1. ہوم
  2. کالمز
  3. حمزہ خلیل
  4. صفائی اور ہمارا قومی رویہ

صفائی اور ہمارا قومی رویہ

وزیرِ اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز صاحبہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت آج لاہور کی گلیوں، کوچوں اور سڑکوں پر واضح طور پر نظر آتا ہے۔ آج سے پہلے "شہباز اسپیڈ" کے چرچے ہوا کرتے تھے، اس اسپیڈ کو محسن نقوی صاحب نے ایک نیا رنگ دیا، تاہم موجودہ پنجاب حکومت کی رفتار سابقہ اور بقایا تمام صوبوں کی انتظامی باڈی سے کہیں زیادہ بہتر اور تیز محسوس ہوتی ہے۔ وزیراعلیٰ کی انتظامی گرفت جتنی مضبوط اور حیران کن ہے، ایسی مثال اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آئی۔

میں نے آج سے پہلے لاہور میں ایسا انتظامی نظام نہیں دیکھا کہ ہمارے دفتر جانے سے پہلے ہی سڑکوں کی دھلائی مکمل ہوچکی ہو۔ لاہور جیل روڈ پر اکثر سموک گنز گردش کرتی نظر آتی ہیں، جس سے فضا میں تازگی کا احساس ہوتا ہے۔ لاہور کے ساتھ ساتھ پنجاب کے تمام شہروں کو خوبصورت بنانے کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے اور خاص طور پر اندرونِ شہر لاہور کی تاریخی حیثیت کو محفوظ رکھنے کے لیے شروع کیا گیا کام اس بات کا ثبوت ہے کہ محترمہ مریم نواز اپنے سیاسی مستقبل کی پروا کیے بغیر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ پنجاب حکومت کے منصوبے اتنے زیادہ اور جامع ہیں کہ ان کا احاطہ ایک کالم میں کرنا ممکن نہیں۔

لیکن یہاں میں عوام الناس کے عمومی رویّے کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ یہ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے جب والڈ سٹی اتھارٹی نے دہلی گیٹ تا وزیر خان مسجد کا انتظام سنبھالا اور وہاں صفائی کا باقاعدہ نظام قائم کیا گیا۔ والڈ سٹی کے یونیفارم پہنے ملازمین مسلسل موجود رہتے اور صفائی کو یقینی بناتے تھے۔ یہ میری آنکھوں دیکھا حال ہے کہ ملازمین علاقے کی صفائی کرتے ہوئے آگے بڑھتے جاتے تھے اور ان کے پیچھے، ان کی آنکھوں کے سامنے، دکان دار گند سے بھرے شاپنگ بیگ باہر پھینک دیتے تھے، جو زمین سے ٹکراتے ہی پھٹ جاتے اور پورے علاقے کو مزید گندہ کر دیتے۔ انہیں اتنی توفیق بھی نہیں ہوتی تھی کہ یہ کوڑا صفائی کے عملے کے حوالے کر دیتے۔

رات کے قریب جب اندرون دہلی دروازہ مکمل طور پر صاف کر دیا جاتا اور مارکیٹ تقریباً بند ہوچکی ہوتی، عین اسی وقت دہلی دروازے سے تھوڑا اندر، جہاں پانی کے نل لگے ہیں، ایک پلازے کے اندر موجود چائے ہوٹل کے مالک کو یاد آتا کہ اب دکان اور برتن دھونے ہیں۔ اس کا بہتا ہوا پانی دکان سے نکل کر سڑک پر آ جاتا ہے اور پورے علاقے کو دوبارہ گندہ کر دیتا ہے اور یہ تقریباََ روز رات کا معمول ہے۔

والڈ سٹی اتھارٹی کی جانب سے وزیر خان مسجد کا بہترین انتظام کیا گیا ہے۔ یہ جگہ سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں کے لیے بھی بیٹھنے اور وقت گزارنے کا ایک خوبصورت مقام ہے۔ کچھ عرصہ قبل یہاں مقامی لڑکوں نے کرکٹ کھیلنا شروع کر دیا، جس سے یہاں نصب فانوس ٹوٹنے لگے۔ مسجد کے باہر احاطے میں والڈ سٹی نے محراب نما کمروں میں اپنا دفتر قائم کر رکھا ہے اور اتھارٹی کے ملازمین بھی موجود ہوتے ہیں، مگر اس کے باوجود کسی نے ان بچوں کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ بالآخر میں نے سٹیزن پورٹل پر شکایت درج کروائی، جس کے بعد کرکٹ کا سلسلہ بند کروایا گیا۔

وزیر خان مسجد کے باہر والا یہ احاطہ ایک اہم سیاحتی مقام ہے جہاں اکثر میلوں کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہاں اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک سے سیاح آتے ہیں اور اکثر سرکاری وفود بھی موجود ہوتے ہیں۔ بچپن میں یہ احاطہ ایک کھلا میدان ہوا کرتا تھا جہاں تہواروں پر میلہ لگتا، گول جھولے، آسمانی جھولے، گھوڑے اور اونٹ کی سواری، کھانے پینے کے مختلف اسٹال، ریچھ اور بندر کے تماشے اور کیمرے میں خانہ کعبہ اور مسجد نبوی دکھانے والے مناظر شامل ہوتے تھے۔ مگر جیسے وقت گزرتا ہے، چیزیں ماضی کا حصہ بن جاتی ہیں اور ان کی یادیں بھی آہستہ آہستہ مدھم ہو جاتی ہیں۔

اب اس احاطے میں دو یا تین درخت، چند بیلیں اور بڑے سائز کے گملے موجود ہیں جن میں مختلف اقسام کے پودے لگائے گئے ہیں۔ رات کے وقت فانوس مدھم پیلی روشنی بکھیرتے ہیں۔ ایک دیوار کے ساتھ بیٹھنے کا انتظام ہے جبکہ سامنے والی دیوار، جہاں سے سیڑھیاں مسجد کے اندر جاتی ہیں، اس کے ساتھ محراب نما کمرے بنے ہوئے ہیں جن میں سے ایک والڈ سٹی اتھارٹی کے دفتر کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ احاطے میں محرابی شکل کے کوڑے دان بھی نصب ہیں اور یہاں ہر وقت مقامی و غیر مقامی افراد کی آمد و رفت رہتی ہے۔

لیکن اس تمام آمد و رفت کے باوجود کسی کو یہ توفیق نہیں ہوتی کہ پودوں کو پانی دے دیا جائے۔ بہت سے پودے پانی کی کمی کے باعث مرجھا چکے ہیں یا اپنی سابقہ خوبصورتی کھو بیٹھے ہیں۔ رات کے وقت کھیلنے والے بچے زور آزمائی کے لیے درختوں اور پودوں کی شاخیں توڑ دیتے ہیں، مگر ان کے والدین انہیں منع کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ کوڑے دان موجود ہونے کے باوجود احاطے میں جگہ جگہ گندگی نظر آتی ہے۔ لوگ یہاں بیٹھ کر کھاتے پیتے ہیں، باقی ماندہ سامان وہیں پھینک دیتے ہیں اور بعض اوقات درختوں کے پتوں کو ٹشو پیپر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ احاطے کی بیرونی دیوار کے ساتھ موجود کھانے پینے کے اسٹال بھی اضافی پانی دیوار کے ساتھ بہاتے رہتے ہیں۔

اوپر بیان کیے گئے یہ تمام واقعات ہمارے عمومی قومی رویّے کی عکاسی کرتے ہیں۔ حکومتِ پنجاب کی صفائی مہم ملکی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی قابلِ تحسین ہے، لیکن اس قومی رویّے کے ہوتے ہوئے ہم کسی بھی پالیسی کو کب تک دیرپا بنیادوں پر قائم رکھ سکتے ہیں؟ آپ چاہے ہزار سال صفائی کے انتظامات کر لیں، اگر ایک دن کا بھی وقفہ آ جائے تو یہ قوم گندگی کے ڈھیر لگانے میں دیر نہیں لگاتی۔

میری حکومتِ پنجاب سے گزارش ہے کہ مقامی سطح پر صفائی کی اہمیت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے تعلیمی نصاب میں صفائی کی اہمیت کو شامل کیا جائے، جمعہ کے خطبات کے دوران صفائی کا درس دیا جائے اور علاقے کے بااثر افراد کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ عام عوام کو آگاہ کریں کہ صفائی ہماری صحت اور ماحول کے لیے ناگزیر ہے اور یہ کہ صفائی نصف ایمان ہے۔