا رشتہ تو ہمیشہ قائم رہےگا۔ بہت مس کرتی ہوں میں تجھے۔ کسی دن چکر لگا نا جب عارف نہ ہو۔ بہت دل مچلتا ہے"۔

"کیوں عارف اب بڈھا ہوگیا ہے کیا؟" افسانے نے پوچھا۔

"ارے نہیں۔ منہ زور گھوڑا ہے۔ لیکن تیرے میرے رشتہ کا مزا ہی کچھ اور ہے۔ تجھے نہیں ہوتی میری ضرورت؟ یا سب کچھ تجھے بوبی سے ہی مل جاتا ہے؟ ماریہ بولی۔

"آپکی بات ہی کچھ اور ہے۔ آپ جیسا کوئی بھی نہیں۔ اچھا پھر ایک بات بتائیے سچ سچ۔۔ میرے علاوہ کس کس سے رہا؟" افسانے بولی۔

"صرف رانی سے! اور رانی سے بہت ہی پرانا ہے۔ کیوں جیلس ہو رہی ہے؟" ماریہ بولی۔

"ہرگز نہیں۔ مجھے پتہ ہے رانی تو آپکی پچیس برس پرانی دوست ہے۔ اتنی تو میری عمر بھی نہیں ابھی۔ رانی گریٹ عورت ہے"۔

"اس میں کوئی شک نہیں۔ اچھی بات ہے تو جیلس نہیں ہوئی۔ میں بھی نہیں ہوئی۔ مجھے پورا پورا علم ہے تیرا کیا چکر چل رہا ہے رانی سے۔۔ " ماریہ آنکھیں گھما کر بولی۔

"مجھے بھی پتہ ہے کہ آپ کو سب پتہ ہے۔ رانی مجھ سے کچھ نہیں چھپاتی۔ بلکہ مجھے تو وہ کچھ پتہ ہے جو آپکو بھی معلوم نہ ہوگا۔۔ " افسانے نے فاتحانہ انداز میں کہا۔

"تو مچھلی کو تیرنا سکھا رہی ہے افسانے؟ عدیل کی بات کر رہی ہے نہ تو؟" ماریہ نے یہ کہہ کر افسانے کا پانی اتار دیا۔

"غضب خدا کا! آپ کو تو سب پتہ ہے۔۔ مان گئے!" افسانے نے جملہ ختم کرتے ہی قہقہ لگایا اور ماریہ بھی اسی کی طرح قہقہے لگانے لگی۔ عین اس لمحے دونوں نے ایک باوقار لڑکی کو اندر آتے دیکھا۔ خوبصورت اور مشرقی لباس میں۔ اگلے لمحے دونوں نے رانی کو اس کی جانب پڑھتے دیکھا۔

"آؤ عائشہ آؤ۔ تم نہ آتیں تو یہ محفل ادھوری رہتی۔ میں تہہ دل سے مشکور ہوں تمہاری تشریف آوری کا۔ بھئی ہر جگہ تمہارا چرچہ ہے۔ نیک کام کیا تم نے۔ یقین مانو اصلی کام تو تم کر رہی ہو۔ ہم تو جھک مار رہے ہیں"۔ رانی ہمت نسواں ٹرسٹ کی بانی سربراہ عائشہ سے مخاطب تھی۔ اٹھائیس برس کی اس لڑکی کا تعلق بہت بڑے گھر سے تھا۔ یہ عورتوں کے اصلی حقوق کے لئے لڑتی تھی۔ یہ واحد فیمی نسٹ تھی جس کی رانی دل سے عزت کرتی تھی۔ زارا خان کیس کے حوالے سے اسکے کام کی بے حد پذیرائی ہوئی"۔

"آپکی ذرہ نوازی ہے رانی۔ ورنہ آپ کے ادارے کے مقابلے میں ہم تو کچھ بھی نہیں!" عائشہ نے انکساری سے رانی کو جواب دیا۔

"عائشہ ہم اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتے۔ جو ڈونر کہتا ہے وہی کر سکتے ہیں۔ مجھے تمہارے سامنے یہ اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں۔ کبھی کبھی میرا جی چاہتا ہے کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر تمہارے مشن کو بطور رضاکار آگے بڑھاؤں۔ لیکن یقین جانو ایسا کرنے سے کئی گھروں میں چولہا جلنا بند ہو جائے گا۔ اس تماشے میں بہت سوں کا بھلا بھی ہو رہا ہے"۔ رانی سچ کہہ رہی تھی۔ وہ اپنی ذات میں ایک ادارہ تھی۔ وہ تو پھر بھی کچھ کام کیا کرتی تھی۔ باقی صرف استحصال کرتے تھے۔ عائشہ رانی کی باتیں سن کر مسکرا دی۔

"آو میں تمہیں میکس سے ملاتی ہوں"۔ رانی کے ہلنے سے پہلے میکس ان دونوں تک پہنچ چکا تھا۔ گن سن لینے کی خاطر اس کے پیچھے پیچھے ساروی، شبانہ اور سائرہ بھی ہو لیں۔

"ہیلو عائشہ۔ کیسی ہو اور مجھے فٹافٹ یہ بتاؤ کہ جینڈر والے قانون پر تم اتنی ناخوش کیوں ہو؟" میکس نے پوچھا۔

"بھئی اللہ میاں نے یا تو مرد پیدا کیا یا عورت یا تیسری جنس جو نہ مرد ہے نہ عورت۔ یہاں تک تو کسی کو بھی کوئی اعتراض نہیں۔ اب جینڈر اور لفاظی کے بل بوتے پر درجنوں اجناس پیدا کرنا ماڈرن جہالت ہے۔ اچھا آپ یہ بتائیے کہ جینڈر کے تحت جو بارہ یا تیرہ کیٹیگریز آپ نے ایجاد کی ہیں۔ جن کی تشہیر پر آپ ڈالرز پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔ ان میں کتنی کیٹیگریز انڈے دیتی ہیں اور کتنے بچے دیتی ہیں؟ اب ظاہر ہے اس کا کوئی جواب نہیں آپ کے پاس۔ کیونکہ سوال ہی ایک دم بےکار ہے اور سوال یوں بےکار ہے کہ آپ لوگوں کا فلسفہ جینڈر ہی نری بکواس ہے۔ پھر شہریوں کو یہ حق دینا کہ اگر کوئی مکمل مرد یہ محسوس کرے کہ وہ مرد نہیں عورت ہے اور مکمل عورت یہ سمجھے کہ وہ عورت نہیں مرد ہے تو جانتے ہیں کیا ہوگا؟

مرد شادیاں رچائیں گے مردوں سے اور عورت عورتوں سے۔ یہ ہمارے معاشرے میں ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دینے کی سازش ہے جسے ہم کامیاب نہیں ہونے دینگے۔ اب آپ لوگ ہم پر اپنا وہ ایجنڈہ تھوپ رہے ہیں جو آپکے معاشرے میں ذی شعور لوگوں کی تنقید کا کڑا نشانہ بن رہا ہے۔ آپ ہی کا چرچ سیم سیکس میرج کو اتفاق رائے سے سپورٹ نہیں کر رہا۔ اس قسم کی بےہودہ چیزیں خلاف عقل ہیں۔ آپ لوگوں کو خواہ مخواہ اشتعال دلا رہے ہیں۔ اس ملک کی خواتین کے ہزاروں سنجیدہ مسائل ہیں۔ آپ قصبوں اور دیہاتوں میں جائیں۔ وہاں آپکو عورتیں اس جوہڑ سے پینے کا پانی اکٹھا کرتی نظر آئینگی جہاں جانور بھی ساتھ کھڑا پانی پیتا ہے اور آپ سب کے ہاتھ میں اس وقت بیش قیمت وہسکی کا گلاس ہے۔

اس وہسکی کی چند بوتلوں کی قیمت ایک ٹیوب ویل کے برابر ہے۔ دور دراز علاقوں میں ایک ٹیوب ویل لوگوں کی زندگی میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ یہاں لینڈ مافیا دریاؤں میں مٹی ڈال کر، ان کا راستہ بند کرکے ان پر کمرشل پلازے کھڑے کر رہی ہے۔ اسی طرح سیلاب آتے ہیں۔ میں نے کئی بار ایس پی آئی کو توجہ دلائی اس ایشو پر۔ پر وہ کہتا ہے ہم تو بہت بڑے بڑے ایشوز اٹھاتے ہیں یہ تو معمولی سا لوکل ایشو ہے۔ جہالت کی انتہا دیکھیئے۔ سیلاب ہر سال لاکھوں لوگوں کو بے گھر کرتا ہے مگر آپکی فنڈڈ این جی او کہتی ہے یہ ایک لوکل اور معمولی سا ایشو ہے! آپ ڈونر لوگ جہالت پیدا کرتے ہیں اور این جی اوز پھیلاتی ہیں۔ لیکن یہ زیادہ عرصے نہیں چلے گا۔ اب سوشل میڈیا کا دور ہے۔ لوگ بیدار ہو رہے ہیں۔۔ "

عائشہ نے ایک ہی سانس میں بہت کچھ کہہ دیا۔ میکس یس یس کہتا رہا۔ وہ سوچ تو یہ ہی رہا تھا کہ لڑکی درست کہہ رہی ہے۔ لیکن وہ اپنی حیثیت میں پالیسی پر عمل درآمد کروانے والا دفتر تھا۔ پالیسی بنانا اس کے بس سے باہر تھا۔

"لیکن عائشہ کیا برا ہے اس میں اگر غریب ممالک کی عورتوں کو بھی وہ ہی آزادی مل جائے جو ترقی یافتہ ممالک کی عورتوں کے پاس ہے؟ ہماری سوسائٹی میں عورت ہر وہ کام کر رہی ہے جو یہاں صرف مرد کرتے ہیں اور وہ مردوں سے بہتر کر رہی ہیں۔ اسی لئے تو ہم سپر پاور مانے جاتے ہیں"۔ میکس عائشہ کو جان بوجھ کر کرید رہا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ کیوں عائشہ مغرب کی عورتوں کے حوالے سے سوچ کی مخالفت کرتی ہے۔

"میکس صاحب آپ سپر پاور عورتوں کو آزادی دے کر نہیں لوگوں کو غلام بنا کر بنے ہیں۔ مقامی لوگوں کی زمینوں پر قابض ہو کر آپ نے اپنی سپر پاور کھڑی کی۔ لڑاؤ تقسیم کرو اور حکومت کرو آپ لوگوں کا فلسفہ سیاست رہا۔ عورت کی آزادی تو محض شو پیس ہے آپ کے معاشرے میں۔ کہاں سے آزاد ہے بیچاری؟ صبح سویرے اٹھ جاتی ہے۔ ڈھنگ سے ناشتہ بھی نہیں کرتی۔ کام پر پہنچتی ہے۔ سارا دن کھپتی ہے۔ گھر واپس آ کر گھر کے کاموں میں جت جاتی ہے۔ اس کے پاس کہاں وقت کہ شادی کرے، گھر بسائے، خاندان پروان چڑھائے، اولاد کی تربیت کرے۔ ہمارا مرد دو دو تین تین نوکریاں کرتا ہے گھر چلانے کے لئے۔ زندگی کی تپش سے اپنی عورت کو محفوظ رکھتا ہے۔ اپنی عورت کو گھر سے باہر نہیں نکالتا۔ وہ ہی عورت گھر میں بچوں کی تربیت کرتی ہے۔ اب آپ لوگ این جی اوز کے ذریعے اسی عورت کا ذہن خراب کرتے ہیں آزادی کے نام پر۔ جس قسم کی آزادی کا پرچار یہ این جی اوز آپ کے اشاروں پر کرتی ہیں یہ دراصل بغاوت ہے اسی مرد کے خلاف جو تن تنہا سارے خاندان کو پال رہا ہے۔ یعنی وہ عورت اپنے شوہر کو یہ کہہ دے کہ سنبھالوں گھر اور بچے۔ یہ شادی اور خاندانی سسٹم بلامعاوضہ جسم فروشی ہے۔ میں اپنا جسم کیوں بیچوں مفت میں؟ میں اسے اچھی قیمت پر باہر کیوں نہ بیچوں؟ میرے جسم پر صرف میرا حق ہے۔ میرا شوہر، باپ، بھائی یا بیٹا کون ہوتا ہے میرے جسم پر حق جتانے والا؟ اور خدا نخواستہ اگر آپکی گمراہ کن برین واشنگ کا شکار ہمارا مرد ہوگیا تو وہ گھر آ کر حکم صادر کر دے گا کہ بس بہت ہوگیا۔ میں کیوں تین تین نوکریاں کروں خاندان پالنے کے لئے؟ اپنی عورت کو کہے گا کہ تو بہت آزادی آزادی کرتی پھرتی ہے صبح سے تو بھی کام دھندے پر لگ۔

اٹھارہ برس کی بیٹی کو بھی یہ ہی کہے گا کہ میری طرح تم سب کرو تین تین نوکریاں کیونکہ تو سب مردوں کے برابر ہو۔ اس کے جواب میں اس مرد کے ماں باپ پہلے ہونگے جو کہیں گے کہ کیا تو پاگل ہوگیا ہے! تو میکس صاحب اس طرح ہمارا خاندانی نظام تباہ ہو جائے گا۔ میکس صاحب آپکے معاشرے میں عورت آزاد نہیں غلام ہے۔ آزاد تو یہاں ہے۔ ہمارے باپ، بھائی اور شوہر رانیوں کی طرح رکھتے ہیں ہمیں۔ ہر قسم کی آزادی ہمیں میسر ہے۔ ہم سب نے تعلیم حاصل کی۔ پھر اعلی تعلیم حاصل کی۔ ہم سب نوکریاں کرتی ہیں۔ ہم میں بزنس وومین ہیں، سیاستدان ہیں، بیوروکریسی میں ہیں، پولیس اور فوج میں ہیں اور کسے کہتے ہیں آزادی؟ آپ کے ملک میں تو آزاد عورت ابھی تک صدر نہ بن سکی۔ ہمارے ملک میں دو بار بن بھی چکی۔ اگر آپ لوگ پسماندہ اقوام کے لئے واقعی کچھ کرنا چاہتے ہیں تو اپنی رجیم چینج پالیسی ترک کر دیجئے۔ ہم لوگ اپنے مسائل خود طے کر لیں گے۔ جہاں جہاں آپ نے امن کے نام پر رجیم چینج کیا وہاں وہاں دہشت گردی، لاقانونیت، عورتوں اور بچوں کے خلاف ظلم پروان چڑھا۔ عراق، افغانستان، شام، ایران، لبیا، مصر میں دیکھ لیجئے اپنے کارنامے۔ آپ لوگ بحثیت ملک یا قوم کسی سرے سے بھی انسان کہلانے کے لائق نہیں! میرے خیال میں اتنا کافی ہے۔ رانی کی پارٹی کو مزید سنجیدہ نہ کیا جائے تو بہتر ہے"۔ عائشہ نے مدلل انداز میں کہا۔ دائیں بائیں کھڑے لوگ ہوں ہاں کرنے لگے۔

اس پر میکس نے کہا: "ویری انٹرسٹنگ۔ ہمیں کسی دن ملنا چاہیے۔ اس بات پر تفصیل سے تبادلہ رائے ہونا چاہیے۔ میں جلد ہی تمہیں اپنے نئے سفیر سے ملواؤں گا۔ یہ باتیں اس کے سامنے کرنے کا زیادہ فائدہ ہوگا۔ میرے خیال میں ہمیں اب موسیقی سے لطف اندوز ہونا چاہیے"۔ میکس اس بہانے جان چھڑا کر نکل گیا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس نے خواہ مخواہ بھڑ کے چھتے میں ہاتھ ڈالدیا۔ اس اثنا میں ماریہ اور افسانے بھی رانی اور عائشہ کے پاس پہنچ چکے تھے۔

"ارے بوبی تم شیرنی کے بھائی ہو کر تم فانٹا پی رہ ہو۔۔ اسے چھوڑو۔ شیر بنو اور یہ پیو!" رانی نے یہ کہہ کر کاونٹر سے ایک جام اٹھا کر اسکے ہاتھ میں تھما دیا۔ "شیر بن کر دکھاؤ۔۔ ایک ہی سانس میں چڑھا جاؤں!" رانی نے بچے کو دم دیا۔ بچہ بھی واقعی شیرنی کا ہی تھا۔ دوسرا سانس نہیں لیا۔ منہ نہیں بنایا۔ پورا گلاس چڑھا لیا۔ رانی متاثر ہوئے بغیر نہ رہی۔ اسے عدیل یاد آ گیا۔

"واہ بوبی۔ جی خوش کر دیا۔ ایک اور لو! مزہ تو تب ہے اگر تم اسے بھی پہلے والے کی طرح چڑھا جاؤں!"

"رانی آنٹی۔۔ یہ لیجئے!" اگلے لمحے گلاس خالی تھا۔ رانی نے بھینچ کر اسکے ماتھے کا بوسہ لے لیا۔

"میں آتی ہوں۔ تم تیسرا بھی لو!" رانی بولی۔ اسے اپنے مہمانوں کا خیال بھی تھا۔

"بوبی کی ماں نظر نہیں آ رہی۔۔ کہاں گئی؟" رانی نے ادھر ادھر دیکھتے سوچا۔

محفل عروج پر پہنچ چکی تھی۔ کھانا شروع ہو چکا تھا۔ افسانے اور ماریہ اپنی اپنی پلیٹیں لے کر واپس لاونج میں آ چکی تھیں۔ زیادہ تر مہمان باہر موسیقی اور کھانے دونوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ عارف شمیم سے گپییں لگا رہا تھا۔ صوفیہ، شاہینہ، ستارہ اور عمرانہ ایک علیحدہ گروپ کی صورت میں کھسر پسر کر رہیں تھیں۔

"کیا خیال ہے؟" ماریہ نے افسانے کی آنکھوں میں دیکھتے کہا۔ اسے ان نگاہوں کا مطلب اچھی طرح معلوم تھا۔

"چلیئے لیکن صرف دس منٹ!" افسانے بولی۔

"دس بھی بہت ہیں!" ماریہ بولی۔ دونوں خواتین لاونج سے سیڑھیوں کی طرف بڑھیں۔ وہ اسی کمرے کی طرف بڑھ رہی تھیں جہاں افسانے اور میکس کی تلاطم خیز ملاقات ہوئی تھی۔ کمرے کے دروازے پر پہنچ کر افسانے کے پردہ سماعت سے ہلکی مگر میٹھی میٹھی چند مانوس چیخیں ٹکرائیں۔ اس کے کانوں میں ایسی آواز ہمیشہ اس وقت ٹکراتی جب ماں اور باپ دونوں بند کمرے میں ہوتے۔ لیکن چیخوں کی دوسری آواز سے اس کے کان مانوس نہ تھے۔ وہ سوچ رہی تھی کہ شاید اس کے کان بج رہے ہوں۔ تجسس تو اسکے خون میں تھا۔ کسی سوال کا جواب نہ ملے تو نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں میل دور بھاگ جایا کرتی۔ ادھر ماریہ اس کی جانب ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کوئی بہت بڑا راز دھماکے سے کھلنا چاہ رہا ہو۔

افسانے نے دروازہ ہینڈل گھما کر ایک ہی جھٹکے میں کھول دیا۔ آوازیں محمودہ کی تھیں جو اسی بستر پر موجود تھی جہاں کبھی افسانے نے پوری ایک رات میکس کے ساتھ گذاری تھی۔ صوفے سے لیکر قالین تک ایک خوبصورت نیوی بلیو ساڑھی بکھری پڑی تھی۔ دروازے کے جھٹکے کی آواز نے محمودہ کو کھوڑُو کے جسم سے آزاد کر دیا۔ دونوں اچھل کر کھڑے ہو چکے تھے۔ ماریہ نے اس لمحے محسوس کیا کہ افسانے کے جسم کی ہر شے ماں کی ہو بہو نقل تھی۔ کمرے میں تین لوگ قطار میں کھڑے تھے۔۔ خاموش۔۔ منظم۔ سب سے آگے افسانے، اسکے پیچھے ماریہ اور آخر میں رانی جو اپنے مہمانوں کو تنہا ہرگز نہ چھوڑا کرتی!

"اس دن کو کیسے ہینڈل کیا آپ نے؟" رانی نے افسانے سے پوچھا۔ آج وہ افسانے سے "تو" نہیں، "تم" بھی نہیں، "بیٹا" بھی نہیں۔۔ بلکہ "آپ جناب" والے انداز میں مخاطب تھی۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ کوئی آس پاس تھا۔ بس یہ اس کی ادا تھی اور اس ادا سے کوئی خاص موڈ کا تاثر دینا ہرگز مقصود نہ تھا۔ مثلاً وہ بہت زبردست اور مست موڈ میں اپنے دوستوں سے "آپ" میں بھی اور "تم" میں بھی گفتگو کیا کرتی تھی۔

"میں آپ کو بعد میں بتاؤ گی۔ لیکن پہلے آپ بتائیے کہ آپ نے کیسے لیا اس واقع کو؟" افسانے نے الٹا رانی سے سوال کر ڈالا۔

"بھئی میرے لئے اب کچھ سرپرائز نہیں۔ میں نے بہت کچھ دیکھ لیا دنیا میں۔ کھوڑُو تو ہے ہی ایک نمبر کا حرامی۔ اس کی آنکھوں سے محمودہ کو دیکھ کر جو ہوس ٹپک رہی تھی مجھے یقین تھا کوئی کانٹ کرکے چھوڑے گا۔ اسی لئے میری ایک نظر اس پر تھی اور دوسری محمودہ پر۔ نہ جانے کون گھڑی اسے لے کر میکس والے روم میں گھس گیا۔ بے صبرا اتنا کہ کنڈی تک نہ لگائی۔ چل وہ تو ہے ہی پیدائشی بے غیرت لیکن محمودہ کو یہ کیا سوجھی؟ آپ تو کہہ رہی تھیں کہ بڑی جہاندیدہ خاتون ہیں آپ کی والدہ"۔ رانی نے آخری جملہ افسانے کی نقل مارتے کہا جس پر دونوں ہنس دیں۔

"کھوڑُو حرامی اور بےغیرت ضرور ہے مگر زور زبردستی کرنے والا انسان ہر گز نہیں۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ محمودہ کو اس کی مرضی کے بغیر اوپر لے گیا ہو۔ وہ چاہتی تو اسے طریقے سے ہینڈل کر سکتی تھی۔ پھر وہ دوبارہ اصرار بھی نہ کرتا۔ محمودہ نے یقیناً اسے بہت ہی گھنا بھاؤ دیا ہوگا۔ تب ہی اس نے دیدہ دلیری کا مظاہرہ کیا۔ خیر جانے دو۔ یہاں ایسا ایک نہیں سینکڑوں بار ہو چکا ہے۔ میرے گھر پر نہیں اوروں کے گھر پر بھی ہو چکا ہے۔ ایک دفعہ شبانہ کے گھر پر پارٹی زوروں پر تھی۔ اس نے شبانہ کو ہی گھیر لیا۔ بہت برسوں کی بات ہے جب اس کا حسن شباب پر تھا۔ وہاں بھی میں نے ہی ان دونوں کو رنگے ہاتھ پکڑا تھا۔ یہ باتھ روم کے بہانے شبانہ کو اندر لے گیا اور ہوگیا شروع۔ شبانہ تو ہر گھڑی تیار کامران رہتی ہے اس قسم کی مہم جوئی کے لئے۔ تو جو کچھ اس نے اور محمودہ نے کیا میرے لئے تو کیا پارٹی میں ہر مہمان کے لئے بہت پرانا قصہ تھا۔ تجھے ایک راز بتاؤ؟" رانی نے اب سرگوشی کرتے کہا تا کہ سسپنس پیدا ہو حالانکہ آس پاس نہ بندہ نہ بندے کی ذات!

"جی بتائیے!" افسانے بولی۔

"کیا تو نے ایک بات نوٹ کی؟" اگر نہیں تو اب کرنا۔ یہ سب بیگمات ڈرائیورز بڑے ہینڈسم رکھتی ہیں۔ جوان۔ لمبے چوڑے۔ مضبوط جسم کے۔ تن ساز قسم کے۔ کسی کا بھی قد چھ فٹ سے کم نہیں ہوتا۔ سب کے شوہر منحنی ٹائپ۔ بیوی کے ایک جھٹکے کی مار نہیں۔ تو تیرے خیال میں کون انکی پیاس بجھاتا ہوگا؟ رانی نے ڈرامائی انداز میں پوچھا۔

"ڈرائیورز؟" افسانے نے ایسے انداز میں کہا جیسے ابھی بھی کوئی شک کی گنجائش باقی ہو۔

"جی ہاں!" کیا کیا بتاؤں کہ کیا کیا یہ گناہ گار آنکھیں دیکھ چکی ہیں! ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی یادداشتیں لکھوں گی۔ پھر کھولوں گی سب کا کچا چھٹا!" رانی اب کسی متقی پرہیزگار ولی کے انداز میں بات کر رہی تھی۔

"خیر تو بتا تیری طرف کیا تماشہ لگا گھر پہنچنے کے بعد؟" رانی نے پوچھا۔ وہ لمبے چوڑے صوفے پر بیٹھی تھی۔ ٹانگیں اس نے میز پر دھری ہوئیں تھی۔ افسانے کا سر اسکی گود میں تھا۔ افسانے لیٹی ہوتی تھی۔ وہ رانی کی لاڈلی بیٹی کا روپ لگ رہی تھی۔ اب رانی "آپ" سے "تم" والا گئیر لگا چکی تھی۔

"میں نے تو آپ کی بات پلے باندھ لی تھی۔۔ اسی دن جب آپ نے کہا تھا کہ کسی شے کا بھی پچھتاوا نہ کرنا۔ چند لمحوں کے لئے سکتے میں ضرور آئی تھی سب کچھ دیکھ کر مگر فوراً نارمل ہوگئی۔ راستے بھر نارمل رہی۔ مگر ماں مجھ سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔ گھر پہنچتے پہنچتے بہت رات ہو چکی تھی۔ اس لئے کوئی بات نہ ہوئی۔ جب میں صبح اٹھی تو ماں کام پر جا چکی تھی حالانکہ چھٹی کا دن تھا۔ میں سمجھ گئی کہ ماں میرا سامنا کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ خیر۔۔ شام کو واپس آئی تو سر درد کا بہانہ کرکے سونے چلی گئی۔ میں نے بھی سونے نہ دیا۔ میں نے پوچھا کہ وہ کیوں مجھے نظرانداز کر رہی ہے۔ میں سمجھ سکتی ہوں جو ہوا۔ لیکن ہم سہیلیاں بھی تو ہیں۔ میں نے یہ بھی کہا کہ ہم دونوں حمام میں ننگے ہو چکے ہیں۔ کیونکہ اس کا اور کھوڑُو کا رشتہ ایسا ہی تھا جیسے میرا اور بوبی کا یا میرا اور میکس کا۔ اس پر اس نے پہلی بار مجھ سے نظریں ملائیں۔ اس نے اتنا کہہ کہ یہ سب کچھ اس نے میری خاطر کیا تھا!"

"کیا تو نے اسے حکم دیا تھا کہ وہ کھوڑُو کے ساتھ سو جائے؟" رانی نے پوچھا۔

"نہیں۔۔ میں نے ایک فرمائش کی تھی۔۔ کہ بوبی جیسا ایک بھائی اور دے مجھے اور یہ بوبی کی بھی دلی خواہش تھی۔۔ بہت پرانی"۔ افسانے بولی۔

"تو کیا رحیم صاحب تا حیات روزے سے ہوتے ہیں؟" رانی اب چسکے لینا شروع ہو چکی تھی۔ اس کی یہ عادت غالباً پیدائشی تھی۔

"یہ بات نہیں ہے۔۔ ابا تو ہر وقت چپکے رہنا چاہتے ہیں۔ ماں ہی ہے جو انہیں لفٹ نہیں کراتی۔ وہ تو دن میں دس بار روزہ توڑتے اور دوبارہ سحری بھی کر لیتے ہیں۔ بس حکم الہی نہیں ہو رہا۔۔ " افسانے رانی کے خدشات دور کرتے بولی۔

"تو کوئی فرشتہ اترا تھا محمودہ بیگم پر یہ بتلانے کے لئے کہ حکم الہی کھوڑُو کے ساتھ مشروط ہے؟" رانی اب حیران ہونا شروع ہو چکی تھی۔

"یہ بات نہیں ہے۔۔ بات کچھ اور ہے۔ کیسے سمجھاؤں؟ پوری داستان امیر حمزہ بتانا پڑے گی۔۔ " افسانے بھنا کر بولی۔

"تو بتا نا! میں ہمہ تن گوش ہوں۔ دیباچے سے شروع ہو جا!" رانی اس کا ماتھا سہلاتے بولی۔

"اصل میں بوبی میرا سگا بھائی نہیں؟" افسانے بولی۔

"دو خصم کیے ہونگے محمودہ نے!" رانی بولی۔

"ارے نہیں۔۔ "

"پھر لے پالک ہوگا بوبی۔۔ " رانی نے دوسرا اندازہ لگایا۔ اسے اندازے لگانے کا ازلی شوق تھا۔

"نہیں۔۔ بوبی کا باپ میرا باپ نہیں۔۔ ملک ہے!"

"کیا؟ نہیں یار!" رانی کی آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اس کے بعد افسانے نے اسے داستان کے باقی ابواب سنائے جنہوں نے رانی کی حیرت اور تجربے میں ایک نیا اضافہ کیا۔

"جب ملک نے محمودہ کی خواہش پوری کر دی تو اسے کھوڑُو کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟" رانی اب بات کو مکمل سمجھ چکی تھی۔ چند کڑیاں باقی تھیں۔ انہیں ملانے کی کوشش کر رہی تھی۔

"ملک نے تو پوری دیانتداری کا مظاہرہ کیا لیکن حکم الہی پھر بھی نہ ہوا۔ لہذا ماں نے سوچا کہ دوسرا دروازہ کھٹکھٹایا جائے"۔ افسانے نے کھوئی ہوئی کڑی ملا دی۔

"اچھا۔۔ لیکن اگر کھوڑُو کا تیر بھی نشانے پر نہ لگا تو مجھے ضرور بتائیو۔ پھر میں اسی سیاستدان کے بیٹے کا تیر محمودہ کے ترکش میں ڈالونگی جس نے ریحانہ کو دائی اماں تک پہنچا دیا۔ بڑا پراثر تیر ہے اس کا۔ میں آزما چکی ہوں۔۔ ایک نہیں کئی بار!" یہ کہہ کر رانی نے ایک کھلا قہقہ لگایا جس کا ویسا ہی جواب افسانے نے بھی دیا۔

"اور بوبی کو کیسی لگی پارٹی؟"

"بوبی کو بڑا مزہ آیا۔ وہ کہہ رہا تھا ایسی پارٹیاں اس نے صرف فلموں میں دیکھیں اور آپ نے اسے بھی لائن پر لگا دیا۔ کافی نشے میں تھا وہ!" افسانے بولی۔

"اچھا! کچھ الٹا سیدھا تو نہیں کیا اس نے؟"

"نہیں ایسا کچھ نہیں کیا۔ راستے بھر میرے ساتھ کھیلتا رہا!" افسانے نے مسکرا کر کہا۔

"جیسے ہم دونوں اکثر کھیلتے ہیں؟ ہے نا؟" رانی اب مکمل شرارت کے موڈ میں تھی۔ اس کا بھی اب دل کھیل کی جانب مائل ہو چکا تھا۔

"جی ہاں! اور وہ بہت جلد آپ کے ساتھ بھی کھیلے گا۔۔ چھپن چھپائی اور پکڑم پکڑائی۔ میں نے اچھی طرح ذہن سازی کر دی ہے اس کی۔ سبق رٹا دیا ہے۔ آپ کے ہاتھ نہیں آئے گا وہ۔ بہت پھرتیلا ہے۔

"بڑے بڑے بھیگی بلی بن چکے میرے آگے۔ ایسے کئی بوبی تجھے جلد دکھاؤں گی۔ تو اپنا بوبی بھول جائے گی!" رانی نے ایک بار پھر فلک شگاف قہقہ لگاتے کہا۔ پھر اسے کچھ یاد آیا۔ اس کا دل کھیلنے کے لئے مچل تھا۔ اس سوچ نے ماحول کو ضرورت سے زیادہ سنجیدہ بنا دیا۔

***

"افسانے۔۔ رب نے سن لی ہم سب کی!"

"کیا! واقعی؟" اپنی ماں کی بات سنکر اسے اپنی سماعت پر یقین نہیں آ رہا تھا۔

"ہاں۔۔ دوسرا مہینہ جاری ہے اور ابھی تک میری کوئی نماز قضا نہیں ہوئی"۔ محمودہ بولی۔

"الحمداللہ۔۔ الحمداللہ۔ یہ بہت بڑی آرزو ہوگی میری جو پوری ہونے جا رہی ہے"۔ افسانے نے کہا۔

"لیکن بیٹا اگر بہن ہوگئی تو؟" ماں بولی۔

"آپ ایسا سوچنا چھوڑ دیں۔ قوت ارادی پر بھروسہ کریں۔ ہم دونوں اٹھتے بیٹھتے دعا کرینگے۔ آپ اس بار بھی بیٹا ہی جنم دینگی"۔ افسانے نے ماں کو دلاسہ دیا۔

"تو بہت ذہین ہے بیٹی۔ بس ایک فکر کھائے جا رہی ہے۔۔ " ماں اب افسردہ لہجے میں بول رہی تھی۔

"کیا؟"

"تیری جب شادی ہوگی اور سہاگ رات کو۔۔ اسے سب پتہ چل جائے گا۔ معلوم نہیں آگے کیا ہوگا؟ ہمارے خاندان میں کبھی طلاق نہیں ہوئی۔۔ " ماں نے اندیشہ ظاہر کیا۔

"آپ بہت سادہ ہیں۔ میں کسی ایسے گھٹیا شخص سے شادی کرونگی ہی نہیں جس کی عقل کنوارے پن اور پردہ بکارت تک محدود ہو۔ یہ بھی کوئی معیار وفا ہے؟" افسانے بولی۔

"لیکن بیٹی ایسے مرد کتنے ہونگے ہمارے معاشرے میں؟" محمودہ اپنی بات افسانے پر مسلط کرنے کے موڈ میں تھی۔

"اچھا پھر آپ میرے ایک سوال کا جواب دیں۔ اگر کوئی لڑکی اپنے کنوارے پن کے علاوہ جسم کے ہر حصے کی لذت کو دریافت کر چکی ہو۔ اسکی شادی ہو جائے۔ اس کی ساس سہاگ رات کے بعد اگلی صبح سفید چادر کوٹھے پر لٹکا دے جس پر لال رنگ کے دھبے ہو اور وہ اچھل رہی ہو خوشی کے مارے کہ دیکھو کسی سچی ساوتری بہو ملی ہے۔ سو فیصد کنواری! تو اس سے بڑا احمق کوئی اور ہوگا دنیا میں۔۔ " افسانے نے یہ کہہ کر ماں کے چاروں طبق روشن کر دیے۔

"افسانے میں دیکھتی ہوں کہ زیادہ پڑھی لکھی اور نوکری کرنے والی لڑکیوں کی شادی نہیں ہوتی۔ اگر ہوتی ہے تو بہت تاخیر سے۔ ماریہ کی مثال ہی لے لے۔۔ " محمودہ بولی۔

"تو نہ ہو ماں۔ کیا فرق پڑتا ہے! پھر تو خود ہی کہتی ہے کہ رشتے تو اللہ میاں طے کرتا ہے آسمانوں پر۔ اگر کوئی ہوا میری قسمت میں تو خود چل کر آ جائے گا اور میں اسے دھوکے میں نہیں رکھوں گی۔ سب بتا دونگی کہ کس کس کے ساتھ سو چکی ہوں!" افسانے نے ایک بار پھر ماں کو شش و پنج میں ڈال دیا۔

"اگر تو ایسا کرے گی تو وہ شادی کرتا بھی ہوا تو نہیں کرے گا۔ ایسی بےوقوفی نہ کریو۔۔ " ماں بولی۔

"اسے تو اندر داخل ہوتے ہی سب پتہ چل جائے گا کہ دروازہ کتنی بار کھلا اور بند ہوا۔ کیسے چھپاؤں گی؟" افسانے شرارتی انداز میں مسکراتے بولی۔

"تو کوئی اللہ میاں کی گائے ٹائپ شوہر۔۔ اپنے باپ جیسا ڈھونڈنا۔ پھر کچھ پتہ نہیں چلے گا!" ماں بولی۔

"ایسا بدھو ملنا اس زمانے میں تو ناممکن ہے۔۔ لیکن سنی لیونی کی تو شادی ہوئی حالانکہ وہ پورن سٹار تھی۔ اسطرح بیسیوں ایسی پورن سٹارز ہیں جن سے ان کے عاشقوں نے شادی کی۔ انہوں نے انڈسٹری کو خیرباد کہا اور پھر گھر سنبھال لیا۔ ہر فلم ایکٹریس ڈرامہ ایکٹرس، ماڈل، گانے بجانے والی شادی شدہ ہے۔ بچوں والی ہے۔ سوئے بغیر تو یہ سٹار بن ہی نہیں سکتیں۔ پھر بھی ان کی شادی ہو جاتی ہے۔ میرا خیال ہے اب شادی سے پہلے یا بعد میں سیکس عام اور قابل قبول ہو چکا ہے۔ کنوارہ پن، وفا وغیرہ اب کتابوں میں رہ گئے ہیں۔ شوہر کونسے پارسا ہیں؟ وہ بھی دوسری عورتوں کے ساتھ سوتے ہیں۔ یہ کھوڑُو کو ہی دیکھ لیں۔ گھر میں بیوی ہے۔ جوان بیٹی ہے اور آپ کے ساتھ منہ کالا کر رہا تھا!" افسانے نے بے ساختگی میں سخت بات ماں کو کہہ ڈالی۔ اسے احساس تک نہ ہوا کہ زبان کا تیر کیا زخم لگا گیا۔ جب ہوا تو کمان سے نکل چکا تھا۔ محمودہ اداس تھی۔

"آئی ایم سوری اماں میرا یہ مطلب نہ تھا۔ اچھا ایک بات بتائیں۔۔ سچ مچ۔ میں آپکی دوست بھی تو ہوں!" ماں کا دل بہلانے کے لیے یہ جملہ افسانے نے کسی بچی کے طرح بولا جس پر محمودہ مسکرا اٹھی۔

"پوچھ۔۔ کیا پوچھنا چاہتی ہے؟"

"ابا، ملک اور کھوڑُو۔۔ سب سے زیادہ کون اچھا لگا!" افسانے نے مسکراتے کہا۔

"تینوں منہ زور گھوڑھے ہیں!" محمودہ بھی شرارت بھرے انداز میں بولی۔

"سب سے زیادہ منہ زور کون لگا؟" افسانے نے پوچھا۔

"کھوڑُو ان میں سب سے زیادہ منہ زور تھا!" محمودہ کو یہ کہتے اس کی یاد بھی آ گئی۔

"کھوڑُو کہ منہ زوری میں کیا خاص بات تھی؟" افسانے نے پھر کریدا۔

"بہت دیر تک موجوں کے تھپیڑوں سے کشتی اس طرح ہچکولے کھانے لگی کہ ایسا لگا یہ ڈوب جائے گی۔ بہت مشکل سے سنبھالا میں نے اپنے آپ کو۔ تو ذرا ہوشیار رہنا اس سمندر میں اترتے!" اب ماں بھی چسکے لینا شروع ہو چکی تھی۔

"اماں کتنی بار طوفان آیا؟" افسانے نے پوچھا۔

"تیسری بار آ چکا تھا کہ تم لوگوں نے سارا مزہ ہی کرکرا کر دیا!" ماں نے قہقہہ لگاتے کہا۔

"دوبارہ ملنے کو جی تو کرتا ہوگا؟" افسانے نے پوچھا

"تین بار مل بھی چکی ہوں۔ آگے بھی ملتی رہوں گی!" محمودہ نے بلا جھجھک کہا۔ افسانے کو ماں کی دیدہ دلیری پسند آئی اور اسے بوبی کی یاد ستانے لگی!

"واہ۔۔ کیا بات ہے! آپ اس وقت اپنی عمر سے بیس برس چھوٹی لگ رہی ہیں۔ بوبی نہیں اٹھا ابھی تک؟ میں ناشتہ بنانے لگی تھی۔۔ " افسانے نے رانی سے پوچھا جو ابھی ابھی نائٹی میں بیڈروم سے نکل کر لاؤنج میں داخل ہوئی تھی۔ افسانے صوفے پر بیٹھی اخبار پڑھ رہی تھی۔

"یہ ہی وہ راز ہے جسے تو اس دن بار بار کرید رہی تھی۔ اندازے لگا رہی تھی۔ لیکن پہنچ نہیں پا رہی تھی۔ لیکن آدھا راز ہے۔۔ پورا نہیں!" رانی نے آنکھ مارتے کہا۔ سفید نائٹی میں رانی کے بدن کی ہر شے کھل رہی تھی۔ خوبصورتی کا ہر زاویہ دور سے ہی نظر آ رہا تھا۔ رانی کا ایک شوق گھر میں کپڑوں کے بغیر پھرنے کا بھی تھا۔ بقول اس کے یہ مثبت سوچ رکھنے کے لئے ایک مفید ٹوٹکا تھا۔ افسانے یہ ٹوٹکہ اپنے گھر پر تو نہیں آزما سکتی تھی۔ لیکن جب جب رانی کے گھر پر قیام کرتی ضرور آزماتی اور اسے اس کی آفاقیت اور افادیت دونوں پر بھروسہ ہوتا جا رہا تھا۔ پچھلے تین دنوں سے افسانے اور بوبی رانی کے مہمان تھے۔ عورت مارچ کی وجہ سے کام زیادہ تھا۔ اس لئے اسے رانی کے گھر پر ہی رکنا پڑا۔ بوبی کو بھی اس نے یہیں بلا لیا تھا۔ وہ رات کو افسانے کے بجائے رانی کے ساتھ سو گیا۔ رانی چونکہ اکیلی وارد ہوئی، لہذا افسانے اس سے پوچھ رہی تھی کہ بوبی اٹھا کہ نہیں۔ اس کی خواہش تھی کہ ناشتہ سب اکھٹے کریں۔

"بوبی بچہ ہے اور بچوں کی نیند بہت گہری ہوتی ہے۔ ابھی نہیں اٹھے گا۔ لیکن میں نے تو اسے کمرے میں دیکھا ہی نہیں۔ سوتے میں کہیں بیڈ سے گر نہ گیا ہو۔۔ ہو سکتا ہے کروٹیں بدلتے بیڈ کے نیچے گھس گیا ہو!" رانی بولی۔

"ہوں۔۔ ٹھیک ہے۔ لیکن میرے لئےآدھا نہیں ابھی تک مکمل راز ہے۔ آپ کی عقل تک رسائی میرے لئے ناممکن ہے۔۔ " افسانے بولی۔

"تو بہت ہی سادہ ہے! تو نے مجھے ہمیشہ یہ ہی کہا کہ میں اپنی عمر سے پندرہ برس کم نظر آتی ہوں۔ آج میں تجھے بیس برس کم کیوں نظر آئی؟ اس سے پہلے کیوں نہیں دکھائی دی؟" رانی بولی۔

"بوبی کی وجہ سے۔۔ درست؟" افسانے بولی۔

"شکر ہے درست جواب دیا تو نے!" رانی قہقہہ لگاتے بولی۔

"اور مشاہدہ ملاحظہ ہو۔۔ جو عورت اپنی عمر سے بیس سال کم نظر آئے اسکا مطلب وہ کسی کے تیرہ سالہ بھائی کے ساتھ سوتی ہے۔۔ ہے نا؟" افسانے اب شرارت کر رہی تھی۔

"تو بھی بہت حرافہ ہے میری طرح افسانے! ویسے جواب درست ہے تیرا"۔ رانی جب ترنگ میں ہو تو لفظ "حرافہ" کا گاہے بگاہے استعمال کرتی۔

"تو پھر میں بھی پچاس کی ہو کر تیس کی لگوں گی آپ کی طرح۔۔ درست یا غلط؟" افسانے نے پوچھا۔

"نہیں تو نہیں لگے گی۔ کیونکہ اس وقت بوبی تیس برس کا ہو چکا ہوگا۔۔ تیرہ کا نہیں رہے گا ساری عمر"۔ رانی نے نفی کرتے کیا۔

"میں نے تو بوبی کا نام تک نہیں لیا۔ میں نے کہا۔۔ کسی کے تیرہ سالہ بھائی کے ساتھ!" افسانے پھر شرارتی انداز میں بولی۔

"اب تو مجھ سے بڑی حرافہ بن گئی ہے افسانے۔ شاباش!" رانی نے قہقہہ لگاتے کہا۔ پھر اپنی بات آگے بڑھاتے بولی: "لیکن اور بھی چیزیں ساتھ ساتھ کرنا پڑیں گی۔۔ مثلاً ورزش، گرین ڈائٹ، کم کھانا، کم سونا۔ یوگا، پیراکی۔۔ اورمیک آپ سے مکمل پرہیز۔ تو نے دیکھا مجھے کبھی چونا منہ پر ملتے؟"

"نہیں۔ آپ کے پاس تو اپنی ہی جڑی بوٹیوں کا خزانہ ہے۔ مجھے تو آپ کوئی وید لگتی ہیں۔ اللہ جانے کیا کیا چیزیں کچن میں پیسی جا رہی ہوتی ہیں"۔ افسانے بولی۔

"یہ حقیقت چند لوگوں کے علم میں ہی ہوگی کہ جتنے میک آپ کے برانڈ ہیں سب تباہ کن ہیں۔ یوں سمجھ کہ نشے ہیں۔ ایک بار لگ جائے تو چھوٹتا نہیں۔ یہ سرمایہ داروں کی چال ہے زہر فروخت کرنے کی۔ ہم یہ زہر شوق سے مہنگے داموں خریدتے ہیں۔ یہ کیمیکل جو میک آپ پراڈکٹس میں استعمال ہوتے ہیں انسان کی جلد اور جسم کو تباہ کر دیتے ہیں۔ ان کا حرامی پن دیکھ۔ یہ پردے کے خلاف کیوں ہیں؟ سوچا کبھی؟ رانی نے پوچھا۔

"پردہ کرنے سے چہرہ اور بال چھپ جاتے ہیں۔ کسی میک آپ اور شیمپو یا کنڈیشنر کی ضرورت نہیں رہتی۔۔ " افسانے بولی۔

"درست کہا تو نے۔ اب سوچ دنیا کی سب عورتیں پردہ کرنے لگ جائیں تو یہ امیر سرمایہ دار بھوکے مر جائیں۔ لیکن یہ اتنے چالاک نہیں جتنے ہم بےوقوف ہیں۔ ان حرامیوں نے ایک "حجاب شیمپو اینڈ کنڈیشنر" متعارف کروا دیا یہ کہہ کر کہ جی سارا دن بال ڈھکے ہونے کی وجہ سے سوکھ جاتے ہیں۔ یہ خاص برانڈ حجاب میں لپٹے بالوں کے لئے ہے اور ہم نرے احمق۔ دھڑا دھڑ خریدنے لگ گئے۔ ایک اور بات۔۔ مغرب میں اتنی سردی ہوتی ہے۔ مرد اوور کوٹ پہن کر پھرتے ہیں مگر عورت سکرٹ میں ننگی ٹانگوں پھرتی ہے۔ ٹانگیں ننگی رکھنے کا کلچر پیدا اور پروان ہی اسی لئے چڑھایا گیا کہ سکرٹس، سٹاکنگز اور ویکسنگ جیسی پراڈکٹس عورتوں پر نشے کی طرح مسلط کر دی جائیں"۔ رانی بولی۔

"لیکن رانی ویکسنگ تو آپ بھی کرتی ہیں گو کہ آپ سکرٹ نہیں پہنتیں۔۔ "

"ہاں لیکن پورے بدن کی ویکسنگ نہیں کرتی میں! صرف لیگز کی کرتی ہوں۔ باقی چیزیں میری قدرتی ہیں۔ او تو بھی قدرتی رکھا کر۔ یہ خدائی حسن ادھ موا کر دیتا ہے مرد کو۔ میکس تو مرتا ہے میرے بالوں پر۔ گھنٹوں ان کی پوجا کرتا ہے!" رانی آنکھ مار کر بولی۔

"ہاں مجھے بھی اس جگہ بہت الجھن ہوتی ہے ویکسنگ سے۔ لیکن ماں کا کہنا ہے انہیں رکھنا گناہ ہے۔۔ " افسانے بولی۔

"اور جو تیری ماں اس دن کھوڑُو کے ساتھ کر رہی تھی۔۔ وہ تو بہت ہی ثواب کا کام تھا۔۔ "رانی بولی اور افسانے سوچ میں پڑ گئی۔ بات کو بدلنے کے لئے اس نے ایک اور سوال داغا:

"بوبی کیسا لگا۔۔ مزہ آیا بے بی ہارس پر سواری کا؟"

"کمال کا بےبی ہارس ہے بھئی۔ کہیں کہیں منہ زور گھوڑا بھی لگ رہا تھا۔۔ عدیل کی طرح! تجھے نہیں لگا ایسا؟ آج ٹرائی کریو!" اب رانی چسکے لے رہی تھی۔

"رانی اب میں کہہ سکتی ہوں کہ آپ بہت ہی سادہ ہیں!" افسانے چوٹ کرتے بولی۔

"بھئی ہم تو بچوں سے بھی سیکھ لیتے ہیں۔ بتاؤ بھئی بتاؤ ہم کو ہماری سادگی کا قصہ۔۔ لوگوں نے تو ہمیں مکار، عیار، شاطر، کٹنی اور نہ جانے کیا کیا مشہور کر رکھا ہے۔ ہماری تو آرزو ہی رہی کہ کوئی ہمیں بھی سادگی کے لقب سے پکارے!" رانی اب کسی سیاستدان کی طرح بات کر رہی تھی۔

"آپ کو تو بوبی پر سواری کرکے میٹھی نیند آ گئی۔ مگر اس کے ساتھ ایسا نہ ہوا۔ اسے میرے ساتھ ہی نیند آتی ہے۔ اس لئے وہ میرے پاس آ گیا۔ ورنہ اسے میٹھی نیند ہر گز نہ آتی۔ جب وہ بیچ میں اٹھا تو میں نے اسے ضد کرکے آپ کے روم میں بھیجا!" افسانے فاتحانہ انداز میں بولی۔

"بہت حرامی ہے یہ بوبی بھی۔۔ کھوڑُو کی طرح۔ لیکن ہے بہت ہی پیارا اور معصوم۔ ذہانت بھی بے پناہ ہے"۔ رانی بولی۔ افسانے یہ بات سن کر خوش ہوئی۔ لفظ "حرامی" یہاں بطور خراج تحسین مستعمل تھا۔

"بہت بہت شکریہ رانی!"

"اچھا یہ بتا۔۔ تجھے نہیں لگا کہ منہ زور ہو رہا ہے؟" رانی نے تجسس بھرے انداز میں پوچھا۔

"جوں جوں بڑا ہوگا منہ زور ہی ہوگا۔ ساری عمر بےبی ہارس ہی رہے گا کیا؟ ویسے مجھے بھی ایسا ہی لگا جیسا آپ کو لگا"۔ افسانے بولی۔

"میرے ساتھ رہے گا تو ایک ہفتے میں مکمل منہ زور ہو جائے گا۔۔ " رانی نے پھر قہقہہ بلند کیا۔

"اچھا آپ نے یہ نہیں بتایا کہ جلد کو تروتازہ اور جوان کیسے رکھا جاتا ہے؟ آپکے چہرے پر کوئی جھری نہیں۔ نہ آنکھوں کے حلقوں پر۔ نہ پپٹوں پر۔ یہ تو معجزہ ہے۔۔ " افسانے یہ سوال رانی سے کئی بار پوچھ چکی تھی۔ وہ ہر بار ٹال جاتی۔

"اس کا راز تجھے فلم "کیلی گولا" میں مل جائے گا۔ انٹرنیٹ پر موجود ہے"۔ رانی پھر شرارتی انداز میں بولی۔

"مجھے نہیں دیکھنی فلم! آپ سے سننا ہے۔ فلموں میں مبالغہ آرائی ہوتی ہے حقیقت نہیں۔۔ " اس بار افسانے روٹھ کر بولی۔

"اچھا میری اماں بتاتی ہوں! تو جس مرضی کے ساتھ ہو بس بیڈ شیٹ پر کچھ ثبوت نہیں چھوڑنا۔ ورنہ بستر کا روپ نکھرتا رہے گا اور تیرا بجھنا شروع ہو جائے گا۔ بس اسی پہیلی میں راز ہے۔ اب اگر تو عقلمند ہوئی تو مزید سوال نہیں کرے گی۔۔ " رانی فلسفیانہ انداز میں بات کر رہی تھی۔

"میں بدھو نہیں۔ سمجھ میں آ گئی۔ میرے گھر کی بیڈ شیٹس بھی اجلی اجلی ہی رہتی ہیں اور پھر بوبی نے آپ سے اپنی ملاقات کا مکمل حال مجھے رات کو ہی بتا دیا تھا"۔ افسانے بولی۔

"ایک تو اس بوبی کے پیٹ میں کوئی بات ٹکتی ہی نہیں۔۔ اسے سمجھا کہ پردہ رکھا کرے"۔ رانی بولی۔

"سارے جہاں میں ڈھنڈورا نہیں پیٹتا۔ صرف مجھے بتاتا ہے"۔ افسانے بولی۔

"بہت حرامی ہے ابھی سے!" رانی پھر تعریفی انداز میں بولی۔

"اچھا بھئی ہمارا عورت مارچ زبردست جا رہا ہے۔ میں لائیو دیکھ رہی تھی فیس بک پر۔ کیا خیال ہے چلیں وہاں؟" افسانے کا دل کر رہا تھا کہ ناشتے کے بعد تینوں جائیں۔

"نہیں۔۔ ایسی حماقت نہ کرنا۔ اسی میدان میں مخالف پارٹیاں بھی اپنے اپنے عنوان سے مارچ منا رہی ہیں۔ ایسے حالات میں تصادم کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ہم نے اپنا کام کر دیا۔ ہر چیز آؤٹ سورس کر دی۔ اب ہمارا سب کنٹریکٹر جانے یا اس کے نیچے والے ٹھیکیدار۔ ہم نے ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں بیٹھنا۔ ورنہ ہمیں جاگنا پڑے گا اور یہ سوتے رہیں گے"۔ رانی نے سنجیدگی سے بات کی وضاحت کی۔

"کیا کوئی گڑ بڑ ہو سکتی ہے؟" افسانے فکرمند دکھائی دے رہی تھی۔

"ہمیشہ ہوتی ہے۔ پچھلے سال پولیس نے ہی لاٹھی چارج کر دیا تھا۔ کئی عورتوں کے سر پھٹ گئے تھے۔ سرکاری جامعات میں تو آئے دن ایسا ہوتا ہے۔ کوئی لڑکی نظر آئی کسی لڑکے سے بات کرتی۔۔ مولوی فوراً وارد ہو گئے لٹھ لے کر اور اگلے لمحے لڑکا لہولہان۔ اب ٹیکنالوجی موجود ہے۔ تو لائیو دیکھ سکتی ہے۔ ہمیں وہاں مرنے کی کیا ضرورت ہے۔ ناشتہ کرکے فارم ہاؤس چلتے ہیں۔ قریب ہی ایک جھیل ہے۔ وہاں میری ایک بوٹ بھی کھڑی ہے۔ بوبی اور تو بہت خوش ہونگے بوٹ کی سیر کرکے۔ میں آتی ہو شاور لے کر!" رانی یہ کہہ کر اپنے بیڈروم کی جانب لوٹ گئی۔ بوبی اٹھ چکا تھا۔ اسے بیدار دیکھ کر رانی شاور کا ارادہ ترک کر چکی تھی!

***

رانی نے افسانے کو اپنی نگرانی میں رکھ لیا تھا۔ چند ہی برسوں میں افسانے نے انگریزی پر ایسی گرفت حاصل کر لی کہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں تقریریں کرنے لگی۔ اس کے مضامین غیر ملکی جرائد میں شائع ہونے لگے۔ پھر فیلوشپس، ورکشاپس، ایوارڈز، ٹی وی انٹرویوز، سفارت خانوں کی دعوتیں اور اقوام متحدہ کے اجلاس۔ ہر جگہ وہ موجود ہوتی۔

جو لڑکی کبھی شہر کی تنگ گلیوں سے نکل کر فائیو سٹار ہوٹل دیکھ کر حیران رہ گئی تھی، اب نیویارک، جنیوا، لندن اور اوسلو کے ہوٹل اس کے لیے معمول کی بات تھے۔ چند ہی برسوں میں وہ ڈاکٹر افسانے بن گئی۔ گھر کے باہر اس کی وہی تختی لگی جس کا خواب اس نے بچپن میں دیکھا تھا۔

"ڈاکٹر افسانے خان (پی ایچ ڈی)"

اس نے باپ کے انتقال کے بعد پرانا گھر فروخت کر دیا۔ شہر کے پوش علاقے میں ایک شاندار کوٹھی خریدی۔ ماں کو اپنے ساتھ لے آئی۔ بوبی کی اعلیٰ تعلیم پر لاکھوں خرچ کیے۔ اسے بیرون ملک بھیجا۔ ہر وہ خواب جو اس نے کبھی دیکھا تھا، ایک ایک کرکے حقیقت بنتا گیا۔

لیکن ایک خواب خاموشی سے مر گیا۔

وہ خود!

اب لوگ اس سے ملنے کے لیے مہینوں انتظار کرتے تھے۔ وزیر اس سے ملاقات کا وقت مانگتے تھے۔ سفیر اس کے ساتھ تصویریں بنواتے تھے۔ غیر ملکی ڈونرز اس کی ایک مسکراہٹ پر کروڑوں کی گرانٹ منظور کر دیتے تھے۔ اس نے این جی اوز کی دنیا میں رانی سے بھی بڑا مقام حاصل کر لیا تھا اور ایک دن رانی مر گئی۔

اخبارات نے اسے خواتین کے حقوق کی عظیم علمبردار قرار دیا۔ افسانے نے جنازے میں شرکت کی۔

قبر پر کھڑے ہو کر اس کی آنکھ سے ایک آنسو بھی نہ نکلا۔ صرف ایک جملہ اس کے ذہن میں گونجتا رہا۔

"استاد کبھی مرتے نہیں!"

رانی کے انتقال کے بعد اس کی تنظیم کا سربراہ متفقہ طور پر افسانے کو منتخب کر لیا گیا۔ اب سب اسے میڈم کہتے تھے۔ ایک دن اس کی سیکرٹری اندر آئی۔ "میڈم، ایک لڑکی آپ سے ملنا چاہتی ہے"۔

"کس لیے؟"

ایم اے انگلش کی طالبہ ہے۔ کہتی ہے آپ سے صرف پانچ منٹ چاہیے"۔

"بھیج دو"۔

دروازہ کھلا۔ اندر ایک دبلی پتلی لڑکی داخل ہوئی۔ سادہ سفید لباس۔ سر پر دوپٹہ۔ ہاتھ میں پرانا سا بیگ۔ آنکھوں میں خواب۔ بالکل ویسے ہی جیسے کبھی افسانے کی آنکھوں میں تھے۔

"السلام علیکم میڈم!"

افسانے نے سر اٹھایا۔ چند لمحے وہ لڑکی کو دیکھتی رہی۔ یوں لگا جیسے پچیس برس پہلے کا آئینہ سامنے کھڑا ہو۔

"نام؟"

"صبا"۔

"کیا کرتی ہو؟"

"ایم اے انگلش"۔

"آگے کیا کرنا چاہتی ہو؟"

"میں بہت بڑا کام کرنا چاہتی ہوں"۔

افسانے کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔ یہی جملہ تو اس نے بھی کبھی کہا تھا۔

ختم شد۔