1. ہوم
  2. کالمز
  3. سعدیہ بشیر
  4. آٹا، پیر اور قوم کی تقدیر

آٹا، پیر اور قوم کی تقدیر

شہر میں جب سے حکیم فلسفے والے کی آمد ہوئی۔ معاشرتی مسائل میں نت نئے زاویے سامنے آنے لگے۔ حکمت نے پیری کا لبادہ اوڑھا اور پھونکوں سے مہنگائی کا چراغ بجھانے کی تراکیب پر ویڈیوز بننے لگیں۔ مہنگائی پر سب رو رہے تھے اور پیر صاحب آٹے پر فلسفہ جھاڑ رہے تھے۔ کل ہی ایک محفل میں جانے کا اتفاق ہوا۔ جہاں ایک نہایت روحانی، بااثر اور خود ساختہ ماہرِ آٹا یعنی حکیم بمعنی پیر صاحب تشریف فرما تھے۔ مریدین کا ہجوم تھا۔ کوئی پیر چھو رہا تھا۔ کوئی دعا لے رہا تھا اور کوئی پیر صاحب کی دید سے زمینی مسائل پر رہنمائی حاصل کرنے آیا تھا۔

پیر صاحب نے ڈنڈا جسے وہ بڑے پیار سے "عصا" کہتے تھے۔ زمین پر مارا اور فرمایا۔ بیٹا! تم لوگوں کی ساری مشکلات کی جڑ آٹا ہے۔ مجمع پر سناٹا چھا گیا۔ ایک مرید نے ہمت کرکے پوچھا۔ جناب مہنگائی، بے روزگاری اور بچوں کی نافرمانی کا آٹے سے کیا تعلق۔ حکیم صاحب نے آنکھیں بند کرکے سر ہلایا۔ سب کچھ! حتی کہ سب بیماریوں کی وجہ بھی یہ آٹا ہی ہے۔ اب پیر صاحب نے آٹا گوندھنے کا روحانی طریقہ بیان کرنا شروع کیا۔ سب نے کیمرے آن کر لیے۔ پیر صاحب نے گہری سانس لی۔ جیسے صدیوں پرانا راز کھولنے لگے ہوں۔

سب کو یوں لگنے لگا جیسے بزرگوں کی پرانی کہاوت آج واقعی سچ ثابت ہو رہی ہو کہ "آٹا گوندی ہلدی کیوں"۔ اس پر گھروں میں ساس بہو کے نئے سرے سے مباحثے شروع ہو گئے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ بغیر ہلے آٹا کیسے گوندھا جائے۔ تو کوئی اس بات پر غصہ ہو رہا تھا کہ صدیوں سے غلط طریقہ اپنایا جا رہا تھا مگر پیر صاحب نے بڑی قطعیت سے فرما دیا کہ یہی تو اصل مسئلہ ہے۔ یہ ہل ہل کے آٹا گوندھنا دراصل آٹا گوندھنا ہی نہیں۔ اصل طریقہ یہ ہے کہ نوے درجے کے زاویے سے سیدھے کھڑے ہو کر آٹا گوندھا جائے۔ تبھی روٹی سیدھی رہے گی اور ملکی معاملات بھی۔

مجمع پر ایک اور خاموشی طاری ہوگئی۔ پیر صاحب نے ایک ایک نکتہ پر زور دیا اور سمجھایا کہ آٹا گوندھتے وقت سر جھکانا ضروری ہے۔ ایک ہاتھ آٹے کے اوپر رکھو اور دوسرے ہاتھ سے پرات کو مضبوطی سے پکڑو۔ یہ کوئی عام کام نہیں۔ یہ ایک روحانی عمل ہے۔ ایک مرید نے حیران ہو کر پوچھا۔ اگر کوئی بیٹھ کر آٹا گوندھے تو۔ پیر صاحب نے فوراََ عصا زمین پر مارا۔ پھر نہ روٹیاں سیدھی بنیں گی۔ نہ رزق میں برکت آئے گی اور نہ ہاضمہ ٹھیک ہوگا۔

یہ سن کر ایک خاتون نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا کہ آج سے روٹیاں بازار سے آیا کریں گی۔ پیر صاحب نے بتایا کہ سب سے اہم آٹے اور پانی میں توازن ہے۔ مرید نے فوراً نوٹ بک نکال لی۔ پیر صاحب کی ہدایات جاری تھیں۔ پانی نہ زیادہ ٹھنڈا ہو۔ نہ زیادہ گرم۔ نہ فلٹر کا ہو۔ نہ نلکے کا۔ ایسا پانی ہو جسے پہلے اسی ڈگری پر ابال دیا گیا ہو اور جس میں ایک چٹکی نمک بھی شامل ہو۔ یہ سن کر ایک مرید بے ہوش ہوتے ہوتے بچا کیونکہ اسے زندگی میں ایسا پانی کبھی نصیب نہیں ہوا تھا۔

پیر صاحب نے نہایت سنجیدگی سے اعلان کیا۔ آج کل مہنگائی، ڈیپریشن، بچوں کی نافرمانی اور گھروں میں لڑائیاں۔ یہ سب آٹا غلط گوندھنے کا نتیجہ ہے۔ ایک ماں نے فوراً اپنے بیٹے کو گھورا اور بولی۔ دیکھا! میں کہتی تھی تمہاری بدتمیزی کی وجہ آٹا ہے۔ بیٹا حیران تھا کہ کل تک وہ موبائل کی وجہ سے ڈانٹ کھا رہا تھا۔ آج آٹے کی وجہ سے۔ اسی دوران پیر صاحب نے اپنا عصا اٹھا کر ایک ہلکی سی ضرب لگائی اور آہ بھری۔ یہ ڈنڈا پہلے پلک جھپکتے سانپ بن جاتا تھا مگر اب لکڑی بھی خالص نہیں رہی۔ مجمع نے افسوس سے سر ہلایا۔ جیسے واقعی لکڑی کی خالصیت ہی قوم کا سب سے بڑا مسئلہ ہو۔ حالانکہ سانپوں کی کمی نہ تھی۔

پیر صاحب نے فرمایا۔ بیٹا! جب آٹا ٹھیک گوندھو گے تو نہ صرف روٹیاں بلکہ تمام معاملات اور قسمت بھی سیدھی رہے گی۔ محفل ختم ہوئی تو پیر صاحب میڈیا چینلز کی طرف دوڑے اور لوگ گروہ در گروہ تقسیم ہو گئے۔ کئی تو آٹا گوندھنے کے نئے روحانی طریقے پر عمل کرنے کے لیے پرعزم تھے اور کئی ایک عالمی مسائل کو آٹا کے ساتھ جوڑنے میں مشغول۔ اگلے دن محلے میں ایک نیا منظر تھا۔ کچھ خواتین کھڑے ہو کر آٹا گوندھ رہی تھیں۔ کچھ نے پرات کو ایسے پکڑا ہوا تھا۔ جیسے ڈمبل اٹھا رہی ہوں اور زیادہ تر گیس آنے کے انتظار میں تھیں کہ پانی ابالا جا سکے۔

شوکت تھانوی نے اپنی نظم آٹا میں عمرانیات کی کیا خوب تشریح کی ہے۔

میرے حصہ کی وہی مے ہے جو پیمانے میں ہے
ہاں مگر دوزخ جو ہے گیہوں کے پروانے میں ہے

جس نے گیہوں کھا لیا دوزخ میں گولے کھائے گا
جس کو جنت چاہیئے وہ صرف چھولے کھائے گا

دور کہیں پیر صاحب کار کلیمی سے بے نیاز عصا تھامے مسکرا رہے تھے۔ جیسے قوم کو ایک اور حقیقی مسئلہ دے کر اپنی ذمہ داری پوری کر چکے ہوں اور ہم یہی سوچ رہے ہیں کہ اگر واقعی ہماری قسمت آٹے سے جڑی ہے۔ تو لگتا ہے ہم صدیوں سے گوندھنے میں ہی مصروف ہیں۔ پکانے کی نوبت ہی نہیں آئی۔