چند ہفتوں سے میں ایک دلچسپ، بلکہ یوں کہیے خطرناک ادبی تجربہ کر رہا ہوں۔ خطرناک اس لیے کہ اگر اس کا چرچا عام ہوگیا تو ہمارے بہت سے تبصرہ نگاروں کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔ تجربہ صرف اتنا ہے کہ کتابوں پر تبصرے لکھ رہا ہوں، مگر کتاب دیکھے بغیر، پڑھے بغیر۔ آپ پوچھیں گے، یہ خیال آیا کیسے؟
وجہ بڑی سادہ ہے۔ برسوں سے کتابوں پر تبصرے پڑھتا آیا ہوں، مگر شاید ہی کبھی کسی تبصرے سے یہ معلوم ہو سکا ہو کہ کتاب میں آخر لکھا کیا ہے۔ مصنف کہنا کیا چاہتا ہے، اس نے کس مسئلے پر قلم اٹھایا ہے، اس کے کردار کون ہیں، کہانی کس سمت جاتی ہے، یا اس کی دلیل کیا ہے۔ ان سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے آخرکار کتاب ہی پڑھنا پڑی!
تبصرہ کتاب میں وہ باتیں بھی ڈھونڈ لیتا ہے جو شاید خود مصنف کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوں، مثلاً:
مصنف نے انسانی نفسیات کی گہرائیوں میں اترنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
سماج کے سلگتے ہوئے مسائل کو نہایت فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔
یہ ہمارے عہد کا نوحہ ہے۔
یہ سماج کے ناسوروں پر رکھا گیا ایک بے رحم نشتر ہے۔
مصنف نے روایت اور جدیدیت کے درمیان ایک نیا مکالمہ قائم کیا ہے۔
یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک عہد کی دستاویز ہے۔
اس کا ہر صفحہ قاری کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے۔
یہ تخلیق قاری کو اپنے باطن میں جھانکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
مصنف نے انسانی وجود کے پیچیدہ سوالات کو نہایت جرات کے ساتھ چھیڑا ہے۔
یہ کتاب اردو ادب میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے، اس کا اسلوب اپنی مثال آپ ہے۔
زبان پر مصنف کی غیر معمولی گرفت ہر سطر سے عیاں ہے۔
یہ ناول اپنے عہد کی اجتماعی بے حسی کے خلاف ایک توانا احتجاج ہے۔
مصنف نے معاشرتی تضادات کو پوری فنکاری سے بے نقاب کیا ہے۔
یہ کتاب آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔
ادب کے سنجیدہ طالب علم اس کتاب سے صرفِ نظر نہیں کر سکیں گے۔
یہ تخلیق قاری کے ذہن پر دیرپا نقوش چھوڑتی ہے۔
مصنف نے لفظوں سے تصویریں بنا دی ہیں۔ ہر کردار گوشت پوست کا زندہ انسان محسوس ہوتا ہے۔
یہ ایک ایسی تخلیق ہے جس پر طویل عرصے تک گفتگو ہوتی رہے گی۔
یہ کتاب اپنے موضوع کے زمانی، مکانی اور تہذیبی تناظر میں ایک منفرد شناخت رکھتی ہے۔
مصنف نے واقعات کو محض بیان نہیں کیا بلکہ ان کے پس منظر میں چھپی انسانی کیفیات کو بھی اجاگر کیا ہے۔
یہ تحریر اپنے عہد کے اجتماعی شعور کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔
مصنف نے زندگی کے ان پہلوؤں کو بھی موضوع بنایا ہے جنہیں عام طور پر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
اس کتاب میں فرد اور سماج کے باہمی رشتے کو نہایت گہرائی سے پرکھا گیا ہے۔
مصنف نے انسانی وجود کے داخلی تضادات کو بڑی فنی مہارت سے پیش کیا ہے۔
یہ کتاب قاری کو صرف محظوظ نہیں کرتی بلکہ اسے اپنے اردگرد کی دنیا پر ازسرنو غور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
مصنف کا تخلیقی زاویۂ نظر روایتی موضوعات کو ایک نئے تناظر میں دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔
اسلوب کی روانی، فکر کی پختگی اور اظہار کی برجستگی اس کتاب کو منفرد بناتی ہے۔
یہ تخلیق اپنے اندر فکری وسعت اور معنوی تہہ داری رکھتی ہے۔
مصنف نے جزئیات نگاری کے ذریعے کرداروں اور ماحول کو زندگی بخش دی ہے۔
اس کتاب میں حقیقت نگاری اور تخیل کا ایسا امتزاج ملتا ہے جو قاری کو دیر تک اپنے حصار میں رکھتا ہے۔
مصنف نے زبان کے امکانات کو بھرپور انداز میں استعمال کرتے ہوئے ایک خاص فضا قائم کی ہے۔
یہ کتاب انسانی تجربات کے ان گوشوں کو سامنے لاتی ہے جو عام نگاہ سے اوجھل رہتے ہیں۔
مصنف نے معمولی واقعات میں غیر معمولی معنویت تلاش کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
یہ تخلیق عصر حاضر کے فکری بحرانوں کی ایک گہری ترجمانی کرتی ہے۔
کتاب کا بیانیہ قاری کو ابتدا سے انتہا تک اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔
مصنف نے کرداروں کے ذریعے انسانی رویوں کی پیچیدگیوں کو نمایاں کیا ہے۔
یہ کتاب اردو ادب میں فکری اور فنی اعتبار سے ایک قابل ذکر اضافہ ہے۔
مصنف نے ماضی کے تجربات اور حال کے مسائل کو ایک مربوط فکری رشتے میں پرویا ہے۔
اس تخلیق میں تہذیبی زوال، سماجی تبدیلیوں اور انسانی بے بسی کی جھلکیاں نمایاں ہیں۔
مصنف کا مشاہدہ گہرا، تجزیہ باریک اور اظہار مؤثر ہے۔
یہ کتاب اپنے موضوع کے ساتھ انصاف کرتے ہوئے کئی نئے سوالات اٹھاتی ہے۔
مصنف نے انسانی جذبات کے اتار چڑھاؤ کو نہایت حساس انداز میں گرفت میں لیا ہے۔
یہ تحریر قاری کے ذہن میں دیرپا اثرات چھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
کتاب کے فکری اور لسانی پہلو اسے عام تحریروں سے ممتاز کرتے ہیں۔
مصنف نے چھوٹے چھوٹے انسانی المیوں میں زندگی کی بڑی حقیقتوں کو تلاش کیا ہے۔
یہ تخلیق ہمارے سماجی رویوں کا آئینہ بن کر سامنے آتی ہے۔
کتاب میں حقیقت کے تلخ پہلوؤں کو جمالیاتی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
مصنف نے روایت کے سرمائے کو جدید حسیت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی ہے۔
اس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ یہ جواب دینے کے بجائے نئے سوالات پیدا کرتی ہے۔
مصنف نے انسانی نفسیات، سماجی رویوں اور تہذیبی اقدار کو ایک ہی فکری دائرے میں سمو دیا ہے۔
یہ کتاب اپنے اندر ایک مکمل عہد کی تصویر کشی کرتی محسوس ہوتی ہے۔
تخلیق کا کینوس وسیع اور نقطۂ نظر گہرا ہے۔
مصنف نے الفاظ کے ذریعے ایک ایسی دنیا تخلیق کی ہے جو قاری کے ذہن میں دیر تک زندہ رہتی ہے۔
یہ ناول بڑے کینوس پر لکھا گیا ہے!
اور آخر میں حسبِ روایت یہ فیصلہ بھی صادر کر دیا جاتا ہے کہ اس کتاب نے اردو ادب میں اپنی جگہ ہمیشہ کے لیے بنا لی ہے۔
خدا کی قسم، یہ ساری باتیں ایسی ہیں جو کسی بھی کتاب کے بارے میں لکھی جا سکتی ہیں۔ مجھے تو کبھی کبھی شبہ ہوتا ہے کہ شاید ہمارے ہاں تبصرے نہیں، خالی فارم تیار ہوتے ہیں۔ صرف کتاب اور مصنف کا نام بدلیے، باقی متن جوں کا توں رہنے دیجیے۔ نہ کسی کو فرق محسوس ہوگا، نہ کسی کو اعتراض ہوگا، بلکہ الٹا لوگ داد دیں گے کہ کیا عمیق تبصرہ ہے۔
یہی خیال آیا تو میں نے سوچا، کیوں نہ اس نظریے کو عملی طور پر آزمایا جائے۔
میں نے فیس بک پر اعلان کر دیا کہ اگر کوئی اپنی کتاب پر تبصرہ کروانا چاہتا ہے تو کتاب بھیجنے کی ضرورت نہیں۔ صرف نام بھیج دیجیے۔ باقی کام میرا۔
چند دوستوں نے واقعی صرف عنوان بھیجا۔ میں نے تبصرہ لکھ کر بھیج دیا۔ جواب آیا کہ اس سے بہتر تبصرہ ممکن ہی نہیں تھا۔ کسی نے اسے کتاب کے ابتدائی صفحات کی زینت بنا دیا، کسی نے فیس بک پر شائع کر دیا اور ایک صاحب نے تو مجھے یہ کہہ کر شرمندہ کر دیا کہ آپ نے میری کتاب کی روح پکڑ لی ہے۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ بھائی، میں نے تو کتاب دیکھی تک نہیں، روح کہاں سے پکڑ لیتا!
پھر ایک دوست نے مذاق میں کہا، میں ناول لکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں، مگر ابھی صرف ارادہ ہے۔
میں نے کہا، نام بتاؤ۔ کہنے لگا، نام بھی ابھی سوچ رہا ہوں۔ میں نے کہا، یہ تو اور بھی آسان ہے۔ ناول بعد میں لکھ لینا، تبصرہ پہلے لے جاؤ۔
سو میں نے ایک ایسے ناول پر تبصرہ لکھ دیا جو ابھی دنیا میں آیا ہی نہیں تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تبصرہ پڑھنے والوں نے اسے بھی پسند کیا اور صاحبِ ارادہ نے فرمایا کہ اب کوشش کروں گا ناول ایسا ہی لکھوں جیسا آپ نے تبصرے میں بیان کیا ہے۔ آپ اسے لطیفہ سمجھ کر ہنس سکتے ہیں اور ہنسنا چاہیے بھی۔
لیکن ہنسی کے بعد ایک سوال ضرور بچ جاتا ہے۔ اگر بغیر کتاب پڑھے لکھا ہوا تبصرہ بھی ادبی حلقوں میں داد سمیٹ سکتا ہے، تو مسئلہ میرے تجربے میں نہیں، ہماری تنقیدی روایت میں ہے۔ شاید ہم کتابوں پر تبصرے کم اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی زیادہ لکھتے ہیں۔ اسی لیے اکثر تبصرے پڑھ کر کتاب کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوتا، البتہ یہ ضرور معلوم ہو جاتا ہے کہ تبصرہ نگار اور مصنف کے تعلقات بہت اچھے ہیں۔
ہمارے ملک کے صفِ اول کے شاعر، ناول نگار، ڈرامہ نویس اور ڈرامہ پروڈیوسر جناب سرمد صہبائی میرے نہایت قریبی دوست ہیں، حالانکہ عمر میں وہ مجھ سے تئیس برس بڑے ہیں۔ انہوں نے ایک نہایت دلچسپ اور معنی خیز اصطلاح وضع کی ہے: "معصوم چوتیے!"
میں اکثر سوچتا ہوں کہ کتابوں پر ہونے والے اس پورے کھیل میں اصل شاطر کھلاڑی تبصرہ نگار ہوتا ہے اور لکھاری، اگر وہ ایسے گھسے پٹے، تیار شدہ تبصروں پر خوش ہو جائے، انہیں عظیم ادبی تجزیہ سمجھ لے اور فخر سے پھولا نہ سمائے ہوئے اپنے دوستوں میں بانٹتا پھرے، تو وہ اسی تعریف کا مستحق قرار پاتا ہے۔
ایک طرف تبصرہ نگار چند بھاری بھرکم جملوں، چند مقدس سے لگنے والے ادبی الفاظ اور کچھ پرشکوہ دعوؤں کی مدد سے ایک ایسا جادوئی آئینہ بنا دیتا ہے جس میں ہر کتاب شاہکار نظر آنے لگتی ہے۔ دوسری طرف مصنف اس آئینے میں اپنا عکس دیکھ کر اتنا مسحور ہو جاتا ہے کہ اسے یہ خیال ہی نہیں آتا کہ آئینہ اصل میں دکھا کیا رہا ہے اور صرف دکھاوا کیا کر رہا ہے۔ یوں ادب کی اس منڈی میں کبھی کبھی تنقید نگار شکاری ہوتا ہے، کتاب شکار اور مصنف وہ معصوم کردار جو اپنی ہی تعریف کے جال میں پھنس کر خوشی خوشی قید ہو جاتا ہے۔
لکھاری اگر ایسے پکے پکائے تبصرے بھی فخر سے آگے شیئر کر رہا ہے تو اس کی دو ہی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ شدید نرگسیت کا شکار ہے۔ اسے ہر صورت میں تعریف چاہیے، چاہے وہ تعریف سچی ہو یا محض خوشامد پر مبنی۔ اسے اس بات سے غرض نہیں کہ اس کے کام پر حقیقی گفتگو ہو رہی ہے یا صرف چند خوب صورت الفاظ کا دھواں چھوڑا جا رہا ہے۔
دوسری وجہ مروت بھی ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے وہ تبصرہ نگار کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ایسا کرتا ہو، تاکہ تعلقات قائم رہیں اور کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ آخر کتنے لکھاری اتنی صاف گوئی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں کہ تبصرہ نگار کے سامنے کہہ دیں، "جناب، آپ نے میری کتاب پڑھی ہی نہیں، پھر یہ تعریف کس بنیاد پر کر دی؟ مجھے ایسی جھوٹی تعریف نہیں چاہیے!"
شاید ادب کی دنیا میں سب سے کمیاب چیز اچھی تحریر نہیں بلکہ سچی رائے سننے کا حوصلہ ہے۔
اس ساری بحث میں تبصرہ نگار کی ممکنہ مجبوریوں کا ذکر نہ کرنا بھی ناانصافی ہوگی۔ ہمارے ہاں تنقید یا تبصرہ نگاری کرنے والوں کی اکثریت خود شاعر، افسانہ نگار یا ناول نگار ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ جانتے ہیں کہ آج اگر انہوں نے کسی کتاب پر دیانت داری سے دو سخت جملے لکھ دیے تو کل جب ان کی اپنی کتاب شائع ہوگی، بدلہ پورا کر دیا جائے گا۔ پھر تنقید کا میدان علمی مکالمے سے زیادہ ذاتی حساب چکانے کا اکھاڑا بن جاتا ہے۔
اسی لیے احتیاط کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ خامیوں پر خاموشی، خوبیوں میں مبالغہ اور ہر کتاب کو سنگِ میل، شاہکار اور ادب کا اہم اضافہ قرار دے کر معاملہ نمٹا دیا جاتا ہے۔ یوں سچ بھی محفوظ رہتا ہے، تعلقات بھی اور آئندہ اپنی کتاب کے فلیپ پر چھپنے کے لیے ایک آدھ تعریفی جملہ بھی۔
گویا ہمارے ادبی معاشرے کا ایک غیر تحریری اصول ہے: "تم مجھے شاہکار لکھ دو، میں تمہیں عہد ساز قرار دے دوں گا"۔ یا عوامی زبان میں یوں کہیے، "تو مجھے حاجی کہہ، میں تجھے حاجی!"
ایک امکان اور بھی ہے اور شاید یہ سب سے زیادہ حقیقت کے قریب ہو۔ تبصرہ نگاروں کے پاس تبصرے کے لیے کتابوں کا انبار لگا رہتا ہے۔ ان میں سے اکثر خود شائع شدہ ہوتی ہیں اور بدقسمتی سے ان کی بڑی تعداد ایسی ہوتی ہے جسے دو چار صفحات پڑھنے کے بعد ہی انسان اپنی باقی ماندہ ذہنی صحت کی فکر میں مبتلا ہو جائے۔ ایسے میں ہر کتاب کو شروع سے آخر تک پڑھنا کسی سزا سے کم نہیں۔
دوسری طرف، جو کتابیں واقعی اچھی اور قابلِ مطالعہ ہوتی ہیں، انہیں سکون سے پڑھنے کے لیے وقت درکار ہوتا ہے اور وقت ہمارے ادبی ماحول کی نایاب ترین جنس ہے۔ چنانچہ مجبوری، مصلحت اور سہولت تینوں مل کر وہی آزمودہ راستہ اختیار کر لیتی ہیں: پہلے سے تیار شدہ، ہر موسم میں کارآمد، ہر کتاب پر فٹ آنے والے تبصرے۔ دو چار مناسب جملے ادھر سے، چند بھاری بھرکم اصطلاحات ادھر سے، آخر میں "اردو ادب کا اہم اضافہ" لکھ کر تبصرہ مکمل۔ نہ کتاب پڑھنے کی مشقت، نہ کسی کی دل آزاری اور نہ ہی آئندہ اپنی کتاب کے لیے تعریفی تبصرے کی امید ختم ہونے کا خطرہ۔
ہمارا ادب اس دن بہتر ہونا شروع ہوگا جب تبصرہ نگار تعلق داری، مروّت اور مفاد سے بالاتر ہو کر دیانت داری سے لکھیں گے۔ البتہ اس سے سب سے بڑا نقصان پبلشروں کو ہوگا، کیونکہ پھر ہر دوسری کتاب کو شاہکار ثابت کرنے کے لیے تبصروں کا سہارا نہیں ملے گا اور جب شاہکار بنانے کی یہ صنعت بند ہوگی تو بازار خود بخود اصل اور نقل میں فرق کرنا سیکھ جائے گا۔