سعدیہ بشیر16 ستمبر 2026کالمز063
ہمارے ہاں حادثے کے فوراً بعد عام طور پر ایک واقعہ شروع ہو جاتا ہے۔ ذمہ دار تلاش کرنے کا واقعہ۔ کسی ہسپتال میں بچہ جان سے چلا جائے تو ہماری نگاہ فوراً ڈاکٹر پر ج
مزید »سعدیہ بشیر03 ستمبر 2026کالمز0256
بوڑھے برگد کی جڑیں زمین کی گہرائیوں تک پھیل چکی تھیں اور شاخوں سے نکلنے والے ریشے جھک جھک کر زمین کو چھو رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا جیسے صدیوں سے کھڑا یہ درخت صرف ز
مزید »سعدیہ بشیر29 اگست 2026کالمز0164
ہم نے آخرکار ترقی کا وہ راز دریافت کر لیا ہے جس سے دنیا ابھی تک ناواقف ہے۔ انسان کو جتنا زیادہ مشکل میں رکھا جائے۔ وہ اتنا ہی بہتر انسان بنتا ہے۔ یعنی مشکلیں مج
مزید »سعدیہ بشیر29 جولائی 2026کالمز0325
ہمارے معاشرے میں سب سے محفوظ دفاع وہ ہے جس کا کوئی جواب نہ آئے اور سب سے آسان ملزم وہ ہے جو بول نہ سکے۔ جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کی قبر کے ساتھ ایک نیا مقدمہ بھ
مزید »سعدیہ بشیر08 جولائی 2026کالمز0112
وہ ایک ننھا سا بھیڑ کا بچہ تھا۔ نہ اس کے پاس طاقت تھی۔ نہ پنجے۔ نہ دانت۔ اگر پنجے ہوتے بھی تو شاید وہ صرف اپنی ہی بے بسی کو نوچ سکتا تھا۔ اس کا سب سے بڑا جرم صر
مزید »سعدیہ بشیر03 جولائی 2026کالمز0279
پنجابی زبان کی معروف کہاوت "خواجے دا گواہ ڈڈّو" محض ایک روزمرہ کا فقرہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات، سماجی رویّوں اور اخلاقی زوال کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ "ڈڈّو" سے
مزید »سعدیہ بشیر24 جون 2026کالمز0134
اس بار مولوی صاحب نے مسجد میں چندہ کا باکس کھولا تو اس میں سے بجلی کے بل، سکول کی فیس اور دوائی کی پرچیاں نکل آئیں۔ پہلے پہل یہ ایک طنزیہ جملہ لگتا ہے۔ مگر درحق
مزید »سعدیہ بشیر18 جون 2026کالمز0126
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن جب تعلیمی نظام انصاف کے بجائے مصنوعی توازن قائم کرنے لگے تو اس کے اثرات صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتے۔ بلک
مزید »سعدیہ بشیر04 جون 2026کالمز0341
دنیا کی ہر نسل اپنے وقت کے مطابق بنتی ہے۔ ہمارے بزرگوں کی دنیا محدود تھی۔ ہمارے والدین کی دنیا روایات اور معاشی استحکام کے گرد گھومتی تھی۔ لیکن جین زی کی دنیا ا
مزید »سعدیہ بشیر14 مئی 2026کالمز0128
ایک گاؤں میں ایک دانا معمار رہتا تھا۔ وہ لوگوں کو گھر بنانے اور جوڑنے کے بے شمار طریقے سکھاتا۔ لوگ بہت دور دور سے کچی پکی اینٹوں کی عمارات رنگنے اور پائیدار بنا
مزید »