تیر ٹیڑھے مگر کام دیئے جاتے ہیںسعدیہ بشیر29 جولائی 2026کالمز0154ہمارے معاشرے میں سب سے محفوظ دفاع وہ ہے جس کا کوئی جواب نہ آئے اور سب سے آسان ملزم وہ ہے جو بول نہ سکے۔ جب کوئی مر جاتا ہے تو اس کی قبر کے ساتھ ایک نیا مقدمہ بھمزید »
بھیڑیوں کے نرغے میں بھیڑسعدیہ بشیر08 جولائی 2026کالمز085وہ ایک ننھا سا بھیڑ کا بچہ تھا۔ نہ اس کے پاس طاقت تھی۔ نہ پنجے۔ نہ دانت۔ اگر پنجے ہوتے بھی تو شاید وہ صرف اپنی ہی بے بسی کو نوچ سکتا تھا۔ اس کا سب سے بڑا جرم صرمزید »
خواجے دا گواہ ڈڈّو۔اندھی حمایت کا المیہسعدیہ بشیر03 جولائی 2026کالمز0236پنجابی زبان کی معروف کہاوت "خواجے دا گواہ ڈڈّو" محض ایک روزمرہ کا فقرہ نہیں بلکہ انسانی نفسیات، سماجی رویّوں اور اخلاقی زوال کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ "ڈڈّو" سے مزید »
چندے کے صندوق سے نکلتی پرچیاںسعدیہ بشیر24 جون 2026کالمز0111اس بار مولوی صاحب نے مسجد میں چندہ کا باکس کھولا تو اس میں سے بجلی کے بل، سکول کی فیس اور دوائی کی پرچیاں نکل آئیں۔ پہلے پہل یہ ایک طنزیہ جملہ لگتا ہے۔ مگر درحقمزید »
ریلیٹو گریڈنگ، تعلیمی نظام سے معاشی اور انسانی استحصال تکسعدیہ بشیر18 جون 2026کالمز0108تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے، لیکن جب تعلیمی نظام انصاف کے بجائے مصنوعی توازن قائم کرنے لگے تو اس کے اثرات صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتے۔ بلکمزید »
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقیسعدیہ بشیر04 جون 2026کالمز0308دنیا کی ہر نسل اپنے وقت کے مطابق بنتی ہے۔ ہمارے بزرگوں کی دنیا محدود تھی۔ ہمارے والدین کی دنیا روایات اور معاشی استحکام کے گرد گھومتی تھی۔ لیکن جین زی کی دنیا امزید »
یہ جلی جلی نظریں، یہ دھواں دھواں چہرےسعدیہ بشیر14 مئی 2026کالمز0111ایک گاؤں میں ایک دانا معمار رہتا تھا۔ وہ لوگوں کو گھر بنانے اور جوڑنے کے بے شمار طریقے سکھاتا۔ لوگ بہت دور دور سے کچی پکی اینٹوں کی عمارات رنگنے اور پائیدار بنامزید »
آٹا، پیر اور قوم کی تقدیرسعدیہ بشیر06 مئی 2026کالمز0106شہر میں جب سے حکیم فلسفے والے کی آمد ہوئی۔ معاشرتی مسائل میں نت نئے زاویے سامنے آنے لگے۔ حکمت نے پیری کا لبادہ اوڑھا اور پھونکوں سے مہنگائی کا چراغ بجھانے کی ترمزید »
ان باکس، نیا صندوق، ایک نیا رویہسعدیہ بشیر23 اپریل 2026کالمز0103ان باکس محض ایک لفظ نہیں رہا۔ یہ عہدِ حاضر کا ایک استعارہ بن چکا ہے۔ ایک ایسا صندوق، جس میں باتیں رکھی بھی جاتی ہیں اور اکثر چھپائی بھی جاتی ہیں۔ صندوق ہمیشہ سےمزید »
اسلام آباد کی میز، وقار، مکالمہ اور تاریخی ذمہ داریسعدیہ بشیر15 اپریل 2026کالمز0285مذاکرات کی میز پر کسی قوم کی نمائندگی محض ایک سفارتی سرگرمی نہیں، درحقیقت اس قوم کے وقار، فہم اور اجتماعی شعور کی بھرپور عکاسی ہے۔ پاکستان کا حالیہ قدم، جس میں مزید »