1. ہوم
  2. غزل
  3. خرم سہیل
  4. اچھا ہوا میں دشتِ گُماں سے نکل گیا
Khurram Sohail

اچھا ہوا میں دشتِ گُماں سے نکل گیا

اچھا ہوا میں دشتِ گُماں سے نکل گیا
تھی قیدِ تا حیات، جہاں سے نکل گیا

بھایا نہ پھر کسی کو مرا بولنا وہاں
دل میں دبایا سچ جو زباں سے نکل گیا

دل کو کرے گا چار یقینی یہ بات ہے
یہ تیر بے رخی کا کماں سے نکل گیا

مت سوگ مناو کہ بہت خوش ہوں میں یہاں
جب سے میں زندگی کے فغاں سے نکل گیا

چلتا رہے گا کار جہاں جانتا ہوں میں
کیا فرق میں جو تیرے مکاں سے نکل گیا

پورا تھا اعتبار بہاروں پہ اس لئے
یادوں کو تیری لے کے خزاں سے نکل گیا

یہ بات کب تھی دوستو اک معجزے سے کم
میں عشق میں کسی بھی زیاں سے نکل گیا

چھوڑا تھا جان بوجھ کے پا لے گا وہ سراغ
رکھ کر سہیل پاوں، نشاں سے گزر گیا