ہر شے میں نظر آئے ہے دلدار کی صورت
ہر لمحہ نکلتی ہے یہاں پیار کی صورت
صورت ہے بھلی یا نہ بھلی بعد کی ہے بات
سیرت ہو بھلی نکلے گی اظہار کی صورت
گر مل کے نکالیں گے نکل آئے گا حل بھی
ویسے تو بس امکان ہے تلوار کی صورت
ہر بار مرا جیتنا مقصود نہیں تھا
میں جیتا کئی بار ہوں پر ہار کی صورت
سچ جھوٹ بتا دیتی ہیں سب کو ہی یہ آنکھیں
چہرہ تو عیاں ہوتا ہے اخبار کی صورت
بدلیں گے مرے ملک کے حالات بھی اک دن
بدلی جو خدا نے مرے سالار کی صورت
ہر لفظ نئی روشنی دیتا ہے مجھے اب
کھلتا ہے قراں مجھ پہ اب انوار کی صورت
اوقات سے بڑھ کر جو ملے خیر خدا سے
لمحوں میں بدل جاتی ہے اطوار کی صورت
آئی جو مرے در پہ تو ہاں کہنا پڑے گا
آگے نہیں اب موت کے انکار کی صورت
ہم خاک بدن، خاک اٹھائیں گے ترا بار
جیون کا ملا بار جو اک نار کی صورت
ہم سے تو سنبھلتی نہیں اک صورتِ مہ نور
یہ شیخ نکالیں ہیں یہاں چار کی صورت
خاموشی نے اب تک ہے بچایا ہوا خرم
بولوں تو نکل آتی ہے تکرار کی صورت