1. ہوم
  2. کالمز
  3. محمد شہزاد
  4. شاعری میں اغلام بازی اور سند

شاعری میں اغلام بازی اور سند

ہمارے دیس میں نابغے موسموں کے محتاج نہیں۔ یہاں سال کے بارہ مہینے، چوبیس گھنٹے نابغوں کی فصل لہلہاتی رہتی ہے۔ ایک مستری پانی سے چلنے والی گاڑی بیچ رہا تھا۔ محلے کی دائی اماں اور خودساختہ فیمی نسٹ فیض احمد فیض کے کلام میں ماہواری کا خون اور درد تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ امام ترجمہ قوم کو انگریزی اردو میں پڑھانے کے لیے بضد ہیں۔

اب ایک نئی نابغی جلوہ گر ہوئی ہیں۔ ارشاد فرماتی ہیں کہ ایک ایسا ادارہ قائم ہونا چاہیے جو شاعری کی باقاعدہ سند جاری کرے اور فیس بک پر صرف وہی شاعر شعر شائع کرنے کے مجاز ہوں جن کے پاس یہ سند موجود ہو۔ اس مقصد کے لیے مختلف موضوعات پر غزلوں کے مقابلے بھی کرائے جائیں۔ (ہم تو اب تک یہی سمجھتے رہے کہ غزل دل، احساس اور تجربے کی آواز ہوتی ہے، آج معلوم ہوا کہ غزل بھی اخباری کالم کی طرح موضوع دے کر لکھی جا سکتی ہے۔)

دلیل اس سے بھی زیادہ حیران کن پیش کی گئی۔ فرمایا گیا کہ مختلف موضوعات پر غزلوں کے مقابلے کرانے سے نئے شاعروں پر "اغلام بازی" جیسے الزامات نہیں لگیں گے۔ اب یہ تو وہی بہتر جانتی ہیں کہ ان کی لغت میں "اغلام بازی" کا مفہوم کیا ہے، کیونکہ ہماری لغت میں تو اس لفظ کے معنی شاعری سے نہیں، ایک نہایت سنگین اور بالکل مختلف معاملے سے متعلق ہیں۔

برسوں پہلے ہمارے آئین میں ایک ترمیم کی گئی کہ جس کے پاس بی اے کی ڈگری نہ ہو، وہ الیکشن لڑنے کا اہل نہیں ہوگا۔ مگر ہمارے ہاں ہر مسئلے کا ایک دیسی حل موجود ہے۔ چنانچہ جن کے پاس ڈگری نہیں تھی، انہوں نے ڈگریاں پیدا کر لیں اور باعزت طریقے سے پارلیمنٹ بھی پہنچ گئے۔

حال ہی میں ہماری قومی فضائی کمپنی میں ایک ایسا پائلٹ بھی دریافت ہوا جس کے پاس ہوا بازی کا باقاعدہ لائسنس ہی نہیں تھا۔ ویسے بھی ہمارے دیس میں علم زیادہ تر سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا ہے، کاغذ بہ کاغذ نہیں۔ الیکٹریشن، پلمبر، کار مکینک، مستری، بڑھئی، رنگساز، غرض ہر پیشے کا ماہر کسی جامعہ کا فارغ التحصیل نہیں ہوتا۔ آپ بھی کبھی پلمبر کو اس لیے نہیں بلاتے کہ اس کے پاس پلمبری کی سند ہے، آپ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ نلکا ٹپکنا بند ہوتا ہے یا نہیں۔

نابغی صاحبہ یہ بھی فرماتی ہیں کہ پرانے شاعروں کی شاعری کی جانچ پڑتال کی جائے اور اس بات کا تعین کیا جائے کہ آیا وہ واقعی کولیفائیڈ شاعر تھے کہ نہیں! تصور کیجئے اگر ان نابغی صاحبہ کی اصلاحات نافذ کر دی جائیں تو سب سے پہلے شاعری کی سند کے لیے کم سے کم تعلیمی قابلیت لازمی قرار دی جائے گی۔ اگر بی اے ہی کر دی جائے تو غالب، میر کے علاوہ بڑے بڑے شعراء تو نااہل قرار دے دیے جائینگے۔

پھر اعلان ہوگا کہ جن لوگوں کی تعلیم ابتدائی درجے تک ہے، وہ پہلے شاعری کے سندی نصاب میں داخلے کے لیے درخواست دیں۔ درخواست کے بعد تحریری امتحان ہوگا، پھر زبانی امتحان اور آخر میں ایک باقاعدہ انٹرویو۔

مجھے پورا یقین ہے کہ ہمارے بہت سے بڑے شاعر اسی مرحلے پر نااہل قرار دے دیے جائیں گے۔ جنہیں صدیوں سے اردو ادب اپنا سرمایہ سمجھتا آیا ہے، وہ انٹرویو بورڈ کے سامنے یہ ثابت کرتے پھریں گے کہ انہیں واقعی شعر کہنا آتا ہے۔ ممکن ہے بورڈ ان سے پوچھ بیٹھے، آپ کے پاس اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ آپ شاعر ہیں؟ اور اگر قسمت اچھی ہوئی تو انہیں مشروط طور پر ایک سالہ ڈپلومہ کرنے کی اجازت مل جائے گی، ورنہ ان کی غزلیں بھی ناقابلِ قبول قرار دے دی جائیں گی۔

اب یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ آخر شاعری سکھانے والے یہ ادارے ہوں گے کون سے؟ ہمارے دیس میں سرکاری تعلیمی اداروں کا حال سب جانتے ہیں۔ وہاں تو زیادہ تر غریب غربا ہی جاتے ہیں۔ جن کے پاس وسائل ہیں، وہ اپنے بچوں کو نجی اور انگریزی ذریعۂ تعلیم والے اداروں میں بھیجتے ہیں۔

تو کیا اب شاعری بھی انگریزی ذریعۂ تعلیم سے سکھائی جائے گی؟ کیا اردو غزل اور نظم کی سند کے لیے بھی انگریزی میں امتحان دینا ہوگا؟ کیا داخلہ فارم پر لکھا ہوگا کہ اردو شاعری کے امیدوار کے لیے انگریزی میں مہارت لازمی ہے؟ اور اگر شاعری کے ادارے بھی نجی شعبے کے سپرد کر دیے گئے تو پھر شاعری بھی ایک مہنگی ڈگری بن جائے گی، جہاں فیس کی بنیاد پر شاعر پیدا ہوں گے، تخلیق کی بنیاد پر نہیں۔

پھر ایک اور مسئلہ پیدا ہوگا۔ ہمارے ہاں امتحانی پرچے بھی کبھی کبھی لیک ہو جاتے ہیں اور نقل کا رجحان بھی موجود ہے۔ ایسے میں شاعری کی سند کا امتحان بھی کس قدر شفاف ہوگا، یہ ایک الگ سوال ہے۔

ممکن ہے کوئی محنتی شاعر راتیں جاگ جاگ کر عروض، بحور اور اصنافِ سخن پڑھے، جبکہ کوئی دوسرا صاحب پرچہ پہلے ہی حاصل کرکے سند لے اڑے۔ یوں تخلیقی صلاحیت رکھنے والا شاعر ایک بار پھر قطار میں کھڑا رہ جائے گا اور امتحان پاس کرنے والا "سند یافتہ شاعر" بن جائے گا۔

آخر میں فیصلہ پھر وہی ہوگا کہ شعر کی قدر اس کے حسنِ بیان سے ہوگی یا اس کاغذ سے جس پر سرکاری مہر لگی ہوگی؟

جن شعراء کو سند مل بھی گئی مگر ان کے پاس سفارش نہ ہوئی تو ان کا حق مارا جائے گا۔ مشاعرے کی منتظمین سفارشی شاعروں کو مشاعروں میں بلانا شروع کر دینگے رشوت لے کر۔ اس طرح حقداروں کا حق مارا جائے گا۔

پھر فرض کیجیے کچھ شعراء سند حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہو گئے، لیکن اگر ان کے پاس سفارش کا سہارا نہ ہوا تو ان کا حق پھر بھی مارا جا سکتا ہے۔

مشاعروں کے منتظمین بھی آخر اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ ممکن ہے وہاں بھی قابلیت کے بجائے تعلقات، سفارش اور اثر و رسوخ کام کرنے لگے۔ پھر مشاعروں میں وہی شاعر زیادہ نظر آئیں گے جن کے پاس کسی بااثر شخص کی سفارش ہوگی، جبکہ اصل اہلِ قلم اپنی باری کے انتظار میں رہ جائیں گے۔

یوں شاعری کی دنیا میں بھی ایک نیا طبقاتی نظام پیدا ہو جائے گا۔ ایک طرف وہ شاعر ہوں گے جن کے پاس سند بھی ہوگی اور سفارش بھی اور دوسری طرف وہ اہلِ ہنر جو شعر تو خوب کہتے ہوں گے مگر نہ ان کے پاس کوئی سفارشی خط ہوگا، نہ کسی دروازے کی کنجی۔

اسی طرح شاعری کی سند کا معاملہ بھی زیادہ مختلف نہیں ہوگا۔ جس معاشرے میں ڈگریاں بھی خریدی اور بیچی جاتی ہوں، وہاں شاعری کی جعلی اسناد کا دروازہ بھی بند نہیں کیا جا سکتا۔

پھر ایک نیا مسئلہ پیدا ہوگا۔ دولت مند حضرات اپنی شاعری کی سند کو بھی اپنے مرتبے کی علامت بنانے کے لیے بیرونِ ملک کے مہنگے تعلیمی اداروں کا رخ کریں گے۔ کوئی صاحب فخر سے بتائیں گے کہ انہوں نے فلاں عالمی ادارے سے شاعری کی ڈگری حاصل کی ہے، کوئی کسی اور بڑے نام کا حوالہ دے گا۔ ممکن ہے کل کو مشاعرے میں تعارف کچھ یوں ہونے لگے، تشریف لا رہے ہیں وہ شاعر جنہوں نے عالمی اداروں سے شاعری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے۔ یوں فیصلہ شعر کے حسن، خیال کی گہرائی اور لفظوں کی تاثیر سے نہیں، بلکہ سند کے نام اور ادارے کے وقار سے ہونے لگے گا۔