سوا لاکھ مبارکاں قبول کیجے کہ حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 22/ 22 روپے کمی کی اور پھر جہازوں کے پٹرول کے نرخ میں بھی 48 روپے 80 پیسے کی "تاریخی" کمی کردی۔ اس دوران خود وفاقی حکومت نے لگ بھگ 2700 ارب روپے صارفین کی رگوں سے نچوڑ کر ملکی خزانہ میں بھر لئے دیکھا جائے تو پٹرول اور ڈیزل وغیرہ کی فی لیٹر قیمت اب بھی صارف کی قوت خرید سے زیادہ ہے پٹرولیم لیوی کا بوجھ برقرار ہے۔
لیکن ایک اسلامی جمہوری ایٹمی پاکستان کو زندہ و تابندہ بنائے رکھنے کیلئے رعایا کو اپنے حصے کی قربانی دیتے رہنا چاہئے تاکہ حکومت کی جیب خالی ہو نہ ہاتھ تنگ کبھی کبھی شاعر مشرق کی آوز سنائی دیتی ہے "مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی"۔ یاد رکھنے والی بات بس اتنی ہے کہ "مومن ہے تو"۔ ہم عجیب لوگ ہیں اصل شرط بھول بھال کر خواب بُنتے ہیں سرابوں کے پیچھے سرپٹ دوڑتے ہیں پھر صبر کے خیمے میں شکر کی تسبیح پڑھتے ہوئے "ویخی جا مولا دے رنگ" جی بہلاتے ہیں۔
دستیاب مسلم تاریخ کے اوراق الٹ پلٹ لیجے یہی چار پانچ یا تین چار چیزیں مرغوب رہیں اور ہیں فقیر راحموں کہتے ہیں کہ اگر کبھی انہیں ملک میں مارشل لاء لگانے کا موقع ملا تو وہ یعنی فقیرراحموں "ویخی جا مولا دے رنگ" کو قومی نغمہ قرار دیتے ہوئے ہر سال کے بجٹ اجلاس سے پہلے اسے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں ترنم کے ساتھ پڑھنا واجب قرار دے دیں گے۔
اس پر میں نے کہا یار فقیر تمہیں مارشل لاء لگانے کا موقع کیسے ملے گا تم تو سادہ و عام رعایا کا حصہ ہو؟ جواب ملا موقع ملنے دو پھر بتاوں گا دوسری جانب قدیم صالحین کے جماعت کے امیر نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول کی فی لیٹر قیمت 250 روپے مقرر کرتے ہوئے گیس کی قیمتوں میں نمائیاں کمی کی جائے اب دیکھتے ہیں کہ مطالبہ منظور نہ ہونے کی صورت میں "ظالموں حافظ آرہا ہے" کا نعرہ درودیوار اور حلقوم کی زینت کب بنتا ہے؟ انتظار کیجے کیونکہ اس کے سوا ہمارے اور آپ کے بس میں کچھ ہے بھی تو نہیں۔
ہم آپ کو پاکستان کے زیرانتظام آزاد جموں کشمیر اور گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال سے "آگاہ" کرنا چاہتے ہیں لیکن سوچ رہے ہیں کہ اس کا فائدہ کیا ہوگا۔ آزاد کشمیر میں وفاق پاکستان اور جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات کے سینگ پھنسے ہوئے ہیں۔ ایکشن کمیٹی والے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کشمیر کیلئے مختص 12 نشستوں کے خاتمے سے کم پر راضی نہیں اور وفاق پاکستان یہ سمجھتا ہے کہ اگر مہاجرین کی 12 نشستوں والی دودھاری تلوار ہاتھ سے نکل گئی تو ریاستی حکومتوں کی ادلی بدلی کا پروگرام کیسے چلے گا۔
کیا ان 12 نشستوں کے حوالے سے فریقین کوئی درمیانی راستہ نکال پائیں گے؟ کم از کم ہمیں تو نہیں لگتا کہ ایکشن کمیٹی والے اپنے مطالبات کے کوہِ ہمالیہ سے نیچے اترپائیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے حامیوں کو جذبات کی جس معراج پر لیجا کھڑا کیا ہے وہاں سے اترنے کا مطلب ایکشن کمیٹی کی اجتماعی خودکشی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایکشن کمیٹی والے اجتماعی خودکشی کا راستہ اختیار نہیں کریں گے۔
انہیں بھی تو سیاست کرنا ہے مگر کیا آخری بات پہلے کرتے رہنے سے درمیانی راستہ نکل پاتا ہے؟ یہ سوچنا ایکشن کمیٹی والوں کا فرض ہے مہاجرین کیلئے مختص 12 نشستوں کے حوالے سے ان کا موقف سوفیصد غلط بھی نہیں اسی طرح وفاق پاکستان بھی خوشی کے ساتھ اپنا گریبان مستقل طور پر ایکشن کمیٹی کے ہاتھ میں نہیں دے گا۔ بات تلخ ہے لیکن جب آپ سیاسی انتظام کو آگے بڑھنے پھلنے پھولنے دینے کی بجائے معاملات وائٹ ہاوس اور لال قلعہ کہلاتی عمارتوں میں بیٹھے ملازمین سے چلوائیں گے تو مسائل پیدا ہوں گے۔
ان مسائل سے کیسے نمٹنا ہے یہ ملازمین کا نہیں سیاسی کارکنوں کا کام اور مینڈیٹ ہوتا ہے لیکن یہ بات کون کسے سمجھائے بتلائے سمجھنے بتلانے کے ہنر پالے ہوتے تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتے جو دیکھے بھگتے جارہے ہیں آزاد کشمیر میں ایک دوسرا مسئلہ تحریک انصاف کو ریاستی الیکشن کمیشن سے رجسٹریشن نہ ملنا ہے یہ تنازع بھی "گلے" پڑ سکتا ہے۔
پاکستان کے ہی زیرانتظام دوسرے علاقے گلگت بلتستان اسمبلی کیلئے جاری انتخابی مہم عجیب ہڑبونگ کا شکار ہے تحریک انصاف کو یہاں بھی رجسٹریشن کے محروم رکھا گیا اس کے درجنوں رہنماوں کو جو انتخابی مہم میں شرکت کیلئے گلگت بلتستان پہنچے تھے امن و امان کے نام پر علاقہ بدر کردیا گیا مگر اسی گلگت بلتستان میں انتخابی مہم کے نام پر فرقہ واریت کا ننگا ناچ بھی جاری ہے۔
یہاں سادہ سا سوال ہے کہ اگر تحریک انصاف کے غیرمقامی رہنماوں کی گلگت بلتستان کے سیاسی عمل میں شرکت سے امن و امان کے مسائل پیدا ہونے کا خطرہ ہے تو ایسا خطرہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن یا استکام پاکستان پارٹی کے غیر مقامی رہنماوں اور مختلف فرقہ وارانہ جماعتوں کے غیر مقامی مولاناوں کی علاقے میں موجودگی سے کیوں نہیں؟
یہ سوال اس لئے بھی اہم ہے کہ ایک کالعدم تنظیم مسلم لیگ ن کی حمایت میں سرگرم ہے کچھ دوسری مسلکی تنظیموں کے مقامی و غیر مقامی مولانا صاحبان کے دہنوں میں فٹ توپوں سے جس طرح گولہ باری جاری ہے۔ اس سے سیاسی عمل کے آگے بڑھنے کی بجائے فرقہ وارانہ کشیدگی میں بڑھاوے کے خطرات دوچند ہوتے جارہے ہیں۔ نرم سے نرم الفاظ میں یہی عرض کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کے زیرانتظام آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں سیاسی عمل کو عصری شعور کے ساتھ آگے بڑھنے دیجئے قانونی ڈھمکیریوں اور جلادی مہارتوں کے مظاہرے مسائل پیدا کریں گے ہم فقط عرض ہی کرسکتے ہیں سو عرض کردیا ہے تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔
کالم کے اس حصے میں ایران امریکہ تنازع پر بات کرنے کو جی کررہا ہے۔ ایرانیوں نے الزام لگایا ہے کہ صدر ٹرمپ غیرسنجیدہ شخص ہے۔ تکبر میں دھنسے امریکی صدر سفارتی آداب و مذاکرات کی الف بے سے بھی واقف نہیں۔ دوسری جانب امریکہ نے ایران کے دفاعی ٹیکنالوجی سپلائی نیٹ ورک پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو دوبارہ حملے شروع کردیں گے۔ تیسری جانب دو باتیں ہیں پہلی یہ کہ امریکہ ایران سے کسی معاہدے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کیلئے ابراہم ایکارڈ پر متعدد عرب و غیر عرب مسلم ممالک سے دستخط چاہتا ہے چاہتا کیا ہے۔ گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے باضابطہ مطالبہ کیا ہے اس حوالے سے دوسری بات وہی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ حسبِ سابق پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریفوں میں "جُتا" ہوا ہے۔ کبھی کبھی ڈر لگتا ہے کہ اس مکھن کی سڑک پر ہماری قیادت پھسل ہی نہ جائے ہم اور آپ دعا ہی کرسکتے ہیں کیجے بلکہ کرتے رہیں اسی میں بھلائی ہے۔
اب کچھ باتیں آمدہ وفاقی و صوبائی بجٹوں اور رعایا کی حالت پر کرلیتے ہیں زندگی کے اب تک کے سفر کے ستاسٹھ سنگ میل عبور کرکے اٹھاسٹھویں سنگ میل کی جانب رواں دواں ہیں ہم، خدا لگتی بات یہی ہے کہ ایسے بدتر بدمزہ اور تلخ حالات و واقعات پہلے نہیں دیکھے۔ مہنگائی غربت بیروزگاری استحصال اور ناانصافیوں کا سورج سوا نیزے پر ہے۔ رعایا کا مزید خون نچوڑنے کے سامان ہورہے ہیں اشتہاریوں اور درباریوں کے مزے ہیں ویسے یہ دونوں طبقے ہمیشہ "مزے" میں ہی رہتے ہیں۔
ہماری محبوب پیپلز پارٹی نجانے کہاں گُم سُم ہے آپ پڑھنے والوں کو ہی اگر کہیں مل جائے پاکستان پیپلز پارٹی تو کہہ دیجئے گا اسے کہ "ہر بلاول ہے دیس کا مقروض پاوں ننگے ہیں بینظیروں کے"۔ سرمایہ دارانہ فہم و فکر والی مسلم لیگ ن سے کیا توقع باندھیں بہر حال ہوسکے تو رعایا کیلئے کچھ سوچنے کی کوشش کیجے دینا دلانا تو آپ نے ہے کچھ نہیں پھر بھی ٹیکسوں کی چھری سے ذبح کرتے وقت پانی وانی پوچھ لیجے گا۔