لبوں پر اب ہے تڑپتی ہوئی آہیں کیسی
اب جو اٹھیں گی تڑپ کر وہ نگاہیں کیسی
راہِ الفت میں ضرورت ہی نہیں مشعل کی
خود جلاتی ہیں ہمیں تیری نگاہیں کیسی
جب مقدر میں ہی لکھا ہو اکیلے چلنا
پھر کسی غیر سے مانگیں گے پناہیں کیسی
ہم نے صحرا میں گزاری ہے جوانی اپنی
ہم سے پوچھو کہ بدلتی ہیں یہ راہیں کیسی
بات سچی ہے تو پھر ڈرنا کیا دنیا سے
حق پہ ہوں تو یہ زمانے کی جفائیں کیسی
میں نے زخموں کو بھی تہذیب سکھا دی آخر
دل اگر درد سے بھر جائے تو چیخیں کیسی
جن کے ماتھے پہ ہی لکھا ہو مقدر کا الم
ان کے حصے میں نہ آئیں گی پناہیں کیسی