1. ہوم
  2. کالمز
  3. فرحت عباس شاہ
  4. ڈاکٹر اسد محمود خان کے دو نئے ناول

ڈاکٹر اسد محمود خان کے دو نئے ناول

ادارہ سنگ میل پبلی کیشنز فیروزسنز کے بعد پاکستان کا سب سے معتبر اور باوقار ادارہ کنسیڈر کیا جاتا ہے۔ فیروز سنز پر اس ادارے کو اس وقت سبقت حاصل ہوگئی جب پاکستان میں کتب بینی کو تھریٹ آیا تو اس فیروز سنز اس کا مقابلہ نہ کر سکا جبکہ سنگ میل نے ہر طرح کے مشکل حالات کا مقابلہ کیا۔ نہ اپنے لکھاریوں کو چھوڑا نہ کتاب کے اشاعتی عمل کو روکا۔

ادارے کے بانی نیاز صاحب مرحوم ایک نہایت عمدہ، مخلص اور شاندار شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے اپنے مصنفین کو خاندان کی حیثیت دی اور ان کے دکھ سکھ میں شرکت کو شعار بنایا۔ ان کے بعد ان کے فرزند افضال احمد نے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوے نہ صرف کاروباری ساکھ، وقار اور اخلاص کو برقرار رکھا بلکہ والد سے زیادہ مشکل حالات کا سامنا کیا۔

حال ہی میں انہوں نے عہد حاضر میں اردو زبان و ادب کے نابغہ ڈاکٹر اسد محمود خان کی دو کتابیں، "ارادہ" اور "اذن" شائع کرکے نہ صرف اردو زبان و ادب پر احسان کی گوناں گوں خدمت سرانجام دی ہے بلکہ میرے جیسے قاری کو بھی ممنونیت کے اظہار کا موقع دیا ہے۔

"ارادہ" ایک کہانی نہیں، ایک داخلی مکاشفے کی سرگزشت ہے، وہ لمحہ جب انسان اپنی ہی روح کے دریچوں میں جھانکنے لگتا ہے اور محسوس کرتا ہے کہ زندگی کے بڑے فیصلے باہر نہیں، دل کی خاموش تہوں میں جنم لیتے ہیں۔ اس ناول میں محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت ہے، ایک ایسی لطیف آگ جو یادوں کی دھند، تنہائی کی شبنم اور تصوف کی روشنی میں اپنا راستہ بناتی ہے۔ کردار یہاں صرف واقعات کے مسافر نہیں بلکہ اپنے باطن کے سوالوں کے ساتھ چلنے والے سالک ہیں، جو کبھی ماضی کی مہک میں، کبھی خوابوں کی دھند میں اور کبھی کسی خاموش مکاشفے میں اپنے وجود کی اصل سمت تلاش کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے "ارادہ"، اس لمحے کی کہانی بن جاتا ہے جب دل کے کسی گوشے میں اٹھنے والی ایک معمولی سی لہر انسان کی پوری تقدیر کا رخ بدل دیتی ہے۔

اور "اذن" ایک ایسے راز کی کہانی ہے جو خواہش اور تقدیر کے درمیان کسی خاموش وقفے میں چھپا رہتا ہے۔ یہاں محبت یادوں کی طرح دل میں ٹھہرتی ہے اور تصوف ایک روشنی کی طرح راستوں کو معنویت دیتا ہے۔ اس ناول میں نوسٹلجیا کی ہلکی سی مہک، روح کی جستجو اور محبت کی گہری آنچ مل کر ایک ایسی فضا بناتے ہیں جہاں ہر کردار اپنے ہی باطن کے کسی دروازے کے سامنے ٹھہرا دکھائی دیتا ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ زندگی کے بعض دروازے زور سے نہیں کھلتے اور نہ ہی محض خواہش سے وا ہوتے ہیں، وہ تب کھلتے ہیں جب دل کی گہرائیوں میں کوئی نامعلوم روشنی جاگتی ہے اور تقدیر کی خاموش آواز سنائی دیتی ہے کہ اب تمہیں آگے بڑھنے کا "اذن" ہے۔

اردو ادب کے سنجدہ قاری کی یاداشت کے لیے لکھتاچلوں کہ یہ دونوں ناول سنگِ میل پبلی کیشنز، لاہور سے شائع ہو چکے ہیں۔