1. ہوم
  2. غزل
  3. خرم سہیل
  4. ساری حدیں ادب کی وہ جب پار کر گیا

ساری حدیں ادب کی وہ جب پار کر گیا

ساری حدیں ادب کی وہ جب پار کر گیا
گھر کی ہر ایک بات وہ اخبار کر گیا

جس کا سرے سے دوستو امکان ہی نہ تھا
ایسی خبر کو زینتِ دیوار کر گیا

عزت کا اپنے گرد بنایا تھا اک حصار
تہمت کے وار ایسے کئے تار کر گیا

اب تک سنا برا نہ کوئی لفظ آج تک
کیسے زباں کی تیز وہ اب دھار کر گیا

میں نے اسے نہ ہونے دیا ایک سے بھی دو
جاتے وہ دل کے ٹکڑے مرے چار کر گیا

بنیاد جان بوجھ کے کمزور رہنے دی
مجھ پر عجب ستم مرا معمار کر گیا

میں جو گلے لگانے کو آگے زرا بڑھا
وہ بغض کے ہی تیر سے پھر وار کر گیا

ایسا گیا وہ لوٹ کے آیا نہیں کبھی
سنسان میرے دل کا وہ بازار کر گیا

حق کو ہمیشہ حق کہا مرنے تلک سہیل
یہ اور بات سچ ہی سرِ دار کر گیا