وقت کٹ ہی جاتا ہے، بے خودی کے عالم میں
کیا سکون پاؤ گے، اب خوشی کے عالم میں
وہ جو تیرے ماتھے پر، اک شکن سی آئی ہے
کتنے دل دھڑکتے ہیں، برہمی کے عالم میں
ہم نے خود کو بیچا ہے، تیرے ایک وعدے پر
بک گئے ہیں سستے ہم بے کسی کے عالم میں
کس قدر ضروری ہے، اس کا تذکرہ رہنا
آبرو سلامت ہے، عاشقی کے عالم میں
زندگی کی تلخی کو، شاعری میں ڈھالا ہے
ہم نے خون تھوکا ہے نغمگی کے عالم میں
تم جسے سمجھتے ہو، ایک عام سا انساں
اب کرنؔ وہ شاہی ہے، بندگی کے عالم میں