1. ہوم
  2. غزل
  3. خرم سہیل
  4. ہر شے میں نظر آئے ہے دلدار کی صورت
Khurram Sohail

ہر شے میں نظر آئے ہے دلدار کی صورت

ہر شے میں نظر آئے ہے دلدار کی صورت
ہر لمحہ نکلتی ہے یہاں پیار کی صورت

صورت ہے بھلی یا نہ بھلی بعد کی ہے بات
سیرت ہو بھلی نکلے گی اظہار کی صورت

گر مل کے نکالیں گے نکل آئے گا حل بھی
ویسے تو بس امکان ہے تلوار کی صورت

ہر بار مرا جیتنا مقصود نہیں تھا
میں جیتا کئی بار ہوں پر ہار کی صورت

سچ جھوٹ بتا دیتی ہیں سب کو ہی یہ آنکھیں
چہرہ تو عیاں ہوتا ہے اخبار کی صورت

بدلیں گے مرے ملک کے حالات بھی اک دن
بدلی جو خدا نے مرے سالار کی صورت

ہر لفظ نئی روشنی دیتا ہے مجھے اب
کھلتا ہے قراں مجھ پہ اب انوار کی صورت

اوقات سے بڑھ کر جو ملے خیر خدا سے
لمحوں میں بدل جاتی ہے اطوار کی صورت

آئی جو مرے در پہ تو ہاں کہنا پڑے گا
آگے نہیں اب موت کے انکار کی صورت

ہم خاک بدن، خاک اٹھائیں گے ترا بار
جیون کا ملا بار جو اک نار کی صورت

ہم سے تو سنبھلتی نہیں اک صورتِ مہ نور
یہ شیخ نکالیں ہیں یہاں چار کی صورت

خاموشی نے اب تک ہے بچایا ہوا خرم
بولوں تو نکل آتی ہے تکرار کی صورت